مریدکے، بہاولپور اور مظفرآباد میں انڈین میزائل حملوں کا نشانہ بننے والے مقامات پر بی بی سی نے کیا دیکھا؟

    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ، فرحت جاوید
    • عہدہ, بی بی سی
  • مطالعے کا وقت: 18 منٹ

آج سے ٹھیک ایک سال قبل، یعنی چھ اور سات مئی 2025 کی درمیانی شب، انڈیا نے ’پہلگام میں 26 سیاحوں کی ہلاکت کے ذمہ داران کے خلاف‘ کارروائی کا آغاز کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے پاکستان اور اُس کے زیر انتظام کشمیر میں متعدد مقامات پر میزائل حملے کیے۔

انڈیا نے ’دہشتگردوں کے انفراسٹرکچر‘ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ ’یہ وہ مقامات ہیں جہاں سے انڈیا کے خلاف دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی اور ہدایت کی گئی تھی۔‘

انڈیا نے مزید دعویٰ کیا کہ اس کارروائی کے دوران مجموعی طور پر نو مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم اِن دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے سرکاری طور پر بتایا گیا تھا کہ ملک میں چھ مقامات پر مساجد اور سویلین انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا اور اس کارروائی میں مجموعی طور پر 40 عام شہری، بشمول بچے اور خواتین، ہلاک ہوئے۔

انڈیا نے مزید دعویٰ کیا تھا کہ اِن حملوں میں عام شہریوں یا فوجی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ مگر اِن دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ انڈیا نے مساجد اور سویلین انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا۔

ان انڈین حملوں کے دوران پاکستان میں صوبہ پنجاب کے اندرونی شہروں، مریدکے اور بہاولپور، پر ہوئے حملوں نے خاص توجہ حاصل کی تھی کیونکہ پاکستانی پنجاب کے اتنے اندر آخری بار حملے 1971 کی پاکستان، انڈیا جنگِ کے دوران کیے گئے تھے۔

انڈین حکام نے بہاولپور میں مرکز سبحان اللہ کو ہدف بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ یہ کالعدم تنظیم جیش محمد کا ایسا مرکز ہے جہاں شدت پسندوں کی بھرتی، عسکری اور نظریاتی تربیت کی جاتی تھی، اسی طرح انڈین حکام کی جانب سے مریدکے حملے کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ ان حملوں کا ہدف کالعدم لشکر طیبہ کا ہیڈکوارٹر مرکزِ طیبہ تھا۔

تاہم بی بی سی اُردو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے ان الزامات کو ’جھوٹے بیانیے کی بنیاد پر آگ سے کھیلنے' کے مترادف قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ’انڈیا نے بہاولپور، مریدکے اور مظفرآباد میں جن جگہوں کو نشانہ بنایا، وہ تمام مساجد تھیں۔ میڈیا کو اگلے دن ان جگہوں پر لے جایا گیا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ رات کو وہاں دہشتگرد اور اُن کے کیمپس موجود ہوں، اور چند گھنٹوں میں، سینکڑوں لوگوں کے بیچ، تمام نشانات مٹا دیے جائیں؟‘

ایک سال قبل جیسے ہی انڈیا کی جانب سے پاکستان میں کئی مقامات کو نشانہ بنانے کی خبر ملی، تو اُس کے چند ہی گھنٹوں بعد بی بی سی اُردو کی ٹیمیں مریدکے، بہاولپور اور مظفر آباد میں متاثرہ مقامات پر موجود تھیں۔ اور اب اس تنازع کا ایک سال مکمل ہونے پر بی بی سی نے دوبارہ انھی مقامات کا دورہ کیا ہے۔

اس رپورٹ میں بی بی سی نے یہ جائزہ لینے کی کوشش کی ہے کہ انڈین حملوں کے ایک سال بعد ان مقامات پر کیا صورتحال ہے۔

