آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
احتجاج میں شرکت کے بعد بالی وڈ اداکار عمران خان کو انڈیا چھوڑنے کا حکم کیوں دیا گیا؟
- مصنف, میریل سباسٹین
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
انڈیا میں حکام نے بالی وڈ اداکار عمران خان کو انتخابی اصلاحات کے مطالبے کے حوالے سے ایک احتجاج میں شرکت کے بعد 28 اکتوبر تک ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔
انڈیا کی پولیس نے جمعرات کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’عمران خان نے ممبئی کے آگست کرانتی میدان میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کے لیے ہونے والے احتجاج میں شرکت کی۔عمران خان نے انڈین شہری نہ ہونے کے باوجود اس احتجاج میں حصہ لیا۔‘
یاد رہے کہ اداکار عمران خان ہالی ووڈ سٹار عامر خان کے بھانجے ہیں اور ان کے پاس امریکی شہریت ہونے کے باعث اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (او سی آئی) کارڈ موجود ہے۔
یہ کارڈ انڈین نژاد افراد کو انڈیا آنے اور وہاں قیام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ تاہم یہ کارڈ رکھنے والا نہ ووٹ دے سکتا ہے اور نہ ہی انتخابات میں حصہ لے سکتا ہے۔
انڈین پولیس کے مطابق فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس نے احتجاج میں شرکت کے ذریعے قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر عمران خان کو نوٹس جاری کیا ہے۔
2008 کی مشہور رومانوی کامیڈی فلم ’جانے تو، یا جانے نا‘ سے شہرت پانے والے اداکار عمران خان نے تاحال اس نوٹس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
عمران خان نے بطور چائلڈ آرٹسٹ 1988 میں قیامت سے قیامت تک اور 1992 میں جو جیتا وہی سکندر جیسی مقبول فلموں میں کام کیا تھا۔
2008 میں بطور مرکزی اداکار اپنے کریئر کا آغاز کرنے کے بعد انھوں نے ’آئی ہیٹ لو سٹوریز‘، ’میرے برادر کی دلہن‘ اور ’دہلی بیلی‘ سمیت کئی فلموں میں اداکاری کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ نوٹس ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اداکار عمران خان ایک دہائی سے زیادہ عرصے بعد اس سال نیٹ فلکس کی فلم ’ادھورے ہم ادھورے تم‘ کے ذریعے فلموں دنیا میں واپس آ رہے ہیں۔
’لگتا ہے مجھے سیر کے لیے لے جایا جا رہا ہے‘
اداکار عمران خان نے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے دیے گئے احتجاج میں 10 اکتوبر کو شرکت کی۔ یہ دراصل جین زی کی قیادت میں چلنے والی ایک وسیع تحریک ہے، جو ووٹنگ میں دھاندلی کے الزامات کے تناظر میں انتخابی اصلاحات اور انڈیا کے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے کے لیے کئی روز سے مظاہرے کر رہی ہے۔
دوسری جانب انڈیا کا الیکشن کمیشن ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
عمران خان کے خلاف شکایت انڈیا اور ریاست دونوں میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما کیرت سومیا نے درج کروائی۔ انھوں نے بالی ووڈ اداکار پر الزام عائد کیا کہ وہ ’انڈیا میں افراتفری پھیلانے کی سازش میں ملوث ہیں۔‘
اداکار عمران خان نے کیرت سومیا کے الزام کا براہِ راست جواب نہیں دیا، تاہم انھوں نے احتجاج میں اپنی شرکت کے بارے میں صحافیوں سے بات کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میرے کوئی مطالبات نہیں ہیں۔ میں یہاں ایک شہری اور اس شہر میں رہنے والے شخص کے طور پر آیا ہوں۔ میں یہ دیکھنے آیا ہوں کہ لوگوں کی نقل و حرکت کی آزادی کیوں محدود کی جا رہی ہے اور ان کی آواز کیوں دبائی جا رہی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ وہ کسی تنظیم کے نمائندے کی حیثیت سے احتجاج میں شریک نہیں ہوئے۔
اس احتجاج کے بعد پولیس نے خان کو دیگر مظاہرین کے ساتھ مختصر وقت کے لیے حراست میں لیا تھا جس کے بعد انھوں نے انسٹاگرام پر پولیس کی حراستی وین کے اندر سے اپنی ایک تصویر شیئر کی، جس کے ساتھ لکھا ’لگتا ہے مجھے سیر کے لیے لے جایا جا رہا ہے۔‘
سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر عمران خان کی اس پوسٹ کو 20 لاکھ سے زیادہ لائکس ملے۔
گذشتہ ہفتے کے اختتام پر سی جے پی کی اپیل پر ہزاروں افراد نے دہلی، ممبئی اور انڈیا کے دیگر شہروں میں مظاہرے کیے اور اہم ریاستی انتخابات سے قبل چیف الیکشن کمیشن گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
پیر کے روز کانگریس کے رکنِ پارلیمان راہل گاندھی سمیت انڈیا کی کئی بڑی اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے ہزاروں مظاہرین کی قیادت کرتے ہوئے کناٹ پلیس سے سپریم کورٹ تک مارچ کیا۔
بدھ کے روز سی جے پی کے دو سرکردہ رہنماؤں کو دہلی میں ایک احتجاجی مقام پر مبینہ طور پر غیرقانونی داخلے کے الزام میں گرفتار کیے جانے کے بعد پانچ روزہ عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ سی جے پی نے دارالحکومت دہلی میں جمعے کی شام ایک اور احتجاج کی کال دی ہے۔