کیا پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش جیسے بڑی آبادی والے ممالک میں کرکٹ کی مقبولیت فٹبال کی ترقی میں رکاوٹ ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, فرنانڈو دوارتے
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 13 منٹ
پاکستان، انڈیا اور چین دنیا کے دس سب سے بڑی آبادی والے ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ مگر اس وقت جاری دنیا کے سب سے بڑے فٹبال مقابلے میں ان دس بڑے آبادی والے ممالک میں سے آٹھ کی موجودگی کہیں دکھائی نہیں دیتی۔
اسی پہلو کی ایک دلچسپ جھلک 17 جون کو دیکھنے میں آئی، جب شائقین سے کھچا کھچ بھرے ایک سٹیڈیم میں اس وقت زبردست جوش و خروش پھیل گیا جب لیونل میسی نے فیفا ورلڈ کپ 2026 میں اپنا پہلا گول کیا۔
تاہم اس ہجوم میں ایک بھی شخص ایسا نہیں تھا جس کا تعلق ارجنٹینا سے ہو۔
خوشی سے جھومتے اور نعرے لگاتے بیشتر افراد مقامی بنگلہ دیشی شائقین تھے، جن میں سے کئی نے ارجنٹینا کی مشہور سفید اور آسمانی نیلے رنگ کی جرسی پہن رکھی تھی۔ وہ ڈھاکا میں کھلی فضا میں منعقد ہونے والی متعدد واچ پارٹیوں میں میچ کا لطف اٹھا رہے تھے۔
ایسا ہی منظر انڈیا، انڈونیشیا اور پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی دیکھنے کو ملا، جہاں ورلڈ کپ کے میچ عوامی تقریبات کی صورت اختیار کر گئے ہیں۔
میسی اور ان جیسے دیگر بڑے پلیئرز اِن شائقین کے لیے محض غیر ملکی کھلاڑی نہیں، بلکہ اُن بڑے آبادی والے ممالک کی قومی ٹیموں کے متبادل ہیں جو بارہا ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
حیران کن طور پر دنیا کے دس سب سے زیادہ آبادی والے ممالک میں سے صرف دو، امریکہ اور برازیل، موجودہ ورلڈ کپ میں جگہ بنا سکے ہیں۔ روس اور نائجیریا ماضی کے کئی ایڈیشنز میں شریک رہے ہیں، جبکہ چین اور انڈونیشیا صرف ایک، ایک مرتبہ اس ٹورنامنٹ تک پہنچ پائے ہیں۔
دوسری جانب دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک انڈیا کے ساتھ بنگلہ دیش، ایتھوپیا اور پاکستان اب تک ورلڈ کپ میں شرکت کا خواب ہی دیکھ رہے ہیں۔ اگرچہ انڈیا تکنیکی طور پر 1950 کے ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کر چکا تھا، لیکن اس نے ٹورنامنٹ شروع ہونے سے ایک ماہ پہلے ہی اس ایونٹ سے دستبرداری اختیار کر لی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بنگلہ دیش کی معروف اداکارہ، مصنفہ اور فٹبال شائق آدتیہ کریم کہتی ہیں کہ ’یہ بات ناقابلِ فہم ہے کہ لاکھوں پرجوش فٹبال شائقین رکھنے والا ایک ملک اس کھیل میں اتنا پیچھے ہو۔‘
تو آخر ایسا کیوں ہے کہ آبادی کا حجم، جو بظاہر ٹیلنٹ کے ایک وسیع ذخیرے کی ضمانت ہونا چاہیے، فٹبال میں کامیابی کی پیش گوئی کے لیے ایک کمزور پیمانہ ثابت ہوتا ہے؟
کیا آبادی اور رقبہ واقعی اہمیت کے حامل ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
