ڈارک انرجی: کائنات کے سب سے بڑے 3D نقشے میں پراسرار قوت سے متعلق نئے اشارے

    • مصنف, کارلوس سیرانو
    • عہدہ, بی بی سی نیوز منڈو
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

ایک طاقتور آلے، جس میں فائبر آپٹک کی پانچ ہزار آنکھیں (لینز یا عدسے) نصب ہیں، نے ایک ایسا نقشہ یا تصویر بنائی ہے جو کائنات کے بارے میں ہمارے خیالات کو چیلنج کرتا ہے۔

چار کروڑ 70 لاکھ سے زائد کہکشاؤں اور دو کروڑ ستارے اِس بے مثال تصویر کا حصہ ہیں۔ یہ تصویرڈارک انرجی کے مطالعے کے لیے مخصوص سپیکٹروسکوپک آلے کی مدد سے تیار کی گئی ہے جو امریکہ کی ریاست ایریزونا میں واقع قومی ابزرویٹری میں میں موجود میال ٹیلی سکوپ پر نصب ہے۔

اس تصویر کا حصہ بننے والی کہکشاؤں اور ستاروں کی تعداد ماضی میں کی گئی تمام مجموعی پیمائشوں سے لگ بھگ چھ گنا زیادہ ہے۔

کولمبیا کی ای سی سی آئی یونیورسٹی سے فلکیات میں پی ایچ ڈی کرنے والی محقق لوز اینجیلا گارسیا نے بی بی سی کو بتایا کہ حاصل کردہ تصویر 11,000 ملین نوری سال کے فاصلے تک پھیلی ہوئی ہے، یعنی اس نے کائنات کے ابتدائی مراحل میں موجود ایسی کہکشاؤں کو بھی فلم بند کیا ہے، جو کائنات کے آغاز کے قریب وجود میں آئیں اور جن کی عمر لگ بھگ 13,700 ملین سال بتائی جاتی ہے۔

اس تصویر کی صورت میں حاصل کیا گیا سنگ میل ہمیں کہکشاؤں کی ساخت اور اُن کے ترتیب پانے کے طریقے کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ڈارک میٹر یعنی تاریک مادے (جو سائنس کے سب سے بڑے رازوں میں سے ایک ہے) کے بارے میں بھی نئے اشارے فراہم کرتی ہے۔

آسمان کی نقشہ سازی

گذشتہ پانچ برسوں کے دوران ڈارک انرجی سپیکٹروسکوپک انسٹرومنٹ (DESI) نے آسمان کے تقریباً ایک تہائی حصے کا نقشہ تیار کر لیا ہے، جبکہ یہ آلہ ہر رات ایک لاکھ سے زائد کہکشاؤں کی پیمائش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

فائبر آپٹک ڈیٹیکٹرز سے لیس یہ جدید سائنسی آلہ کہکشاؤں کے سپیکٹرم کو ناپنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کی مدد سے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ جب اِن کہکشاؤں کی روشنی زمین تک پہنچتی ہے تو اس دوران کائنات کتنی وسعت اختیار کر چکی ہوتی ہے۔

لیکن DESI کی ایک اور بڑی کامیابی یہ ہے کہ یہ ڈارک انرجی یعنی تاریک توانائی کو سمجھنے کا ایک نیا طریقہ پیش کرتا ہے۔ یاد رہے کہ ہماری کائنات کا 70 فیصد حصہ ڈارک انرجی پر ہی مشتمل ہے اور ایک ایسی قوت کے طور پر کام کرتی ہے جو کائنات کے پھیلاؤ کو تیز کرتی ہے۔

تاہم اس کے علاوہ ڈارک انرجی کے بارے میں سائنسدانوں کو یقینی طور پر بہت کم معلومات حاصل ہیں۔

اب تک یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ ڈارک انرجی ایک ’کاسمولوجیکل کانسٹنٹ‘ (کونیاتی مستقل) کے طور پر برتاؤ کرتی ہے۔ یہ ’کاسمولوجیکل کانسٹنٹ‘ دراصل ایک ایسا عنصر ہے جسے معروف سائنسدان البرٹ آئن سٹائن نے اپنے نظریۂ اضافت (جنرل تھیوری آف ریلیٹیوٹی) کی مساوات میں شامل کیا تھا۔ ’کاسمولوجیکل کانسٹنٹ‘ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ کائنات ایک مستحکم انداز میں پھیلتی کیوں رہتی ہے۔

