پلیسینٹا: ماں اور بچے کے درمیان قدرتی فلٹر، جس کے خلیوں سے کولیجن بھی حاصل کیا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, آسیہ انصر
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
پلیسینٹا کے ذریعے دوران حمل ماں سے بچے کو نہ صرف آکسیجن ملتی ہے بلکہ تمام وٹامنز، پروٹینز اور غذائی اجزا بھی اسی کے ذریعے بچے تک پہنچتے ہیں۔
آنول نال کے اردگرد موجود بعض خلیوں یعنی سیلز میں کولیجن اور پروٹین بنانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ ماں یا مریضہ کی رضامندی کی صورت میں ایسے پلیسینٹا مخصوص لیبارٹریوں کو عطیہ کیے جاتے ہیں، جہاں سکریننگ کے بعد ان خلیوں کو کاسمیٹکس اور جمالیاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تاہم یہ پریکٹس دنیا میں ہر جگہ عام نہیں۔‘
کچھ دنوں سے پاکستانی میڈیا میں سمگلنگ سے متعلق ایک کیس میں پلیسینٹا (آنول نال) سے متعلق خبروں کا بڑا چرچا رہا۔
آنول نال پریگنینسی کے دوران بچے کی نشوونما میں کیا کردار ادا کرتی ہے، اس میں ایسے کون سے اجزا پائے جاتے ہیں جو جلد اور بالوں کی خوبصورتی میں اہم سمجھے جاتے ہیں اور اس کو ڈلیوری کے بعد کس طرح محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگایا جاتا ہے؟
آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کراچی میں شعبۂ امراضِ نسواں و زچہ و بچہ کے سربراہ ڈاکٹر دانش صدیقی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے پلیسینٹا کی اہمیت اور ممکنہ پیچیدگیوں کے ساتھ اس کے گرد موجود جیلی نما تہہ کے خلیوں کے لیبارٹری میں استعمال سے متعلق آگاہی دی ہے۔
آنول نال کا بننا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈاکٹر دانش نے بتایا کہ ’ماں اور بچے کی نشوونما حمل کے دوران ساتھ ساتھ جاری رہتی ہے۔‘
ان کے مطابق ’ماں اور بچے کا خون براہِ راست آپس میں نہیں ملتا، اس لیے پلیسینٹا ایک قدرتی فلٹر کا کام کرتا ہے۔‘
’بچے کے جسم سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر غیر ضروری یا مضر مادے بھی اسی کے ذریعے ماں کے خون میں منتقل ہو کر خارج ہوتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ ’بچے کی نشوونما کے ساتھ ساتھ پلیسینٹا بھی بڑھتا رہتا ہے۔‘
’حمل میں آنول نال کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ حمل کے کچھ ہی دنوں بعد، جیسے جیسے ماں کے پیٹ میں بچے کی نشوونما ہوتی ہے، فرٹیلائزڈ انڈہ ماں کی بچہ دانی کی اندرونی تہہ میں جا کر چپکتا ہے، جہاں سے بچے کی نشوونما شروع ہوتی ہے۔ اسی عمل کے دوران پلیسینٹا کی تشکیل بھی شروع ہوتی ہے۔‘
پلیسینٹا کو حمل کے بعد کیسے ٹھکانے لگایا جاتا ہے
ڈاکٹر دانش کے مطابق پلیسینٹا کا سائز بچے کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہے اور نو ماہ مکمل ہونے تک عموماً اس کا قطر تقریباً آٹھ سے 10 انچ ہو جاتا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ عام طور پر بچے کی پیدائش کے چند منٹ بعد یہ رحم سے الگ ہو کر ماں کے جسم سے خارج ہو جاتا ہے۔
تاہم ان کے مطابق اگر بچہ دانی میں کوئی پرانا داغ موجود ہو یا پہلے سی سیکشن ہو چکا ہو تو بعض اوقات پلیسینٹا مکمل طور پر خارج نہیں ہو پاتا۔
’پلیسینٹا خارج ہونے کے بعد یہ جانچنا ضروری ہوتا ہے کہ اس کا کوئی حصہ رحم میں باقی نہ رہ گیا ہو۔ بعض اوقات مزید معائنے کے لیے اسے پیتھالوجی لیبارٹری بھی بھیجا جاتا ہے۔ تاہم اگر اس کی ضرورت نہ ہو تو اسے طبی فضلے کے طور پر تلف کیا جاتا ہے۔‘

