میٹا گلاسز: پاکستان میں ’خفیہ ریکارڈنگ‘ کے لیے استعمال ہونے والے چشموں پر پابندی کا مطالبہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں لاہور ہائیکورٹ نے ’میٹا گلاسز‘ سمیت کیمرے والے چشموں کے استعمال کے خلاف دائر درخواست پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور وفاقی وزارتِ تجارت سمیت دیگر متعلقہ محکموں سے جواب طلب کر لیا ہے۔
حسنین العابدین نامی شہری کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے منگل کو سماعت کی۔
درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ تجارت، پی ٹی اے، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، کسٹم اور نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ان عینکوں سے ہونے والی ’خفیہ ریکارڈنگ‘ سے شہریوں کی ذاتی زندگی متاثر ہو رہی ہے، لہذا عدالت کیمرے والی عینکوں کی فروخت پر پابندی عائد کرے۔
دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’یہ انتہائی حساس معاملہ ہے۔ آئندہ سماعت سے قبل تمام فریقین جواب جمع کروائیں۔‘
عدالت نے مزید سماعت آٹھ اکتوبر تک ملتوی کر دی ہے۔
خیال رہے کہ ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے چند برس قبل دُنیا کی مشہور چشمے بنانے والی کمپنی ریبین کے اشتراک سے ریبین میٹا گلاسز متعارف کروائے تھے۔
حالیہ برسوں میں اس کے مزید جدید ماڈلز متعارف کروائے جاتے رہے ہیں جبکہ اسے آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے بھی منسلک کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان کے علاوہ دُنیا کے مختلف ممالک میں ان سمارٹ گلاسز پر پرائیویسی سے متعلق تحفظات سامنے آتے رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’ریکارڈنگ کے وقت سرخ لائٹ کا نظر آنا مشکل ہے‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
درخواست گزار کے وکیل ایڈووکیٹ شہرام ساقی نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان جیسے ملک میں ان گلاسز کے استعمال سے نہ صرف پرائیویسی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں بلکہ اس سے سکیورٹی خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
شہرام ساقی کا کہنا تھا ان چشموں میں کیمروں کے ساتھ ساتھ مائیکرو فونز بھی نصب ہوتے ہیں اور کوئی کسی بھی وقت کسی بھی جگہ پر کسی دوسرے شخص کی ویڈیو اور آڈیو ریکارڈ کر سکتا ہے۔
اُن کے بقول پاکستان میں آن لائن پلیٹ فارمز میں یہ چشمے ایک لاکھ 20 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ کے درمیان آسانی سے دستیاب ہیں اور انسٹا گرام اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچے بھی اسے استعمال کرتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔
’یہ بلیو ٹوتھ اور وائی فائی کے ساتھ فون کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں اور اسے استعمال کرنے والا شخص جو دیکھتا ہے وہ ریکارڈ کر سکتا ہے۔ اس ایپ کے ذریعے کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر آسانی سے اپ لوڈ کیا جا سکتا ہے اور اس کی لائیو سٹریمنگ بھی کی جا سکتی ہے۔‘
شہرام ساقی کا کہنا تھا کہ پرائیویسی اور سکیورٹی معاملات کی وجہ سے ریاست نیویارک اور انگلینڈ اینڈ ویلز کی عدالتوں میں یہ چشمے لانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
