’کرکٹ کھیل کر واپس جا رہے تھے کہ ویرانے میں ہم پر فائرنگ ہو گئی‘: لکی مروت میں شدت پسندوں کے حملے میں دو نوجوانوں سمیت تین افراد ہلاک

علامتی تصویر
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اُردو، پشاور
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں شدت پسندوں کے حملے میں دو نوجوان کرکٹرز سمیت تین افراد ہلاک جبکہ تین شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

لکی مروت پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والے افراد سنیچر کی شب گاؤں شاہ حسن سے کرکٹ میچ کھیل کر واپس اپنے گاؤں عبدالخیل آ رہے تھے کہ شدت پسندوں نے راستے میں ان پر گھات لگا کر حملہ کیا۔

تھانہ درہ پیزو پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک اور زخمی افراد کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لکی مروت منتقل کر دیا گیا ہے۔

ہلاک ہونے والوں کی شناخت 14 سالہ عمیر، 17 سالہ عالیان اور 35 سالہ صدیق امین کے نام سے ہوئی ہے۔

واقعے کے بعد پولیس کی بڑی نفری نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کر دیا ہے۔

لکی مروت کے ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) سجاد احمد صاحبزادہ نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی شام کچھ شہری اور ان کے ساتھ ایک پولیس اہلکار شاہ حسن خیل سے عبدال خیل کی طرف جا رہے تھے جہاں شدت پسندوں نے فائرنگ کر دی۔

اُن کا کہنا تھا کہ ان شہریوں کے ساتھ سادہ کپڑوں میں ملبوس ایک اہلکار بھی موجود تھا۔

ڈی پی او کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں شدت پسندوں کا بھی جانی نقصان ہوا ہے، تاہم اس حملے میں تین شہری جان کی بازی ہار گئے۔

اُنھوں نے بتایا کہ اس کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا جس میں پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں نے بھی حصہ لیا، تاہم شدت پسند اندھیرے کا فائدہ اُٹھا کر فرار ہو گئے۔

سجاد احمد صاحبزادہ نے بتایا کہ حملے میں جان کی بازی ہارنے والے شہریوں کی نماز جنازہ پولیس لائن میں ادا کرنے کے بعد ان کی میتیں آبائی علاقوں میں روانہ کر دی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اتوار کی صبح سرچ آپریشن کے دوران عسکریت پسندوں کے ایک کمانڈر منظور کی لاش ملی ہے جبکہ دو کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے ان کی تلاش کے لیے کوشش جاری ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ کمانڈر منظور پولیس کو متعدد مقدمات میں مطلوب تھا۔

فائل فوٹو

’اچانک فائرنگ شروع ہوئی اور ہم زمین پر گر گئے‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

حملے میں زخمی ہونے والے امداد اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ میچ کے بعد ہم لوڈر رکشے پر اپنے گاؤں کی طرف جا رہے تھے۔

اُن کے بقول ’راستے میں ایک جگہ ویرانہ تھا ، گھنے درخت تھے۔ اسی دوران فائرنگ شروع ہوئی اور ہم سب گر گئے۔‘

امداد اللہ نے بتایا کہ لوڈر رکشے میں سوار تین ساتھیوں کی جان چلی گئی ہے جبکہ تین زخمی ہوئے ہیں۔

پیزو پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ لکی مروت کے دوردراز پہاڑی علاقے گاؤں عبدالخیل کے قریب عسکریت پسندوں نے لوڈر رکشہ پر فائرنگ کی ہے۔

اُن کے بقول اس لوڈر رکشے میں سوار کھلاڑیوں میں دو لڑکے پولیس اہلکاروں کے بھائی بتائے جاتے ہیں۔

واقعے کی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ سنیچر کی شام ساڑھے چھ بجے یہ افراد شاہ حسن خیل سے واپس عبدال خیل جا رہے تھے کہ راستے میں آٹھ یا نو مسلح شدت پسندوں نے ناکہ بندی کی ہوئی تھی۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ شدت پسندوں نے ’ہمیں للکارتے ہوئے تینوں جانب سے اندھا دھند فائرنگ کی شروع کر دی تھی جس سے ہمارے تین ساتھیوں کی جان چلی گئی جبکہ تین زخمی ہو گئے ہیں۔‘