ڈاکٹر دانش نے دعویٰ کیا کہ ’طبی اصولوں کے مطابق بائیو ہیزرڈ کے تمام اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے مخصوص کنٹینرز یا بیگز میں رکھ کر بائیو میڈیکل ویسٹ مینجمنٹ کے قواعد کے مطابق تلف کیا جاتا ہے، کیونکہ اس سے بیماریوں اور انفیکشن پھیلنے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔‘
ان کے مطابق ’پلیسینٹا کو بھی انسانی پیشاب، خون اور ہسپتالوں سے نکلنے والے دیگر طبی فضلے کی طرح مخصوص طریقہ کار کے مطابق ٹھکانے لگایا جاتا ہے۔ اسے کسی عام کچرے کے تھیلے میں نہیں پھینکا جاتا بلکہ انتہائی محفوظ طریقے سے تلف کیا جاتا ہے۔‘
کولیجن اور پروٹین بنانے کی صلاحیت
تو کیا پلیسینٹا کے اخراج کے بعد اس طبی فضلے کا استعمال آرائش اور کاسمیٹکس کے لیے بھی کیا جا سکتا ہے؟
اس کے جواب میں ڈاکٹر دانش نے بتایا کہ ’ابھی عام طور پر ہر جگہ اس کا استعمال نہیں ہوتا، تاہم کاسمیوسیوٹیکل، یعنی کاسمیٹکس کے مقاصد کے لیے اس کا مخصوص لیبارٹری میں استعمال کیا جاتا ہے تاہم اس کے لیے مریض کی رضامندی ضروری ہوتی ہے۔
’آنول نال کے اردگرد موجود بعض خلیوں میں کولیجن اور پروٹین بنانے کی صلاحیت ہوتی ہے اور ان میں گروتھ فیکٹرز اور پیپٹائیڈز بھی پائے جاتے ہیں۔ ماں کی رضامندی کی صورت میں ایسے پلیسینٹا مخصوص لیبارٹریوں کو عطیہ کیے جاتے ہیں، جہاں ان خلیوں کو الگ کر کے ہیپاٹائٹس اور دیگر انفیکشنز کی سکریننگ کی جاتی ہے۔ بعد ازاں ان خلیوں کو کاسمیٹکس اور جمالیاتی مقاصد کے لیے، مثلاً جلد کی خوبصورتی اور بالوں کی نشوونما میں استعمال کیا جاتا ہے۔‘
ڈاکٹر دانش نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’مہاسوں کے علاج، جلد پر زخموں کے نشانات کی بحالی اور دیگر مقاصد کے لیے بھی اس سے حاصل کردہ کولیجن استعمال کیا جاتا ہے، تاہم یہ عمل صرف مریض کی رضامندی سے اور ان لیبارٹریوں میں کیا جاتا ہے جہاں ایسے خلیے نکالنے اور ان پر کام کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔
انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ’یہ آنول نال کے اندر موجود خلیے نہیں ہوتے بلکہ اس کے گرد موجود ایک جیلی نما باریک تہہ میں پائے جاتے ہیں۔ انھی خلیوں کو جلد اور بالوں کی خوبصورتی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دوران حمل ہائی بلڈ پریشر، ہائپر ٹینشن اور ذیابیطس پلیسینٹا کی پیچیدگیوں کا موجب
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ڈاکٹر دانش نے بتایا کہ دوران حمل پلیسینٹا کی پیچیدگیاں اور مسائل اگر سامنے آئیں اور اسے نظر انداز کیا جائے تو بعض اوقات ماں اور بچے میں رسک بڑھ جاتا ہے۔
’پلیسینٹا بچہ دانی کے نچلے حصے میں آ کر بچہ دانی کے منہ کو ڈھانپ لے تو اسے ’پلیسینٹا ا پریویا‘ کہا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں عام یا فطری طریقے سے بچے کی پیدائش ممکن نہیں ہوتی اور سیزیرین سیکشن (سی سیکشن) کرنا پڑتا ہے۔ اس پوزیشن کی وجہ سے ماں میں زیادہ خون بہنے کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔‘
ان کے مطابق پلیسینٹا ایبرپشن بھی ایک خطرناک صورتحال ہے، جس میں پلیسینٹا مقررہ وقت سے پہلے رحم سے الگ ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں بچے کو آکسیجن کی فراہمی متاثر ہوتی ہے اور خون کا اخراج بھی ہو سکتا ہے، جس سے صورتحال نہایت نازک ہو جاتی ہے۔
