عراق سے دو دہائیوں بعد امریکی فوجیوں کا مکمل انخلا: کیا واشنگٹن کا اثر و رسوخ برقرار رہے گا یا ایران مزید مضبوط ہو گا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, لوئس باروچو
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
امریکہ 30 ستمبر تک عراق میں موجود اپنے باقی ماندہ فوجیوں کا انخلا مکمل کرنے والا ہے، جس کے ساتھ ایسی تعیناتی کا خاتمہ ہو جائے گا جس نے دو دہائیوں سے زیادہ عرصے تک اس ملک پر اثر ڈالا۔
یہ اقدام اُس فوجی موجودگی کے خاتمے کی علامت ہے جو 2003 کے حملے سے شروع ہوئی تھی، جس نے صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا، اور جو بعد کے برسوں میں شورش اور فرقہ وارانہ تشدد کے دوران جاری رہی۔
امریکی افواج نے 2011 میں عراق چھوڑ دیا تھا، لیکن 2014 میں نام نہاد دولتِ اسلامیہ گروپ (آئی ایس) کو شکست دینے میں مدد کے لیے واپس آئیں۔
یہ انخلا ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران کے ساتھ جاری کشیدگی نے ایک بار پھر عراق میں موجود امریکی اہلکاروں کو خطرات کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ فوجیوں کے جانے کے باوجود عراق میں امریکی اثر و رسوخ ختم ہونے کا امکان نہیں ہے۔
کیا ہو رہا ہے اور کیوں؟

،تصویر کا ذریعہAFP
سرکاری طور پر یہ انخلا واشنگٹن اور بغداد کے درمیان 2024 میں طے پانے والے اُس معاہدے کے تحت ہو رہا ہے جس کے مطابق آئی ایس (جسے امریکہ میں داعش بھی کہا جاتا ہے) کے خلاف امریکی قیادت میں قائم اتحادی مشن ’آپریشن ان ہیرنٹ ریزولو‘ ختم کیا جا رہا ہے۔
2007 میں عراق جنگ کے عروج پر ملک میں 170,000 سے زیادہ امریکی فوجی تعینات تھے۔
امریکی مرکزی کمان کے مطابق دسمبر 2023 تک، جب انخلا کا معاہدہ طے پایا، یہ تعداد کم ہو کر تقریباً 2400 رہ گئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کے بعد امریکی افواج نے اپنی موجودگی مزید کم کر دی اور اب صرف ایک چھوٹا دستہ خطۂ کردستان میں باقی ہے۔
واشنگٹن میں اٹلانٹک کونسل کے عراق انیشی ایٹو سے وابستہ غیر مقیم سینئر فیلو صفوان الامین کہتے ہیں: ’یہ انخلا سابق عراقی حکومت کے دور میں طے پایا تھا کیونکہ عراق میں داعش کو شکست دینے کے مشن نے اپنا مقصد حاصل کر لیا تھا۔‘
یہ اقدام عراق کے اندر طویل عرصے سے موجود سیاسی دباؤ کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
2016 سے 2019 تک عراق میں امریکی سفیر رہنے والے ڈگلس سلیمن کہتے ہیں کہ لگاتار عراقی حکومتوں کو امریکی فوجی موجودگی ختم کرنے کے مطالبات کا سامنا رہا ہے، کیونکہ بہت سے لوگ اسے عراقی خودمختاری میں مداخلت سمجھتے ہیں۔
سلیمن، جو اب واشنگٹن میں عرب خلیجی ریاستوں کے انسٹی ٹیوٹ کے صدر ہیں، نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’ایران نواز دھڑوں اور زیادہ تر شیعہ برادری کے بعض حصوں کے دباؤ کے تحت چند عراقی حکومتیں یہ یقینی بنانے کے لیے دباؤ ڈالتی رہی ہیں کہ یہ افواج ملک چھوڑ دیں۔‘
امریکی افواج نے صدر باراک اوباما کے دور میں 2011 میں عراق چھوڑا تھا، لیکن تین سال بعد بغداد کی درخواست پر واپس آئیں جب آئی ایس نے ملک کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔
اس کے بعد سے ان کا کردار جنگی کارروائیوں سے بدل کر تربیت، مشاورت اور انٹیلیجنس کے تبادلے تک محدود ہو گیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس ماہ ہونے والے انخلا کا وقت باضابطہ طور پر داعش مخالف مشن کے خاتمے سے زیادہ سکیورٹی خدشات سے جڑا ہوا ہے۔
برطانیہ کے تھنک ٹینک رُوسی کے سینئر ایسوسی ایٹ فیلو ایچ اے ہیلیئر کہتے ہیں: ’یہ داعش نہیں بلکہ خطرے کا معاملہ ہے، یہ جواز تو برسوں پہلے ختم ہو چکا تھا۔‘