مقامی لوگوں اور دیگر ساتھیوں نے گاڑیوں کا انتظام کر کے زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ان کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے لیکن علاقوں میں شدت پسندوں کی موجودگی کی وجہ سے اہل علاقہ کو خطرات تو تھے۔

ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ اس علاقے میں پولیس کی فائرنگ سے ایک عسکریت پسند کی ہلاکت کی بھی اطلاع موصول ہوئی ہے۔

علاقے میں عسکریت پسندوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور ان علاقوں میں آئے روز اس طرح کے تشدد کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔

شاہ حسن خیل میں کھیلوں سے وابستہ لوگوں کو نشانہ بنانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔

یکم جنوری 2010 کو شاہ حسن خیل میں والی بال میچ دیکھنے والے افراد کے درمیان خودکش کار بم دھماکہ ہوا تھا جس میں کم از کم 97 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

رواں سال بھی شاہ حسن خیل اور اس کے گردونواح میں تشدد کے کئی واقعات پیش آئے۔

28 اپریل 2026 کو عبدالخیل سے تعلق رکھنے والے اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کے اہلکار فرید اللہ کو مبینہ طور پر اغوا کیا گیا اور بعد میں انھیں شاہ حسن خیل کے علاقے میں لے جا کر قتل کر دیا گیا تھا۔

10 جولائی کو شاہ حسن خیل میں دو مخالف گروہوں کے درمیان مسلح تصادم میں چھ افراد مارے گئے تھے، تاہم پولیس نے اسے دہشت گردی کے بجائے دیرینہ دشمنی کا واقعہ قرار دیا تھا۔

26 جولائی کو شاہ حسن خیل میں چھٹی پر آئے ہوئے فرنٹیئر کور (ایف سی) اہلکار بِل قیاز کو مسلح افراد نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا جبکہ اسی عرصے میں علاقے میں ایک گرلز مڈل سکول کو بھی دھماکہ خیز مواد سے تباہ کیا گیا۔

27 جولائی کو پولیس، سی ٹی ڈی اور مقامی امن کمیٹی نے عبدالخیل، شاہ حسن خیل اور حیات خیل کے پہاڑی علاقوں میں مشترکہ سرچ آپریشن کیا، جبکہ یکم ستمبر کو شاہ حسن خیل میں ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران پولیس، سی ٹی ڈی اور امن کمیٹی کے ارکان نے دو مبینہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

جغرافیائی اعتبار سے شاہ حسن خیل اور عبدالخیل لکی مروت کے جنوبی اور نسبتاً دشوار گزار علاقے میں واقع ہیں۔

لکی مروت خیبر پختونخوا کے جنوبی حصے میں ہے اور اس کی سرحدیں بنوں، کرک، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان سے ملتی ہیں۔

تصویر

ضلع کے بعض حصے میدانی جبکہ مغربی اور جنوبی سمتیں پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہیں۔ شاہ حسن خیل، عبدالخیل اور حیات خیل کے اطراف میں موجود پہاڑی علاقے سکیورٹی کے حوالے سے اہم ہیں اور حالیہ برسوں میں پولیس اور سکیورٹی فورسز نے یہاں متعدد سرچ اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے ہیں۔

لکی مروت میں شدت پسندی کے پھیلاؤ کو اس کے جغرافیے اور جنوبی خیبر پختونخوا کی مجموعی سکیورٹی صورتحال سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔

یہ ضلع بنوں، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان اور سابق قبائلی علاقوں کے درمیان واقع ہے اور اس کے بعض پہاڑی راستے ان علاقوں کو آپس میں ملاتے ہیں۔

سنہ 2021 کے بعد تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی سرگرمیوں میں اضافے کے ساتھ جنوبی خیبر پختونخوا کے بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقوں میں بھی شدت پسند حملوں میں اضافہ ہوا۔

سابق قبائلی علاقوں سے قربت، دشوار گزار پہاڑی جغرافیہ اور مختلف اضلاع کو ملانے والے راستوں کی وجہ سے لکی مروت شدت پسندوں کی نقل و حرکت اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں، دونوں کے لیے ایک اہم علاقہ بن گیا ہے۔