بُلٹ پروف گاڑیوں کے لیے 9.6 ارب روپے: ’ایس سی او اجلاس کے بعد اِن گاڑیوں کا کیا ہو گا؟‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حکومتِ پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کے لیے 45 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے علاوہ 300 نان بُلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنے کے حوالے سے وضاحت جاری کی ہے۔
حکومتی بیان کے مطابق 45 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے بارے میں بعض شکوک و شبہات پر مبنی اور غیر ضروری تبصرے کیے جا رہے ہیں، جن میں اس فیصلے (گاڑیوں کی خریداری) کے پس منظر اور اہمیت کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ آٹھ ستمبر کو پاکستانی وزارت خزانہ نے ایک اعلامیے کے ذریعے آگاہ کیا تھا کہ 30 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے لیے 6.6 ارب روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دی گئی تھی۔ اس کے بعد 14 ستمبر کو اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے کابینہ ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی ایک اور سمری پر غور کیا جس میں مزید 15 بلٹ پروف سیڈان گاڑیوں کی خریداری کے لیے تکنیکی ضمنی گرانٹ کے ذریعے تین ارب روپے فراہم کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔
وفاقی حکومت کے کفایت شعاری کے اقدامات کے تحت چونکہ نئی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی عائد ہے، اسی لیے ان 45 گاڑیوں کی خریداری سے قبل پابندی میں نرمی حاصل کی گئی ہے۔
بُلٹ پروف گاڑیوں پر وضاحت
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے ’ایکس‘ پر پوسٹ کردہ کابینہ ڈویژن کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اس وقت شنگھائی تعاون کونسل کے فورم ’کونسل آف ہیڈز آف سٹیٹ‘ کی صدارت کر رہا ہے اور یہ سربراہی اجلاس دنیا کے اہم ترین اور باوقار بین الاقوامی اجتماعات میں شمار ہوتا ہے اور یہ اجلاس 1973 کے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) سربراہی اجلاس کے بعد پاکستان میں منعقد ہونے والا سب سے بڑی عالمی تقریب ہو گی۔
حکومت کے مطابق ’اس موقع سے پاکستان کو عالمی برادری میں اپنا وقار اور مقام مزید مستحکم کرنے کا موقع ملے گا، اس لیے اجلاس کی اہمیت کو کم تر نہیں سمجھا جا سکتا اور نہ ہی اسے سیاسی رنگ دیا جانا چاہیے۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں مختلف ممالک کے سربراہانِ مملکت، سربراہانِ حکومت اور بین الاقوامی تنظیموں کے اعلیٰ حکام شرکت کریں گے، جس کے باعث سکیورٹی کے بین الاقوامی معیار کے مطابق محفوظ، قابلِ اعتماد اور مؤثر نقل و حمل کا انتظام ناگزیر ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان کو درپیش سکیورٹی چیلنجز اور بیرونی دشمن عناصر سے لاحق خطرات کے پیشِ نظر اعلیٰ شخصیات کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرنا مزید اہم ہو جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بیان میں مزید کہا گیا کہ کابینہ ڈویژن کے پاس اس وقت دستیاب جدید ترین بلٹ پروف گاڑیاں 2016 ماڈل کی ہیں، جو اجلاس کی ضروریات اور مطلوبہ سکیورٹی معیار پر پورا نہیں اُترتیں اور اسی لیے مطلوبہ خصوصیات کی حامل 45 بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ مختلف فورمز پر غور و خوض کے بعد کیا گیا اور یہ تعداد کم از کم ضرورت کی بنیاد پر طے کی گئی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس گاڑیوں کے علاوہ 300 نان بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کی جائیں گی۔

،تصویر کا ذریعہ@ForeignOfficePk
سوشل میڈیا پر ملے جلے تبصرے
یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر یہ معاملہ گذشتہ کئی دن سے زیر بحث ہے اور صارفین اس پر اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔
سابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان میں ایس سی او اجلاس کے لیے حکومت 45 لگژری گاڑیاں خرید رہی ہے اور 9 ارب 60 کروڑ روپے ’ضائع‘ کر رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ایس سی او کے صرف 10 اراکین ہیں، انڈیا سمیت نو ممالک کے رہنماؤں کے لیے 45 گاڑیوں کی خریداری؟ حکومت کسے بیوقوف بنا رہی ہے۔‘
علی ارقم نامی سوشل میڈیا صارف نے حکومت کی ’کفایت شعاری‘ کی مہم پر طنز کرتے ہوئے سوال کیا کہ ’ایس سی او اجلاس ختم ہونے کے بعد اِن گاڑیوں کا کیا ہو گا؟‘
انھوں نے مزید لکھا کہ ’یہاں معاملہ صرف گاڑیوں کی خریداری کا نہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ ریاست ان اخراجات کو کس طرح منظور کرتی ہے اور ان پر عوامی یا پارلیمانی نگرانی کتنی ہوتی ہے؟ ایسی خریداریوں کے لیے سپلیمنٹری گرانٹ اور ایمرجنسی سیکیورٹی انتظامات کا راستہ اختیار کیا جاتا رہا ہے۔‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
انھوں نے کہا کہ اس خریداری کے لیے حکومت نئی گاڑیوں کی خرید پر عائد پابندی سے خصوصی استثنا بھی مانگا گیا ہے۔ انھوں نے تنقید کرنے والے پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کیا چاہتے ہیں کہ غیر ملکی سربراہان اور اعلیٰ حکام کو تانگے اور بگھی میں پھرایا جائے؟‘
حسین یعقوب نامی صارف نے لکھا کہ ’سکیورٹی اپنی جگہ اہم ہے، لیکن عوام کا پیسہ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ اگر بلٹ پروف گاڑیوں پر پیسے خرچ کرنا واقعی ضروری ہے تو حکومت کو درپیش سکیورٹی خطرات کے جائزے کی تفصیلات بھی عوام کے سامنے رکھنی چاہییں، یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ حکومت کے پاس موجودہ گاڑیوں کا کیوں استعمال نہیں کیا جا سکتا، اور خریداری کی شرائط و ضوابط بھی ظاہر کی جانی چاہییں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’کفایت شعاری کی پالیسی میں استثنا دیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے لیے شفافیت ناگزیر ہے۔‘
حسنین رفیق نامی صارف نے لکھا کہ ’ٹیکس دیتے دیتے اور مہنگائی برداشت کرتے کرتے عوام مر گئی ہے۔ ہمیں سفارتی کامیابیوں کی کہانیاں نہ سنائیں، گذشتہ چار سال میں ان سے عام آدمی کو کیا ملا؟ ہمیں ایسے اعزازوں کی نہیں، روٹی اور چھت کی ضرورت ہے، جو آج ایک لاکھ ماہانہ کمانے والے کے لیے بھی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔‘




