مریدکے

ایک سال قبل چھ اور سات مئی کی درمیانی شب جب انڈیا کی طرف سے پاکستان میں کئی مقامات کو نشانہ بنانے کی خبر ملی تو اس کے کچھ ہی دیر بعد بی بی سی اُردو کی ٹیم اِن حملوں سے متاثرہ ایک ایسے مقام کی طرف محوِ سفر تھی جو لاہور سے قریب ترین تھا۔

یہ مقام لاہور سے لگ بھگ 45 منٹ کی مسافت پر مریدکے شہر میں واقع ہے۔ ماضی میں یہ مقام جماعت الدعوۃ اور اس کی ذیلی تنظیموں کی فلاحی سرگرمیوں کا مرکز تھا جس کے لیے ایجوکیشن کمپلیکس اور صحت کے مراکز بنائے گئے تھے تاہم پاکستانی حکام کے مطابق جماعت الدعوہ اور اس سے منسلک تنظیموں اور اداروں پر پابندی عائد ہونے کے بعد مقامی حکام نے اس جگہ کا انتظام سنبھال کر اسے عوام کے لیے سہولیات پہنچانے کے مرکز کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا تھا اور اب یہاں ’پبلک ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن کمپلیکس‘ واقع ہے۔

اس مقام کی طرف جاتے ہوئے ذہن میں اس مرکز سے متعلق تخیلاتی خاکہ بھی تھا اور کئی سوالات بھی، جیسا کہ کئی ایکڑ پر محیط اتنے بڑے سینٹر کے اندر کیا ہے اور انڈیا نے اِس ہی مقام کو بطور ہدف کیوں انتخاب کیا؟

وہاں پہنچنے سے قبل ہمیں مقامی حکام سے یہ معلوم ہو چکا تھا کہ اس مرکز کے اندر بنی جامع مسجد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ مرکز مریدکے شہر سے ذرا ہٹ کے ایک زرعی علاقے میں قائم ہے جس کے تین اطراف گاوں کی آبادی ہے اور ایک طرف زرعی رقبہ۔

ایک سال قبل جب ہم وہاں پہنچے تو دن کی روشنی ہو چکی تھی۔ سینٹر کو پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے گھیرے میں لے رکھا تھا جبکہ مقامی اور غیر ملکی میڈیا کی ایک بڑی تعداد مرکز کے بیرونی دروازے کے باہر موجود تھی۔ رہائشی علاقوں میں بظاہر زندگی معمول کے مطابق رواں دوراں تھی۔

یہاں تک کہ مرکز کے بالکل سامنے واقع دودھ دہی کی دکانیں اور ایک دو ریستوران بھی کُھلے ہوئے تھے جہاں لوگ ناشتہ کرنے لیے جمع تھے۔

ہم نے اس مرکز کے اندر جانے کی کوشش کی تاہم پولیس نے ہمیں اندر جانے سے روک رکھا تھا۔ مرکز کے مرکزی گیٹ پر بورڈ لگا ہوا تھا کہ یہ ’پبلک ہیلتھ اور ایجوکیشنل کمپلیکس‘ ہے۔

یہ ایک وسیع و عریض کمپلیکس تھا جس کے چاروں اطراف خاردار تاریں لگائی گئی تھیں اور اس کے کئی گیٹ ہیں۔ مرکزی گیٹ کے ایک جانب اندر جانے والی سڑک سے خاردار تاروں کے دوسری طرف چند فرلانگ کے فاصلے پر موجود وہ مسجد نظر آ رہی تھی جس کو انڈین میزائلوں نے نشانہ بنایا تھا۔

مسجد کا سامنے کا وہ حصہ بری طرح متاثر تھا جہاں موقع پر موجود افراد کے مطابق میزائل لگے تھے۔ وہاں ریسکیو کے اہلکار امدادی سرگرمیوں میں مصروف تھے اور پولیس کی نفری بھی موجود تھی۔ ہم مرکز کے باہر اسی مقام ہی سے مشاہدہ کر کے اور مقامی لوگوں سے بات چیت کر کے رپورٹ کر سکتے تھے۔ اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔

اور اب ایک برس آگے چلتے ہیں۔

انڈیا، پاکستان کی چار روزہ جنگ کا ایک سال مکمل ہونے پر ہم ایک مرتبہ پھر مریدکے میں واقع اس مرکز کا سفر کیا ہے۔ اب مرکز کے باہر منظر کچھ مختلف ہے۔

ہمیں اندر جانے کی اجازت اب بھی نہیں ملی۔ لیکن ایک برس قبل کے برعکس اس مرتبہ باہر سے بھی مرکز زیادہ دیر رُک کر مرکز کا مشاہدہ کرنا یا تصاویر لینا بھی مشکل ہے۔

اس مقام پر اگر آپ کیمرہ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں تو مقامی افراد ہی آپ سے الجھ پڑتے ہیں اور آپ کو وہاں سے جانے کا کہتے ہیں۔ ہمیں مرکز کے باہر اُسی مقام پر کچھ دیر رکنے کا موقع ملا جہاں سے خاردار تاروں کی دوسری جانب وہ جامع مسجد واقع تھی جو انڈین میزائل حملوں میں متاثر ہوئی تھی۔

اب وہاں مسجد موجود نہیں ہے۔ اس کا خالی پلاٹ اور پلاٹ کے ارد گرد کچھ ملبہ پڑا نظر آ رہا ہے۔ میزائل حملوں میں متاثر ہونے والی مسجد کو مکمل طور پر منہدم کر دیا گیا۔ جہاں یہ مسجد موجود تھی اس کے سامنے ایک وسیع و عریض گراؤنڈ ہے۔

یہاں سے وہ رہائشی پلاٹ بھی نظر آ رہا ہے جس پر موجود عمارت کو بھی ایک میزائل نے نشانہ بنایا تھا۔ وہاں بھی ملبہ ابھی تک موجود ہے۔

بظاہر مریدکے مرکز کے باہر کچھ زیادہ نہیں بدلا۔ مرکزی گیٹ پر پہلے کی طرح یہی درج ہے کہ یہ ایک پبلک ہیلتھ اور ایجوکیشن سینٹر ہے۔ اس کے سامنے کی سڑک پر اور بازار میں اب گہما گہمی زیادہ ہے۔ لوگ مرکز کے اندر جاتے اور باہر آتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔

مرکزی گیٹ کے اندر کی طرف دو عمارتیں اب بھی موجود ہیں۔ ان میں سے سفید رنگ کی عمارت مرکزِ صحت ہے جبکہ دوسری سُرخ رنگ کی عمارت ایک ایجوکیشنل کمپلیکس ہے۔

اس مرتبہ ہمیں گاڑی پر مرکز کے اردگرد گھومنے کا کچھ موقع ملا۔ خاردار تاروں کے حصار میں موجود یہ مرکز کئی ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے۔ مرکزی گیٹ کے قریب بنی چند عمارتوں اور متاثرہ مسجد کے ارد گرد ایک وسیع علاقے پر چھوٹے بڑے رہائشی گھر بنے نظر آتے ہیں۔

مرکز کے عقب کی طرف بھی کچھ گیٹ ہیں۔ باہر سے آپ دیکھ سکتے ہیں کہ مرکز کے اندر کچھ زرعی زمین بھی موجود ہے جس پر ان دنوں گندم کی فصل کی کٹائی ہو چکی ہے۔ خاردار تاروں پر مختلف فاصلے پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں۔

اگر آپ یہاں کسی مقام پر رُک کر تصویر لینے یا ریکارڈنگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو سادہ لباس میں ملبوس مسلح افراد فوراً پہنچ جاتے ہیں اور آپ کو وہاں سے جانے کا کہتے ہیں۔ اِن سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد کے شناخت کے حوالے سے یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ اُن کا تعلق کسی سرکاری ادارے سے ہے یا کسی غیر سرکاری تنظیم سے۔