ارتقا پذیر توانائی

تاہم نئے مشاہدات ایک ایسے خیال کو تقویت دیتے ہیں، اور جسے DESI نامی آلہ گذشتہ کچھ عرصے سے نوٹ کر رہا تھا، اور وہ یہ ہے کہ ڈارک انرجی مستحکم نہیں رہتی بلکہ وقت کے ساتھ ارتقا پذیر ہوتی ہے۔

سنہ 2025 میں DESI پہلے ہی اعلان کر چکا تھا کہ ڈارک انرجی کا متضاد کششی اثر کمزور ہو سکتا ہے۔

جیسے جیسے خلا وسعت اختیار کرتی ہے، ویسے ویسے کہکشاؤں کے درمیان فاصلہ بڑھتا جاتا ہے اور اسی کے ساتھ ڈارک انرجی اِس پھیلاؤ کو مزید تیز کرتی ہے۔

لیکن اگر حقیقت میں ڈارک انرجی یعنی تاریک توانائی کمزور ہو رہی ہے، تو یہ کائنات کو سمجھنے کے ہمارے طریقے کو متاثر کر سکتی ہے۔

اب تک، سب سے زیادہ قبول شدہ نظریہ یہ ہے کہ ڈارک انرجی تقریباً غیر تبدیل شدہ رہتی ہے۔

گارسیا وضاحت کرتی ہیں کہ اسی لیے یہ نئے اشارے ’ہمارے کائنات کے لیے ایک مختلف مستقبل کی پیش گوئی کرتے ہیں، جس کا تصور اس وقت سے کیا جا رہا تھا جب ڈارک انرجی کو ہمارے کائناتی حساب میں شامل کیا گیا۔‘

ڈارک انرجی کے بارے میں DESI کے اعلانات اس ماڈل میں بنیادی تبدیلی کا سبب بن سکتے ہیں جس کے ذریعے کائنات کے کام کرنے کا طریقہ، توانائی اور مادے کے درمیان توازن، اور اس کے انجام کو سمجھایا جاتا ہے۔

کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ کمزور ہوتی ہوئی ڈارک انرجی ’جدید کائناتوں کے لیے ایک نیا نظریہ‘ پیش کرتی ہے۔

اگر ایسا ہے، تو یہاں تک امکان موجود ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب ڈارک انرجی اتنی کمزور ہو جائے گی کہ کششِ ثقل کہکشاؤں کو ایک دوسرے کی طرف کھینچنا شروع کر دے، یہاں تک کہ وہ اس کیفیت کا سبب بنے گی جسے ماہرین فلکیات ’بگ کرنچ‘ (عظیم انہدام) کہتے ہیں۔

نقشے کی توسیع

DESI کے محققین اب ha نقشے کو مزید 20 فیصد بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں، تاکہ یہ 17,000 مربع ڈگری تک پھیل جائے، جو وہ پیمانہ ہے جس سے آسمان میں کسی شے کے رقبے کو ناپا جاتا ہے۔

ماہر فلکیات ایتھن سیگل نے اس کی وضاحت کی کہ ’اگر آپ بازو کو سیدھا کر کے ہاتھ آگے بڑھائیں تو چھوٹی انگلی کا ناخن آسمان پر تقریباً 1 مربع ڈگری کو ڈھانپتا ہے۔‘

مثال کے طور پر، چاند تقریباً 0.2 مربع ڈگری کا رقبہ گھیرتا ہے۔

نقشے کا یہ وسیع ورژن اُن خطوں کو بھی شامل کرے گا جہاں ستاروں کی چمک یا زمین کی فضا دور دراز اجرام فلکی کے مشاہدے کو مشکل بنا دیتی ہے۔

وہ چھوٹی کہکشاؤں اور ستاروں کے دھاروں کا بھی مطالعہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

DESI کے مطابق اس سب کا مقصد ڈارک میٹر کو بہتر طور پر سمجھنا ہے، جو مادے کی وہ غیر مرئی شکل ہے جو کائنات کے زیادہ تر کمیتی حصے پر مشتمل ہے، لیکن جسے کبھی براہِ راست دریافت نہیں کیا گیا۔

DESI کے ڈائریکٹر مائیکل لیوی کہتے ہیں، ’ہم نہیں جانتے کہ ہمیں کیا ملے گا، لیکن ہمیں یقین ہے کہ یہ کافی دلچسپ ہو گا۔‘