آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
یوکرین جنگ: دو وقت کی روٹی کے لیے خواتین ’کوکھ کرائے پر دینے‘ پر مجبور
- مصنف, صوفیہ بیٹیزا
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- مطالعے کا وقت: 11 منٹ
کرینا چھ ماہ کی حاملہ ہیں، لیکن ان کی پیٹ میں موجود بچہ ان کا اپنا نہیں ہے۔ مشرقی یوکرین کی رہائشی 22 سالہ کرینا ایک ’سروگیٹ ماں‘ ہیں، جو ایک ایسے جنین سے حاملہ ہیں جو چین میں رہنے والے ایک جوڑے کے بیضے اور نطفے سے بنا ہے۔
18 سال کی عمر میں کرینا کا گھر اس وقت تباہ ہوا جب ان کا شہر باخموت 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے ابتدائی مرحلے میں ایک میدانِ جنگ بن گیا تھا۔
شہر کا بیشتر حصہ ملبے اور راکھ میں تبدیل ہو جانے کے بعد، وہ اور ان کے ساتھی دارالحکومت کیئو منتقل ہو گئے، لیکن انھیں مستقل روزگار تلاش کرنے میں مشکل پیش آئی۔
ایک دن جب کرینا ایک دکان میں کھڑی تھیں اور ان کے پاس صرف اتنے پیسے تھے کہ وہ روٹی اور اپنی ڈیڑھ سالہ بیٹی کے لیے ڈائپر خرید سکیں تو اُنھوں نے معاوضے کے عوض سروگیسی (کرائے پر کوکھ دینے) کا فیصلہ کیا۔
وہ واضح کرتی ہیں کہ اگر روس کا حملہ نہ ہوتا تو وہ کبھی بھی سروگیٹ ماں نہ بنتیں۔ اس حملے کے نتیجے میں لاکھوں افراد اپنی ملازمتوں اور کاروبار کھو چکے ہیں، افراطِ زر میں شدید اضافہ ہوا ہے اور یوکرین کی مجموعی قومی پیداوار میں بڑی کمی آئی ہے۔
کرینا تاراسینکو کہتی ہیں کہ ’شروع میں مجھے سروگیٹ ماں بننے کے خیال سے ہی غصہ آتا تھا، لیکن اب میں نے اسے بس قبول کر لیا ہے۔‘
کرینا کیئو کے مضافات میں ایک ایسے اپارٹمنٹ میں رہتی ہیں، جو انھیں ان کے سروگیسی کلینک نے فراہم کیا ہے۔ وہ ایک بچی کے ساتھ حاملہ ہیں۔
انھیں تقریباً 17 ہزار امریکی ڈالر ملیں گے، جو یوکرین کی اوسط تنخواہ سے تقریباً دوگنا ہیں، تاہم زیادہ تر رقم ڈلیوری کے بعد دی جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ابتدائی خدشات کے باوجود کرینا کا ارادہ ہے کہ وہ اپنے جسم کی استطاعت کے مطابق جتنے ممکن ہوں اتنے بچوں کو سروگیٹ ماں کے طور پر جنم دیں، تاکہ بچت کر کے اپنا گھر خرید سکیں۔ لیکن یہ فیصلہ خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔
جنگ سے پہلے یوکرین کو امریکہ کے بعد تجارتی بنیادوں پر سروگیسی میں دنیا کا دوسرا بڑا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ اگرچہ تنازع نے ان سرگرمیوں کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے، تاہم ماہرین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ تقریباً جنگ سے پہلے کی ہی سطح پر واپس آ چکا ہے۔
لیکن یوکرینی پارلیمان اب ایک ایسے بل پر غور کر رہی ہے جو اس شعبے میں سخت نگرانی متعارف کروائے گا اور عملی طور پر غیر ملکیوں کے لیے سروگیسی کو ممنوع بنا دے گا۔ سروگیسی کے لیے یوکرینی خواتین کی خدمات حاصل کرنے والوں میں سے 95 فیصد غیر ملکی جوڑے ہیں۔
اس بل کا مقصد ایک ایسے شعبے کو زیادہ سختی سے منظم کرنا ہے جس پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ تولید کو ایک جنسِی تجارت بنا رہا ہے اور غریب اور کمزور خواتین کا استحصال کر رہا ہے۔
