فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ ایران میں کیا ہوا اور یہ کیوں اہم ہے؟

،تصویر کا ذریعہIRNA
- مصنف, اسد صہیب،عمیر محمود
- عہدہ, بی بی سی اُردو، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
پاکستان فوج کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی دارالحکومت تہران میں صدر پزشکیان اور سپیکر پارلیمان سمیت دیگر اعلی حکام سے ملاقاتیں کی ہیں، جن میں ایرانی میڈیا کے مطابق خطے کی صورتحال اور پاکستان اور ایران سرحدی معاملات پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔
رواں برس 28 فروری کو ایران جنگ کے آغاز کے بعد یہ پاکستانی فیلڈ مارشل کا ایران کا چوتھا دورہ ہے جس میں وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی اُن کے ہمراہ ہیں۔ اس سے قبل فیلڈ مارشل اپریل، مئی اور اگست میں بھی امریکہ، ایران مذاکرات کی کوششوں کے سلسلے میں ایران جا چکے ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ایران کے دورے سے متعلق پاکستان فوج یا وزارتِ اطلاعات کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم ایران کے سرکاری خبر رساں اداروں کی جانب سے اس دورے کو بھرپور کوریج دی گئی۔
فیلڈ مارشل کے تہران پہنچنے اور وہاں اُن کی ملاقاتوں کی خبریں بھی ایرانی ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہی سامنے آتی رہیں۔
پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے یہ دورہ ایسے وقت میں کیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جون میں طے پانے والی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ اور مذاکرات کے کئی ادوار کے باوجود حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا۔
دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف تند و تیز بیانات کا سلسلہ جاری ہے جبکہ دوسری جانب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان بھی لڑائی جاری ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے کے دوران پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری رکھے گا۔

،تصویر کا ذریعہPRESS TV
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایران میں مصروف دن
فیلڈ مارشل عاصم منیر منگل کو وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ ایرانی دارالحکومت تہران پہنچے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران آمد کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی۔
ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے ’فارس‘ کے مطابق صدر پزشکیان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کہا کہ کسی بھی قسم کے مذاکرات کے لیے ضروری ہے کہ امریکی پہلے دباؤ، دھمکیوں اور پابندیاں ختم کریں۔
صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ ’ہماری قوم کو امریکہ پر اعتماد نہیں ہے اور اس کا ماننا ہے کہ اگر ہم مذاکرات کرتے ہیں، تو وہ ہم پر دوبارہ حملہ کر دیں گے۔‘
ایرانی صدر سے ملاقات کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف سے ملاقات کی۔
ایرانی خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میں باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کی جانب سے امریکہ کو پیش کی گئی سات شرائط پورا ہونے تک امریکہ ایران کا اعتماد حاصل نہیں کر سکتا اورتہران کے پاس واشنگٹن کو کہنے کے لیے ’کچھ نیا نہیں ہے۔‘
باقر قالیباف نے کہا کہ ’ایران کو جنگ پسند نہیں ہے، لیکن وہ اپنے وطن اور قومی وقار کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔‘
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر نے کہا کہ دھمکیاں اور فوجی مشقیں ایران کے سٹریٹجک فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتیں۔

،تصویر کا ذریعہFars
ایرانی خبر رساں اداروں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان ملاقاتوں کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پانچ روز سے بند ایران سرحد کھولنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ تاہم پاکستان کے سرکاری حکام یا فوج کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق منگل کی شب رات نو بجے تک پاکستان، ایران سرحد بدستور بند تھی۔ کوئٹہ میں بی بی سی کے محمد کاظم کے مطابق منگل کو سرحد بدستور بند تھی اور مقامی حکام کو بھی تاحال اس حوالے سے کوئی نوٹیفکیشن موصول نہیں ہوا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بعدازاں ایران کی نیشنل سکیورٹی کے سیکریٹری محسن رضائی سے بھی ملاقات کی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق محسن رضائی نے کہا کہ ’ایران سے افزودہ یورینیم کا ایک ذرہ بھی باہر نہیں جائے گا۔‘
