’آگے موت ہے، جو آنا چاہتا ہے آ جائے:‘ کرک میں شدت پسندوں سے لڑتے ہوئے جان گنوانے والے ڈی ایس پی عمران الدین کون تھے؟

پولیس
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو، پشاور
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

’آگے موت ہے، اپنی مرضی سے جو آنا چاہتا ہے آ جائے۔ واپسی نہیں، وعدہ کرو کہ آخری دم تک لڑیں گے۔ کوئی ساتھیوں کو چھوڑ کر واپس نہیں آئے گا۔‘

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ڈی ایس پی عمران الدین اپنے پولیس اہلکاروں سے یہ الفاظ کہتے سنائی دیتے ہیں۔ وہ اپنے ساتھیوں کو آپریشن کے خطرات سے آگاہ کرتے ہیں، ان سے آخری دم تک ساتھ رہنے کا وعدہ لیتے ہیں اور پھر اپنی ٹیم کے ہمراہ روانہ ہو جاتے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں سی ٹی ڈی کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس عمران الدین شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں اپنے تین ساتھیوں، ایس ایچ او افضل اعوان، سی ٹی ڈی اہلکار کاظم اور بم ڈسپوزل یونٹ کے اہلکار امجد سمیت جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق، واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔

ڈائریکٹر پبلک ریلیشن خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ضلع کرک میں شدت پسندوں کے خلاف سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن کے دوران بہادری اور پیشہ ورانہ عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے شدت پسندوں کا مقابلہ کیا۔

فائرنگ کے تبادلے میں دو شدت پسند مارے گئے ہیں جبکہ ڈی ایس پی (سی ٹی ڈی) عمران الدین خان، ایس آئی افضل اعوان، ڈی ایس پی سی ٹی ڈی کے گن مین کاظم اور بم ڈسپوزل یونٹ کے اہلکار امجد بھی ہلاک ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق بدھ کی شب تھانہ خرم کی حدود میں واقع چرپیرا روڈ پر دہشت گردوں نے ناکہ بندی کر رکھی تھی۔ واقعے کے بعد شدت پسندوں کی موجودگی اور نقل و حرکت کے خلاف کارروائی کے لیے جمعرات کی دوپہر 12 بجے سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن شروع کیا گیا۔

آپریشن کی قیادت ڈی ایس پی بانڈہ اور ڈی ایس پی سی ٹی ڈی کر رہے تھے، جبکہ بی ڈی یو، ڈرون ٹیم، ریسکیو 15 اور آر آر ایف کے اہلکار بھی کارروائی میں شریک تھے۔

آپریشن کے دوران چرپیرا میں شدت پسند کمانڈر قیصر اقبال کے گھر پر چھاپہ مارا گیا، جہاں پولیس اورعسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ فائرنگ کے تبادلے میں دو شدت پسند مارے گئے جبکہ ڈی ایس پی سی ٹی ڈی عمران الدین خان، ایس آئی افضل اعوان ایس ایچ او تھانہ لتمبر، ڈی ایس پی سی ٹی ڈی کے گن مین کاظم اور بی ڈی یو اہلکار بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے آفیشل اکاؤنٹ سے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر کی گئی پوسٹ میں انھیں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے۔

تفصیلی پوسٹ میں لکھا گیا کہ ’آج پاکستان نے ایک غیرت مند اور بہادر بیٹا کھو دیا ہے اور خیبر پختونخوا پولیس ایک ایسے نڈر، بااصول اور جری افسر سے محروم ہو گئی ہے جس کی شجاعت، دیانت داری اور قربانی کو تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔‘

’ڈی ایس پی عمران الدین شہید کا شمار ان بے باک افسران میں ہوتا تھا جنھوں نے ملک و قوم کی سلامتی کے لیے ہمیشہ خطرات کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ متعدد قاتلانہ حملوں، بم دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات میں زخمی ہونے کے باوجود ان کے پایہ استقلال میں کبھی لغزش نہ آئی۔‘