ہیلیئر شمالی عراق میں امریکی تنصیبات پر حالیہ حملوں اور ایران سے متعلق علاقائی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ واشنگٹن اپنے باقی ماندہ اہلکاروں کو بڑھتے ہوئے خطرات کی زد میں سمجھنے لگا تھا۔
صفوان الامین بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ امریکی اور عراقی حکام نے پہلے اتحادی مشن کے خاتمے کے بعد بھی ایک محدود امریکی دستہ برقرار رکھنے پر بات کی تھی۔
وہ کہتے ہیں: ’فوجیوں کی کم تعداد اور طاقت کے محدود استعمال کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے ایران جنگ نے ان کی موجودگی کو اثاثے کے بجائے ایک کمزوری کے طور پر نمایاں کر دیا۔‘
عراق میں امریکی میراث کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہUniversal History Archive/Universal Images Group via Getty Images
حملے کے دو دہائیوں سے زیادہ عرصے بعد بھی عراق میں امریکی فوجی مداخلت کی میراث کے بارے میں آرا میں گہرا اختلاف پایا جاتا ہے۔
صفوان الامین اسے ’ملی جلی صورتِ حال‘ قرار دیتے ہیں۔
ان کے مطابق: ’امریکی حملہ اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکا اور نہ ہی رجیم کی تبدیلی عراقی عوام کے ایک مستحکم اور خوشحال ملک کے خواب پورے کر سکی۔‘ ان کا کہنا ہے کہ اس سے خطہ غیر مستحکم ہوا اور ایران کو اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع ملا۔
سلیمن بھی مانتے ہیں کہ تبدیلی کا عمل مشکل رہا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ برسوں کے دوران بہت سے عراقیوں نے انھیں بتایا کہ وہ صدام حسین کے خاتمے کے بعد آنے والی سیاسی تبدیلی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
ان کے مطابق عراق میں نمائندہ جمہوریت کے تصور نے جڑ پکڑ لی ہے، اگرچہ ایسی آبادی میں جمہوری روایات کو مضبوط ہونے میں وقت لگے گا جسے اس کا پہلے بہت کم تجربہ تھا۔
واشنگٹن کی امریکن یونیورسٹی میں گلوبل کردش انیشی ایٹو فار پیس کے ڈائریکٹر یریوان سعید بھی اس حوالے سے مثبت رائے رکھتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں: ’سابق حکومت کا خاتمہ واقعی بڑی بات تھی۔‘
ان کے مطابق ناقدین اُس جبر کو نظر انداز کر دیتے ہیں جس کا خاتمہ ہوا۔
اگرچہ بدعنوانی اب بھی موجود ہے، لیکن ان کے خیال میں 2003 سے پہلے کے مقابلے میں عراق میں سیاسی آزادی زیادہ ہے، خصوصاً عراقی کردستان میں۔
ہیلیئر اس پورے سوال کو جمہوریت کے تناظر میں دیکھنے کو ہی مسترد کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں: ’لوگوں کو یہ سوال پوچھنا چھوڑ دینا چاہیے کہ کیا امریکہ نے عراق میں جمہوریت قائم کی؟ نہیں، اور یہ معاملہ طے ہو چکا ہے۔‘
ان کے نزدیک زیادہ اہم میراث علاقائی ہے: ’صدام کو ہٹانے کے نتیجے میں بالآخر ایرانی نیٹ ورکس ریاست کے اندر سرایت کر گئے اور اُس توازن کی جگہ لینے لگے جسے واشنگٹن نے ختم کیا تھا۔‘
تاہم چاروں ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ عراق اب بھی اُس مستحکم جمہوریت سے بہت دور ہے جس کا تصور امریکی پالیسی سازوں نے 2003 میں کیا تھا۔
ان کے مطابق بدعنوانی وسیع پیمانے پر موجود ہے اور مسلح گروہ اب بھی ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ طاقت رکھتے ہیں، خصوصاً پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) میں شامل سخت گیر دھڑے، جنھیں بغداد مکمل طور پر ریاستی کنٹرول میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔
آگے کیا ہو گا؟

،تصویر کا ذریعہGamma-Rapho via Getty Images