فارس نیوز کے مطابق محسن رضائی نے کہا کہ ایران اور پاکستان کی سرحدوں کا مسئلہ حل ہو گیا ہے اور آج سے دونوں ممالک کے درمیان تمام سرحدی مقامات دوبارہ کھول دیے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہFars
خیال رہے کہ پاکستان کی ایران کے ساتھ اہم سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے ہونے والی تجارت بدستور پانچ روز سے بند ہے، جس کے نتیجے میں بلوچستان کے راستے دونوں ہمسایہ ممالک میں ہونے والی تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں اور سرحد کے دونوں اطراف سینکڑوں مال بردار کنٹینرز پھنس گئے ہیں۔
اسلام آباد اور تہران کے حکام نے 17 اکتوبر (سنیچر) کو سرحدی گزرگاہوں کی بندش کی تصدیق کی تھی تاہم بظاہر اچانک کیے گئے اس فیصلے کی وجوہات کے حوالے سے دونوں جانب سے مختلف مؤقف پیش کیا گیا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ دونوں ممالک نے اِس بات پر زور دیا ہے کہ یہ معطلی ’عارضی‘ نوعیت کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہFars
’صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ مڈ ٹرم الیکشن سے پہلے آبنائے ہرمز کھل جائے‘
پاکستان کے فیلڈ مارشل کے اس موقع پر ایران کے دورے کی کیا اہمیت ہے؟ اور کیا ایک بار پھر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں کسی پیش رفت کا امکان ہے؟ اس معاملے پر بی بی سی نے ماہرین سے بات کی ہے۔
خیال رہے کہ وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے پیر کو دوحہ میں گلوبل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اس سے پہلے ہونے والے دوروں کے حوالے سے کہا تھا کہ یہ مذاکرات بہت مشکل تھے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’کچھ لمحات ایسے تھے، جب حالات بہت کشیدہ ہو گئے لیکن ہم نے ہمت نہیں ہاری۔ ہم بات کرتے رہے، سنتے رہے اور اعتماد قائم کرنے کی کوشش کرتے رہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ وہ اپنے تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتے ہیں کہ ’امن ایک میٹنگ سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ صبر، اعتماد اور مسلسل کاوشوں کا متقاضی ہوتا ہے۔‘
امریکہ کی ڈیلاویئر یونیورسٹی میں انٹرنیشنل ریلیشنز کے پروفیسر ڈاکٹر مقتدر خان کہتے ہیں کہ امریکہ میں اگلے ماہ مڈ ٹرم انتخابات ہونے والے ہیں اور صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ اس سے پہلے تیل کی قیمتیں کم ہو جائیں تاکہ امریکی عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔
بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ اگر امریکی مڈ ٹرم انتخابات سے پہلے آبنائے ہرمز کھل جاتی ہے تو تیل کی قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر 80 یا 85 بیرل تک گر سکتی ہیں۔
اُن کے بقول فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ اسی کی کڑی ہے، ’لیکن صدر ٹرمپ ساتھ ہی یہ بھی چاہتے ہیں کہ ایران جوہری معاملات پر بھی کچھ لچک دکھائے۔‘
ڈاکٹر مقتدر کے بقول ’ایران کو بھی اس بات کا بخوبی اندازہ ہے اور وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ مڈ ٹرم انتخابات سے قبل وہ امریکہ کو کوئی رعایت دے جس سے صدر ٹرمپ کو فائدہ پہنچے۔‘
اُن کے بقول فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کی سیاسی اور عسکری قیادت دونوں کے رہنماؤں سے ملاقات کی ہے، ’اس سے کوئی فوری مثبت نتیجہ تو نہیں نکلے گا، لیکن اس سے یہ ضرور اشارہ ملتا ہے کہ سفارتکاری اب بھی جاری ہے۔‘
’سفارتکاری میں تیزی آ رہی ہے‘
مشرقِ وسطیٰ اُمور کے ماہر اور پنجاب یونیورسٹی پولیٹیکل سائنس ڈیپارٹمنٹ کے سابق سربراہ ڈاکٹر فاروق حسنات کہتے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتکاری کی کوششوں کا سلسلہ کبھی بھی ختم نہیں ہوا۔
بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق حسنات ڈاکٹر مقتدر سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اُنھیں نہیں لگتا کہ امریکہ کے مڈ ٹرم انتخابات سے قبل کوئی بریک تھرو ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر فاروق حسنات کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اب بھی کوشش میں ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم ہو تاکہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان معاملات بھی بہتر ہو سکیں۔
اُن کے بقول تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا اثر دُنیا کے تمام ممالک پر بھی پڑ رہا ہے، پاکستان بھی اس سے متاثر ہے۔ لہذا فیلڈ مارشل کی کوشش ہے کہ آبنائے ہرمز کھلے تاکہ تیل کی قیمتوں میں کمی آ سکے۔
ڈاکٹر فاروق حسنات کہتے ہیں کہ ایران بارہا باور کرا چکا ہے کہ وہ تصفیہ چاہتا ہے، لیکن دھونس اور دھمکیوں کے ذریعے امن قائم کرنے کی کوشش نہیں کی جا سکتی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سوشل میڈیا پر ردِعمل
دانی سترینوفتش ایران، قومی سلامتی اور انٹیلیجنس امور کے ماہر ہیں اور اسرائیل کی تل ابیب یونیورسٹی سے وابستہ ادارے انسٹیٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی سٹڈیز (آئی این ایس ایس) میں سینیئر فیلو ہیں۔
ان کے مطابق حالیہ دنوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان ایک اور ممکنہ فوجی محاذ آرائی کو روکنے کے لیے سفارتی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی آئی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے تبصرے میں انھوں نے لکھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت خطے کی اہم شخصیات کے حالیہ دورۂ تہران اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے بیانات (کہ تہران کی قیادت ایران کی سات نکاتی تجاویز پر امریکی ردعمل کا جائزہ لے رہی ہے) اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان سرگرمیوں کو کسی بڑی سفارتی پیش رفت کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اختلافات اب بھی بہت گہرے ہیں۔
سترینوفتش کے مطابق: ’سفارتی سرگرمیوں میں اضافے اور حقیقی سفارتی پیش رفت میں فرق کرنا ضروری ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ سفارتی رابطوں کا متحرک ہونا لازمی طور پر اس بات کی نشان دہی نہیں کرتا کہ دونوں فریقوں کے اختلافات کم ہو رہے ہیں، بلکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تمام متعلقہ فریق ایک نئی فوجی محاذ آرائی کے ممکنہ تباہ کن نتائج سے آگاہ ہیں۔
محقق اور مبصر بابک وحداد کہتے ہیں کہ اسلام آباد اس وقت دو مختلف سمتوں سے آنے والے دباؤ کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ ایک طرف ’مکہ معاہدے‘ میں شمولیت کے بعد یمن کے تنازع میں پاکستان کے شامل ہونے کا خطرہ موجود ہے، جس کے تہران کے ساتھ تعلقات پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ایک اہم ثالث کا کردار بھی ادا کر رہا ہے، جس کا اعتراف ایرانی حکام حالیہ دنوں میں عوامی سطح پر بھی کرتے رہے ہیں۔
بابک وحداد کے مطابق ایران اور پاکستان کی سرحد بھی ایک اہم مسئلہ ہے، حال ہی میں عارضی طور پر بند کی گئی گبد۔ریمدان گزر گاہ ایران کے لیے رسد کی ترسیل کا ایک اہم راستہ تھی۔
سیاسی اور سٹرٹیجک امور کے محقق محمد صالح صدقیان کے مطابق پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورۂ تہران، ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے، بحران کے حل، آبنائے ہرمز کو کھولنے اور ایران پر عائد معاشی پابندیاں ہٹانے کے لیے پاکستان اور قطر کی جانب سے جاری ثالثی کی کوششوں کا تسلسل ہے۔
صدقیان کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا گذشتہ روز تہران کا دورہ قطر اور پاکستان کی ثالثی کا متبادل نہیں ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ تہران نے ’روسی تجاویز کا خیر مقدم کیا ہے اور پاکستانی ثالثی کی بھی مخالفت نہیں کی۔‘
تاہم، صدقیان کے تجزیے کے مطابق، ’ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ اب معاملہ ایران کے نہیں بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے اور ابھی یہ واضح نہیں کہ واشنگٹن دراصل کیا چاہتا ہے۔‘
محمد صالح صدقیان سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ ایران کا مقصد مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا اور کسی ’ممکنہ فوجی کشیدگی‘ کو روکنے کی کوشش کرنا ہے۔




