’جرمنی میں وکلا کے ایک گروپ نے بھی اس پر مکمل پابندی کی درخواست دائر کر رکھی ہے جبکہ آئر لینڈ اور اٹلی میں بھی ڈیٹا پروٹیکشن کمیشن نے بھی ان پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔‘
شہرام ساقی کے بقول میٹا کا کہنا ہے کہ ریکارڈنگ کے وقت چشمے کے ایک طرف ایک سرخ بتی روشن ہوتی ہے اور یہ کسی دوسرے شخص کو متنبہ کرنے کے لیے کافی ہے کہ اس کی ریکارڈنگ ہو رہی ہے۔
تاہم شہرام ساقی کے بقول ’پاکستان جیسے ملک، جہاں آگاہی کی کمی ہے، میں خاص طور پر دن کے اوقات یہ سرخ لائٹ کا نظر آنا بہت مشکل ہے۔‘
’اگر آپ فون سے کسی شخص کی بغیر اجازت ریکارڈنگ کی کوشش کرتے ہیں تو پتا چل جاتا ہے، کیونکہ ریکارڈنگ کرنے والا شخص فون نکالتا ہے اور پھر ریکارڈنگ شروع کرتا ہے۔ تو دوسرے شخص کو پتا چلتا ہے کہ ریکارڈنگ ہو رہی ہے۔ لیکن رے بین میٹا گلاسز میں تو پتا ہی نہیں چلتا۔‘
اُن کے بقول اس طرح کے چشمے شر پسند عناصر کے ہاتھ لگ جائیں تو اس سے سکیورٹی خطرات مزید بڑھ جاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سمارٹ گلاسز کیا ہیں اور ان کے استعمال پر بحث کیوں؟
یہ ویئریبل ٹیکنالوجی (ایسی ڈیوائسز جنھیں پہنا جاتا ہے) کے عروج کا دور ہے جس کی جھلک جلد ہی ہر سڑک یا پارک میں نظر آ سکتی ہے۔ لیکن سمارٹ گلاسز کے مستقبل کو ہر کوئی اچھا نہیں سمجھتا۔
یہ ٹیکنالوجی صارفین کو کال کرنے، بنا ہاتھوں کے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرنے اور صرف فریم کو چھو کر تصاویر اور ویڈیوز بنانے کی سہولت دیتی ہے۔ مگر اس سے رازداری کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
برطانیہ بھر میں تقریباً 800 پبز چلانے والی کمپنی ویدرسپونز نے اپنی عمارتوں میں ان گلاسز کے ذریعے ویڈیو بنانے پر پابندی لگا دی ہے۔ جبکہ خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں نے ہراسانی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
تاہم چونکہ ٹک ٹاک اور انسٹاگرام جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مواد تخلیق کرنے والوں کی ویڈیوز اب بھی مقبولیت حاصل کر رہی ہیں، اس لیے عوامی مقامات پر ان گلاسز کے بہترین استعمال کے بارے میں بحث جاری رہے گی۔
پیئرس ویلیلی انھی کونٹینٹ کری ایٹرز میں سے ایک ہیں۔ مغربی بیلفاسٹ کے علاقے بیلیمر فی سے تعلق رکھنے والے 31 سالہ ویلیلی سوشل میڈیا پر اپنے کام سے روزگار کماتے ہیں۔
وہ میٹا رے بین گلاسز استعمال کرتے ہیں اور ان کی بیشتر ویڈیوز میں گلاسز کی آنکھ سے نظر آنے والا منظر دکھایا جاتا ہے، جس میں وہ سڑک پر چلتے ہوئے راہگیروں سے بات چیت بھی کرتے ہیں۔
بیلفاسٹ شہر کے مرکز میں بنائی گئی ان کی سب سے مقبول ویڈیوز میں سے ایک کو ٹک ٹاک پر 600,000 مرتبہ دیکھا گیا۔
ان ویڈیوز کی کامیابی ان کے خوشگوار ماحول پر منحصر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی نے ویڈیو شائع نہ کرنے کو کہا ہو تو انھوں نے کبھی ایسی ویڈیو پوسٹ نہیں کی اور نہ ہی کبھی کسی نے ان سے رابطہ کر کے ویڈیو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔
’میرا خیال ہے کہ یہ اس لیے ہے کیونکہ میری ان لوگوں کے ساتھ گفتگو کی نوعیت ایسی ہوتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ میں ان کا مذاق نہیں اڑا رہا، بلکہ میں یہ کام مثبت انداز میں کر رہا ہوں۔‘
ویلیلی میٹا گلاسز استعمال کرتے ہیں۔ یہ سمارٹ گلاسز کی بڑھتی ہوئی مارکیٹ میں سب سے آگے ہیں اور کمپنی کے مطابق اب تک اس کی 70 لاکھ سے زیادہ گلاسز فروخت ہو چکی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPearse Vallely
