اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین ججز کا تبادلہ متنازع کیسے بنا؟

،تصویر کا ذریعہIHC
- مصنف, اعظم خان
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
- مطالعے کا وقت: 11 منٹ
پاکستان میں اعلیٰ عدلیہ میں تعیناتی کرنے والے فورم جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان تین ججوں کی ملک کی دیگر ہائی کورٹس میں تبادلوں کی منظوری دی تو اس فیصلے پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کی گئی۔
اس اجلاس کے دو شرکا اور کمیشن کے رکن بیرسٹر گوہر اور علی ظفر نے بعد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تینوں ججز کی ’مرضی کے بغیر‘ انتظامیہ نے انھیں ’بدنیتی‘ سے دوسری عدالتوں میں ’بطور سزا‘ ٹرانسفر کر دیا ہے۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جسٹس ارباب طاہر اور خادم حسین سومرو کے تبادلے کا معاملہ ڈراپ کر دیا گیا جبکہ جسٹس بابر ستار کو پشاور، جسٹس محسن کیانی کو لاہور اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کو سندھ ٹرانسفر کر دیا گیا۔
انھوں نے بتایا کہ ججز کا یہ تبادلہ نو اور تین کی اکثریت سے ہوا۔ انھوں نے کہا کہ ’تمام ہائیکورٹس میں ججز کی تعداد مکمل ہے۔ ججز کا تبادلہ عدلیہ کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔‘
تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ ججز کے ٹرانسفر کو سزا قرار دینا غلط ہے۔
وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے مقامی چینل جیو نیوز کو بتایا کہ ’یہ عدلیہ پر نہ کسی قسم کی قدغن ہے اور نہ ہی کوئی وار ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن نے ججز کے ٹرانسفر کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan
ہائیکورٹ کے ججز کا کس قانون کے تحت تبادلہ ہوا؟
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے سپریم کورٹ میں جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کی صدارت کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ اجلاس جوڈیشل کمیشن کے سیکریٹری نے آئین کے آرٹیکل 175 اے کی شق (22) کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے طلب کیا کیونکہ کمیشن کے چیئرمین (چیف جسٹس یحییٰ آفریدی) نے وجوہات بتاتے ہوئے کُل ارکان کے ایک تہائی کی جانب سے دی گئی ریکوزیشن پر اجلاس بلانے سے انکار کر دیا تھا۔ اس سے عندیہ ملتا ہے کہ چیف جسٹس نے خود بھی اس ٹرانسفر کی مخالفت کی۔
بیان کے مطابق کمیشن نے جسٹس محسن اختر کیانی کے لاہور ہائی کورٹ، جسٹس بابر ستار کے پشاور ہائی کورٹ اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کے سندھ ہائی کورٹ تبادلے کی منظوری دی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ان تبادلوں کی منظوری اکثریتی رائے سے دی گئی۔
جوڈیشل کمیشن نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ کسی ہائی کورٹ سے جج کے تبادلے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کسی بھی خالی اسامی کو صرف تبادلے کے ذریعے ہی پُر کیا جائے گا، اور ایسی اسامی کو کسی صورت ابتدائی تقرری کی خالی نشست تصور نہیں کیا جائے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جس رُکن نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر کو بلوچستان ہائی کورٹ اور جسٹس خادم حسین سومرو کو سندھ ہائی کورٹ منتقل کرنے کے لیے اجلاس بلانے کی درخواست دی تھی، اس نے دونوں تجاویز واپس لے لیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ سے یہ تبادلے آئین کے آرٹیکل 200 میں ترمیم کے بعد کیے گئے ہیں، جس کے تحت جوڈیشل کمیشن کو ججوں کی رضامندی کے بغیر تبادلے کی سفارش کا اختیار دیا گیا ہے۔
