طب کی دنیا کا انوکھا واقعہ جب ایک خاتون بیک وقت دو مردوں سے حاملہ ہو گئیں: سائنسدان اِس کی کیا وضاحت پیش کرتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ سنہ 2018 کی بات ہے جب ایک خاتون کولمبیا کی نیشنل یونیورسٹی کی لیبارٹری برائے جینیٹکس آف پاپولیشنز اینڈ آئیڈینٹیفکیشن پہنچی اور وہاں موجود اہلکاروں سے درخواست کی اُن کے ہاں دو سال قبل جڑواں بیٹے پیدا ہوئے تھے اور اب وہ اُن کی ولدیت کی تصدیق کرنا چاہ رہی ہیں۔
لیبارٹری کے سٹاف نے بچوں کا ابتدائی ٹیسٹ کیا اور پھر تصدیق کے لیے دوبارہ وہی ٹیسٹ دہرایا گیا۔ پہلے ٹیسٹ کا نتیجہ اِس قدر حیران کُن تھا کہ لیبارٹری میں موجود ماہرین اس کی دوبارہ تصدیق کرنا چاہتے تھے کہ آیا اُن کے سامنے جو رپورٹ آئی ہے وہ درست ہے یا نہیں۔
ماہرین کے سامنے جو رپورٹس موجود تھیں اُن کے مطابق جڑواں بچوں کی ماں تو ایک ہی تھیں، مگر اُن کے والد الگ الگ تھے۔
یہ ایک نہایت نایاب اور حیران کُن معاملہ ہے جسے طب کی زبان میں ’ہیٹروپیٹرنل سپرفیکیونڈیشن‘ کہا جاتا ہے۔
دنیا بھر اب تک اس نوعیت کے بمشکل 20 کے قریب کیسز ہی رپورٹ ہوئے ہیں۔
اگرچہ لیبارٹری میں موجود ماہرین کے لیے یہ کوئی ایسی بات نہیں تھی کہ جس کا انھیں اس سے قبل علم نہیں تھا، مگر نیشنل یونیورسٹی کے ماہرین کو اس سے پہلے کبھی ایسا کیس براہِ راست دیکھنے کو نہیں ملا تھا۔
اور پھر کیا تھا بس ظاہر سی بات ہے کہ اس معاملے نے ان کی سائنسی دلچسپی کو بڑھا دیا۔
ماہرین نے یہ سب کیسے معلوم ہوا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کسی بھی شخص کی ولدیت کا تعین کرنے کے لیے کولمبیا کی نیشنل یونیورسٹی کی لیبارٹری میں موجود ماہرین ایک ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں جسے ’مائیکرو سیٹلائٹ مارکرز‘ کہا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
عام الفاظ میں اس عمل میں بچے، ماں اور مبینہ والد کے ڈی این اے کے چھوٹے چھوٹے حصوں کا تجزیہ کیا جاتا ہے اور اُن کا آپس میں موازنہ کیا جاتا ہے۔
لیبارٹری کے ڈائریکٹر پروفیسر ولیم اوساکوئن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم اُن سب کا ڈی این اے لیتے ہیں، ہم 15 سے 22 مقامات دیکھتے ہیں جنھیں مائیکرو سیٹلائٹس کہا جاتا ہے اور ہم اُن کا ایک ایک کر کے موازنہ کرتے ہیں۔‘
لیکن یہ عمل فقط اتنا بھی سادہ نہیں کہ ڈی این اے کو ایک طاقتور خوردبین کے نیچے رکھ کر اسے دیکھ لیا جائے۔
انگلی سے خون کا نمونہ لینے کے بعد سائنسدان ایک کیمیائی عمل انجام دیتے ہیں تاکہ ڈی این اے کو دیگر اجزا سے الگ کیا جا سکے۔
پھر وہ ڈی این اے، جو انتہائی باریک ہوتا ہے، کو مخصوص آلات سے گزار کر اس کی مقدار بڑھائی جاتی ہے۔
اس کے بعد حاصل ہونے والے مائع کو فلوروسینٹ عناصر کے ساتھ ملایا جاتا ہے تاکہ اُن 15 سے 22 مقامات یعنی مائیکرو سیٹلائٹس کو نمایاں کیا جا سکے جن کا مشاہدہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ پھر اسے ایک اور مشین سے گزارا جاتا ہے جو ہر نمونے میں موجود مائیکرو سیٹلائٹس کو پڑھ کر انھیں عددی ترتیب میں تبدیل کر دیتی ہے۔ اس عمل کو ’الیکٹروفوریسس‘ کہا جاتا ہے۔
آخر میں جب یہ عددی ترتیبیں حاصل ہو جاتی ہیں تو محققین احتمالی تجزیہ کرتے ہیں تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ آیا مذکورہ شخص بچے کا والد ہے یا نہیں۔
جب بچے کے جینیاتی پروفائل کا نصف حصہ ماں سے اور باقی نصف مبینہ والد سے مطابقت رکھتا ہے تو ولدیت کی تصدیق ہو جاتی ہے۔
ایک غیر معمولی نتیجہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنہ 2018 میں مختلف والد سے پیدا ہونے والے جڑواں بچوں کے کیس میں کولمبیا کی نیشنل یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف جینیٹکس کے سائنسدانوں نے ماں، دونوں بچوں اور اُن کے مبینہ والد کے ڈی این اے میں سے 17 مائیکروسیٹلائٹس کا تجزیہ کیا۔
ان کے سامنے یہ آیا کہ مبینہ والد کا ڈی این اے ایک بچے کے ڈی این اے سے مطابقت رکھتا تھا لیکن دوسرے بچے کے ساتھ نہیں۔
یہ بلاشبہ ایک غیر معمولی نتیجہ تھا۔