پوسٹ میں لکھا گیا کہ ’جب ایک حملے کے بعد انھیں محفوظ مقام پر تبادلے کی پیشکش کی گئی، تو انھوں نے کہا ’دہشت گرد سمجھیں گے کہ میں ڈر گیا ہوں!‘ وہ ایک بااصول اور پیشہ ور افسر تھے جنہوں نے فرنٹ لائن پر رہ کر ہمیشہ اپنے فرض اور قومی غیرت کو مقدم رکھا۔‘

پولیس

سوشل میڈیا پر عمران الدین کی متعدد ویڈیوز بھی وائرل ہو رہی ہیں جن میں انھیں خطرناک علاقوں میں آپریشنز کے لیے جاتے اور اہلکاروں کی قیادت کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

جس ویڈیو میں وہ ساتھی اہلکاروں کو ساتھ چلنے اور آخری دم تک لڑنے کا کہتے ہیں، مقامی لوگوں کے مطابق وہ گذشتہ سال کی ہے جب وہ ضلع ہنگو کے علاقے دوآبہ میں بطور ایس ایچ او تعینات تھے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس وقت ایک پولیس چوکی پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد وہ اہلکاروں کے ہمراہ کارروائی کے لیے روانہ ہو رہے تھے۔

عمران الدین بہادری کی مثالیں

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ کوئی پہلا موقع نہیں تھا بلکہ پولیس میں ان کی ملازمت کے دوران متعدد ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن میں عمران الدین کو سب سے آگے پایا گیا تھا۔

عمران الدین کے پیشہ ورانہ سفر کا ایک اہم واقعہ پشاور کے یونیورسٹی روڈ پر سال 2017 میں ایگریکلچر ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ پر ہونے والا دہشت گرد حملہ تھا۔

عمران الدین کے ساتھی محمد بلال نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے کافی عرصہ عمران الدین کے ساتھ ڈیوٹی دی ہے وہ بہت بہادر افسر تھے۔

انھوں نے بتایا کہ پشاور میں ایگریکلچر ٹریننگ انسٹیٹیوٹ پر جب حملہ ہوا تھا تو اس وقت عمران الدین سب سے پہلے پہنچ گئے تھے وہ اے پی سی میں بیٹھ کر انسٹیٹیوٹ کے اندر داخل ہو گئے تھے حالانکہ اس وقت تک باقی نفری پہنچی نہیں تھی۔

انھوں نے بتایا کہ عمران الدین نے اس موقع پر مسلح شدت پسندوں کا مقابلہ کیا یہاں تک کہ باقی نفری پہنچ گئی تھی اور پھر ان تمام شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

عمران الدین کو ایگریکلچر ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ حملے کے دوران بہادری دکھانے پر قائداعظم پولیس میڈل کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔

پولیس

صفوت غیور کے دور سے شروع ہونے والا سفر

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

عمران الدین کے ایک ساتھی بلال خان کے مطابق وہ 2008 میں صفوت غیور کے ساتھ کام کرتے تھے اور عمران الدین بھی اس دور میں ان کے ساتھ موجود تھے۔

بلال خان کا کہنا ہے کہ 2009 میں صفوت غیور کے تبادلے کے بعد عمران الدین بھی دوسری جگہ تعینات ہو گئے تھے۔

صفوت غیور خیبر پختونخوا پولیس کے ان سینیئر افسران میں شامل تھے جنھوں نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ بعد میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے کمانڈنٹ مقرر ہوئے اور چار اگست 2010 کو پشاور میں خودکش حملے میں جان کی بازی ہار گئے تھے۔

بلال خان نے بتایا کہ عمران الدین کے ساتھ ان کا تعلق سال 2007 میں شروع ہوا جب عمران الدین اسلام آباد کے ایک ٹریننگ انسٹیٹیوٹ میں ان کے استاد تھے اور یہ تعلق پھر فیلڈ میں بھی جاری رہا جب عمران الدین کے ساتھ وہ بطور گن مین تعینات تھے۔

بلال خان نے بتایا کہ ایسے متعدد واقعات ان کے ذہن میں نقش ہیں جب وہ کسی آپریشن یا کارروائی کے لیے جاتے تھے تو بڑی بہادری کے ساتھ اس میں شریک ہوتے اور اپنے ساتھیوں کو ساتھ لے کر چلتے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں جن میں عمران الدین زخمی ہو گئے تھے لیکن اس کے باوجود وہ آپریشن میں شریک رہے۔

