ایمرجنسی کا خوف، تیاری کا فقدان یا حکمت عملی: تحریک انصاف کو لانگ مارچ کیوں ملتوی کرنا پڑا اور اب کیا ہو گا؟

پی ٹی آئی
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

پاکستان میں ستمبر کے مہینے کا اختتام نزدیک آتے آتے ملک کے سیاسی درجہ حرارت میں بھی بدلاؤ دیکھنے کو مل رہا ہے۔

ایک جانب جہاں پاکستان تحریک انصاف 27 ستمبر کے بعد اب چار اکتوبر کے لانگ مارچ کی تیاریوں کا دعویٰ کر رہی ہے تو دوسری جانب وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکان کا عندیہ دیے جانے کے بعد ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے۔

سوموار کے روز وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو میں کہا ہے کہ ’اگر حالات آئینی تقاضا کریں تو صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کی جا سکتی ہے۔‘

دوسری جانب اپنے بیان میں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے عوام کے مینڈیٹ کے خلاف کسی بھی اقدام کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دے چکے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف اب اتوار کے روز یعنی چار اکتوبر کے لانگ مارچ کی تیاریوں میں ہے لیکن اب تک اس لانگ مارچ کا مکمل پلان سامنے نہیں لایا گیا اور نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ وہ لانگ مارچ کہاں تک کریں گے، کیسے کریں گے اور ہدف کیا ہوگا۔ بظاہر جماعت کی طرف سے کوئی بڑے پیمانے پر تیاریاں بھی نظر نہیں آ رہیں۔

دوسری جانب وفاقی حکومت کے عہدیداروں کی جانب سے صوبے میں گورنر راج ، وزیر اعلی کے خلاف عدم اعتماد اور نیشنل ایمرجنسی کے نفاذ کے بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

بظاہر پی ٹی آئی کے قائدین کے مطابق انھوں نے بنیادی تین مطالبات سامنے رکھے ہیں جن میں عمران خان اور بشری بی بی کا نجی ہسپتال میں علاج، ان سے ملاقاتوں کی اجازت اور ان کے مقدمات کی عدالتوں میں باقاعدہ سماعت کرانا ہے۔

لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ تحریک انصاف نے لانگ مارچ ملتوی کیوں کیا اور اب کیا ہو گا؟ لیکن پہلے جانتے ہیں کہ 25 ستمبر کی پی ٹی آئی کے اجلاس میں کیا ہوا؟

’لانگ مارچ کے لیے تیاری کا فقدان‘

PTI relly
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پاکستان تحریک انصاف نے 25 ستمبر کو اپنے لائحہ عمل کا اعلان کرنا تھا کہ ان کا 27 ستمبر کا لانگ مارچ کا لائحہ عمل کیا ہو گا اور اس کے لیے وزیر اعلی کی پریس کانفرنس کا وقت بھی طے تھا، صحافیوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا لیکن لانگ مارچ کے طریقہ کار کا اعلان نہیں کیا گیا بلکہ اس کو چار اکتوبر تک ملتوی کر دیا گیا ہے ۔

پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ بنیادی طور پر اس لانگ مارچ کے لیے ’کوئی بھی تیاری نہیں تھی۔‘ اس کے علاوہ ’سہیل آفریدی کے علاوہ کوئی ذمہ داری لینے کو بھی تیار نہیں تھا۔‘

ان کے مطابق ’اس لانگ مارچ کے لیے اعلان تو کوئی 52 روز پہلے کر دیا گیا تھا لیکن تنظیمی سطح پر کسی کو کوئی زمہ داریاں تفویض نہیں کی گئی تھیں ناں ہی کوئی ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا گیا تھا۔‘

پی ٹی آئی کے ایک منتخب رکن صوبائی اسمبلی نے بتایا کہ 25 ستمبر کو پارٹی کے اجلاس میں اراکین اسمبلی سے کہا گیا تھا کہ ’ہر بندہ ایک ہزار افراد ساتھ لائے گا جبکہ خوف کے اس دور میں کارکن بڑی تعداد میں نکلنے کو تیار نہیں تھے۔‘