انڈیا کا الزام تھا کہ اس نے مریدکے میں اس سینٹر کو اس لیے میزائلوں سے نشانہ بنایا کیونکہ یہ ’کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کا دہشتگردی کا مرکز' ہے۔ تاہم پاکستانی حکومت کی طرف سے اس کی تردید کی گئی اور دعویٰ کیا گیا کہ 'حکومتی تحویل میں آنے کے بعد سے یہ ایک ہیلتھ اور ایجوکیشن سینٹر ہے جس کے اندر موجود ایک مسجد کو نشانہ بنایا گیا اور اس حملے میں مرنے والے تمام لوگ سویلین (یعنی عام شہری) ہیں۔‘

پاکستان نے سنہ 2002 میں لشکر طیبہ پر سرکاری طور پر پابندی عائد کی تھی۔ تاہم اس پابندی کے باوجود ایسی رپورٹیں سامنے آتی رہی ہیں کہ لشکر طیبہ اپنی فلاحی تنظیم جماعت الدعوہ کو فرنٹ کے طور پر استعمال کر کے بدستور کام کرتی رہی۔ جماعت الدعوہ کی طرف سے اس کی تردید سامنے آتی رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل بھی لشکر طیبہ اور جماعت الدعوہ کو کالعدم تنظیموں اور اِن کے سربراہ حافظ سعید کو پابندی لگائے جانے والے افراد کی لسٹ میں شامل کر چکا ہے۔

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے مطابق لشکر طیبہ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث رہی ہے جس کے القاعدہ اور اس کے سربراہ (سابق) اسامہ بن لادن سمیت متعدد کالعدم تنظیموں، اداروں اور افراد سے روابط ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق لشکرِ طیبہ سنہ 1993 سے فوجی اور شہری اہداف کے خلاف متعدد دہشت گرد کارروائیاں کر چکی ہے، جن میں نومبر 2008 میں انڈیا کے شہر ممبئی میں ہونے والے حملے شامل ہیں، جن میں تقریباً 164 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔

اس کے علاوہ انڈیا کی جانب اس تنظیم پر جولائی 2006 میں ممبئی کی مسافر ٹرینوں پر حملے، دسمبر 2001 میں انڈین پارلیمنٹ پر حملے، اکتوبر 2005 میں نئی دہلی اور دسمبر 2005 میں بنگلور میں ہونے والے حملوں سمیت متعدد کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔

سنہ 2018 اور اس کے بعد سنہ 2019 میں پاکستان نے جماعت الدعوہ اور اس کی ایک ذیلی فلاحی تنظیم فلاح انسانیت فاونڈیشن پر بھی پابندی عائد کر دی تھی اور اس کے ساتھ ہی ان تنظیموں کے تمام تر اثاثے حکومت نے اپنی تحویل میں لے لیے۔

ان اثاثوں میں ایف آئی ایف کی ایمبولینس سروس، دفاتر، فلاحی مراکز کے علاوہ مریدکے میں واقع یہ مرکز بھی شامل تھا۔

یہ کارروائیاں اس وقت سامنے آئیں جب پاکستان کو مالی جرائم کی نگرانی کرنے والی بین الحکومتی تنظیم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس یا فیٹف کی گرے لسٹ میں سنہ 2018 میں شامل کیا گیا تھا۔ اس لسٹ میں ان حکومتوں کو شامل کیا جاتا جن کے خلاف فیٹف یہ اندازہ لگائے کہ وہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت جیسے جرائم کو موثر طریقے سے نہیں روک پا رہی۔

پاکستان کو سنہ 2022 میں فیٹف کی گرے لسٹ سے نکال دیا گیا تھا۔

تاہم پاکستانی حکومت کا موقف ہے کہ سنہ 2019 میں ایف آئی ایف پر پابندی اور اس کے اثاثوں کو حکومتی تحویل میں لینے کے بعد سے مریدکے مرکز کا نظم و نسق حکومت کے پاس ہے۔

