’یہ چڑیاں نہیں، میری بیٹیاں ہیں‘: وہ خاتون جنھوں نے سینکڑوں چڑیوں کو اپنے گھر میں پناہ دی

ہرپریت کور
،تصویر کا کیپشنہرپریت کور نے اپنے گھر میں سینکڑوں چڑیوں کے لیے لکڑی اور مٹی کے بنے گھونسلے نصب کر رکھے ہیں۔
    • مصنف, نوجوت کور
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

’یہ چڑیاں نہیں، میری بیٹیاں ہیں۔ میں اپنے سارے دکھ ان سے بانٹتی ہوں۔ یہ مجھے کبھی تنہا محسوس نہیں ہونے دیتیں۔‘

یہ کہنا ہے انڈیا کی ریاست پنجاب کے ضلع موگا کے گاؤں ندھان والا کی رہائشی ہرپریت کور کا جنھوں نے اپنے گھر میں سینکڑوں چڑیوں کے لیے لکڑی اور مٹی کے بنے گھونسلے نصب کر رکھے ہیں۔

ان گھونسلوں میں چڑیاں تنکوں اور گھاس کی مدد سے خود اپنے گھر بناتی ہیں۔ گھر کے مختلف حصوں میں لگے سبز، سرخ اور پیلے رنگ کے گھونسلوں میں چڑیاں مسلسل آتی جاتی رہتی ہیں اور پورا گھر ہر وقت ان کی چہچہاہٹ سے گونجتا رہتا ہے۔

ہرپریت کور کہتی ہیں کہ ’صبح چار بجے سے چڑیوں کی چہچہاہٹ شروع ہو جاتی ہے اور سارا دن یہ اسی گھر میں رہتی ہیں۔ میں انھیں وقت پر دانہ اور پانی دیتی رہتی ہوں۔‘

13 سال پہلے چڑیوں کی دیکھ بھال کا آغاز

ہرپریت کور
،تصویر کا کیپشنہرپریت کور کہتی ہیں کہ بیماری کے دنوں میں یہ چڑیاں ان کے لیے زندگی کا سہارا اور جینے کا مقصد بن گئیں۔

ہرپریت کور کا کہنا ہے کہ وہ 2013 سے اپنے گھر میں چڑیوں کے لیے گھونسلے لگا رہی ہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ ابتدا میں انھوں نے چڑیوں کے لیے گتے کا ایک چھوٹا سا گھر بنایا تھا۔

’جب ہم نے اپنا پکا گھر تعمیر کیا تو دروازے میں موجود چڑیوں کا ایک گھونسلہ ٹوٹ گیا۔ میری آنکھوں کے سامنے چڑیوں کا ایک جوڑا بے گھر ہو گیا تھا۔ اسی وقت میں نے ان کے لیے گتے سے ایک گھر بنایا، جہاں وہ دوبارہ رہنے لگیں۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ اس زمانے میں وہ بیماری کے باعث زیادہ تر بستر پر رہتی تھیں۔

’بیماری کی وجہ سے میں پریشان رہتی تھی، لیکن چڑیوں کو دیکھ کر مجھے خوشی ملتی تھی۔ اسی لیے میں نے آہستہ آہستہ ان کے لیے مٹی کے گھونسلے بنانا شروع کیے۔‘

انھوں نے گھر میں موجود مٹی کے گملوں کو بھی گھونسلوں میں تبدیل کر دیا، اور وقت گزرنے کے ساتھ چڑیوں کی تعداد بڑھتی گئی۔

ہرپریت کور کہتی ہیں کہ بیماری کے دنوں میں یہ چڑیاں ان کے لیے زندگی کا سہارا اور جینے کا مقصد بن گئیں۔

؛کڑی کے گھونسلوں میں بسے سینکڑوں مستقل مہمان

ہرپریت کا کہنا ہے کہ وہ ہر سال چڑیوں کے لیے نئے آشیانے بناتی تھیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’میں نے 2022 میں پرندوں کے شوقین بیانت سنگھ ڈھولا سے رابطہ کیا جنھوں نے مجھے لکڑی کے مضبوط گھونسلے بنا کر دیے۔‘

اب ہرپریت کے گھر میں بیانت سنگھ ڈھولا کے بنائے گھونسلے نصب ہیں جن میں سینکڑوں چڑیاں مستقل طور پر رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں۔

چڑیوں کو بلانے کے لیے ہرپریت ایک منفرد طریقہ بھی استعمال کرتی ہیں۔ جیسے ہی وہ سیٹی بجاتی ہیں، چڑیاں کھانے کے لیے ان کے پاس آ جاتی ہیں۔

ان کے بقول یہ چڑیاں ان کی سیٹی کی آواز پہچانتی ہیں اور جان جاتی ہیں کہ اب انھیں کچھ کھانے کو ملنے والا ہے۔

