’خفیہ ریکارڈنگ ڈیوائس ٹوائلٹ پیپر میں لپٹی ہوئی تھی‘: اوپن اے آئی کے سعودی انجینیئر امریکہ میں زیرِ تفتیش

    • مصنف, میکس میٹزا
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

ایک سعودی شہری پر امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں قائم اوپن اے آئی کے دفتر میں مبینہ طور پر خفیہ ریکارڈنگ ڈیوائس نصب کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جس کے بعد وفاقی استغاثہ نے ان کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

عبدالرحمان الفوزان، جو اوپن اے آئی میں انجینیئر کے طور پر کام کر رہے تھے، پر الزام ہے کہ انھوں نے الیکٹرانک یا دیگر آلات کے ذریعے خفیہ طور پر گفتگو سننے یا ریکارڈ کرنے کی کوشش کی۔

اوپن اے آئی کے مطابق سان فرانسسکو میں واقع اس کے دفتر سے ایک ’جدید خفیہ ریکارڈنگ ڈیوائس‘ برآمد ہوئی، جس کے بعد کمپنی نے معاملے کی اطلاع ایف بی آئی کو دی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اپنے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی مدد سے کی گئی داخلی تحقیقات میں پتا چلا کہ یہ ڈیوائس ایک ملازم نے نصب کی تھی۔ وفاقی استغاثہ کے مطابق ٹوائلٹ پیپر میں لپٹی ہوئی یہ ڈیوائس ایگزیکٹو کانفرنس روم میں ٹی وی کے عقب میں موجود یو ایس بی پورٹ میں لگائی گئی تھی۔

چیٹ جی پی ٹی کی مالک کمپنی اوپن اے آئی نے کہا ہے کہ تحقیقات میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ اس واقعے کے دوران کمپنی کا سورس کوڈ، اے آئی ماڈلز کے ویٹس یا صارفین کا ڈیٹا غیر مجاز طور پر حاصل کیا گیا یا کہیں منتقل کیا گیا ہو۔

کمپنی نے تصدیق کی کہ متعلقہ ملازم کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔

عدالتی شکایت کے مطابق عبدالرحمان الفوزان نے مبینہ طور پر کمپنی کے ایگزیکٹو کانفرنس روم میں خفیہ ریکارڈنگ ڈیوائس نصب کی تاکہ حساس اور نجی گفتگوؤں کو پوشیدہ طور پر ریکارڈ کیا جا سکے۔

ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے ایک بیان میں کہا کہ ’الزام ہے کہ ملزم نے اپنے آجر کے ایگزیکٹو کانفرنس روم میں خفیہ ریکارڈنگ ڈیوائس چھپائی تاکہ حساس گفتگوؤں کو خفیہ طور پر ریکارڈ کیا جا سکے۔‘

پٹیل کے مطابق تفتیش سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم کا مقصد کمپنی کی مصنوعی ذہانت مصنوعات سے متعلق حساس معلومات حاصل کرنا تھا۔ استغاثہ کے مطابق عبدالرحمان الفوزان جولائی 2025 سے اوپن اے آئی میں انجینیئر کے طور پر کام کر رہے تھے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق 30 ستمبر کو اوپن اے آئی کے ملازمین نے مذکورہ ڈیوائس دریافت کی، جو مبینہ طور پر اس کی تنصیب کے دو روز بعد ملی۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ ڈیوائس خفیہ کاری (انکرپشن) کے ذریعے محفوظ بنائی گئی تھی۔

اوپن اے آئی نے بتایا کہ کمپنی نے اپنے اے آئی ماڈلز کی مدد سے ڈیوائس کا جائزہ لیا اور اس کے ماخذ کا سراغ لگایا، جس کے نتیجے میں ایک مخصوص ملازم کی نشاندہی ہوئی جس نے مبینہ طور پر چند روز قبل اسے نصب کیا تھا۔

ایف بی آئی کے مطابق مشتبہ شخص نے اوپن اے آئی کے دفتر میں حساس مقامات، نگرانی کے طریقوں اور خفیہ آڈیو آلات کی تنصیب کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے ایک ’پروڈکٹیویٹی ٹول‘ اور ایک ’چیٹ بوٹ‘ استعمال کیا۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ چیٹ بوٹ میں کی جانے والی مبینہ تلاشوں میں ریکارڈنگ ڈیوائس کی تیاری، اس کی مخصوص ضروریات کے مطابق ترتیب، تنصیب، آڈیو ریکارڈنگ، جانچ، اسے نظروں سے اوجھل رکھنے کے طریقوں اور دور سے رسائی جیسے موضوعات شامل تھے۔