پی ٹی آئی کے ایک کارکن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اب ورکرز میں خوف ہے کہ اس میں اگر جاتے ہیں تو جان جانے کا خطرہ ہے اس کے علاوہ گرفتاری کی صورت میں جیلوں میں جایا جا سکتا ہے اور اس کے بعد ان کی رہائی کے لیے لیڈر شپ میں کوئی ایسا نہیں ہے جو ان کی رہائی کے لیے پھر بھاگ دوڑ کرے، یہ سارے خوف کارکنوں میں پائے جاتے تھے۔‘

شوکت یوسفزئی کا پارٹی قیادت کو خط

اس اجلاس کے بارے میں پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی سے رابطہ کیا تو انھوں نے بتایا کہ 25 تاریخ کے اس اجلاس سے ایک دن پہلے انھوں نے پارٹی کی قیادت کو ایک خط لکھا تھا۔

ان کے مطابق اس خط میں انھوں نے کہا تھا کہ ’حکومت نے اگر ٹھان لیا ہے کہ وہ ریاستی طاقت کا استعمال کرے گی تو ہماری سیاسی حکمت عملی کیا ہونی چاہیے۔ اگر دیکھا جائے تو حکومت بوکھلاہٹ میں پورا پاکستان بند کر چکی ہے، احتجاج کے ذریعے جو ہم چاہتے تھے وہ ہم حاصل کر چکے ہیں، اٹک تک کنٹینر پہنچ گئے ہیں۔‘

خط کے متن میں مزید کہا گیا کہ ’تصادم سے نہ صرف ورکروں کی جانیں جا سکتی ہیں بلکہ پارٹی کو سیاسی طور پر ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا بھی اندیشہ ہے۔ اس لیے پارٹی اور ملک کے وسیع تر مفاد میں 26 تاریخ کو اچانک لانگ مارچ ملتوی کرنے کا اعلان کر دیں تو بہت بہتر ہوگا۔‘

ان کے مطابق کچھ دن بعد اگر مطالبات تسلیم نہیں ہوتے یا حکومت مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہوتی تو دوبارہ لانگ مارچ کی کال دی جا سکتی ہے اس طرح حکومت بھی تھک جائے گی۔

’آپ کو یاد ہوگا عمران خان نے بھی ایک لانگ مارچ ڈی چوک پہنچنے سے پہلے بلیو ایریا میں اسی طرح تصادم کے امکان کے پیش نظر ملتوی کردیا تھا۔ اگر آج ہم نے سیاسی حکمت عملی نہ اپنائی اور صرف ورکروں کے پریشر میں آ کر فیصلے کیے تو اس کے پارٹی پر گہرے اثرات ہو سکتے ہیں۔‘

شوکت یوسف زئی کے مطابق خط میں انھوں نے لکھا کہ ’یہ میری ذاتی رائے ہے باقی آپ کا جو بھی فیصلہ ہوگا اس پر عمل کیا جائے گا۔‘

انھوں نے اس خط کی کاپی وزیر اعلی، اسد قیصر، جنید اکبر اور دیگر قائدین کو بھی بھیجی ہے۔

اب احتجاج کے لیے چار اکتوبر کا اعلان کیا گیا ہے لیکن اب بھی بظاہر پی ٹی آئی کی جانب سے کوئی باقاعدہ اس طرح کی تیاریاں نظر نہیں آ رہیں جیسے سابق وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کے دور میں دو مرتبہ لانگ مارچ کیے گئے تھے اور جماعت کی سطح پر تیاریاں کی جا رہی تھیں۔

راستے بند
،تصویر کا کیپشنلانگ مارچ سے 10 روز پہلے سے ہی اسلام آباد اور دیگر راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی تھیں