میٹا گلاسز کیسے کام کرتے ہیں؟
چند سو پاؤنڈ میں دستیاب یہ گلاسز مشہور سن گلاسز برانڈ رے بین بنانے والی کمپنی کے اشتراک سے تیار کیے گئے ہیں، اور ان کے فریم میں ایک غیرنمایاں کیمرہ نصب ہے جسے صارف چھو کر فعال کر سکتے ہیں۔
اس سے سفید روشنی ٹمٹمانے لگتی ہے جس کا مقصد لوگوں کو بتانا ہوتا ہے کہ ویڈیو بنائی جا رہی ہے، جبکہ تصاویر کے وقت فلیش بھی روشن ہوتی ہے۔ میٹا کے ترجمان کے مطابق یہ ایک ایسی خصوصیت ہے جو 'سمارٹ فونز اور دیگر کیمروں میں موجود نہیں'۔
میٹا کا کہنا ہے کہ اس نے حال ہی میں گلاسز کو اس طرح اپ ڈیٹ کیا ہے کہ اگر روشنی کے نظام میں چھیڑ چھاڑ کی جائے تو کیمرا غیر فعال ہو جائے گا۔
محققین کا اندازہ ہے کہ اگر دوسری کمپنیوں کی مصنوعی ذہانت یا سمارٹ گلاسز مصنوعات بھی میٹا کے ماڈل جتنی مقبول ہو گئیں تو اگلے چند برسوں میں 100 ملین تک لوگ ایک جوڑا خرید سکتے ہیں۔
ویلیلی، جن کی ویڈیوز کی کامیابی اچانک اور فطری تعاملات پر منحصر ہے، کہتے ہیں کہ گلاسز پر موجود روشنی کی وجہ سے لوگوں کو اکثر معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ ریکارڈنگ کر رہے ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ممکن ہو تو وہ ویڈیو بنانے کے بعد متعلقہ افراد کو یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ انھیں ریکارڈ کیا گیا ہے۔
شمالی آئرلینڈ میں عمومی طور پر کسی شخص کی عوامی مقام پر ویڈیو بنانا، چاہے خفیہ طور پر ہی کیوں نہ ہو، قانونی ہے کیونکہ عوامی مقامات پر لوگوں کو عموماً رازداری کی مناسب توقع حاصل نہیں ہوتی۔
ویڈیو بنانا صرف اسی صورت غیرقانونی ہو گا اگر اسے ہراسانی، تعاقب، جھانکنے کی نیت سے بنائی گئی ریکارڈنگ تصور کیا جائے یا ایسے حالات ہوں جہاں رازداری کی مناسب توقع موجود ہو۔

ویلیلی نے کہا کہ ’کسی کے ساتھ 30 سیکنڈ کی گفتگو کرنا ٹھیک ہے۔‘
’میرے خیال میں ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہم یہ چیز کھو رہے ہیں، اور میں ٹیکنالوجی کو استعمال کر کے اسے دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔‘
ویلیلی کا کہنا تھا کہ اگر لوگ ’تضحیک آمیز اور نامناسب‘ رویہ اختیار کریں تو وہ میٹا گلاسز پر پابندی کی وجہ سمجھ سکتے ہیں، لیکن ان کے مطابق ویڈیو بنانے کے پیچھے نیت سب سے اہم چیز ہے۔
’لوگ جانتے ہیں کہ یہ میں کر رہا ہوں، جبکہ کچھ دوسرے لوگ یہ کام ٹرول اکاؤنٹس پر کرتے ہیں۔ جو بھی ایجاد ہو، لوگ اسے غلط مقاصد کے لیے استعمال کریں گے۔‘
اگرچہ ویلیلی کا کہنا ہے کہ انھیں کسی مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑا، لیکن ایسی اطلاعات موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ گلاسز استعمال کر کے ویڈیو بنانے والوں اور عام لوگوں کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
گذشتہ دسمبر نیویارک کی سبوے میں ایک خاتون نے ایک شخص کے میٹا گلاسز دو ٹکڑے کر دیے تھے اور لوگوں نے انھیں ’ہیرو‘ قرار دیا تھا۔
جولائی میں سکاٹ لینڈ میں پولیس نے ایک ایسے ٹک ٹاکر کے خلاف تحقیقات شروع کیں جس پر عوام کے افراد کی خفیہ ویڈیو بنانے کے لیے ان گلاسز کے استعمال کا الزام تھا۔
