لائیو, سعودی عرب پر تازہ حملوں کے بعد برینٹ کروڈ 113.75 ڈالر فی بیرل کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

سعودی عرب میں حوثیوں کے تازہ حملوں اور اس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ سے توانائی کی فراہمی میں مزید خلل کے خدشات کے باعث جمعہ کے روز تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ برینٹ خام تیل کے فیوچر (مستقبل کے) معاہدوں کی قیمت 0.5 فیصد اضافے کے ساتھ 113.75 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. سعودی عرب پر تازہ حملوں کے بعد برینٹ کروڈ 113.75 ڈالر فی بیرل کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

    Saudi Arabia
    ،تصویر کا کیپشنسعودی تیل تنصیب پر حملے کی فائل فوٹو

    سعودی عرب میں حوثیوں کے تازہ حملوں اور اس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ سے توانائی کی فراہمی میں مزید خلل کے خدشات کے باعث جمعہ کے روز تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

    برینٹ خام تیل کے فیوچر (مستقبل کے) معاہدوں کی قیمت 0.5 فیصد اضافے کے ساتھ 113.75 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 0.7 فیصد اضافے کے ساتھ 100.13 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔

    گذشتہ روز (22 اکتوبر) کو برینٹ خام تیل چار مئی کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح پر بند ہوا تھا۔

    یاد رہے کہ تیل تنصیبات پر حالیہ حملوں کے بعد سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو نے جمعرات کو ظہران شہر میں واقع اپنے ہیڈکوارٹر کو ممکنہ خطرے کے پیش نظر خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا جب دنیا کے سب سے بڑے خام تیل برآمد کنندہ ملک اور یمن میں قائم حوثیوں کے درمیان لڑائی میں شدت آ گئی۔

    مالیاتی ادارے آئی این جی کے تجزیہ کاروں نے جمعہ کو جاری کیے گئے ایک نوٹ میں کہا کہ تیل و گیس کی منڈیاں خلیج فارس میں کشیدگی کے دوبارہ بڑھنے کے خدشات پر بہت زیادہ فکر مند ہیں، کیونکہ ایسی صورتحال تیل کی سپلائی کو مزید متاثر کر سکتی ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق ’کشیدگی میں دوبارہ اور مزید اضافہ اب سب سے زیادہ ممکنہ منظرنامہ دکھائی دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر حالات مزید خراب نہ بھی ہوں، تب بھی اس امکان کے باعث تیل کی قیمتوں میں جغرافیائی سیاسی خطرات کا نمایاں عنصر شامل رہنے کا امکان ہے۔‘

    حوثیوں اور یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے سعودی قیادت والے اتحاد کے درمیان جھڑپیں اس وقت سے جاری ہیں جب ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرہ احمر کے دہانے پر واقع اہم تجارتی بحری گزرگاہ باب المندب کی جانب پیش قدمی کی ہے۔

    ایکس ایس ڈاٹ کامکے تجزیہ کار لنہ ٹران نے کہا کہ اس وقت نگرانی کے اہم عوامل میں سپلائی میں حقیقی خلل کی شدت اور معمول کی سرگرمیاں بحال کرنے میں درکار وقت شامل ہیں، کیونکہ یہی عناصر طے کریں گے کہ مارکیٹ سپلائی کے خطرات کے عوض کتنا اضافی پریمیم ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

    ان کے بقول ’اگر حملے جاری رہے اور ترسیل میں تاخیر کا سبب بنے، تو بلند قیمتوں کو مزید مضبوط بنیاد حاصل ہو جائے گی۔‘

    دوسری جانب لیبیا میں حمادہ اور تہارہ آئل فیلڈز سے زاویہ بندرگاہ تک جانے والی تیل پائپ لائن کا ایک والو بند کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں فیلڈز میں پیداوار کم ہو گئی ہے۔

  2. ایران امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل تیل کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے: صدر ٹرمپ کا الزام

    Donald Trump

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الزام لگایا ہے کہ ایران امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل تیل کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران ہر ممکن کوشش کر رہا ہے کہ امریکہ میں مڈ ٹرم انتخابات سے قبل تیل کی قیمتیں اوپر چلی جائیں۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس کے لیے ایرانی حکام جعلی حملوں، بارودی سرنگوں اور دیگر واقعات کے دعوے بھی کر رہے ہیں۔