نظریاتی طور پر دیکھا جائے تو جتنی زیادہ کسی ملک کی آبادی ہو، اتنا ہی بڑا ٹیلنٹ پول اس کے پاس موجود ہوتا ہے اور اتنے ہی زیادہ کھلاڑی اعلیٰ سطح تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اب تک ورلڈ کپ جیتنے والے آٹھ ممالک میں سے سات، ارجنٹینا، برازیل، انگلینڈ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور سپین، نسبتاً بڑی آبادیوں کے حامل ممالک ہیں۔ یوراگوئے اس حوالے سے ایک نمایاں استثنا رکھتا ہے، جس پر بعد میں بات کی جا سکتی ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق آبادی محض ایک عنصر ہے، کامیابی کی ضمانت نہیں۔
برطانوی ماہرِ اقتصادیات اور کھیلوں کے محقق سٹیفن شمانسکی کے مطابق، فٹبال کی ترقی کسی حد تک قومی معیشتوں کی ترقی سے مشابہت رکھتی ہے۔ ان کے بقول ’کامیابی کے لیے لوگوں کی ضرورت ضرور ہوتی ہے، لیکن صرف آبادی کافی نہیں ہوتی۔ اس کے ساتھ سرمایہ، ادارے اور بنیادی ڈھانچہ بھی درکار ہوتا ہے۔‘
وہ وضاحت کرتے ہیں کہ فٹبال کے تناظر میں اس کا مطلب معیاری تربیتی مراکز، مضبوط اکیڈمیز، باصلاحیت کھلاڑیوں کی نشاندہی کا مؤثر نظام، تجربہ کار کوچز اور نوجوانوں کی سِکل ڈویلمپمنٹ کے لیے ایک منظم ڈھانچہ ہے۔
سٹیفن شمانسکی یہ بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ کامیاب فٹبال ممالک کی اکثریت ایک اور اہم خصوصیت میں بھی مشترک ہے: یعنی معاشی خوشحالی۔
امیر ممالک عموماً کھیلوں کے میدان، تربیتی سہولیات، کوچنگ پروگرام، پیشہ ور لیگز اور نوجوان کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے پر زیادہ وسائل خرچ کر سکتے ہیں۔ یہی سرمایہ کاری طویل مدت میں قومی ٹیموں کی کامیابی کی بنیاد بنتی ہے۔
اسی لیے محض بڑی آبادی ہونا کافی نہیں۔ اگر آبادی کے ساتھ مضبوط ادارے، سرمایہ کاری، مقابلے کا اعلیٰ معیار اور دیرپا منصوبہ بندی موجود نہ ہو تو کروڑوں افراد پر مشتمل ممالک بھی عالمی فٹبال کے سب سے بڑے سٹیج تک پہنچنے میں مشکلات کا شکار رہ سکتے ہیں۔
دوسری جانب نسبتاً چھوٹے مگر منظم اور خوشحال ممالک محدود آبادی کے باوجود عالمی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کر لیتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اپنی معروف کتاب Soccernomics میں سٹیفن شمانسکی اور ان کے شریک مصنف سائمن کوپر نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بین الاقوامی فٹبال میں بڑی کامیابیاں حاصل کرنے کے لیے عام طور پر ممالک کو فی کس کم از کم 15 ہزار ڈالر سالانہ آمدنی کی سطح تک پہنچنا پڑتا ہے۔
تاہم یہ اصول ہر جگہ یکساں طور پر لاگو نہیں ہوتا۔
برازیل اور ارجنٹینا اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ ان دونوں ممالک میں فی کس اوسط آمدنی طویل عرصے تک اس حد سے کم رہی، لیکن اس کے باوجود وہ مجموعی طور پر آٹھ ورلڈ کپ اپنے نام کر چکے ہیں اور عالمی فٹبال کی طاقتور ترین قوموں میں شمار ہوتے ہیں۔
سٹیفن شمانسکی کے مطابق اس تضاد کی وضاحت ایک تیسرے اور نہایت اہم عنصر سے ہوتی ہے: تجربہ اور تاریخی مہارت۔
ان کے بقول ’فٹبال میں کامیابی صرف آبادی یا دولت کا نتیجہ نہیں ہوتی۔ ایک اور اہم چیز یہ ہے کہ آپ کتنے عرصے سے اعلیٰ سطح پر یہ کھیل کھیل رہے ہیں اور آپ کے پاس کتنی اجتماعی مہارت اور تجربہ موجود ہے۔‘
یہ تجربہ وقت کے ساتھ تشکیل پاتا ہے۔ نسل در نسل منتقل ہونے والی فٹبال ثقافت، مقامی لیگز، کوچنگ روایات، مسابقتی ماحول اور بین الاقوامی مقابلوں میں مسلسل شرکت ایسے عوامل ہیں جو کسی ملک کی فٹبالی شناخت کو مضبوط بناتے ہیں۔