پی ٹی آئی کے رہنما ارباب عاصم نے بتایا ہے کہ اس لانگ مارچ کے لیے اب تک انھیں کوئی پلان نہیں دیا گیا ہے کہ کیسے جائیں گے اور کیا کریں گے لیکن یہ ضرور کہا گیا ہے کہ تمام رہنما اور اراکین 24 گھنٹے کی کال پر تیار رہیں اور لانگ مارچ سے پہلے کال دی جا سکتی ہے۔

انھوں نے کہا اب تک انھیں نہیں معلوم کہ کیسے اور کہاں سے روانگی ہونی ہے۔

پی ٹی آئی کے جانب سے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور بات چیت کی جا سکتی ہے لیکن اب تک وفاق کی جانب سے کوئی واضح جواب اس بارے میں نہیں آیا ہے۔

کیا ان حالات میں پی ٹی آئی لانگ مارچ کر پائے گی یا حکومت پی ٹی آئی کے مطالبات تسلیم کر لے گی اور کیا وفاقی حکومت کوئی ایسا بڑا فیصلہ کر سکتی ہے جس سے صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت ہی نہ رہے؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار فرزانہ علی کے مطابق ’اگرچہ پی ٹی آئی کی قیادت بڑے دعوے کر رہی ہے لیکن ایسا نہیں لگتا پی ٹی آئی اس مرتبہ کوئی بڑی عوامی طاقت کا مظاہرہ کر پائے گی۔‘

فرزانہ علی نے بتایا کہ ’27 ستمبر کی تاریخ ملتوی کرنے کا فیصلے کے بارے میں انھیں جماعت کے لوگوں نے بتایا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے یہ پیغام آیا تھا کہ لانگ مارچ کی جگہ پر مذاکرات کریں اور اس کے لیے پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اہم کردار ادا کر رہے تھے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’جماعت کے اندر بھی کچھ غلط فہمیاں اور رہنماؤں کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں جنھیں زائل کرنے کے لیے سہیل آفریدی نے علی امین گنڈا پور سے ملاقات کی ہے اور جماعت کے اندر بہتر تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔‘

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ
،تصویر کا کیپشنجیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے ’خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کا تقاضا ہو تو لگنی چاہیے اور لگے گی بھی۔‘

پی ٹی آئی کہاں کھڑی ہے؟

صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے چند روز پہلے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ اسلام آباد میں آٹھ مختلف راستوں سے داخل ہوں گے اور وہ پانچ یا چھ دنوں میں اسلام آباد پہنچیں گے۔ انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے ساتھ لاکھوں لوگ اس لانگ مارچ میں شریک ہوں گے۔

شفیع جان کا کہنا تھا کہ ’ہم پر امن رہیں گے ہم غیر مسلح ہوں گے۔ یہ اگر وہاں سے ربڑ بلٹ مارتے ہیں یا شیلنگ کرتے ہیں ہم اس کا مقابلہ کریں گے ہم پر امن رہیں گے۔ یہ واضح ہے کہ جمہوری احتجاج ہمارا آئینی حق ہے اور ہم اپنا یہ حق استمعال کریں گے۔‘

تاہم سینیئر صحافی اور تجزیہ کار علی اکبر کے مطابق ’پی ٹی آئی کی جانب سے اس طرح کی تیاریاں نظر نہیں آ رہی تھیں جس طرح وفاقی حکومت نے اس کو سنجیدگی سے لے لیا تھا۔ پی ٹی آئی کے پاس کوئی پلان نہیں تھا کہ اٹک پہنچ کر آگے وہ کیا کریں گے کارکنوں کو کون اور کیسے کنٹرول کرے گا۔‘

اٹک کا پل
،تصویر کا کیپشنپی ٹی آئی کے ممکنہ احتجاجی مارچ کے پیش نظر پنجاب اور خیبرپختونخوا کو ملانے والے اٹک کے پل اور اطراف مزید رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں

’بات چیت سے مسائل کا حل نکالا جائے‘

پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ان کے تین اہم مطالبات ہیں اور ان کے بارے میں اعلیٰ عدالتوں نے فیصلے بھی دیے جن میں ایک عمران خان اور بشری بی بی کو علاج کی مکمل سہولت فراہم کرنا ہے اور دوسرا ان سے ملاقاتوں کی اجازت دینا ہے اور اس کے علاوہ عدالتوں میں مقدمات کی باقاعدہ سماعت ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’وفاقی حکومت کے وزراء ایسے بیان دے رہے ہیں جیسے پی ٹی آئی کوئی سیاسی جماعت نہ ہو حالانکہ جمہوریت میں اختلاف رائے ہوتا ہے اور اپنے حقوق کے لیے سیاسی جماعتیں آواز اٹھاتی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’لانگ مارچ پرامن ہوگا لیکن اس سے پہلے ہم نے وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ سیاست میں ایک دوسرے کو سنا جاتا ہے، راستے تلاش کیے جاتے ہیں، ہم بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہمارے لانگ مارچ کے لیے سامنے شہباز شریف یا کوئی وزرا نہیں ہوں گے بلکہ آگے قانون نافذ کرنے والے ادارے کے لوگ ہوں گے تو ہم ان سے کیوں الجھیں؟ اس لیے بہتر ہے کہ بات چیت کی جائے اور ان مسائل کا حل نکالا جائے۔‘

دوسری جانب وفاقی حکومت نے اس لانگ مارچ کو روکنے کے لیے اسلام آباد کے اندر اور اس کے باہر کنٹینروں کی دیواریں کھڑی کردیں تھیں جبکہ چند سڑکوں پر کھدائی کے علاوہ لوہے کی سلاخوں والے بڑے بڑے کیل نصب کر دیے تھے۔

اس بارے میں صحافی علی اکبر کا کہنا ہے کہ ’وفاق کی جانب سے کیے گئے اقدامات اور وفاقی وزراء کے بیانات سے بظاہر ایک صوبے کے خلاف مکمل مہم نظر آ رہی ہے جس میں ایک صوبے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور یہ رویہ متعصبانہ ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’موجودہ وزارء کے بیان اور اس سے پہلے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کا یہ بیان کہ انھیں خطرہ تین صوبوں سے ہے، اس سے صوبوں اور ان کے لوگوں کے درمیان نفرت پیدا ہو سکتی ہے اور یہ آگے چل کر ملک کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔‘

سہیل آفریدی کی کوششیں؟

سہیل آفریدی
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو: سہیل آفریدی حیدرآباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے

لانگ مارچ کی تاریخ ملتوی کرنے کے بعد سہیل آفریدی نے ایک تو وفاق کو مذاکرات کا کہا ہے اس کے علاوہ انھوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں سابق وزیر اعلی علی امین گنڈا پور سے ملاقات کی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ایسا تاثر پایا جاتا تھا کہ علی امین اور سہیل آفریدی کے درمیان سیاسی اختلافات پائے جاتے ہیں۔

اس ملاقات پر نظر رکھنے والے مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ بظاہر یہ ملاقات کافی اہم تھی۔

اس ملاقات سے ایک تو یہ تاثر ختم کرنا تھا کہ جماعت کے اندر اختلافات پائے جاتے ہیں اور اس کے علاوہ ارباب اختیارات تک یہ پیغام پہنچانا تھا کہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور بات چیت سے راستہ تلاش کیا جائے۔

جماعت کے اندر ایک رہنما نے نام ظاہر نے کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اس وقت سہیل آفریدی کوششیں تو کر رہے ہیں تاکہ وفاق سے حالات بہتر ہو سکیں اور ایسا کوئی فیصلہ نہ ہو جس سے ان کی کرسی چلی جائے یا صوبے میں ان کی حکومت ختم ہو لیکن اس وقت جو بات چیت چل رہی ہے اس میں وفاقی حکومت کی جانب سے دباؤ بڑھ رہا ہے اور پارٹی کے مختلف آرا بھی سامنے آ رہی ہیں لیکن ان میں کچھ حتمی بات سامنے نہیں آئی ہے۔