اس کے حامی یہ بھی کہتے ہیں کہ ایسے وقت میں جب جنگ کی وجہ سے شرحِ پیدائش میں شدید کمی آئی ہے، یوکرینی خواتین کو غیر ملکیوں کے لیے بچے پیدا نہیں کرنے چاہییں، اگرچہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سروگیسی کے ذریعے پیدا ہونے والے بچے مجموعی تعداد کا ایک چھوٹا سا حصہ ہیں۔
خواتین کے حقوق کی کارکن ماریا دمیترییوا کہتی ہیں کہ ’جنگ کی وجہ سے مایوس خواتین کی تعداد بڑھ رہی ہے اور کلینک انھیں یہ موقع اس لیے دیتے ہیں کہ مغربی جوڑے کم پیسوں میں سروگیسی کے ذریعے بچہ حاصل کر لیں۔‘
وہ سمجھتی ہیں کہ یوکرین میں اس عمل پر مکمل پابندی ہونی چاہیے۔
دمیترییوا کلینکس پر الزام لگاتی ہیں کہ وہ کھلے عام غریب خواتین کو نشانہ بناتے ہیں اور سوشل میڈیا پر سروگیسی کی تشہیر کرتے ہیں۔
جنوری میں اس سال ایک کلینک کی جانب سے نئی سروگیٹ ماؤں کی بھرتی کے لیے ایک اشتہار شائع کیا گیا تھا، بظاہر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک اشتہار، ایک عورت کو دکھاتا ہے جو اس بات کا فیصلہ کرنے پر مجبور ہے کہ وہ اپنے چولہے کو گرم کرنے کے لیے لکڑی خریدے یا اپنے بچوں کے لیے کپڑے۔
اس اشتہار میں جنگ کی وجہ سے خواتین کی مشکلات کا احاطہ کیا گیا ہے جس سے جنگ کے دوران بہت سی یوکرینی خواتین دوچار رہتی ہیں۔
سنہ 2021 میں یوکرین کے سب سے بڑے سروگیسی کلینک ’بائیوٹکس کام‘ کی ایک اور تشہیری مہم میں سروگیٹ بچوں کے لیے بلیک فرائیڈے آفر کی تشہیر کی گئی تھی۔
بی بی سی کے اس سوال پر کہ آیا ایسے اشتہارات توہین آمیز ہو سکتے ہیں؟ کلینک نے کہا کہ یہ سروگیسی کی جانب توجہ دلانے میں مؤثر تھے۔
اس کلینک کو اپنے طریقۂ کار پر بھی تنقید کا سامنا رہا ہے۔ سنہ 2018 میں پراسیکیوٹرز نے اس کے چیف ایگزیکٹو البرٹ توچیلووسکی اور دو سابق ملازمین کے خلاف تحقیقات شروع کیں، جن پر انسانی سمگلنگ سمیت جرائم کا شبہ تھا۔
توچیلووسکی کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرتے ہیں اور ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔ استغاثہ نے انسانی سمگلنگ کے الزام کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
’بائیوٹکس کام‘ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ والدین اور بچے کے درمیان ڈی این اے کے فرق کا معاملہ تھا۔ کلینک کے مطابق اس کے عملے کا اس میں کوئی قصور نہیں تھا اور ان کا خیال ہے کہ یہ مسئلہ نطفہ جمع کرنے کے دوران پیدا ہوا جو کسی دوسرے ملک میں ہوا تھا۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ لوگوں کو والدین بننے کے خواب کی تکمیل میں مدد دیتی ہے، خواتین کو قانونی طور پر پیسہ کمانے کا موقع فراہم کرتی ہے اور انھیں طبی دیکھ بھال، رہائش اور خوراک مہیا کرتی ہے۔
کرینا نے ابتدا میں ’بائیوٹکس کام‘ سے بطور سروگیٹ ماں رجوع کیا تھا، لیکن ابتدائی ملاقاتوں میں سرد مہری محسوس ہونے پر اُنھوں نے کلینک کے ساتھ آگے نہ بڑھنے کا فیصلہ کیا۔
لا وارث بچے