اسی لیے یہ بات قابلِ غور ہے کہ جن ممالک نے اب تک ورلڈ کپ جیتا ہے، ان میں سے بیشتر ایک صدی قبل بھی عالمی فٹبال کی صفِ اول کی ٹیموں میں شمار ہوتے تھے۔ یعنی وہ ایسے ممالک تھے جو نوآبادیاتی دور کے خاتمے سے پہلے ہی اس کھیل میں مضبوط بنیادیں قائم کر چکے تھے اور بین الاقوامی مقابلوں کا وسیع تجربہ رکھتے تھے۔
دوسرے لفظوں میں، عالمی فٹبال میں کامیابی محض آبادی یا دولت کا معاملہ نہیں بلکہ تاریخی برتری، تجربے اور مضبوط فٹبال روایات کا بھی نتیجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی نئے یا کم تجربہ رکھنے والے ممالک، خواہ ان کے پاس بڑی آبادی یا خاطر خواہ وسائل موجود ہوں، اب بھی ان ممالک کے برابر پہنچنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جنھوں نے ایک صدی قبل ہی فٹبال کی مضبوط بنیادیں رکھ دی تھیں۔
تعاقب کا کھیل

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سادہ الفاظ میں کہا جائے تو فٹبال میں وہی ممالک زیادہ کامیاب رہے ہیں جو طویل عرصے سے بین الاقوامی سطح پر کھیلتے آ رہے ہیں اور جنھوں نے اپنی تاریخ میں زیادہ بین الاقوامی میچز کھیلے ہیں۔ خاص طور پر یورپ اور جنوبی امریکہ جیسے انتہائی مسابقتی خطوں میں کھیلنے والی ٹیموں کو مسلسل مضبوط حریفوں کا سامنا رہتا ہے، جس سے ان کی مہارت اور تجربہ بہتر ہوتا جاتا ہے۔
اسی تناظر میں یہ سمجھنا آسان ہو جاتا ہے کہ صرف 35 لاکھ آبادی والا جنوبی امریکی ملک یوراگوئے دو مرتبہ، 1930 اور 1950 میں، فیفا ورلڈ کپ جیتنے میں کیسے کامیاب ہوا۔
یوراگوئے کو بین الاقوامی فٹبال میں ابتدائی برتری حاصل تھی۔ اس کا پہلا بین الاقوامی میچ 1902 میں ارجنٹینا کے خلاف کھیلا گیا تھا، اگرچہ اس میں اسے 6-0 سے شکست ہوئی، لیکن یہ مقابلہ برازیل کے پہلے سرکاری بین الاقوامی میچ سے 12 سال پہلے منعقد ہوا تھا۔
دوسری جانب افریقہ اور جنوبی ایشیا کے بہت سے ممالک نسبتاً بعد میں آزاد ہوئے یا وہاں فٹبال کی منظم ترقی دیر سے شروع ہوئی۔ نتیجتاً انھیں تجربے، انتظامی ڈھانچے اور مسابقتی ماحول کے اعتبار سے اس خلا کو پُر کرنے کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑی۔
تاہم چند قابلِ ذکر مثالیں اس عمومی رجحان سے مختلف بھی ہیں۔
مراکش، جو 1956 میں فرانس اور سپین کی نوآبادیاتی حکمرانی سے آزاد ہوا، سنہ 2022 کے ورلڈ کپ میں سیمی فائنل تک پہنچنے والا پہلا اور اب تک واحد افریقی ملک بن گیا۔ اسی طرح جنوبی کوریا سنہ 2002 کے ورلڈ کپ میں، جس کی وہ مشترکہ میزبانی بھی کر رہا تھا، آخری چار ٹیموں میں جگہ بنانے والا پہلا ایشیائی ملک بنا۔
ماہرِ اقتصادیات اور کھیلوں کے محقق سٹیفن شمانسکی کے مطابق ’لیکن پھر ہم انڈونیشیا، انڈیا اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کو دیکھتے ہیں جو اسی رفتار سے ترقی نہیں کر پا رہے۔‘
ان کے خیال میں ان ممالک کو وسائل، بنیادی ڈھانچے اور فنی صلاحیتوں کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
شمانسکی کا کہنا ہے کہ اگرچہ سرمایہ کاری اہم ہے، لیکن صرف مالی وسائل کافی نہیں ہوتے۔ بین الاقوامی سطح پر کامیابی کے لیے تجربہ، مضبوط فٹبال کلچر، معیاری کوچنگ اور طویل المدتی منصوبہ بندی بھی ناگزیر ہے اور یہی عناصر ان ممالک کی ترقی کی رفتار کو محدود کرتے ہیں۔