لیبارٹری کے ڈائریکٹر ولیم اوساکوئن کہتے ہیں کہ ’میں 26 سال سے اس لیبارٹری کا ڈائریکٹر ہوں اور یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے جو ہمارے سامنے آیا ہے۔‘
انسٹیٹیوٹ آف جینیٹکس کی محقق اور جینیات کی ماہر آندریا کاساس کے مطابق ’ہم نے دیگر رپورٹس سے سُنا تھا کہ ایسے کیس دنیا میں انتہائی کم شرح میں سامنے آتے ہیں۔‘
طے شدہ طریقۂ کار کے مطابق ماہرین نے ابتدا سے پورا ٹیسٹ دوبارہ کیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کہیں یہ عمل میں کسی غلطی یا نمونوں کے بدل جانے کا نتیجہ تو نہیں۔
دوبارہ کیے گئے ٹیسٹ کا نتیجہ بھی پہلے جیسا ہی آیا، یعنی جواب سب ٹیسٹوں میں ایک ہی تھا۔
یہ کیسز اتنے نایاب کیوں ہیں؟

،تصویر کا ذریعہNetflix
سنہ 2014 میں امریکہ کے شہر بالٹیمور کی ایک لیبارٹری کے سائنسدانوں کی شائع کردہ ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ 39,000 کے ایک بڑے ڈیٹا بیس میں صرف تین ایسے کیسز سامنے آئے جن میں ’ہیٹروپیٹرنل سپرفیکنڈیشن‘ یعنی مختلف والد سے جڑواں بچوں کی پیدائش پائی گئی۔
پروفیسر ولیم اوساکوئن اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’یہ ایک ایسا حیاتیاتی واقعہ ہے جو بہت کم پیش آتا ہے۔‘
’پہلی بات تو یہ ہے کہ خاتون کے دو جنسی ساتھی ہونے چاہییں۔ دوسری بات یہ کہ انھیں دونوں مردوں کے ساتھ ایک مختصر مدت کے دوران تعلق قائم کرنا ہو گا۔ اس کے علاوہ پولی اوویولیشن ہونی چاہیے یعنی ایک ہی ماہواری کے دوران دو یا زیادہ انڈوں کا خارج ہونا اور آخر میں یہ بھی ضروری ہے کہ دونوں انڈے الگ الگ بار بار حمل کا باعث بنیں۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’یہ ایک ایسا انوکھا اور نایاب واقعہ ہے جو مزید کئی نایاب واقعات کے ساتھ مل کر سامنے آتا ہے۔‘
یہ بات واضح رہے کہ مختلف والد سے پیدا ہونے والے جڑواں بچے کبھی بھی ایک جیسے یعنی ہم شکل جڑواں نہیں ہو سکتے کیونکہ ہم شکل جڑواں بچے ایک ہی انڈے اور ایک ہی نطفے (سپرم) سے نشوونما پاتے ہیں۔
نجی زندگی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عام طور پر ایسے کیسز میں جب خاتون ایک سے زیادہ ایگز یعنی انڈے خارج کرتی ہے اور اگر اُن میں سے صرف ایک ہی بارآور ہو جائے تو دوسرا یا دوسرے ایگز جلد ہی ختم ہو جاتے ہیں۔
اسی وجہ سے سپرفیکنڈیشن کا عمل بھی نایاب ہے کیونکہ عام طور پر عورت کے جسم میں ہر ماہ ایک ایگ خارج ہوتا ہے۔ اگر اس انڈے کو نطفہ یعنی سپرم نہ ملے تو وہ کچھ ہی وقت میں ضائع ہو جاتا ہے۔
کولمبیا کے انسٹیٹیوٹ آف جینیٹکس کے سائنسدانوں کے مطابق، اس طرح کے کیسز میں دونوں مرتبہ 24 سے 36 گھنٹوں کے اندر حمل ٹھہرنا ضروری ہیں، جو انڈوں کے خارج ہونے کے بعد اُن کی قابلِ حیات مدت ہوتی ہے۔
تاہم ماہر آندریا کاساس کے مطابق ’ضروری نہیں کہ انڈے ایک ہی وقت میں خارج ہوں۔‘
’کبھی کبھی ایک فیلوپین ٹیوب ایک انڈا خارج کرتی ہے اور دو یا تین دن بعد، دوسری ٹیوب دوسرا انڈا خارج کرتی ہے۔‘ وہ مزید بتاتی ہیں کہ ’جس سے مختلف وقتوں پر حمل ٹھہرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔‘
یقیناً، مختلف والد سے جڑواں بچوں کے کم کیسز ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ زیادہ تر لوگ ولدیت کا ٹیسٹ نہیں کرواتے۔
درحقیقت سائنسی لٹریچر میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ مستقبل میں یہ ایک اتنا غیر معمولی رجحان نہیں رہے گا، جیسا کہ انسٹیٹیوٹ آف جینیٹکس کے سائنسدانوں نے اپنے شائع کردہ مضمون میں لکھا ہے کہ ’جدید مالیکیولر طریقوں کی دستیابی اور ولدیت کے ٹیسٹوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور تعداد کی وجہ سے۔‘
اگرچہ اس حیاتیاتی واقعے کی سائنسی اہمیت ہو سکتی ہے لیکن تحقیق کی اخلاقیات سائنسدانوں کو اس بات سے روکتی ہیں کہ وہ ٹیسٹ کروانے والے افراد کی نجی زندگی کے بارے میں سوال کریں۔
پروفیسر اوساکوئن کے مطابق ’نسب کے تعین کے ٹیسٹ ہمیشہ افراد کی مرضی اور نجی زندگی کا احترام کرتے ہوئے کیے جاتے ہیں۔‘




