ایسے واقعات بھی ہوتے ہیں جب پیدائش کے بعد حقیقی والدین اپنا ارادہ بدل لیتے ہیں اور بچوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔ وی نامی بچے کی دیکھ بھال اس وقت یوکرین کے ایک سرکاری ادارے میں ہو رہی ہے، کیونکہ اس کے والدین اسے لینے نہیں آئے۔
یوکرین میں جس شخص نے حمل کے لیے ادائیگی کی ہو یعنی مطلوبہ والدین پیدائش کے بعد قانونی طور پر بچے کا ذمہ دار ہوتا ہے اور کسی بھی وجہ سے بچے کو چھوڑ دینا غیر قانونی ہے۔ لیکن عملی طور پر سرحدوں کے پار قانون کا اطلاق مشکل ہو سکتا ہے۔
وی، جس کی عمر اب پانچ سال ہے، 2021 میں قبل از وقت پیدائش کے بعد شدید دماغی نقصان کا شکار ہوا۔ اس کی سروگیسی کا انتظام ’بائیوٹکس کام‘ کے ذریعے کیا گیا تھا۔ وہ اس وقت کیئو میں خصوصی بچوں کے لیے ایک سرکاری ادارے میں رہتا ہے۔ جب بی بی سی نے اس سے ملاقات کی تو وی اپنے ساتھیوں کے ساتھ کیلے کھا رہا تھا۔ وہ ہر کھانے پر اکٹھے بیٹھتے ہیں۔
وی بغیر مدد کے بیٹھ نہیں سکتا، اپنے سر کو سنبھال نہیں سکتا اور درست طور پر دیکھ بھی نہیں سکتا اور اسے زندگی بھر مسلسل دیکھ بھال کی ضرورت ہوگی۔
اس کی حالت جاننے کے بعد جنوب مشرقی ایشیا کے ایک ملک سے تعلق رکھنے والے اس کے والدین نے اسے نہ لینے کا فیصلہ کیا۔ وہ عملاً غائب ہو گئے اور حکام اور کلینک کی جانب سے ان سے رابطہ کرنے کی بارہا کوششیں ناکام رہیں۔
وی کی حاملہ ماں نے بھی اسے نہیں چاہا اور یوکرینی قانون کے تحت اس پر اس کے حوالے سے کوئی قانونی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی تھی۔
یوکرین کی وزارتِ صحت سے وابستہ ویلیریا سوروخان، جو قانون میں تبدیلی کی حامی ہیں، کہتی ہیں کہ سروگیسی کے ذریعے پیدا ہونے والے ’بہت سے‘ بچوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے، اگرچہ حکومت کے پاس درست اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔ وہ اصولی طور پر سروگیسی کی مخالفت نہیں کرتیں، لیکن یوکرین میں ضابطے کی کمی پر تنقید کرتی ہیں اور غیر ملکیوں پر پابندی کی حمایت کرتی ہیں۔
’بائیوٹکس کام‘ کے چیف ایگزیکٹو نے اس واقعے کو ’سانحہ‘ قرار دیا اور کہا کہ جب والدین کسی بچے کو چھوڑ دیتے ہیں تو ’ہم اسے کسی حد تک اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔‘ جب بچوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے تو کلینکس پر ریاستی اداروں میں ان کی دیکھ بھال کے اخراجات میں حصہ ڈالنے کی کوئی قانونی ذمہ داری نہیں ہوتی۔
وی جیسے شدید معذوری کے حامل بچوں کو شاذ و نادر ہی کوئی گود لینے والا خاندان ملتا ہے۔ 15 خاندانوں نے اس کی فائل دیکھی ہے، لیکن کسی نے بھی اسے گود لینے میں دلچسپی ظاہر نہیں کی۔
’ہمیں خاندان بننے میں مدد ملی‘
تاہم، کچھ لوگ دلیل دیتے ہیں کہ تجارتی بنیادوں پر کی جانے والی سروگیسی سے تمام فریقوں کو فائدہ ہوتا ہے۔
ہما تاریج اور راج ویر باجوا کا کہنا ہے کہ سروگیسی نے ’ہمیں وہ دیا جو ہم نے کبھی ممکن نہیں سمجھا تھا، اس نے ہمیں ایک خاندان بنا دیا ہے۔‘
پانچ سال تک، لندن میں رہنے والے ہما تاریج اور راج ویر باجوا نے بچہ پیدا کرنے کی ناکام کوششیں کیں، جن میں دو آئی وی ایف (ان ویٹرو فرٹیلائزیشن) یعنی ٹیسٹ ٹیوب بچے کی کوششیں بھی شامل تھیں۔