تاہم اس کے باوجود آج بھی میڈیا کو آزادانہ طور پر مریدکے میں واقع اس مرکز کے اندر جانے یا باہر سے بھی رپورٹنگ کی اجازت نہیں ہے۔ اس مرکز کے کنٹرول کے حوالے سے بی بی سی نے ضلع شیخوپورہ کی ضلعی انتظامیہ کو سوالات بھجوائے تاہم انھوں نے اس کا جواب نہیں دیا۔

پاکستانی حکومت کا یہ موقف بھی ہے کہ سنہ 2025 میں ہونے والے انڈین میزائل حملوں کے وقت بھی اس مرکز کا نظام ضلعی حکومت کے پاس تھا اور اس حملے میں مرکز میں جن تین افراد کی ہلاکت ہوئی وہ سویلین تھے۔

بہاولپور کا منظر نامہ

سنہ 2019 میں ہی کی گئی پاکستانی حکومت کی کارروائیوں کے دوران پاکستانی حکومت نے صوبہ پنجاب کے جنوبی ضلع بہاولپور میں واقع مسجد سبحان اللہ اور اس سے ملحقہ مدرسہ کو بھی حکومتی تحویل میں لیا تھا۔

یہ مسجد اور مدرسہ بھی ان تین مقامات میں سے ایک ہے جسے انڈیا نے چھ اور سات مئی 2025 کی درمیانی شپ میزائلوں سے نشانہ بنایا تھا۔ پاکستانی حکام کے مطابق ان حملوں میں لگ بھگ 14 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

بی بی سی کی ٹیم سات مئی 2025 کی دوپہر ہی وہاں پہنچ گئی تھی۔ یہاں بھی میڈیا کو مسجد اور مدرسے کی طرف جانے کی اجازت نہیں تھی۔ یہاں تو ہمیں نشانہ بننے والی مسجد سبحان اللہ سے کچھ فاصلے پر ہی بہاولپور، کراچی ہائی وے پر روک دیا گیا تھا جہاں پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔

جہاں مسجد اور مدرسے کا یہ کمپلیکس واقع ہے اس کے اردگرد بہت سی رہائشی عمارتیں بھی بنی ہوئی ہیں۔ یہ کمپلیکس ہائی وے کے عین اوپر بہاولپور شہر سے چند کلومیٹر باہر واقع ہے۔

اس سے قبل سنہ 2019 میں جب حکومت نے اس مسجد اور مدرسے کا کنٹرول لیا تھا تو اس وقت بھی ہمیں وہاں جانے کا موقع ملا تھا۔ اس وقت ضلعی حکومت کی طرف سے تعینات کیے جانے والے اہلکار مسجد میں آ چکے تھے اور اُن کے لیے وہاں ڈیسک بنایا جا رہا تھا۔

اس وقت ہمیں اندر جانے اور وہاں موجود کچھ افراد سے بات چیت کرنے کا بھی موقع ملا تھا۔ انھوں نے اس بات کی تصدیق کی تھی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے اس مسجد اور مدرسے کو تحویل میں لینے کی کارروائی کا آغاز ہو گیا تھا۔ تاہم مزید سوالات پوچھنے اور ایک صحافی کے طور پر اپنی پہچان ظاہر کرنے کے بعد وہاں موجود سکیورٹی اہلکاروں نے ہمیں وہاں سے جانے کا کہا۔

انڈین میزائل حملوں کے ایک سال بعد جب ہم دوبارہ وہاں گئے تو اس کا منظر مختلف ہے۔ بہاولپور شہر کی طرف سے کراچی ہائی وے پر موڑ کاٹتے ہی دور سے ہی مسجد سبحان اللہ نظر آ جاتی ہے۔

اس کے قریب پہنچیں تو دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ مقام جہاں میزائل گرا تھا اس جگہ مسجد کی چھت پر نئے گنبد تعمیر کر دیے گئے ہیں۔ مسجد کے ان گنبدوں کو نیا رنگ کیا جا رہا ہے۔

