سعودی عرب پر تازہ حملوں کے بعد برینٹ کروڈ 113.75 ڈالر فی بیرل کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی عرب میں حوثیوں کے تازہ حملوں اور اس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ سے توانائی کی فراہمی میں مزید خلل کے خدشات کے باعث جمعہ کے روز تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
برینٹ خام تیل کے فیوچر (مستقبل کے) معاہدوں کی قیمت 0.5 فیصد اضافے کے ساتھ 113.75 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 0.7 فیصد اضافے کے ساتھ 100.13 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔
گذشتہ روز (22 اکتوبر) کو برینٹ خام تیل چار مئی کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح پر بند ہوا تھا۔
یاد رہے کہ تیل تنصیبات پر حالیہ حملوں کے بعد سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو نے جمعرات کو ظہران شہر میں واقع اپنے ہیڈکوارٹر کو ممکنہ خطرے کے پیش نظر خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا جب دنیا کے سب سے بڑے خام تیل برآمد کنندہ ملک اور یمن میں قائم حوثیوں کے درمیان لڑائی میں شدت آ گئی۔
مالیاتی ادارے آئی این جی کے تجزیہ کاروں نے جمعہ کو جاری کیے گئے ایک نوٹ میں کہا کہ تیل و گیس کی منڈیاں خلیج فارس میں کشیدگی کے دوبارہ بڑھنے کے خدشات پر بہت زیادہ فکر مند ہیں، کیونکہ ایسی صورتحال تیل کی سپلائی کو مزید متاثر کر سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ’کشیدگی میں دوبارہ اور مزید اضافہ اب سب سے زیادہ ممکنہ منظرنامہ دکھائی دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر حالات مزید خراب نہ بھی ہوں، تب بھی اس امکان کے باعث تیل کی قیمتوں میں جغرافیائی سیاسی خطرات کا نمایاں عنصر شامل رہنے کا امکان ہے۔‘
حوثیوں اور یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے سعودی قیادت والے اتحاد کے درمیان جھڑپیں اس وقت سے جاری ہیں جب ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرہ احمر کے دہانے پر واقع اہم تجارتی بحری گزرگاہ باب المندب کی جانب پیش قدمی کی ہے۔
ایکس ایس ڈاٹ کامکے تجزیہ کار لنہ ٹران نے کہا کہ اس وقت نگرانی کے اہم عوامل میں سپلائی میں حقیقی خلل کی شدت اور معمول کی سرگرمیاں بحال کرنے میں درکار وقت شامل ہیں، کیونکہ یہی عناصر طے کریں گے کہ مارکیٹ سپلائی کے خطرات کے عوض کتنا اضافی پریمیم ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
ان کے بقول ’اگر حملے جاری رہے اور ترسیل میں تاخیر کا سبب بنے، تو بلند قیمتوں کو مزید مضبوط بنیاد حاصل ہو جائے گی۔‘
دوسری جانب لیبیا میں حمادہ اور تہارہ آئل فیلڈز سے زاویہ بندرگاہ تک جانے والی تیل پائپ لائن کا ایک والو بند کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں فیلڈز میں پیداوار کم ہو گئی ہے۔