صفوان الامین انخلا کو عراق میں امریکی اثر و رسوخ کے خاتمے کے طور پر نہیں دیکھتے۔
وہ کہتے ہیں: ’امریکہ کے پاس اب بھی کافی اثر و رسوخ ہے کیونکہ عراق اپنی تیل کی فروخت کے لیے امریکی ڈالر پر انحصار کرتا ہے۔ عراق ہتھیاروں کی خریداری کے لیے بھی امریکہ پر انحصار کرتا ہے اور اپنے علاقائی پڑوسیوں سے متعلق مسائل سے نمٹنے کے لیے امریکی سفارتی حمایت کا محتاج ہے۔‘
سعید کے مطابق اس اثر و رسوخ کا ایک حصہ ملک میں واشنگٹن کی سفارتی موجودگی سے جڑا ہے۔
وہ کہتے ہیں: ’بغداد میں دنیا کا سب سے بڑا امریکی سفارت خانہ موجود ہے۔ اربیل میں دنیا کا سب سے بڑا امریکی قونصل خانہ موجود ہے۔‘
وہ نشاندہی کرتے ہیں کہ فوجی انخلا کے بعد بھی ان دونوں تنصیبات کو مسلسل تحفظ درکار ہو گا۔
سلیمن کے مطابق امریکہ اور عراق کے درمیان ’بہت گہرا فوجی تعلق‘ برقرار رہے گا، جس میں عراقی فوج، انسدادِ دہشت گردی سروس اور نیم خودمختار کردستان کے مسلح دستوں پیشمرگہ کو تربیت اور منصوبہ بندی میں مدد شامل رہے گی۔
تاہم سب سے بڑا غیر یقینی عنصر ایران کی حمایت یافتہ عراقی عسکری گروہ ہیں۔
عراقی وزیرِ اعظم علی الزیدی ابتدا میں چاہتے تھے کہ 30 ستمبر تک ان گروہوں کو مکمل طور پر ریاستی اختیار کے تحت لے آیا جائے، لیکن اطلاعات کے مطابق یہ تنظیمیں 2027 کے اختتام تک توسیع چاہتی ہیں۔
ماہرین اس بارے میں اختلاف رکھتے ہیں کہ آیا یہ ٹائم لائن بھی حقیقت پسندانہ ہے یا نہیں۔
سعید کہتے ہیں: ’ایسا نہیں ہونے والا۔‘
وہ عراق کے سیاسی اور مالیاتی نظام میں ملیشیاؤں کی گہری جڑیں، پارلیمان میں ان کی موجودگی اور تہران کے ساتھ ان کے تعلقات کا حوالہ دیتے ہیں۔
تاہم سلیمن ایک ممکنہ مثبت پہلو بھی دیکھتے ہیں۔
ان کے مطابق امریکی فوجیوں کی عدم موجودگی میں ملیشیائیں ایک اہم سیاسی ہتھیار کھو سکتی ہیں، جس سے بغداد کو ان پر دباؤ ڈالنے کے لیے زیادہ گنجائش مل سکتی ہے۔
تاہم وہ ایک زیادہ سنگین خطرے سے خبردار کرتے ہیں: ’میں نے متعدد عراقی وزرائے اعظم سے بات کی ہے جو اس خدشے کا اظہار کرتے ہیں کہ اس سے خانہ جنگی یا ممکنہ طور پر عراق کے اندر ایک اور داخلی جنگ جنم لے سکتی ہے۔'
سعید کو داعش کے دوبارہ ابھرنے کا بھی خدشہ ہے اور وہ اسے 2011 کے انخلا کے بعد کے حالات سے جوڑتے ہیں۔
ان کے مطابق جب امریکی فوجی نکل گئے تھے تو بغداد کی شیعہ قیادت والی حکومت نے سنی رہنماؤں کی گرفتاری اور انھیں سیاسی عمل سے باہر کرنے کی مہم شروع کی، جس نے بہت سے سنی فرقہ سے تعلق رکھنے والوں کو انتہا پسندی کی طرف دھکیلا اور داعش کے عروج میں مدد دی۔
سعید خبردار کرتے ہیں کہ چونکہ سنی برادریاں ایک بار پھر اپنے مستقبل کے حوالے سے فکر مند ہیں، اس لیے انتہا پسندی کا خطرہ نمایاں ہے۔
سلیمن اس سے زیادہ پُرامید ہیں اور کہتے ہیں کہ عراقی سکیورٹی فورسز ایک دہائی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہیں اور کسی بھی ایسے خطرے سے نمٹنے کی بہتر صلاحیت رکھتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGamma-Rapho via Getty Images
علاقائی سطح پر ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انخلا عراق میں امریکہ اور ایران کے درمیان طاقت کے توازن کے بارے میں نئے سوالات بھی پیدا کرتا ہے۔
صفوان الامین کے مطابق ایران ’اگر ممکن ہوا تو اپنا اثر و رسوخ مزید مضبوط کرے گا‘ اور وہ خبردار کرتے ہیں کہ اس انخلا کو لازماً حتمی نہ سمجھا جائے۔
وہ کہتے ہیں: ’امریکی فوجی 2011 میں بھی عراق چھوڑ چکے تھے، لیکن چند سال بعد دوبارہ واپس آ گئے تھے۔ یہ کہانی کے ایک باب کا خاتمہ ہے، پوری کہانی کا نہیں۔‘




