    انھوں مزید دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز سے اس وقت ایران تنازع کے آغاز سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیل گزر رہا ہے۔

    یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاسدارانِ انقلاب نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکی فوج آبنائے ہرمز میں جہازوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھتی ہے تو مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب نے اپنی ویب سائٹ ’سپاہ نیوز‘ پر شائع ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’امریکی فوج کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر وہ اپنی موجودہ راہ چلتے رہے تو تنازع خطے میں موجود اس کے اڈوں تک پھیل جائے گا۔‘

  3. یوکرین کا روس پر کلسٹر وار ہیڈز استعمال کرنے کا الزام

    یوکرین
    ،تصویر کا کیپشنیوکرینی ایمرجنسی سروسز کئیو پر روس کی جانب سے داغے گئے میزائل کے ٹکرے زمین سے نکالنے کے لیے کرین کا استعمال کر رہے ہیں۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے رات بھر جاری رہنے والے حملوں میں کلسٹر وار ہیڈز استعمال کیے ہیں۔

    یوکرین کی وزارتِ خارجہ کے مطابق کئیو اور دیگر متعدد مقامات پر ہونے والے حملوں میں کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے۔ زیلنسکی کا کہنا ہے کہ پانچ بچوں سمیت 34 افراد بھی زخمی ہوئے ہیں۔

    یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب روس نے امریکی شہری اسٹیفن ہبارڈ کو رہا کیا، جبکہ امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی۔ وٹکوف نے بعد ازاں پوتن کو ’انسان دوست‘ قرار دیا۔

    زیلنسکی نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’گذشتہ رات روسیوں نے کئیو کے خلاف دیگر ہتھیاروں کے ساتھ کلسٹر وارہیڈز سے لیس تین بیلسٹک میزائل بھی استعمال کیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ان میزائلوں کی خاص بات یہ ہے کہ ہدف کے قریب پہنچ کر فضا میں پھٹتے ہیں اور تقریباً 400 میٹر قطر کے علاقے میں ہر چیز کو نشانہ بناتے ہیں۔

    کلسٹر بموں پر 2008 میں منظور ہونے والے کنونشن آن کلسٹر میونیشنز کے تحت 100 سے زیادہ ممالک پابندی عائد کر چکے ہیں۔ یہ گولہ بارود ایک وسیع علاقے میں چھوٹے بم نما ذرات بکھیرتا ہے، جو شہری علاقوں کو بھی بلاامتیاز نشانہ بنا سکتے ہیں۔

    تاہم روس اور امریکہ دونوں اس کنونشن کے فریق نہیں ہیں۔

  4. پاکستان، سعودی عرب اور برطانیہ سمیت سات ممالک کے وزارئے خارجہ کا استنبول میں اجلاس: خطے میں امن کے فروغ کے لیے سفارتی کوششوں کا جائزہ لیا جائے گا، وزارتِ خارجہ

    EGYPT-TURKEY-PAKISTAN-SAUDI-POLITICS-DIPLOMACY

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ جمعہ (23 اکتوبر) کے روز ترکی کے شہر استنبول میں سات ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہو گا۔

    وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی کے وزیرِ خارجہ ہاقان فیدان کی دعوت پر نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار 23 اکتوبر کو استنبول آر فور ممالک (پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

    بیان میں کہا گیا ہے آر فور ممالک کے اجلاس کے بعد ای تھری ممالک جس میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی شامل ہیں کی شرکت کے ساتھ آر فور + ای تھری وزرائے خارجہ کا مشترکہ اجلاس منعقد ہو گا۔

    پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس نوعیت کے فارمیٹ میں سات ممالک کا یہ پہلا اجلاس ہو گا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ان اجلاس میں خطے کی اہم پیش رفت پر غور کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مربوط سفارتی حکمتِ عملیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

    وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ دورے کے دوران وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اپنے ہم منصبوں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔

    ’پاکستان کی شرکت تعمیری سفارت کاری، علاقائی تعاون اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے اس کے مسلسل عزم کی عکاسی کرتی ہے۔‘