ویڈیو بنانے پر پابندی کے حوالے سے ویدرسپونز کے ترجمان نے کہا کہ سمارٹ گلاسز ’خفیہ نگرانی کو ممکن بنا کر عام فہم اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں‘۔ جبکہ کامک کان ناردرن آئرلینڈ کا انعقاد کرنے والی کمپنی مونوپولی ایونٹس نے بھی خفیہ ریکارڈنگ کے خدشات کے باعث اپنی تقریبات میں ان گلاسز کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔
ادھر خواتین کے پاس جا کر ان سے فون نمبر مانگنے اور ان کے ردعمل کی ویڈیو بنانے والے صارفین کی ٹک ٹاک ویڈیوز اکثر #howtogetagirlfriend ہیش ٹیگ کے ساتھ شائع کی جاتی ہیں اور ہزاروں مرتبہ دیکھی جاتی ہیں۔

ہراسانی سے متعلق خدشات
ویمنز ریسورس اینڈ ڈیولپمنٹ ایجنسی میں خواتین کے شعبے سے وابستہ لابیسٹ ایلین کروی کا کہنا ہے کہ لوگوں کو اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ یہ گلاسز کب اور کیسے استعمال ہو رہے ہیں اور یہی صورتحال رضامندی سے متعلق مسائل پیدا کرتی ہے۔
’اس وقت اگر آپ کیمرے یا فون سے ویڈیو بنا رہے ہوں تو میں عموماً اسے دیکھ سکتی ہوں اور پھر اس سے بچ سکتی ہوں۔ لیکن ممکن ہے آپ کو معلوم ہی نہ ہو کہ مصنوعی ذہانت والے کیمرے سے آپ کی ویڈیو بن رہی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ یہ خدشات بھی موجود ہیں کہ گلاسز کو ایسے کاموں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جو پہلے ہی غیرقانونی ہیں، جیسے کسی کی سکرٹ کے نیچے سے خفیہ تصویر یا ویڈیو بنانا۔
کروی کا کہنا ہے کہ لوگ ویڈیوز ہٹوانے کے لیے سوشل میڈیا ویب سائٹس سے رجوع کر سکتے ہیں اور بعض مقامات نے ’ہر معاملے کو الگ بنیاد پر‘ دیکھتے ہوئے انتباہی بورڈ بھی لگا دیے ہیں، لیکن ان کے خیال میں قانون سازی ابھی اس ٹیکنالوجی کے مطابق نہیں ہو سکی۔
انھوں نے کہا کہ ’اگر کسی شخص کی سڑک پر، بس میں یا کلاس روم میں ویڈیو بنا لی جائے تو اس کے پاس قانونی چارہ جوئی کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔‘
محکمہ انصاف (ڈی او جے) کا کہنا ہے کہ اگرچہ میٹا گلاسز کی ضابطہ بندی اس کے دائرۂ اختیار کا مخصوص معاملہ نہیں، لیکن اگر ان گلاسز کے استعمال میں ’ایسا رویہ شامل ہو جو مجرمانہ حد عبور کر جائے تو موجودہ جرائم، مثلاً جھانکنے کی ایک شکل کے طور پر سکرٹ کے نیچے خفیہ ریکارڈنگ‘ سے متعلق قوانین نافذ ہو سکتے ہیں۔

کیا میٹا گلاسز کے فوائد بھی ہیں؟
ماہر بصارت جیوف میک کونویل اپنے بیلفاسٹ کے سٹور میں میٹا گلاسز فروخت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے ’نامناسب استعمال‘ سے متعلق خدشات موجود ہیں لیکن اس ٹیکنالوجی کے فائدے بھی ہیں۔
وہ مثال دیتے ہیں کہ ان کے مریض متن کو آواز میں تبدیل کرنے والی خصوصیات استعمال کرتے ہیں جس سے وہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے اخبارات اور سائن بورڈ پڑھ سکتے ہیں۔ ’میرے معمر اور کمزور بینائی والے مریضوں کے لیے یہ انقلابی ہیں۔ یہ حیرت انگیز ہیں۔‘
ایک بیان میں میٹا کا کہنا تھا کہ یہ گلاسز ’کم بینا یا سماعت سے محروم افراد کے لیے انتہائی اہم نئی ٹیکنالوجی فراہم کرتے ہیں اور لوگوں کے اس ٹیکنالوجی کے استعمال کو محدود کرنا ایک بڑا پس قدمی کا قدم ہو گا۔‘
’فطری طور پر کچھ مقامات کی بالکل بھی ویڈیو نہیں بننی چاہیے اور یہ ایک معقول بات ہے، لیکن قواعد کا اطلاق یکساں انداز میں ہونا چاہیے۔‘
حالیہ سوال و جواب کے ایک سیشن میں انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسیری نے کہا کہ اگر لوگ ایسا مواد پوسٹ کرتے ہیں جو ’لوگوں سے فائدہ اٹھانے اور انھیں ہراساں کرنے‘ پر مبنی ہو تو ’ہم اس مواد کو ہٹا دیں گے۔‘




