یہ ترمیم 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے متعارف کرائی گئی، جس سے قبل کسی بھی جج کے ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائی کورٹ تبادلے کے لیے اس کی رضامندی لازمی تھی۔ نئی شق کے تحت یہ اختیار اب جوڈیشل کمیشن کو حاصل ہو گیا ہے۔
ترمیم کے مطابق، اگر کوئی جج تبادلہ قبول کرنے سے انکار کرے تو اس کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی کی جا سکتی ہے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ سے ججوں کے تبادلوں کے امکان پر سنجیدہ آئینی تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کی غیر رسمی درخواستوں کے جواب میں انھوں نے خبردار کیا تھا کہ اس نوعیت کے تبادلے وفاقیت اور مساوی نمائندگی کے اصولوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور عدالتی تقرریوں کو عارضی اور قابلِ واپسی انتظامی فیصلوں میں بدل سکتے ہیں۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ نو رکنی اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججوں کو فوری متبادل تقرریوں کے بغیر منتقل کرنا عدالتی ادارے میں سنگین خالی اسامیاں اور انتظامی عدم استحکام پیدا کر دے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ وجوہات کے بغیر ایسے تبادلے تادیبی کارروائی کا تاثر دے سکتے ہیں، جو مناسب آئینی طریقۂ کار کے بغیر عملی طور پر برطرفی کے مترادف ہوں گے۔
انھوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت ججوں کے خلاف الزامات کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل کا فورم موجود ہے۔ چیف جسٹس کے مطابق ایسے تبادلوں کی اجازت دینا جو عملی طور پر برطرفی کی شکل اختیار کر لیں، آئینی تحفظات کو کمزور کرے گا، ایک خطرناک مثال قائم کرے گا اور عدلیہ کی آزادی اور عوامی اعتماد کو نقصان پہنچائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بابر ستار، محسن اختر کیانی اور ثمن امتیاز: ٹرانسفر ہونے والے تین ججز
جن ججز کا تبادلہ ہوا ہے، وہ ان چھ ججوں میں شامل تھے جنھوں نے مارچ 2024 میں سپریم جوڈیشل کونسل کے ارکان کو ایک غیر معمولی خط لکھا تھا، جس میں ملکی خفیہ اداروں پر عدالتی امور میں مداخلت، ججوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے ان کے رشتہ داروں کے اغوا اور تشدد، اور ان کے گھروں میں خفیہ نگرانی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
یہی جج فروری 2025 میں اُن پانچ ججوں میں بھی شامل تھے جنھوں نے اُس وقت لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس ڈوگر کے ممکنہ تبادلے کی باقاعدہ مخالفت کی تھی اور خبردار کیا تھا کہ ان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر تقرری آئینی طریقۂ کار اور عدالتی روایات کی خلاف ورزی ہو گی۔
اس کے باوجود، جسٹس ڈوگر کو 13 فروری 2025 کو قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ مقرر کر دیا گیا۔ اگلے روز حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں تمام ججوں کو مدعو کیا گیا تھا، تاہم پانچ جج، جن میں اب ٹرانسفر کیے جانے والے تینوں جج بھی شامل تھے، نے تقریب میں شرکت نہیں کی اور اس کا بائیکاٹ کیا۔
اس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ میں بڑے پیمانے پر انتظامی تبدیلیاں کی گئیں، جن کے نتیجے میں سینیئر ترین جج جسٹس محسن اختر کیانی کے اختیارات نمایاں طور پر کم کر دیے گئے، جو اس سے قبل اہم فیصلہ سازی کے امور میں مرکزی کردار رکھتے تھے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کی ایڈمنسٹریشن کمیٹی، جو پہلے چیف جسٹس، سینیئر ترین جج اور ایک سینیئر جج پر مشتمل تھی، اسے تبدیل کر کے چیف جسٹس ڈوگر اور ان کے دو نامزد ججوں پر مشتمل کر دیا گیا، جس سے عدالت میں فیصلہ سازی کے اختیارات کا توازن نمایاں طور پر بدل گیا۔