  5. تبت میں زلزلے سے کم از کم 16 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    • مقامی رپورٹس کے مطابق تبت کے دارالحکومت لہاسا کے شمال مشرق میں واقع ناگو کے علاقے میں 7 شدت کا زلزلہ آیا ہے۔ یہ ایک وسیع اور کم آبادی والا پہاڑی خطہ ہے۔
    • چینی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق اب تک کم از کم 16 افراد ہلاک اور درجنوں دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
    • مقامی حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقے میں سیکڑوں گھر منہدم ہو گئے ہیں۔
    • سڑکوں اور بجلی کی فراہمی منقطع ہو گئی ہے، جبکہ متاثرہ دیہات سطح سمندر سے تقریباً 4,800 میٹر (15,750 فٹ) کی بلندی پر واقع ہیں۔
    • یہ 2023 کے بعد علاقے میں آنے والا سب سے ہلاکت خیز زلزلہ ہے۔ 2023 میں چین کے صوبے گانسو میں 6.2 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں 120 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
    • سرکاری ذرائع ابلاغ کے ذریعے جاری کیے گئے ایک بیان میں صدر شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ ’زلزلے کے نتیجے میں ملبے تلے پھنسے افراد کی تلاش اور انھیں نکالنے کے لیے بھرپور کوششیں کی جائیں، زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جائے اور جانی نقصان کو کم سے کم رکھا جائے۔‘
    • اب تک دستیاب زیادہ تر معلومات چینی سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کی جانب سے مقامی حکام اور ہنگامی خدمات کے حوالے سے جاری کی گئی ہیں۔ تبت کے بارے میں معلومات کے ذرائع محدود ہیں کیونکہ 1950 کی دہائی میں چین کے الحاق کے بعد سے اس علاقے پر سخت حکومتی کنٹرول برقرار ہے۔
  6. ایلون مسک نے یوکرین کے لیے سٹارلنک کی انٹرنیٹ سروس بحال کر دی ہیں: صدر ٹرمپ

    Trump and Mushk
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایلون مسک نے یوکرین کے لیے سٹارلنک کی انٹرنیٹ سروس بحال کر دی ہیں۔

    صدر ٹرمپ کا یہ بیان یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے اس شکوے کے بعد سامنے آیا تھا کہ فوجی استعمال کے لیے مسک کے سیٹلائٹ پر مبنی سٹارلنک نظام کے ذریعے فراہم کی جانے والی مختص سٹار شیلڈ نیٹ ورک کی کنیکٹیویٹی مکمل طور پر بحال نہیں ہوئی ہے۔

    مسک اس سے قبل اس بات کی تردید کر چکے ہیں کہ سروس کی رفتار میں کمی کے پیچھے ان کا ہاتھ تھا۔ اس کمی سے یوکرین کی روس پر حملوں کے لیے ڈرونز استعمال کرنے اور اپنے دفاع کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

    ٹرمپ نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا کہ آیا انھوں نے مسک کو سروس پر عائد پابندیاں اٹھانے کے لیے فون کیا تھا، تاہم اس بارے میں پوچھے جانے پر انھوں نے کہا: ’مختصر بات یہ ہے کہ انھوں نے اسے بحال کر دیا۔‘

    ٹرمپ انتظامیہ اس سے قبل اس بات کی تردید کر چکی ہے کہ اس نے مسک کی کمپنی کو رسائی محدود کرنے کی ہدایت دی تھی۔

  7. سعودی فوجی اتحاد کا حوثیوں کی جانب سے داغے گئے دو بیلسٹک میزائل اور ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ

    Saudi Air defence

    یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی مدد کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب حوثیوں کی جانب سے داغے گئے دو بیلسٹک میزائل اور دو ڈرونز مار گرائے ہیں۔

    سعودی فوجی افحاد کے ترجمان ترکی المالکی کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے ایک بیلسٹک میزائل نجران جبکہ دوسرا میزائل ریاض کی جانب داغا گیا تھا۔

    ترکی المالکی کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے ان میزائلوں کا پتہ لگا کر انھیں تباہ کر دیا۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ حوثیوں کی جانب سعودی عرب کے جنوبی خطوں کی جانب بھیجے گئے دو ڈرونز بھی مار گرائے گئے ہیں۔

    اس سے قبل حوثیوں نے ریاض میں واقع سعودی وزارتِ دفاع کی عمارت، شاہ فہد بین الاقومی ایئرپورٹ، ینبع میں واقع آرامکو کی ایک تنصیب اور ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملوں کے دعوے کیے تھے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شائع کیے گئے ایک ویڈیو بیان میں حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ یہ حملے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے کیے گئے اور چاروں اہداف کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔

    انھوں نے کہا ’مجرم سعودی دشمن نے اپنی جارحیت اور گذشتہ 100 دنوں کے دوران حالیہ کشیدگی کے مرحلے میں ہمارے عزیز وطن میں شہری اہداف کے خلاف 2,900 سے زیادہ فضائی اور میزائل حملے کیے ہیں۔‘

  8. حوثیوں کا گذشتہ 48 گھنٹوں میں سعودی عرب پر چار حملے کرنے کا دعویٰ

    حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے گروہ نے گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران سعودی عرب کے اندر چار فوجی کارروائیاں کی ہیں، جن میں ریاض میں واقع سعودی وزارتِ دفاع کی عمارت، کنگ فہد بین انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ینبع میں واقع آرامکو کی ایک تنصیب اور ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے شامل ہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شائع کیے گئے ایک ویڈیو بیان میں سریع نے دعویٰ کیا کہ یہ حملے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے کیے گئے اور چاروں اہداف کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔

    انھوں نے کہا ’مجرم سعودی دشمن نے اپنی جارحیت اور گذشتہ 100 دنوں کے دوران حالیہ کشیدگی کے مرحلے میں ہمارے عزیز وطن میں شہری اہداف کے خلاف 2,900 سے زیادہ فضائی اور میزائل حملے کیے ہیں۔‘

    انہوں نے مزید دعویٰ کیا ’ان حملوں کے ذریعے اس نے درجنوں جرائم کا ارتکاب کیا، جن کے نتیجے میں 562 سے زیادہ افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔‘

    بی بی سی ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

    سریع نے کہا کہ حوثی ’اپنے ملک اور عوام کے دفاع میں سعودی عرب کے اندر اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔‘

    Houthi fighters
  9. گوادر میں ’تعیمراتی کمپنی کے خالی کیمپ‘ پر حملہ ناکام، تین عسکریت پسند ہلاک: وزیر داخلہ کا دعویٰ, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع گوادر میں ’تعمیراتی کمپنی کے خالی کیمپ‘ پر حملے کو ناکام بناتے ہوئے تین عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔

    محسن نقوی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جمعرات کی شام سے ہی ضلع گوادر سے بے امنی کے واقعات کی اطلاعات گردش کر رہی تھیں۔

    تاہم وفاقی وزیر داخلہ نے اپنے بیان میں اس حملے میں کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی کوئی تفصیلات نہیں دیں۔

    دوسری جانب بی بی سی اردو کو تین سینیئر سرکاری حکام نے گوادر میں تین مقامات پر نامعلوم مسلح افراد کے حملوں کی تصدیق کی ہے۔

    سرکاری اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ حملے گوادر شہر کے قریب ایک سرکاری تعمیراتی کمپنی کے کیمپ کے علاوہ سُنٹسر اور ایران کے ساتھ واقع سرحدی علاقے گبد ریمدان 250 بارڈر پر کیے گئے۔

    ان میں سے ایک سینیئر اہلکار نے ان حملوں میں دو افراد کے زخمی ہونے کا بھی دعویٰ کیا ہے، تاہم بی بی سی اردو کسی بھی قسم کے نقصان کی آزادنہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

    گوادر سے تعلق رکھنے والے ایک شہری محمد عارف نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ انھیں گوادر شہر سے شمال میں اندازاً 15 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تعمیراتی کمپنی کے کمپاؤنڈ سے ایک زوردار دھماکے کی آواز سنائی دی تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ اس علاقے سے اچھے خاصے فاصلے پر تھے، لیکن ’دھماکے کی شدت بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے یوں لگا جیسے کہ یہ ان کے بالکل قریب ہوا۔‘

    انھوں نے بتایا کہ شہر میں صورتحال معمول کے مطابق رہی کیونکہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی کی وجہ سے حملہ آور شہر کی جانب نہیں آسکے۔

    ایک اور شہری نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’پہلے ایک زوردار دھماکہ ہوا اور بعد میں چھوٹے دھماکوں کے علاوہ فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں اور فائرنگ کا سلسلہ دیر تک جاری رہا۔‘

    انھوں نے بتایا کہ دھماکے کی شدت کی وجہ سے دور واقع گھروں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔

    خیال رہے 250 بارڈر کے قریب یہ حملہ ایک ایسے موقع پر کیا گیا جب پاکستانی حکام کی جانب سے سرحدی تجارت پر بعض پابندیوں کی وجہ سے گاڑیوں کی ایک بڑی تعداد یہاں موجود تھی۔

