’ہم معجزہ ہیں‘: یہ جڑواں بہنیں چند منٹوں کے فرق سے پیدا ہوئیں، لیکن ان کے والد مختلف ہیں

مشیل اور لاوینیا اوسبورن
    • مصنف, جینی کلیمن
    • عہدہ, دی گفٹ پروگرام کی میزبان
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

جڑواں بہنوں مشیل اور لاوینیا اوسبورن کی شکلیں آپس میں نہیں ملتی تھیں لیکن ان کا تعلق ہمیشہ سے خاص تھا۔ پھر ایک دن جب لاوینیا نے گھر پر کیے گئے ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج والی ای میل پر کلک کیا تو ان پر خوف طاری ہو گیا۔

وہ کہتی ہیں ’لا شعوری طور پر یہ بات شاید مجھے پہلے ہی معلوم تھی۔‘

ان کے ٹیسٹ کے نتائج نے ایک حیران کن حقیقت ظاہر کی: ان دونوں بہنوں کے والد مختلف ہیں۔

ان کی والدہ کا حمل قدرتی طور پر ٹھہرا، دونوں بہنیں ایک ہی رحم میں ساتھ پروان چڑھیں اور ایک ہی ماں کے بطن سے چند منٹ کے وقفے سے پیدا ہوئیں، لیکن وہ سوتیلی بہنیں ہیں۔

49 سالہ مشیل اور لاوینیا ایک نہایت ہی نایاب حیاتیاتی عمل کے بدولت وجود میں آئی ہیں، جسے ہیٹروپیٹرنل سپر فی کیونڈیشن کہا جاتا ہے۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک خاتون ایک ہی سائیکل کے دوران ایک سے زیادہ انڈے پیدا کرے، ان انڈوں کو مختلف مردوں کے نطفوں سے کامیابی کے ساتھ بارآور کیا جائے اور بننے والے ایمبریو حمل کے دوران زندہ رہیں۔

دنیا بھر میں اب تک اس نوعیت کے صرف تقریباً 20 ہی کیسز کی نشاندہی ہو سکی ہے۔

بی بی سی ریڈیو 4 کی سیریز، دی گفٹ کے لیے کئی ماہ تک ان کی کہانی پر تحقیق کرنے کے بعد میں نے جانا کہ لاوینیا اور مشیل برطانیہ میں اب تک سامنے آنے والی اس کی واحد دستاویزی مثال ہیں، جو خود تو جڑواں ہیں لیکن ان کے باپ مختلف ہیں۔

لاوینیا کے لیے یہ انکشاف تباہ کن تھا۔ ان کا اور مشیل کا بچپن مشکل رہا تھا، جہاں انھیں ایک گھر سے دوسرے اور ایک نگہداشت کرنے والے سے دوسرے تک منتقل کیا جاتا رہا۔

غیر مماثل جڑواں بہنوں کے لیے واحد استحکام ایک دوسرے کا ساتھ تھا۔

لاوینیا کہتی ہیں کہ ’وہ واحد چیز تھی جو میری تھی، واحد چیز جس کے بارے میں مجھے یقین تھا، واحد چیز جس پر مجھے بھروسہ تھا۔ اور پھر وہ بھی نہیں رہی۔‘

لیکن جب لاوینیا نے یہ خبر سنانے کے لیے اپنی جڑواں بہن کو فون کیا تو مشیل کا ردعمل مختلف تھا۔

مشیل کہتی ہیں کہ ’مجھے حیرت نہیں ہوئی۔ میں اب بھی یہ سوچ کر دنگ رہ جاتی ہوں کہ یہ حقیقت میں ہو سکتا ہے۔ یہ انتہائی عجیب، انتہائی انوکھا، انتہائی نایاب ہے۔‘

مشیل اور لاوینیا اوسبورن
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سنہ 1976 میں نوٹنگھم میں مشیل اور لاوینیا کی پیدائش کے وقت ان کی والدہ کی عمر 19 برس تھی اور وہ ایک کمزور خاتون تھیں۔

اپنی والدہ کے بارے میں مشیل بتاتی ہیں کہ ’وہ اپنے سوتیلے والد کے ہاتھوں تشدد کا شکار رہیں اور ان کا بچپن بچوں کی نگہداشت کرنے والے مختلف اداروں میں گزرا۔‘

جب بھی جڑواں بہنیں اپنے والد کے بارے میں پوچھتیں، ان کی ماں کہتیں کہ ان کا نام جیمز تھا۔

مشیل بتاتی ہیں کہ ’وہ ہماری زندگی میں موجود نہیں تھے۔‘

ان کی والدہ خود بھی طویل عرصے تک ان کی زندگیوں سے غیر حاضر رہیں۔ جب وہ پانچ برس کی تھیں تو والدہ انھیں اپنی بہترین دوست کی ماں کے پاس نوٹنگھم میں ہی چھوڑ کر لندن کی یونیورسٹی میں پڑھنے چلی گئیں۔

