میں ریڈ سکوائر پر یومِ فتح کی کئی
پریڈز میں شریک ہو چکا ہوں، لیکن اس سال
کی پریڈ بالکل مختلف محسوس ہوئی۔
گذشتہ برسوں میں مجھے سینٹ باسل کے
قریب پارک کی گئی میڈیا بس سے اتر کر دوڑ کر جانا پڑتا تھا تاکہ پریس ایریا میں
کوئی اچھی جگہ حاصل کر سکوں۔
لیکن اس سال دوڑنے کی ضرورت نہیں
تھی۔ تقریب میں صحافیوں کی تعداد کہیں کم تھی اور بہت سے بین الاقوامی میڈیا
اداروں کو رسائی نہیں دی گئی تھی۔
جب میں ریڈ سکوائر میں اپنی جگہ پر
پہنچا تو روسی ٹی وی کی ایک ٹیم میرے پاس آئی اور فلم بندی شروع کر دی۔
رپورٹر مسکراتے ہوئے بولا: ’سٹیو! آپ
کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ غیر ملکی میڈیا کو آنے دیا گیا ہے۔‘
میں نے جواب دیا: ’حقیقت
میں ایسا نہیں ہے۔ مجھے یہاں اور کوئی نظر نہیں آ رہا۔‘
اس کے باوجود میں وہاں اپنے موجود
ہونے پر خوش تھا، تاکہ خود دیکھ سکوں کہ سنہ 2026 کی یومِ فتح کی پریڈ کیسی دکھائی
دیتی ہے۔
صحافیوں کی کم تعداد کے ساتھ ساتھ سٹینڈز
میں مہمان بھی کم تھے، اور عالمی رہنماؤں کی تعداد بھی گذشتہ برسوں کے مقابلے میں
کہیں کم تھی۔
لیکن سب سے نمایاں فرق تب سامنے آیا
جب پریڈ شروع ہوئی۔
نہ ٹینک تھے، نہ راکٹ لانچرز اور نہ ہی
بین البر اعظمی بیلسٹک میزائل۔ یعنی وہ فوجی ساز و سامان نظر نہیں آیا جسے کریملن
عام طور پر یومِ فتح پر روسی عسکری طاقت کے اظہار کے لیے پیش کرتا ہے۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ اس سال کی پریڈ
کو محدود سطح پر منعقد کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں مہمانوں اور صحافیوں کی تعداد
بھی کم رہی۔ حکام نے اس کی وجہ سکیورٹی خدشات قرار دیے، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ
یوکرین ڈرونز کے ذریعے ریڈ سکوائر کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
صدر ولادیمیر پوتن کے لیے ایسی پریڈ کو محدود کرنا آسان فیصلہ نہیں ہو گا، کیونکہ یہ تقریب ہمیشہ روسی طاقت دکھانے کے لیے ترتیب دی جاتی ہے۔ تاہم یوکرینی حملے کے خدشے نے اس تبدیلی کو لازمی بنا دیا۔
بالآخر پریڈ بغیر کسی واقعے کے اپنے انجام کو پہنچی، کوئی حملہ نہیں ہوا۔ ماسکو اور کیئو کے درمیان، ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں ہونے والی آخری لمحے کی جنگ بندی نے خطرے کو کم کر دیا تھا۔
جمعے کے روز یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس میں روس کو پریڈ منعقد کرنے کی ’اجازت‘ دی گئی۔
یوکرین کے اس طنزیہ اقدام کو ماسکو میں پسند نہیں کیا گیا۔
کریملن کے ترجمان نے کہا کہ روس کو یومِ فتح کی پریڈ منعقد کرنے کے لیے کسی کی اجازت درکار نہیں۔
اور جس فوجی ساز و سامان کا ذکر میں نے پہلے کیا تھا، وہ کہاں تھا؟
ہم اسے ریڈ سکوائر میں تو نہ دیکھ سکے، لیکن وہ سکرین پر ضرور دکھائی دیا۔
ریڈ سکوائر میں نصب بڑی سکرینز پر متعدد راکٹ لانچرز، لڑاکا طیارے، ٹینک، آبدوزیں اور دیگر ہتھیار دکھائے گئے۔
ایسا لگتا ہے کہ کریملن نے یہ طے کیا کہ اگر عوامی طور پر فوجی ساز و سامان کی نمائش ممکن نہیں، تو ویڈیو پیشکش ہی بہترین متبادل ہے۔
صدر پوتن نے اپنی تقریر میں کہا: ’ہم ہمیشہ فاتح رہے ہیں اور ہمیشہ فاتح رہیں گے۔‘
سوویت یونین نے 81 برس قبل فتح حاصل کی تھی۔ سنہ 1945 میں اس نے ایک جارح قوت کو پسپا کیا تھا اور شکست دی تھی۔ اس کامیابی کو روس ’عظیم فتح‘ کہتا ہے، اور اسی کا جشن ریڈ سکوائر میں منایا گیا۔
لیکن یوکرین کی جنگ ایک بالکل مختلف جنگ ہے۔ روس نے چار سال سے زائد عرصہ قبل یوکرین پر حملہ کیا تھا اور اس وقت تک روس کے لیے فتح کی کوئی علامت نظر نہیں آ رہی۔