اس کے سامنے سے گزرتے ہوئے مسجد کا وہ حصہ بھی نظر آتا ہے جسے میزائل حملوں میں نقصان پہنچا تھا اور وہ اب بھی اسی شکل میں کھڑا ہے۔ تاہم اب مسجد اور مدرسہ کمپلیکس کے سامنے بیرونی دیوار کافی اونچی کر دی گئی ہے۔

اس دیوار کے دونوں کونوں میں نگرانی کے لیے واچ ٹاورز بنے نظر آتے ہیں۔ اسی طرح دیوار کے ساتھ باہر کی جانب کچھ واچ پوسٹس بنی ہوئی ہیں جنھیں فوجی طرز کا کیموفلاج رنگ دیا گیا ہے۔

وہاں سے گزرتے ہوئے ہم نے بیرونی دیوار میں نصب ادھ کھلے لوہے کے گیٹ سے یہ بھی دیکھا کہ اندر کی طرف پنجاب پولیس کے بیریکیڈ پڑے ہیں اور اُن کے ساتھ پنجاب پولیس کے اہلکار بھی تعینات ہیں۔

اس مسجد اور مدرسے کے کمپلیکس کو اب مکمل طور پر اونچی چار دیواری نے گھیر رکھا ہے جس میں مختلف مقامات پر واچ ٹاورز بنے ہوئے ہیں اور سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب ہیں۔ یہاں بھی مسجد مدرسے کے اس کمپلیکس کے باہر سے بھی تصاویر لینے یا ویڈیوز بنانے کی ممانعت ہے۔ انڈین میزائل حملوں سے پہلے کے مقابلے یہ اس جگہ کے لیے غیر معمولی سکیورٹی انتظامات ہیں۔

یہاں بھی واچ ٹاورز کے اندر اور مرکزی دروازے کے عقب میں ہمیں سادہ لباس میں ملبوس مسلح گارڈز نظر آئے جن کی شناخت کے بارے میں ہم آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکے کہ ان کا تعلق کسی سرکاری ادارے سے ہے یا کسی غیر سرکاری تنظیم سے۔

انڈیا کا الزام ہے کہ اس نے بہاولپور میں اس مسجد اور مدرسے کے کمپاونڈ کو اس لیے نشانہ بنایا کہ یہاں ’کالعدم تنظیم جیش محمد کا ہیڈ کوارٹر‘ موجود تھا۔ یاد رہے کہ پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے واقعے کے بعد انڈیا کی حکومت نے الزام عائد کیا تھا کہ اس واقعے میں جیش محمد اور لشکر طیبہ جیسی تنظیموں ذمہ دار ہیں، تاہم ان تنظیموں کی طرف سے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی تھی اور پاکستان کی حکومت نے بھی یہ موقف اختیار کیا تھا کہ پاکستان کا اس حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اس سے قبل گذشتہ چند برس میں بھی انڈیا اور انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں انڈیا کی حکومت جیش محمد کو ذمہ دار ٹھہراتی رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے مطابق جیشِ محمد نامی تنظیم کو مولانا مسعود اظہر نے 1999 میں انڈین جیل سے رہائی کے بعد قائم کیا تھا۔مسعود اظہر نے جیشِ محمد کی بنیاد اسامہ بن لادن، طالبان اور دیگر کئی شدت پسند تنظیموں کی حمایت سے رکھی تھی۔

اقوام متحدہ کے مطابق یکم اکتوبر 2001 کو جیشِ محمد نے سرینگ میں جموں و کشمیر اسمبلی کی عمارت پر ہونے والے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں کم از کم 31 افراد ہلاک ہوئے تھے، تاہم بعد میں اس نے اس دعوے سے انکار کر دیا تھا۔ انڈیا کی جانب سے سنہ 2001 میں انڈین پارلیمان پر ہونے والے حملے اور 2019 میں پلوامہ حملے سمیت متعدد شدت پسندی کی کارروائیوں کا الزام اس جماعت پر عائد کیا گیا ہے۔

