مبینہ طور پر تربوز کھانے کے بعد والدین اور بیٹیوں کی ہلاکت کا دعویٰ: فارینزک رپورٹ میں کیا پتا چلا؟

    • مصنف, دیپالی جگتاپ اور الپیش کرکرے
    • عہدہ, بی بی سی مراٹھی
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

تربوز کو دنیا کے گرم علاقوں میں رہنے والے شدید گرمی کے ذیلی اثرات سے بچنے کا بہترین ذریعہ سمجھتے ہیں اور اسی لیے انڈیا اور پاکستان جیسے گرم ممالک میں یہ ایک پسندیدہ پھل ہے۔

تاہم گذشتہ چند دنوں سے انڈیا کے شہر ممبئی میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کی ہلاکت کو تربوز کھانے سے جوڑا جا رہا ہے، جس سے تربوز کی افادیت اور اس کا استعمال ایک بار پھر موضوع بحث بن گئے ہیں۔

موسم گرما کے آغاز پر ہی انڈیا میں تربوز اُس وقت شہ سرخیوں میں آ گیا جب ممبئی کے علاقے پیڈونی میں رات کے کھانے کے بعد ایک خاندان کے افراد نے تربوز کھایا جس کے بعد اس خاندان کے چار افراد ہلاک ہو گئے۔

ہلاک ہونے والوں میں عبداللہ ڈوکاڈیا، اُن کی اہلیہ نسرین اور اُن کی 16 اور 13 سالہ بیٹیاں عائشہ اور زینب شامل تھیں۔

اُن کی اچانک موت سے متعلق فارینزک سائنس لیبارٹری (ایف ایس ایل) کی رپورٹ سامنے آئی ہے جس کے مطابق زنک فاسفائیڈ نامی کیمیکل مرنے والوں کے اندرونی اعضا بشمول جگر، گردے اور تلی کے نمونوں میں پایا گیا ہے۔

زنک فاسفائیڈ کو عام زبان میں چوہے مار زہر کہا جاتا ہے۔

ممبئی کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس پروین منڈے نے بی بی سی کو بتایا کہ ’فارینزک سائنس لیبارٹری سے موصول ہونے والی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تمام مرنے والوں کے اندرونی اعضا اور پیٹ سے لیے گئے نمونوں میں زنک فاسفائیڈ پایا گیا ہے۔‘

اُن کے مطابق فارینزک لیبارٹری کی رپورٹ کا تفصیلی مطالعہ کیا جائے گا اور تحقیقات میں آگے بڑھنے کے لیے فارینزک ڈاکٹروں سے مشاورت کی جائے گی۔

زنک فاسفائیڈ کیا ہے؟

ماہرین کے مطابق زنک فاسفائیڈ ایک انتہائی زہریلا کیمیائی مرکب ہے جو بنیادی طور پر چوہوں کو مارنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

یہ کیمیکل زراعت اور اناج کے ذخیروں میں چوہا مار دوا کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔

زنک فاسفائیڈ ایک غیرنامیاتی مرکب ہے جو زنک (Zn) اور فاسفورس (P) پر مشتمل ہے۔ اس کا کیمیائی فارمولا Zn₃P₂ ہے اور یہ گہرے سرمئی یا سیاہ پاؤڈر یا دانے دار شکل میں استعمال ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق زنک فاسفائیڈ اگر پیٹ میں داخل ہو جائے تو سب سے پہلے معدے کے تیزاب کے ساتھ ردعمل کے نتیجے میں فاسفائن نامی انتہائی زہریلی گیس پیدا کرتا ہے۔ یہ گیس جسم کے خلیوں کو توانائی پیدا کرنے سے روکتی ہے اور یہ دل، پھیپھڑوں اور جگر پر سنگین اثرات کا سبب بن سکتا ہے۔

زنک فاسفائیڈ کا حادثاتی طور پر جسم میں داخل ہو جانا اور فاسفائن گیس کا سبب بننا مہلک ہو سکتا ہے۔ لہذا اس کیمیکل کا استعمال بہت سے ممالک میں سخت ضابطوں سے کنٹرول کیا جاتا ہے اور یہ عام لوگوں کو آسانی سے دستیاب نہیں ہوتا۔

پیڈونی کے رہائشی ڈوکاڈیا خاندان کے چار افراد کی موت کے بعد فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے تربوز کے چھلکوں کا نمونہ جانچ کے لیے بھیجا تھا۔ ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ نمونے ملاوٹ سے پاک ثابت ہوئے تھے۔

دوسری جانب انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ ٹیسٹ کسی بھی قسم کے فوڈ پوائزننگ کی جانچ کی نیت سے نہیں کیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اس بارے میں واضح معلومات فارینزک میڈیکل رپورٹ سے ہی مل سکتی ہیں۔

’تربوز ہضم ہونے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے‘

پاکستان اور انڈیا میں جہاں گرمی کے موسم کے آغاز کے ساتھ ہی تربوز اور خربوزے یعنی میلن فیملی کے پھلوں کو شوق سے کھایا جاتا ہے وہیں اس نوعیت کے جملے بھی عام ہیں کہ تربوز کو کھا کر پانی پینے سے بھلا چنگا شخص بیمار پڑ جاتا ہے۔

گذشتہ چند برسوں میں تربوز کے لال رنگ کو مزید گہرا کرنے کی خاطر اس کو انجیکشن لگانے کی غیر تصدیق شدہ خبریں بھی رپورٹ ہو رہی ہیں۔