ان کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں سی سیکشن آپریشن کا بہت رواج ہے۔ ان کے مطابق جب بھی سی سیکشن کے ذریعے بچے کی پیدائش ہوتی ہے تو اس کا داغ یا نشان باقی رہ جاتا ہے۔
’اگر پلیسینٹا اس حصے سے چپک جائے تو اس کے کچھ خلیے رحم کی اندرونی تہہ میں بڑھنے لگتے ہیں۔ بعد ازاں جب پلیسینٹا ماں کے جسم سے خارج ہوتا ہے تو اس کا کچھ حصہ اندر رہ جاتا ہے، جسے ’پلیسینٹا ایکریٹا‘ کہا جاتا ہے، اور اس کے علاج کے لیے پیچیدہ سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔‘
دوران حمل پلیسینٹا کی پیچیدگی کی علامات کیا ہو سکتی ہیں؟
اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر دانش نے بتایا کہ ’اگر حاملہ خاتون کو دوران حمل خون آنا شروع ہو جائے اور اس کے ساتھ درد نہ ہو، یعنی بچہ دانی کے سکڑاؤ جیسا درد موجود نہ ہو، تو یہ پلیسینٹا پریویا کی علامت ہو سکتی ہے۔ یہ ایک طبی ایمرجنسی ہے اور ایسی صورت میں فوری طور پر ہسپتال جانا ضروری ہوتا ہے۔‘
ان کے مطابق ’اگر خون کا اخراج بچہ دانی کے سکڑاؤ کے درد کے ساتھ ہو اور پلیسینٹا اپنی جگہ سے الگ ہو جائے تو یہ بھی ایک ایمرجنسی صورتحال ہوتی ہے۔ اس کی تشخیص بھی الٹراساؤنڈ کے ذریعے کی جاتی ہے۔
اگر پلیسینٹا اپنا کام درست طریقے سے انجام نہیں دے رہا اور بچے کو مناسب مقدار میں آکسیجن اور غذائیت نہیں مل رہی تو یہ بھی ایک ہنگامی طبی صورتحال ہے۔
بلند فشارِ خون، ہائپر ٹینشن اور ذیابیطس بھی دورانِ حمل پلیسینٹا کی کارکردگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
بلا ضرورت سی سیکشنز کا رجحان اور پلیسینٹا کا چپکنا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈاکٹر دانش نے بی بی سی کے سوال پر بتایا کہ یہ معلوم کرنا بہت ضروری ہوتا ہے کہ ’آیا پلیسینٹا بچہ دانی کے منہ کو ڈھانپ تو نہیں رہا۔ اس کی تشخیص کا بنیادی طریقہ الٹراساؤنڈ ہے، اس لیے دورانِ حمل الٹراساؤنڈ کروانا بہت ضروری ہوتا ہے، جس سے پلیسینٹا کی جگہ کا تعین کیا جا سکتا ہے۔‘
’اگر پلیسینٹا بچہ دانی کے منہ کو ڈھانپ لے تو نارمل ڈلیوری ممکن نہیں ہوتی اور پھر سی سیکشن کی ضرورت پیش آتی ہے۔‘
ان کے مطابق آج کل غیر ضروری سی سیکشن کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔
سی سیکشن کے داغ کی وجہ سے پلیسینٹا بچہ دانی سے چپک سکتا ہے، جس سے ماں اور بچے دونوں کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ حاملہ خاتون کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ باقاعدگی سے الٹراساؤنڈ اور معائنہ کروائے، جبکہ ڈاکٹروں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ غیر ضروری سی سیکشن کی حوصلہ شکنی کریں۔
ان کے مطابق سی سیکشن کی وجہ سے بچہ دانی کے اندر داغ یا زخم کا نشان رہ جاتا ہے، جو آئندہ حمل میں خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ ان کے بقول بہت سی خواتین ایسی بھی آتی ہیں جو نارمل ڈلیوری کے بجائے سی سیکشن کروانا چاہتی ہیں تاکہ زچگی کے درد سے بچ سکیں، لیکن محض اپنی خواہش پر بلا ضرورت سی سیکشن کروانا آئندہ حمل کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ لہٰذا سی سیکشن کی حوصلہ افزائی صرف اسی صورت میں کی جانی چاہیے جب طبی ضرورت موجود ہو۔



