ضلع ہنگو میں چند ماہ پہلے شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں عمران الدین زخمی ہوئے تھے لیکن وہ موقع پر موجود رہے۔

پولیس

ذاتی زندگی

ڈی ایس پی عمران الدین کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ کے گاؤں ترنگزئی سے بتایا گیا ہے۔

عمران الدین کی آج اپنے آبائی علاقے میں نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی ہے ۔ ان کے جنازہ میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے ہیں۔

ان کے بھتیجے محمد عمیر نے بتایا کہ چند روز پہلے وہ گاؤں آئے تھے تھوڑی دیر بیٹھے تھے کہ اتنے میں فون کال آئی اور وہ واپس چلے گئے تھے، کوئی تفصیلی بات چیت کسی سے نہیں ہو سکی تھی۔

محمد عمیر کے مطابق خاندان اس وقت شدید غم میں ہے اور وہ عمران الدین کے بچوں کو گھر سے باہر لے آئے ہیں کیونکہ گھر میں موجود افراد مسلسل رو رہے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ عمران الدین کا کم عمر بیٹا گردوں کے عارضے میں مبتلا ہے اور ان دنوں اس کے ڈائلیسز جاری ہیں۔ بیٹے کی عمر 13 سے 14 سال تک بتائی گئی ہے۔

عمران الدین کے بڑے بھائی عرفان الدین نے مقامی صحافیوں سے بات چیت کی ہے اور کہا ہے کہ عمران الدین اپنے چھوٹے بیٹے کی بیماری کی وجہ سے بہت پریشان تھے۔ آنکھوں میں آنسو لیے اور غم سے بھری ہوئی آواز میں انھوں نے بتایا کہ عمران الدین اکثر مجھ سے کہتا تھا کہ ’گل لالا اللہ میرے بیٹے کو صحت دے دے، یہی فکر کھائے جا رہی ہے۔‘

ان کے ایک قریبی ساتھی فواد عالم نے بتایا کہ ’دو روز پہلے عمران الدین گاؤں آئے تھے اور یہاں سب سے ملے تھے، میرے گھر بھی آئے تھے لیکن میں موجود نہیں تھا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’عمران الدین اپنے علاقے میں کافی مقبول تھے، وہ سب کی مدد کو ہر وقت تیار رہتے تھے اور غریبوں کی مدد کیا کرتے تھے۔‘

عمران الدین کے چار بچے ہیں۔ بڑا بیٹا ابھی فرسٹ ایئر میں تعلیم حاصل کر رہا ہے باقی سب چھوٹے ہیں۔

پولیس ڈیوٹی میں بعض اوقات مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے اور بعض فیصلوں کو پذیرائی نہیں ملتی ایسے ہی کچھ واقعات عمران الدین کے ساتھ پیش آئے تھے۔

پشاور کے مضافات میں متنی کا علاقے میں مسلح شدت پسندوں کی بڑی کارروائیاں رپورٹ ہوئی ہیں اور اس علاقے میں ایک شدت پسند کمانڈر عظمت عرف ملنگ پولیس کو مطلوب تھا۔

متنی میں جون 2023 میں شدت پسند کی لاش بکتر بند گاڑی پر لے جانے کا ایک واقعہ پیش آیا تھا۔ ان دنوں عمران الدین متنی تھانے کے ایس ایچ او تھے۔

پانچ جون کو پولیس مقابلے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والا مبینہ شدت پسند عظمت عرف ملنگ مارا گیا تھا۔ اس کارروائی کے بعد اس کی لاش کو بکتر بند گاڑی پر رسیوں سے باندھ کر علاقے کی سڑکوں سے گزارتے ہوئے تھانے لایا گیا تھا۔

اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں پولیس اہلکار بھی گاڑی میں موجود دکھائی دیے۔ واقعے پر شدید تنقید کے بعد اس وقت کے سی سی پی او پشاور اشفاق انور نے ایس ایچ او عمران الدین اور دیگر متعلقہ اہلکاروں کو معطل کرنے کے احکامات جاری کیے اور ایس پی صدر کی سربراہی میں محکمانہ انکوائری کمیٹی قائم کی۔

اس واقعے کے بعد عمران الدین کو محکمانہ کارروائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