رواں سال بھی سوشل میڈیا پر تربوز کے ’بے وقت‘ کھانے اور بیمار پڑنے کی بحث عام ہے تو ہم نے سوچا کہ ان توہمات اور غلط فہمیوں پر ماہرین کی رائے آپ کے گوش گزار دیں۔

اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال سے منسلک ماہر امراض ہاضمہ (گیسٹرو انٹیرولوجسٹ) ڈاکٹر معاذ بن بادشاہ سے ہم نے پوچھا کہ کیا واقعی تربوز اور خربوزے کو خالی پیٹ یا بھرے پیٹ کھانے کے باعث ہیضہ یا اسہال جیسے امراض ہو سکتے ہیں؟

ڈاکٹر معاذ نے اس سوال کا جواب نفی میں دیتے ہوئے کہا کہ ’تربوز، خربوزہ یا میلن فیملی (MELON FAMILY) کے پھل کھانے سے ہیضے یا اسہال کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ صرف غلط فہمی پر مبنی مفروضے ہیں۔‘

’سائنسی طور پر ایسے شواہد نہیں ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہو۔ تاہم موسمِ گرما کے اِن پھلوں میں چونکہ فائبر اور پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے تو ایسا ہو سکتا ہے کہ انھیں کھا کر ہمارا سٹول (پاخانہ) نرم ہو جائے۔ شاید اسی لیے بعض لوگوں کو محسوس ہو سکتا ہے کہ وہ اسہال جیسی کیفیت میں مبتلا ہو گئے ہیں لیکن دراصل وہ سافٹ سٹول ہوتا ہے۔‘

ڈاکٹر معاذ کے مطابق ’البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ ہم اگر کوئی بھی پھل اچھی طرح دھوئے بغیر یا گندے ہاتھوں سے کھائیں تو اس سے پیٹ کی بیماریاں بشمول ہیضہ وغیرہ ہو سکتا ہے۔‘

ماہر غذائیت زینب غیور نے اسی سوال کے جواب میں بتایا تھا کہ ’اگر آپ کے ہاضمے کا نظام پہلے ہی کسی مسئلے کا شکار ہو تو ایسی صورت میں ’ہائی فوڈ میپ‘ (FODMAP) میں شامل پھل (جن میں تربوز بھی شامل ہے) مریض کی مشکل بڑھا سکتے ہیں۔ یعنی اگر پہلے سے ڈائریا یا بدہضمی ہو تو اِن پھلوں کو کھانے کے باعث اپنے سے موجود تکلیف بڑھ سکتی ہے۔‘

انھوں نے مشورہ دیا کہ 'تربوز بھی ایسے ہی پھلوں میں شمار ہوتا ہے جس کو ہضم ہونے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے تو اس لیے ایسے پھلوں کو ایک وقت میں بہت زیادہ مقدار میں کھانا مناسب نہیں۔‘

واضح رہے کہ ماہرین غذائیت پھل، سبزیوں اور کھانے کی دیگر اشیا کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ’ہائی فوڈ میپ‘ سے مراد ایسی غذائیں ہیں جن میں شامل کاربوہائڈریٹس کی اقسام ہضم کرنے میں وقت لگ سکتا ہے، جبکہ 'لو فوڈ میپ' میں شامل کابوہائیڈریٹس انسانی جسم میں باآسانی ہضم ہو جاتے ہیں۔

آلودہ چھری سے ’کٹ‘ لگا تربوز بھی بیماری کی ایک وجہ

دوسری جانب سوشل میڈیا پر اگر نظر دوڑائی جائے تو بہت سے لوگ اس خدشے کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ موسم گرما میں فوڈ پوائزننگ، ہیضے اور دوسری بیماریوں کی وجہ بھی ایسے تربوز ہیں جن کو سرخ اور میٹھا بنانے کے لیے انجیکشن لگائے گئے۔

صارفین کو مختلف چیزوں پر آگاہی فراہم کرنے والی تنظیم کنزیومر سالیڈیرٹی سسٹم کے صدر محسن بھٹی کے مطابق اس کی وجہ تربوز نہیں بلکہ ’ہماری کھانے پینے کی عادات ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب ہم بازار سے تربوز خریدتے وقت اس کا رنگ دیکھنے کے لیے اسے کٹ لگواتے ہیں تو چھری صاف نہیں ہوتی اور نجانے کتنے روز پہلے اسے دھویا گیا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے صحت کو مسئلہ ہو سکتا ہے۔‘

پروفیسر ڈاکٹر شاہد جاوید بٹ نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ کسان پھل کی کاشت کے دوران مختلف کیمیکلز استعمال کرتے ہیں تاکہ اسے جلدی تیار کیا جا سکے۔

’جب تربوز کو کاشت کیا جاتا ہے اور یہ تیار ہونے کے ابتدائی مراحل میں ہوتا ہے تو بہت سے کسان اس کی پیداوار کو بڑھانے کے لیے اور اس کے بہتر رنگ کے لیے مختلف ہارمونز کا استعمال کرتے ہیں۔ پھل کی کاشت کے ابتدائی یا درمیانی مرحلے پر اگر اس میں کچھ ایسے کیمیکلز جیسے کہ آکسی ٹوسن (Oxytocin) کو شامل کیا جائے تو یہ پھل جلدی تیار ہو جاتا ہے اور اس کا رنگ بھی زیادہ لال ہوتا ہے۔‘