ایتھوپیا کی مشکلات

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ایتھوپیا کبھی بھی ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکا۔
اس نے سنہ 1962 میں افریقن کپ آف نیشنز جیتا تھا، لیکن مرکزی ٹورنامنٹ تک پہنچنے کا اس کا بہترین موقع 2014 کے افریقی کوالیفائرز میں آیا، جب وہ آخری مرحلے تک پہنچا لیکن نائجیریا سے شکست کھا گیا۔
اس وقت ایتھوپیا کا فٹبال مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق کھیل میں شدید کم سرمایہ کاری کے مسئلے سے دوچار ہے۔
ایک مثال یہ ہے کہ ملک کی پیشہ ور لیگ کے جاری سیزن کو میچز کی میزبانی کے لیے موزوں سٹیڈیمز کی کمی کا سامنا ہے۔
ایتھوپین پریمیئر لیگ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کیفلے سیفے نے 27 جون کو اخبار دی رپورٹر سے کہا کہ ’اس سیزن میں ہم نے صرف تین منظور شدہ سٹیڈیمز استعمال کرتے ہوئے 380 سے زیادہ میچز منعقد کیے ہیں۔‘
اس کمی نے مردوں کی قومی ٹیم کو بھی متاثر کیا، جسے افریقی کوالیفائرز میں اپنے ہوم میچز مراکش میں کھیلنے پڑے۔
جنوبی ایشیا میں کرکٹ: رکاوٹ یا بہانہ؟

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
کچھ ممالک اپنے دیگر کھیلوں میں کامیابی کے باعث بھی متاثر ہوتے ہیں۔
انڈیا دنیا کی سب سے طاقتور کرکٹ قوموں میں سے ایک ہے اور اس کی پیشہ ور لیگ آئی پی ایل دنیا کی سب سے امیر لیگ ہے۔
سابق انڈین بین الاقوامی کھلاڑی شیام تھاپا کے مطابق اس کے نتیجے میں کھلاڑیوں کی بھرتی میں شدید مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔
ان کے مطابق آئی پی ایل کی کامیابی نے متوسط اور بالائی متوسط طبقے کے والدین کو اپنے بچوں کو فٹبال کے بجائے کرکٹ کی طرف راغب کرنے پر آمادہ کیا ہے۔
شیام تھاپا نے بی بی سی نیوز سے کہا کہ ’انھیں، والدین کو، سمجھنے کی ضرورت ہے کہ فٹبال میں بھی اگر کیریئر بنایا جائے تو اچھی آمدنی ممکن ہے۔‘
تاہم آدتیہ کریم نشاندہی کرتی ہیں کہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جیسے ممالک کرکٹ کی بڑی مضبوط ٹیمیں ہونے کے باوجود فٹبال میں ترقی کر رہے ہیں اور ورلڈ کپ تک پہنچ رہے ہیں۔
وہ بنگلہ دیش کے بارے میں کہتی ہیں کہ ’کرکٹ کی مقبولیت محض ایک بہانہ ہے۔‘
’ہمارے پاس محض وہ تیاری اور ساختی نظام موجود نہیں جو کسی ملک کو (فٹبال) ورلڈ کپ میں پہنچانے کے لیے درکار ہوتا ہے۔‘
کیا چین ایک سویا ہوا دیو ہے؟

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
چین کا معاملہ نسبتاً زیادہ پیچیدہ دکھائی دیتا ہے۔ گذشتہ چند دہائیوں میں وہ اولمپکس کی تاریخ کے کامیاب ترین ممالک میں شمار ہونے لگا ہے، لیکن مردوں کے فٹبال میں اس کی بھاری سرمایہ کاری اور بلند عزائم اب تک کسی نوعیت کی کامیابی میں تبدیل نہیں ہو سکے۔
بیجنگ میں مقیم چینی فٹبال کے ماہر مارک ڈرائر کے مطابق ’نظریاتی طور پر ایسی کوئی وجہ نہیں کہ چین عالمی معیار کے فٹبالرز پیدا نہ کر سکے۔‘