مزید برآں، ملزم پر یہ الزام بھی ہے کہ اس نے چیٹ بوٹ سے مسلسل آڈیو ریکارڈر بنانے، وائی فائی کنیکٹیویٹی کو اپنی ضرورت کے مطابق ترتیب دینے، آڈیو ریکارڈنگ اور براہِ راست سننے کی صلاحیت بہتر بنانے، اور ایس ڈی کارڈ کو انکرپٹ کرنے کے طریقوں سے متعلق سوالات کیے تھے۔

5 اکتوبر کو استغاثہ کے مطابق عبدالرحمان الفوزان مبینہ طور پر ریکارڈنگ ڈیوائس کا جائزہ لینے کے لیے دوبارہ دفتر کے کمرے میں گیا تھا۔ استغاثہ نے دعویٰ کیا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے اسے جائے وقوعہ سے جوڑا گیا۔

اسی روز عبدالرحمان الفوزان نے عمارت کے ایک اور حصے میں ایک بیگ بھی بغیر نگرانی کے چھوڑ دیا۔ استغاثہ کے مطابق اوپن اے آئی کی سکیورٹی ٹیم نے جب بیگ کی تلاشی لی تو اس میں اس کا بٹوہ، شناختی کارڈ اور ایک اور ریکارڈنگ ڈیوائس ملی، جو کانفرنس روم سے برآمد ہونے والی ڈیوائس سے مشابہ تھی۔

عبدالرحمان الفوزان منگل کو عدالت میں پیش ہوئے، تاہم یہ واضح نہیں کہ ان کے پاس کوئی قانونی وکیل موجود ہے یا نہیں۔ اگر ان پر عائد الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو انھیں پانچ سال تک قید اور دو لاکھ 50 ہزار ڈالر (تقریباً 1 لاکھ 87 ہزار پاؤنڈ) تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

’ڈیوائس ایک دفتر میں نہایت مہارت سے چھپائی گئی تھی‘

مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی نے کہا ہے کہ اس کے ایک دفتر سے ایک جدید اور خفیہ ریکارڈنگ ڈیوائس برآمد ہوئی، جسے کمپنی کے مطابق ایک ملازم نے چند روز قبل نصب کیا تھا۔

کمپنی کے بیان کے مطابق ڈیوائس ایک دفتر میں نہایت مہارت سے چھپائی گئی تھی۔ اوپن اے آئی نے بتایا کہ اس نے اپنے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی مدد سے ڈیوائس کی نوعیت اور اس کے ماخذ کا جائزہ لیا، جس کے نتیجے میں ایک ملازم کی نشاندہی ہوئی جس نے مبینہ طور پر اسے نصب کیا تھا۔

اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ معاملہ فوری طور پر ایف بی آئی کے حوالے کر دیا گیا، جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا۔ کمپنی نے تفتیشی اداروں اور استغاثہ کی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جاری تحقیقات میں مکمل تعاون جاری رکھے گی۔

کمپنی کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ملزم نے اوپن اے آئی کے اے آئی ماڈلز کے ویٹس، سورس کوڈ یا صارفین کے ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی حاصل کی ہو یا اسے کہیں منتقل کیا ہو۔

اوپن اے آئی نے تصدیق کی ہے کہ متعلقہ ملازم کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔

کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اپنی ٹیکنالوجی، ڈیٹا اور ملازمین کے تحفظ کو انتہائی سنجیدگی سے لیتی ہے اور اسے قومی اہمیت کا معاملہ سمجھتی ہے۔ اوپن اے آئی کے مطابق اس کا سکیورٹی پروگرام اندرونی خطرات، سائبر جرائم پیشہ عناصر اور ریاستی سطح کے ممکنہ خطرات سمیت مختلف نوعیت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ واقعہ اس بات کی ایک مثال ہے کہ مصنوعی ذہانت کس طرح پیچیدہ سکیورٹی خطرات کی نشاندہی اور ان سے نمٹنے میں مدد فراہم کر سکتی ہے۔