اُنھوں نے برطانیہ میں یہ طریقہ مسترد کیا، جہاں صرف رضاکارانہ طور پر سروگیسی کی اجازت تھی جس میں ماں کو مالی معاوضہ نہیں دیا جاتا۔
برطانیہ میں ایسے معاہدے عموماً غیر رسمی ہوتے ہیں اور دوستوں، رشتہ داروں یا غیر منافع بخش تنظیموں کے ذریعے طے پاتے ہیں۔
برطانوی قانون کے تحت سروگیٹ ماں بچے کی قانونی ذمہ دار ہوتی ہے اور بچہ والدین کے حوالے کرنے کے دوران پیچیدہ مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔
ہما تاریج اور راج ویر اس سے مطمئن نہیں تھے کیونکہ انھیں فوری قانونی حقوق نہ ملنے کا خدشہ تھا۔ اگرچہ ایسے واقعات انتہائی کم ہیں، مگر رضاکارانہ ماؤں کے اپنا فیصلہ بدلنے کے کیسز سامنے آ چکے ہیں۔
یہ جوڑا اس بات سے متاثر ہوا کہ یوکرین میں سروگیسی کس طرح منظم کی جاتی ہے اور لاگت نے بھی ان کے فیصلے پر اثر ڈالا۔
اُنھوں نے گذشتہ برس ’بائیو ٹکس کام‘ کی خدمات حاصل کیں اور تقریباً 87 ہزار امریکی ڈالر ادا کیے جو امریکہ کے مقابلے میں کہیں کم ہیں۔ جہاں اس کام کے لیے ڈیڑھ لاکھ امریکی ڈالر سے بھی زیادہ لگ سکتے ہیں۔
ان کا تجربہ اچھا رہا، آئی وی ایف کے ذریعے اُنھوں نے لندن میں ایک جنین تیار کیا جسے کیئو بھیجا گیا اور کلینک کے کریوجینک ٹینکوں میں محفوظ کیا گیا۔ گذشتہ سال جون میں، وہ اپنے بیٹے کی پیدائش کے موقع پر کیئو گئے۔
برطانوی حکام کی جانب سے کاغذی کارروائی مکمل کرنے اور پاسپورٹ جاری کرنے میں تاخیر کی وجہ سے، بچے نے اپنی زندگی کے ابتدائی تین ماہ کیئو میں گزارے، جہاں روس شہر پر بمباری کر رہا تھا اور وہ بار بار فضائی حملوں کی وجہ سے لوگ پناہ گاہوں میں جا رہے تھے۔
وہ اگست کے آخر میں اپنے بیٹے کے ساتھ انگلینڈ واپس لوٹ آئے۔ جون میں وہ اس کی پہلی سالگرہ منائیں گے۔
یہ جوڑا غیر ملکیوں پر پابندی کے یوکرینی بل کی مخالفت کرتا ہے، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ سروگیسی ایجنسی نے انھیں ’خوشی اور مسرت‘ دی۔
ہما کہتی ہیں کہ ’اُنھوں نے ہمیں وہ دیا جو ہم نے کبھی ممکن نہیں سمجھا تھا۔ اُنھوں نے ہمیں ایک خاندان بنا دیا۔‘
جوڑے نے ایک بار سروگیٹ ماں سے ملاقات کی اور انھیں چاکلیٹ اور پھول دیے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں نہیں لگتا کہ خاتون کا استحصال ہوا۔
کرینا بھی تجارتی سروگیسی کو استحصالی قرار دینے کے خیال کو رد کرتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ہمیں کوئی مجبور نہیں کرتا۔ یہ میرا جسم ہے، میرا فیصلہ۔ میں انھیں خوشی دینے کے بدلے اپنا معاوضہ حاصل کروں گی۔‘
وہ یہ کہتے ہوئے قانون میں مجوزہ تبدیلی کی مخالفت کرتی ہیں کہ یہ اُن کے گھر خریدنے کے منصوبے میں رکاوٹ بنے گا۔
اپنے پیٹ کی طرف دیکھتے ہوئے وہ مزید کہتی ہیں: ’میں جانتی ہوں کہ وہ میرا بچہ نہیں ہے، لیکن میں اس سے محبت کرتی ہوں۔ میں اس سے بات کرتی ہوں۔ جب وہ لات مارتی ہے تو میں اسے بتاتی ہوں کہ اس کے والدین اس کا انتظار کر رہے ہیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’بس میں یہی اُمید کرتی ہوں کہ اسے ایک اچھی زندگی ملی۔‘