ائیر شو میں حادثے کا شکار ہونے والا امریکی ای اے 18 جی گراؤلر طیارہ کیا ہے؟

،ویڈیو کیپشندو امریکی طیاروں کا فضا میں ٹکرانے کا منظر
    • مصنف, ناردین سعد
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 4 منٹ

یہ ایک ایئر شو ہے۔ امریکی بحریہ کے دو جنگی طیارے فضا میں کرتب دکھا رہے ہیں اور زمین پر موجود افراد فضا میں مہارت کا یہ مظاہرہ غور سے دیکھ رہے ہیں۔

دونوں لڑاکا طیارے ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں، بہت قریب، غیر معمولی حد تک قریب۔ پھر یوں لگتا ہے کہ انھوں نے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا ہو۔

طیاروں کے زمین پر گرتے حصوں پر نظر نہ پڑے تو یہ منظر اس لمحے تک بھی ایک کرتب ہی معلوم ہوتا ہے۔ لیکن پھر اچانک طیاروں میں شعلے بلند ہوتے ہیں اور وہ زمین پر آ گرتے ہیں۔

آگ اور دھوئیں کا بادل آسمان کی طرف بلند ہوتا ہے اور چار پیراشوٹ نیچے اترتے دکھائی دیتے ہیں۔

یہ کوئی شعبدہ نہیں تھا، بلکہ ایک حادثہ تھا۔

طیارے ٹکرانے کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہ واقعہ اتوار کے روز امریکی ریاست آئیڈاہو میں فضائیہ کے اڈے ماؤنٹین ہوم پر پیش آیا۔ گن فائٹر سکائیز ایئر شو کا دوسرا اور آخری دن تھا جب امریکی بحریہ کے دو ’ای اے 18 جی گراؤلر‘ ساختہ طیارے آپس میں ٹکرا گئے۔

امریکی بحریہ کے ترجمان نے بی بی سی کے امریکی شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ دونوں طیاروں میں سوار عملے کے چار ارکان نے پیراشوٹ کے ذریعے چھلانگ لگا دی اور جان بچانے میں کامیاب ہو گئے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا وہ زخمی ہوئے یا نہیں۔

حادثے کے بعد ایئر بیس کو عارضی طور پر بند اور ایئر شو کو منسوخ کر دیا گیا، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

ماؤنٹین ایئر فورس بیس گن فائٹرز کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ سوشل میڈیا بیان میں کہا گیا: ’اس واقعے میں شامل فضائی عملے کی حالت مستحکم ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا: ’صبر اور ہمدردی کا مظاہرہ کرنے پر ہم اپنے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں، جس کی بدولت ہمیں واقعے پر فوری اور محفوظ طریقے سے رد عمل دینے میں مدد ملی۔‘

کمانڈر امیلیا اومایم نے سی بی ایس کو بتایا کہ عملے کا طبی معائنہ کیا گیا۔

اومایم نے کہا کہ ای اے 18 جی گراؤلرز کو ریاست واشنگٹن کے ایک الیکٹرانک اٹیک سکواڈرن کے حوالے کیا گیا تھا۔ امریکی بحریہ کے مطابق ان میں سے ہر طیارے کی قیمت تقریباً چھ کروڑ 70 لاکھ ڈالرز ہے۔

اس ایئر شو کے انعقاد میں آئیڈاہو کی تنظیم سلور ونگز نے مدد کی تھی۔ تنظیم سے وابستہ کم سائکس نے بتایا کہ فوجی اڈے پر کوئی زخمی نہیں ہوا۔

بی بی سی نے تبصرے کے لیے ایئر فورس بیس اور تقریب کے منتظمین سے رابطہ کیا ہے۔

حادے کا شکار ہونے والا ای اے 18 جی گراؤلر طیارہ کیا ہے؟

امریکی بحریہ کا ای اے 18 جی گراؤلر طیارہ

،تصویر کا ذریعہU.S. Navy via Getty Images

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

امریکی بحریہ کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق یہ ایک جدید طیارہ ہے جو خاص طور پر الیکٹرانک جنگ کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس کا بنیادی کام حریف کے فضائی دفاعی نظام کو جام کرنا یا ناکارہ بنانا ہے، تاکہ اپنے طیاروں اور افواج کو محفوظ طریقے سے کارروائی کرنے میں مدد مل سکے۔

یہ طیارہ امریکہ کے الیکٹرانک اٹیک سکوارڈنز کا حصہ ہوتا ہے۔ الیکٹرانک اٹیک سکواڈرن ایسے فوجی یونٹس ہوتے ہیں جو خصوصی طیاروں کے ذریعے حریف کے ریڈار، مواصلاتی نظام اور دفاعی ٹیکنالوجی کو جام یا ناکارہ بنانے کی ذمہ داری انجام دیتے ہیں۔

امریکی بحریہ کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق پہلا گراؤلر طیارہ اکتوبر 2004 میں تیار ہونا شروع ہوا اور اگست 2006 میں اس نے پہلی پرواز کی۔ تین جون 2008 کو پہلا تیار شدہ طیارہ امریکہ کے الیکٹرانک اٹیک سکوارڈن کے حوالے کیا گیا۔

ویب سائٹ میں درج ہے کہ ای اے 18 جی گراؤلر طیارے نے پہلی بار سنہ 2011 میں لیبیا میں آپریشن کے دوران کارروائیوں میں حصہ لیا۔ جبکہ ایران کے خلاف امریکی کارروائی (ایپک فیوری) کے دوران امریکی بحریہ نے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کی جو تصویر جاری کی تھی، اس میں بھی ای اے 18 جی گراؤلر طیارہ دکھائی دیتا ہے۔