جڑواں بہنیں ان خاتون کو ’نانی‘ کہتی تھیں۔

لاوینیا کہتی ہیں کہ ’نانی سخت تھیں، زیادہ جذباتی نہیں اور زیادہ پیار کرنے والی بھی نہیں۔ میری زندگی میں واحد مستقل چیز مشیل ہی تھی۔‘

مشیل کے مطابق جب تک ان کے پاس ان کی جڑواں بہن تھیں، وہ خود کو محفوظ محسوس کرتی تھیں۔

’یہ ایسے تھا جیسے ہم دو ہیں اور ہمارا مقابلہ باقی ساری دنیا سے ہے۔‘

10 برس کی عمر میں لڑکیاں لندن جا کر اپنی ماں کے ساتھ رہنے لگیں۔ لیکن چند ہی برس بعد لاوینیا اور مشیل کو دوبارہ اُس نگہداشت گھر میں بھیج دیا گیا جہاں کبھی ان کی والدہ بھی رہیں تھیں۔

وہ سمجھ نہیں پاتی تھیں کہ ان کی ماں ان سے فاصلہ کیوں رکھنا چاہتی ہیں۔

لاوینیا کہتی ہیں کہ ’جسمانی اور جذباتی طور پر وہ ہمیشہ ہم سے دور رہیں۔‘

خاندانی آرکائیو سے لاوینیا اور مشیل اوسبورن کی تصاویر

بچپن کا بڑا حصہ غیر حاضر رہنے کے بعد جیمز اس وقت دوبارہ ان کی زندگی میں آئے جب جڑواں بہنیں نو عمری کے وسط میں تھیں۔

لاوینیا نے انھیں ڈھونڈ نکالا اور اگرچہ لاوینیا کو تو خود میں اپنے والد کی شبیہ نظر آتی تھی لیکن مشیل کو کبھی یقین نہیں ہوا کہ جیمز ان کے والد ہیں۔ دل کے کسی کونے میں شکوک موجود تھے۔

سنہ 2021 کے آخر تک ان کی والدہ کم عمری میں ہونے والے ڈیمنشیا میں مبتلا ہو چکی تھیں اور اب سوالات کے جواب دینے کے قابل نہیں تھیں۔ مشیل نے جیمز کی ایک تصویر دیکھی اور انھیں پہلے سے زیادہ یقین ہو گیا کہ وہ ان کے والد نہیں ہو سکتے۔

مشیل کہتی ہیں کہ ’میں نے بس یہ سوچا کہ وہ تو مجھ جیسے نظر ہی نہیں آتے، تو میں نے ایک کٹ خرید لی۔‘

جب آپ ڈی این اے ٹیسٹ کرواتے ہیں تو آپ اپنے ساتھ ساتھ اپنے خاندان کے بارے میں بھی سچائیاں سامنے لے آتے ہیں۔ لیکن جب مشیل نے اپنا نمونہ تجزیے کے لیے بھیجا تو انھوں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ اس کے نتائج لاوینیا پر کیا اثر ڈالیں گے۔

نتائج 14 فروری 2022 کو آئے، اسی دن جس دن مشیل اور لاوینیا کی والدہ کا انتقال ہوا۔

اور نتائج سے معلوم ہوا کہ جیمز مشیل کے والد نہیں تھے۔

کئی ہفتوں کی تحقیق کے بعد مشیل کو معلوم ہوا کہ ان کے والد ایلکس ہیں، جو ان کی ماں کی ایک دوست کے بھائی تھے۔ مشیل نے ایلکس کے خاندان کے کچھ افراد سے رابطہ کیا، جنھوں نے خبردار کیا کہ وہ برسوں سے شراب نوشی اور منشیات کے استعمال میں مبتلا رہے اور سڑکوں پر رہتے تھے۔

مشیل اور لاوینیا ایک خاتون سے ملیں جن کا نام اولیوین تھا، جنہیں مشیل اپنی اور اپنی جڑواں بہن کی پہلی کزن سمجھتی تھیں۔ مشیل نے فوراً ایک تعلق محسوس کیا۔

مشیل کے مطابق ’مجھے بس معلوم ہو گیا کہ وہ میرا ہی خون ہیں۔‘

لیکن لاوینیا نے ایسا محسوس نہیں کیا۔ اور جب اولیوین نے اپنے خاندان کی تصاویر نکالیں تو لاوینیا کو ان چہروں میں اپنی جھلک نظر نہ آئی۔

لاوینیا نے بھی ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا۔ لاوینیا کو یہ توقع نہیں تھی کہ انھیں مشیل سے مختلف نتیجہ ملے گا، لیکن ایلکس کے خاندان کے حوالے سے بڑھتے بے چینی کے احساس پر انھیں کچھ نہ کچھ کرنا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’میں بس تصدیق چاہتی تھی۔‘