تاہم پاکستان حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے کہ بہاولپور میں مسجد سبحان اللہ اور مدرسہ صابر کے مقام پر جیش محمد کا کوئی مبینہ کیمپ موجود ہے۔ پاکستان نے سنہ 2002 میں مسعود اظہر کی قائم کردہ جیش محمد پر پابندی عائد کی تھی۔

پاکستان حکومت کا کہنا ہے کہ سنہ 2019 میں مسجد اور مدرسے کو حکومتی تحویل میں لینے کے احکامات جاری کیے گئے تھے جس کے بعد پنجاب حکومت نے اسے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔ اس وقت سے یہ مسجد اور مدرسہ حکومت کی تحویل میں ہے۔

تاہم ایک برس بعد بھی بہاولپور میں اس مقام پر آزادانہ رپورٹنگ کی اجازت نہیں ہے۔ اس کمپلیکس کے کنٹرول کے حوالے سے بی بی سی نے بہاولپور کی ضلعی انتظامیہ کو سوالات بھجوائے تاہم انھوں نے جواب نہیں دیا۔

پاکستانی حکومت نے گزشتہ برس انڈین میزائل حملوں کے بعد بھی یہ کہا تھا کہ انڈیا کی طرف سے ہونے والے حملوں میں یہاں جن افراد کی ہلاکت ہوئی وہ تمام تر سویلین تھے جن میں بچے اور خواتین بھی شامل تھے۔

مظفر آباد کی مسجد بلال

ایک سال قبل جب بی بی سی کی ٹیم پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر مظفرآباد پہنچی تھی تو یہاں واقع شوائی نامی علاقے کی ایک گلی میں ہر طرف انڈین میزائلوں کا نشانہ بننے والی مسجد کا ملبہ بکھرا تھا اور لوگوں میں خوف و ہراس تھا۔

آج بظاہر یہاں معمولاتِ زندگی بحال ہیں، لیکن ایک سال پہلے ہونے والے انڈین حملے کی بازگشت اب بھی یہاں سنائی دیتی ہے۔

مظفر آباد وہی شہر ہے جہاں کئی اہم دفاتر اور سرکاری عمارتیں موجود ہیں۔ چھ اور سات مئی کی درمیانی شب یہاں شوائی نالہ کے مقام پر ایک مسجد انڈین میزائلز کا نشانہ بنی تھی۔ اس کا نام مسجد بلال تھا، تاہم انڈین فوج نے اسے 'سیدنا بلال کیمپ' قرار دیا اور ساتھ ہی ’شوائی نالہ کیمپ‘ کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

سات مئی 2025 کی صبح جب ہم مظفرآباد پہنچے تھے تو سڑکیں سنسان تھیں اور بازاروں میں دکانیں بند۔

مظفرآباد کی مرکزی سڑک سے ایک کچا پکا راستہ شوائی کی طرف جاتا ہے جہاں گذشتہ سال پولیس اور فوج کی گاڑیاں، خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار اور ایمبولینسز کھڑی تھیں۔ یہاں موجود مسجد بلال تقریبا تباہ ہو چکی تھی اور عام افراد کو اس مقام کے قریب جانے کی اجازت نہیں تھی۔

مقامی لوگ، جو رات کو ممکنہ انڈین حملوں کے پیش نظر اپنے گھر کھلے چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف چلے گئے تھے، صبح ہوتے ہی واپس آ رہے تھے تاکہ اپنے گھروں کا جائزہ لے سکیں۔

انڈین حملے میں صرف مسجد بلال ہی نہیں بلکہ اس کے اطراف میں موجود گھروں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

حملے کی صبح ایک مقامی رہائشی نے ہمیں بتایا تھا کہ ’ہم دروازے کھلے چھوڑ کر چلے گئے تھے کیونکہ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ دھماکوں کی آوازوں سے آنکھ کھلی، آسمان آگ سے سفید ہو چکا تھا۔ جس طرف بھاگ سکتے تھے، ہم بھاگ گئے۔ صبح واپس آئے ہیں تاکہ دروازے بند کریں اور گھروں کو تالے لگائیں۔‘