    مقامی تاجروں کے مطابق پاکستانی حکام نے گذشتہ سنیچر کو ایران کے ساتھ سرحدی تجارت کے لیے سرحد کو بند کردیا گیا۔ تاہم دو روز بعد سرحد کو ان برآمدات کے لیے کھول دیا گیا جو کہ ترکی اور وسطی ایشائی ریاستوں کے لیے تھیں۔

    تاہم بدھ سے ایران اور پاکستان کے درمیان ان گاڑیوں کو بھی آمدورفت کی اجازت دی گئی، جن میں کھانے پینے کی اشیا موجود تھیں تھیں۔

    درایں اثنا ضلعی انتظامیہ گوادر اور پولیس کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ 250 بارڈر اور گرد و نواح میں امن و امان کی صورتحال قابو میں ہے اور اس حوالے سے سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

    بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز اور دیگر متعلقہ اداروں نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو مکمل طور پر کنٹرول میں لے لیا۔

    پریس ریلیز میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف پولیس اور متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے جاری کردہ مستند معلومات پر اعتماد کریں۔

  10. سعودی عرب نے بحیرۂ احمر میں انڈین شہریوں کو لے جانے والی کشتی کو نشانہ بنایا: حوثیوں کا الزام

    Houthis boat

    ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروہ نے سعودی عرب پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے بحیرۂ احمر میں یمن کے ایک جزیرے کے قریب انڈین شہریوں کو لے جانے والی ایک کشتی کو نشانہ بنایا ہے۔

    حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع کا کہنا ہے کہ اس کشتی میں 14 انڈین شہری سوار تھے اور اسے جزیرہ زقر کے قریب نشانہ بنایا گیا۔ حوثیوں کے زیرِ انتظام خبر رساں ادارے سبا نیوز ایجنسی نے 22 اکتوبر کو یہ رپورٹ شائع کی ہے۔

    دوسری جانب ریاض میں انڈین سفارتخانے کا ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر کہنا تھا کہ اسے یمن کے ساحل کے قریب ہونے والے واقعے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور وہ اس واقعے کے بارے میں مزید تفصیلات معلوم کر رہا ہے۔‘

    سفارتخانے کا مزید کہنا تھا کہ وہ ’انڈین شہریوں کی سلامتی اور خیریت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن معاونت فراہم کریں گے۔‘

    حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع کہتے ہیں کہ حوثی فورسز کشتی کے مسافروں کو بچانے کی کارروائی میں مصروف ہیں اور مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

    انھوں نے سعودی عرب کے ’غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل‘ کی مذمت کی اور کہا کہ اس سے بحیرۂ احمر میں بین الاقوامی جہاز رانی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

    یحییٰ سریع نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ریاض کے ’عجلت پسند اقدامات‘ کو روکنے کے لیے کردار ادا کرے۔

    رواں برس جولائی سے حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں ان جہازوں کے خلاف بحری ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے، جنھیں وہ سعودی عرب سے منسلک قرار دیتے ہیں۔

    گروپ کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں صرف سعودی جہازوں پر لاگو ہوتی ہیں اور آبنائے باب المندب، جو بحیرۂ احمر کا جنوبی دروازہ ہے، بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے بدستور کھلی ہوئی ہے۔

  11. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ماہ ایران پر ممکنہ اسرائیلی حملے کے منصوبے کو روک دیا تھا۔
    • ایرانی فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا ہے کہ ایرانی فوج نے اپنی ڈرون صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا ہے اور وہ غیر روایتی جنگ کے لیے تیار ہے۔
    • جوائنٹ بیس اینڈریوز پر صحافیوں سے گفتگو کے دوران جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے سے پوچھا گیا کہ کیا انھوں نے مذاکرات کا راستہ چھوڑ دیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ ہم مذاکرات نہیں کریں گے، لیکن جلد ہی کچھ ہو جائے گا۔‘
    • سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بدھ کی شب ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر دو ہو گئی ہے۔
    • دنیا بھر کی تنظیمیں پی ایچ پی پروگرامنگ لینگویج میں ایک سنگین سائبر سکیورٹی خامی کو دور کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہی ہیں، جو ممکنہ طور پر لاکھوں ویب سائٹس کو متاثر کر سکتی ہے۔
  12. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