بعد ازاں جسٹس ڈوگر نے 8 جولائی 2025 کو بطور چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ حلف اٹھایا، اور ان پانچ سینیئر ججوں کو، جنھوں نے ان کے تبادلے کی مخالفت کی تھی، مختلف اہم کمیٹیوں سے الگ کر دیا گیا۔
گذشتہ سال ستمبر میں ان پانچ ججوں نے سپریم کورٹ میں مشترکہ طور پر متعدد درخواستیں بھی دائر کی تھیں، جن میں بینچوں کی تشکیل، روسٹر، اور مقدمات کی منتقلی جیسے معاملات پر اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں بطور ایڈشنل جج تعینات ہونے والے بابر ستار سنہ 1975 میں راولپنڈی میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم اسی شہر سے حاصل کی۔ انھوں نے برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اُنھوں نے بطور وکیل پریکٹس شروع کی۔
بابر ستار کی سنہ 2006 میں ہائی کورٹ کے وکیل کی حیثیت سے انرولمنٹ ہوئی اس کے بعد سنہ 2017 میں ان کی انرولمنٹ بطور سپریم کورٹ کے وکیل کے طور پر ہوئی۔ بابر ستار کو ٹیکس کے معاملات اور کارپوریٹ لا پر عبور حاصل ہے۔
سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کے کیس میں بابر ستار جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی وکلا کی ٹیم میں شامل تھے اور اُنھوں نے ایف بی آر اور ٹیکس قوانین کے بارے میں دلائل بھی دیے تھے۔
اس صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ نے بابر ستار کی تعریف کی تھی۔
بابر ستار مقامی ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے پروگراموں میں بطور مبصر بھی شریک ہوتے رہے ہیں۔
جسٹس محسن اختر کیانی فروری 1970 میں اسلام آباد میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم اسلام آباد ایف جی بوائز ہائی سکول اینڈ کالج سے حاصل کی۔ بعد ازاں انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے وکالت جبکہ کراچی یونیورسٹی سے ایل ایل ایم کی ڈگری حاصل کی۔ قانونی پریکٹس انھوں نے سنہ 1995 سے اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار سے شروع کر دی تھی۔ جبکہ سنہ 2009 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے وکیل بنے۔ جسٹس محسن اختر کیانی 2014-2015 میں اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہے ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ 2011 میں فعال کی گئی تو محسن اختر کیانی دسمبر 2015 میں پہلے جج تھے جو اسلام آباد سے ہی تعینات ہوئے۔
ان کی تعیناتی سے قبل اسلام آباد کی بار ایسوسی ایشن کا یہ مطالبہ رہا تھا کہ اسلام آباد میں فیڈرل ڈومیسائل والا جج بار ایسوسی ایشن سے تعینات ہونا چاہیے۔
ثمن رفعت امتیاز کا تعلق کراچی سے ہے اور وہ سپریم کورٹ کی وکیل بھی ہیں۔ وہ 2004 سے کراچی میں وکالت کر رہی ہیں جبکہ امتیاز لا کے نام سے انھوں نے اپنی لا فرم بھی بنائی ہوئی ہے۔
اے لیولز کے بعد ثمن امتیاز نے دبئی میں امریکن یونیورسٹی سے بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد قانون کی ڈگری رچمنڈ یونیورسٹی ورجینیا سے حاصل کی تھی۔
ثمن امتیاز 2007 سے بطور وکیل ہائی کورٹ وکالت کر رہی ہیں جبکہ 2019 میں وہ سپریم کورٹ کی وکیل کے طور پر بھی رجسٹرڈ ہو گئی تھیں۔