گذشتہ برس پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق مسجد بلال پر سات حملے کیے گئے تھے، جن میں تین افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے، جن میں ایک بچی اور ایک لڑکا بھی شامل تھے۔

اسی علاقے کے رہائشی ایڈووکیٹ سفیر، جن کا گھر مسجد کے عقب میں ہے، بتاتے ہیں کہ اس حملے میں ان کے گھر کو بھی نقصان پہنچا اور ان کی بیٹی زخمی ہوئی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’دونوں ملکوں کے تعلقات کا اندازہ تھا کہ خراب ہیں، مگر یہ نہیں سوچا تھا کہ مظفرآباد بھی نشانہ بنے گا۔ جب دھماکوں کی آواز سے آنکھ کھلی تو مجھے سمجھ آ گیا کہ انڈیا نے حملہ کیا ہے۔‘

انڈیا کا الزام ہے کہ 'سیدنا بلال کیمپ' جیشِ محمد کا اسٹیجنگ کیمپ تھا، جبکہ شوائی نالہ کیمپ کو لشکرِ طیبہ کا تربیتی مرکز قرار دیا گیا۔ پاکستانی حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے اور یہاں کے مقامی افراد بھی ان انڈین دعوؤں کو مسترد کرتے ہیں۔

اس علاقے کے ایک رہائشی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہاں مسجد اور مدرسہ تھے۔ اس مدرسے میں ہمارے بچے پڑھنے جاتے تھے۔ یہاں قریب ہی ایک سکول تھا۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم مقامی لوگ اس جگہ شدت پسندوں کو کام کرنے دیں جہاں ہمارے بچے پڑھنے جاتے تھے؟‘

آج ایک سال بعد اس مقام پر صورتحال مختلف ہے۔

مظفرآباد بظاہر پرسکون دکھائی دیتا ہے۔

لوگ اپنی معمول کی زندگی کی طرف واپس آ چکے ہیں۔ جن گھروں کو جزوی نقصان پہنچا تھا، ان کی مرمت ہو چکی ہے، اور بلال مسجد کی دوبارہ تعمیر جاری ہے۔

تاہم، ایک غیر یقینی کا احساس اب بھی موجود ہے۔

جن لوگوں سے ہم نے بات کی، ان کا کہنا ہے کہ وہ آج بھی اس رات کو یاد کرتے ہیں اور یہ سوال ان کے ذہن میں رہتا ہے کہ کیا ایسا دوبارہ بھی ہو سکتا ہے؟

اس واقعے کے ایک سال بعد مظفرآباد میں جگہ جگہ بینرز لگے ہیں اور حکومت یہاں انڈیا، پاکستان جنگ کا ایک سال مکمل ہونے کے حوالے سے تقریبات کی تیاری کر رہی ہے۔

لیکن اس کے باوجود، بہت سے شہری ان معاملات پر کُھل کر بات کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

یہاں ایسے سینکڑوں خاندان بھی رہتے ہیں جو لائن آف کنٹرول کے قریب نیلم اور لیپہ جیسی وادیوں سے نقل مکانی کر کے آئے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سرحدی فائرنگ اور شیلنگ سے تنگ آ کر شہری علاقوں میں منتقل ہوئے تھے۔

ایک مقامی شہری نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اس حملے کے بعد 'محفوظ جگہ' کا تصور بدل گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’پہلے لگتا تھا کہ مظفرآباد محفوظ ہے، لیکن یہ بھی نشانہ بن گیا۔ پنجاب میں بھی میزائل حملے ہوئے۔ اب چاہے لائن آف کنٹرول پر رہیں یا یہاں، فرق نہیں رہا۔ وہاں پہلے ہی بنکر کی ضرورت رہتی تھی، اور اب شاید یہاں بھی ہے۔‘