جب لاوینیا نے اپنے ٹیسٹ کے نتائج کھولے تو یہ ناقابل یقین حقیقت جان کر ٹوٹ کر رہ گئیں کہ ان کی جڑواں بہن در اصل ان کی سوتیلی بہن ہیں۔

’میں مشیل سے ناراض تھی کہ انھوں نے مجھے یہ سب جھیلنے پر مجبور کیا، کیونکہ میں اس حقیقت کو قبول ہی نہیں کرنا چاہتی تھی۔‘

اور جب لاوینیا نے اپنے نتائج غور سے دیکھے تو مزید انکشافات بھی سامنے آئے۔ انھیں معلوم ہوا کہ جیمز ان کے بھی والد نہیں تھے۔

مشیل اور لاوینیا
،تصویر کا کیپشنمشیل اور لاوینیا

لاوینیا کو اپنے والد کے بارے میں جاننے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی، لیکن مشیل جواب حاصل کرنے کے لیے پُر عزم تھیں۔ اپنی جڑواں بہن کے نتائج کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے مشیل نے آرتھر کو تلاش کر لیا، جو لاوینیا کے حیاتیاتی والد تھے۔ جڑواں بہنیں مغربی لندن میں ان کے گھر ملنے گئیں۔

لاوینیا کہتی ہیں کہ ’وہ تھوڑے گھبرائے ہوئے تھے لیکن ان کی شخصیت بہت زندہ دل ہے، بالکل میری طرح۔‘ ملاقات کے اختتام پر انھوں نے آرتھر کے گال پر بوسہ دیا۔

’یہ میں نے بے اختیاری میں کیا تھا۔‘

لاوینیا اور آرتھر اس کے بعد سے قریب ہیں، مہینے میں کئی بار ملتے ہیں، اکثر مشیل بھی ہمراہ ہوتی ہیں۔

لاوینیا کہتی ہیں کہ ’مجھے لگتا ہے کہ میں نے اپنی جگہ پا لی ہے اور وہ جگہ میرے والد کے ساتھ ہے۔‘

آرتھر نے مشیل سے بھی کہا ہے کہ وہ انھیں ’ڈیڈ‘ پکار سکتی ہیں۔

بعد کی ایک ملاقات میں جڑواں بہنوں نے آرتھر سے پوچھا کہ ان دونوں کا حمل ٹھہرنے کے بارے میں انھیں کیا معلوم ہے۔

مشیل کے مطابق جواب میں آرتھر نے کہا: ’آپ کی والدہ میرے دروازے پر آئی تھیں۔ وہ بہت پریشان تھیں اور رو رہی تھیں۔‘

مشیل اور لاوینیا کی والدہ یہاں موجود نہیں کہ وہ ہمیں بتا سکیں کہ اصل میں کیا ہوا، لیکن آرتھر کے مطابق وہ ایک مشکل وقت میں ان کی طرف متوجہ ہوئیں۔

اپنے نئے دریافت شدہ رشتہ داروں کے ذریعے مشیل اپنے حیاتیاتی والد ایلکس سے بھی ملیں۔

مشیل اور لاوینیا

اپنے والد کے بارے میں مشیل بتاتی ہیں کہ ’وہ واضح طور پر منشیات کے زیر اثر تھے۔‘

دونوں کے درمیان مشابہت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

’وہ میرے ہیں، میں ان کی ہوں، لیکن مجھے ایسا محسوس نہیں ہوا کہ میں انھیں اپنی آنے والی زندگی میں ساتھ لے جانا چاہتی ہوں۔ مجھے بس جاننا تھا۔‘

جڑواں بہنیں کبھی نہیں جان سکیں گی کہ آیا ان کی ماں کو شبہ تھا کہ ان کے والد مختلف ہیں۔

لاوینیا کہتی ہیں کہ ’یہ بات انھیں پاگل کر رہی ہو گی۔‘

مشیل کے مطابق ’میرا خیال ہے کہ ماں کے دل کے کسی کونے میں یہ بات تھی، لیکن وہ تسلیم کرنے سے انکار کرتی تھیں۔‘

غیر یکساں جڑواں بہنیں ہونے کے ناطے لاوینیا اور مشیل ہمیشہ اپنے فرق سے واقف رہی ہیں۔ ان کے ڈی این اے نے اس فرق کو اور بھی نمایاں کر دیا۔ لیکن ان کے درمیان ایک منفرد رشتہ ہمیشہ برقرار رہے گا۔

لاوینیا کہتی ہیں کہ ’ہم معجزہ ہیں۔ ہمارے درمیان ایسی قربت ہمیشہ رہے گی جسے توڑا نہیں جا سکتا۔‘

اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے مشیل نے کہا: ’لاوینیا میری جڑواں بہن ہیں، اور یہ رشتہ کبھی ختم نہیں ہو گا۔‘