انھوں نے لا جرنل کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ جب وہ دبئی میں بزنس ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کر رہیں تھیں تو اس وقت ان کا ایک کورس بزنس لا بھی تھا جس کو پڑھنے کے بعد انھوں نے سوچا کہ آگے اسی شعبے میں جانا ہے۔
ثمن امتیاز نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ وہ ’بے نظیر بھٹو کو آئیڈلائز کرتی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ وہ تقریباً 12 سال کی تھیں جب بے نظیر بھٹو وزیراعظم بنیں۔ ’ایک خاتون کو اتنے بڑے عہدے پر دیکھنا یقیناً بہت مثبت اور متاثرکن تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
قانونی ماہرین اس فیصلے پر تنقید کیوں کر رہے ہیں؟
اگرچہ حکومت کی طرف سے اس فیصلے کا دفاع کیا گیا ہے تاہم بعض قانونی ماہرین اس فیصلے سے ناخوش ہیں۔
قانونی ماہر بیرسٹر صلاح الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ منتقلی ’بلاوجہ کی گئی اور اس کا مقصد ججز کو سزا دینا ہی تھا۔‘
ان کے مطابق اس سے ’عدلیہ کے انتظامیہ کے ماتحت ہونے‘ کا تاثر ملتا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’جو یہ کہا گیا ہے کہ تبادلے کے بعد نئے ججز کی تعیناتی عمل میں نہیں لائی جائے گی اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ انتظامیہ اب اپنی پسند کے ججز کو ان عدالتوں میں لے کر آئے گی۔‘
جبکہ کالم نگار اور قانونی ماہر بیرسٹر اسد رحیم نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ فیصلے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے ممکن ہوا ہے۔ ان کی رائے میں جس طرح اسلام آباد ہائیکورٹ کے ’جسٹس طارق محمود جہانگیری کو گھر بھیجا گیا اور وفاقی آئینی عدالت کا قیام عمل میں لایا گیا، اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ کیسے اب عدلیہ ایک ایگزیکٹو کے ماتحت ادارے کے سوا کچھ نہیں۔‘
اسد رحیم کا کہنا ہے کہ یہ آئین سازی ’بنیادی تقاضوں کے ہی خلاف ہے کہ عدلیہ کو انتظامیہ کے ہاتھ میں دے دیا جائے۔ یہ اصول سنہ 1954 میں طے ہو چکا تھا کہ عدلیہ کو انتظامیہ سے علیحدہ رکھنا ہے کیونکہ بصورت دیگر اس کا غلط استعمال ہوگا۔‘
بی بی سی نے جب اس فیصلے کے بارے میں قانونی ماہر ایڈووکیٹ اسد جمال سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ایسے ججز جو حکمرانوں کے لیے باعث زحمت بن سکتے ہیں ان کو کنٹرول کرنے کے لیے یہ ترامیم متعارف کرائی گئی ہیں۔‘
اسد جمال کے بقول انھوں نے اس قانون سازی کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں ایک درخواست بھی دائر کر رکھی ہے مگر دو ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک شنوائی ہی نہیں ہو سکی ہے۔
وہ خبردار کرتے ہیں کہ یہ قانون ’ہائیکورٹ کے ججز پر ایک لٹکتی تلوار ہے۔‘
حکومتی ردعمل: ’انتقام کا تاثر غلط ہے‘
تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ تینوں ججز کے ٹرانسفر کو ’انتقام کا تاثر دینا غلط‘ ہے۔
وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک کہتے ہیں کہ ’آئین کے آرٹیکل 200 اور 175 اے کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں اکثریتی ووٹ سے ان چیزوں پر فیصلہ کیا گیا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ جوڈیشل کمیشن میں سپریم کورٹ کے اور آئینی عدالت کے چیف جسٹسز اور پانچ سینیئر ججز ہیں، جبکہ حکومت کے صرف چار لوگ ہیں: وزیرِ قانون، اٹارنی جنرل اور حکومتی بینچر کے دو اراکین۔
’یہ کوئی سزا نہیں ہے، آپ کو پتا ہے بار ایسوسی ایشنز کا بھی یہ مطالبہ رہا ہے کہ ججز کا ٹرانسفر کیا جانا چاہیے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ عدلیہ کی آزادی پر ’کوئی قدغن نہیں، نہ یہ کوئی وار ہے۔‘



