اُن کے خیال میں مسئلہ صلاحیت کی کمی نہیں بلکہ نظامِ کا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’چین میں تقریباً ہر چیز ریاست کے کنٹرول میں ہے اور فیصلے اوپر سے نیچے کی جانب کیے جاتے ہیں۔ فٹبال سے متعلق فیصلے فٹبال کے ماہرین کو کرنے چاہییں، لیکن سیاسی مداخلت حد سے زیادہ ہے۔‘
یہی وجہ ہے کہ چین 2002 کے ورلڈ کپ میں پہلی اور اب تک کی واحد شرکت کے بعد دوبارہ عالمی کپ کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکا۔ حالانکہ 2010 کی دہائی میں حکومت اور نجی شعبے نے فٹبال پر اربوں ڈالر خرچ کیے، جدید تربیتی ڈھانچے قائم کیے گئے، اور معیار بلند کرنے کے لیے یورپ اور جنوبی امریکہ کے متعدد معروف کھلاڑیوں کو چینی سپر لیگ میں لایا گیا۔ اس کے باوجود قومی ٹیم کی کارکردگی میں وہ پیش رفت نظر نہیں آئی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔
کسی حد تک یہی صورتحال انڈونیشیا کی بھی رہی ہے۔ اس نے بھی ورلڈ کپ میں صرف ایک بار شرکت کی، وہ بھی 1938 میں، جب وہ ڈچ ایسٹ انڈیز کے نام سے کھیل رہا تھا اور ابھی نیدرلینڈز کی نوآبادی تھا۔
البتہ 2026 کے ورلڈ کپ کے کوالیفائنگ مرحلے میں جنوب مشرقی ایشیا کی اس ٹیم نے حوصلہ افزا کارکردگی دکھائی اور آخری کوالیفائنگ مرحلے تک رسائی حاصل کی۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کی بڑی وجہ مقامی ٹیلنٹ کی پیداوار نہیں بلکہ یورپ میں پیدا ہونے والے انڈونیشیائی نژاد کھلاڑیوں کی قومی ٹیم میں شمولیت ہے۔
بی بی سی انڈونیشیا کے نیوز ایڈیٹر جیروم ویراوان کے بقول، ’بعض اوقات انڈونیشیا کی ابتدائی الیون میں آٹھ یا نو ایسے کھلاڑی شامل ہوتے تھے جو یورپ میں پیدا ہوئے تھے۔‘
کسی نہ کسی طرح محفل کا لطف اٹھانا
لہٰذا دنیا کے کئی ممالک کے فٹبال شائقین کے لیے ورلڈ کپ میں اپنی قومی ٹیم کو کھیلتے دیکھنے کا خواب ابھی بھی حقیقت سے خاصا دور محسوس ہوتا ہے۔ مضبوط فٹبال روایات، بہتر ڈھانچے اور طویل مدتی منصوبہ بندی رکھنے والے ممالک کے مقابلے میں بہت سی قومیں اب بھی اس سفر کے ابتدائی مرحلے میں ہیں۔
تاہم بنگلہ دیشی فٹبال مداح آدتیہ کریم کے نزدیک اس حقیقت کے باوجود عالمی کپ کی کشش کم نہیں ہوتی۔ وہ کہتی ہیں، ’حالات کو حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھوں تو مجھے اپنی زندگی میں بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ کھیلتے دیکھنے کا کوئی خاص امکان نظر نہیں آتا۔‘
لیکن ان کے مطابق اس سے ٹورنامنٹ کی اہمیت یا اس سے وابستہ جذبات میں کوئی کمی نہیں آتی۔ بنگلہ دیش سمیت ایسے بہت سے ممالک کے شائقین، جن کی ٹیمیں عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل نہیں کر سکیں، پھر بھی ورلڈ کپ کو اسی جوش و خروش سے مناتے ہیں جیسے ان کی اپنی ٹیم میدان میں موجود ہو۔
آدتیہ کریم کہتی ہیں، ’ہم شاید اپنی ٹیم کو ورلڈ کپ میں نہ دیکھ سکیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اس جشن کا حصہ نہیں بن سکتے۔ ہم ہر میچ، ہر ڈرامائی لمحے اور ہر یادگار کہانی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔‘
شاید یہی ورلڈ کپ کی سب سے بڑی طاقت ہے: یہ صرف ان ممالک کا ٹورنامنٹ نہیں جو میدان میں اترتے ہیں، بلکہ ان کروڑوں شائقین کا بھی جشن ہے جو دنیا کے کسی نہ کسی کونے میں بیٹھ کر اس کھیل کے سحر میں کھو جاتے ہیں۔

