ہرپریت نے نہ صرف اپنے گھر کے علاوہ گاؤں کے مختلف مقامات پر بھی چڑیوں کے لیے گھونسلے نصب کر رکھے ہیں۔

’یہ چڑیاں میری تنہائی کی ساتھی ہیں‘

ہرپریت کور ان چڑیوں کو اپنی بیٹیوں کی طرح سمجھتی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنہرپریت کور ان چڑیوں کو اپنی بیٹیوں کی طرح سمجھتی ہیں۔

ہرپریت کور ان چڑیوں کو اپنی بیٹیوں کی طرح سمجھتی ہیں۔

ان کا ایک بیٹا ہے اور وہ کہتی ہیں کہ جب کبھی انھیں بیٹی کی کمی محسوس ہوتی ہے تو یہ چڑیاں اس احساس کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں اپنے تمام دکھ درد ان سے بانٹتی ہوں۔ میرے مشکل وقت میں یہ میرے ساتھ تھیں۔ انسانوں سے ہر بات کرنا آسان نہیں ہوتا، لیکن ان چڑیوں سے دل کی بات کر کے میرا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔ یہ صرف پرندے نہیں، میرا خاندان ہیں۔‘

ہرپریت بتاتی ہیں کہ صحت کے مسائل کی وجہ سے انھیں کئی مرتبہ آپریشن کروانے پڑے۔ ان دنوں میں گھر میں موجود یہی چڑیاں ان کی تنہائی کی ساتھی تھیں۔

اگر کوئی چڑیا یا اس کا بچہ بیمار ہو جائے تو وہ خود دوا لگاتی ہیں اور کھانا کھلاتی ہیں۔ نومولود بچوں کو ضرورت پڑنے پر سرنج کی مدد سے خوراک بھی دیتی ہیں۔

ہرپریت کا دعویٰ ہے کہ چڑیا کے ان ہاتھ پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔

انڈیا میں تیزی سے کم ہوتی چڑیوں کی تعداد

چڑیا
،تصویر کا کیپشنانڈیا کی وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق چڑیوں کی تعداد تشویش ناک رفتار سے کم ہو رہی ہے۔
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

انڈیا کی وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق چڑیوں کی تعداد تشویش ناک رفتار سے کم ہو رہی ہے۔

ماہرین اس کے کئی اسباب بتاتے ہیں، جن میں:

  • تیزی سے بڑھتی شہری آبادی
  • جدید عمارتوں میں گھونسلے بنانے کی جگہوں کی کمی
  • زرعی ادویات اور کیڑے مار زہروں کا استعمال
  • خوراک فراہم کرنے والے کیڑوں کی تعداد میں کمی
  • درختوں، باغات اور کھلی جگہوں کا ختم ہونا
  • شکاری پرندوں، کوؤں اور بلیوں کی بڑھتی تعداد

انڈیا کی وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے شیئر کی گئی معلومات کے مطابق عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ گھریلو چڑیا کی اصل جائے پیدائش بحیرۂ روم کا خطہ تھا۔ انسانی تہذیب کے پھیلاؤ کے ساتھ یہ یورپ تک پہنچی اور بعد ازاں امریکہ، آسٹریلیا اور افریقہ تک پھیل گئی۔

گھریلو چڑیا بیج، اناج، کیڑے مکوڑے اور انسانی خوراک کے بچے ہوئے ذرات کھاتی ہے۔ یہ عموماً 14 سے 16 سینٹی میٹر کی ہوتی ہیں اور یہ زیادہ تر گھروں، باغات اور انسانی آبادیوں کے قریب رہنا پسند کرتی ہیں۔

انڈین کرینز اینڈ ویٹ لینڈز ورکنگ گروپ کے کے ایس گوپی سندر کے مطابق پچھلے چند برسوں میں گھریلو چڑیوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے اگرچہ اس حوالے سے بڑے پیمانے پر کی جانے والی تحقیق محدود ہے۔

کوئمبتور کے سلیم علی سینٹر فار آرنیتھالوجی اینڈ نیچرل ہسٹری کے ڈاکٹر وی ایس وجین کے مطابق چڑیاں اب بھی دنیا کے کئی علاقوں میں موجود ہیں، لیکن ان کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے کیونکہ بدلتے طرزِ زندگی اور جدید تعمیرات نے ان کے قدرتی مسکن اور خوراک کے ذرائع کو متاثر کیا ہے۔

صاف پانی اور مناسب خوراک کی ضرورت

چڑیا

انڈین حکومت کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چڑیوں کی تعداد میں کمی کی ایک وجہ زرعی شعبے میں استعمال کے جانے والے کمیکلز ہیں جن سے چڑیوں کے خوراک کے ذرائع پر اثر پڑ رہا ہے۔ ہرپریت کور بھی اس سے نتفق دکھائی دیتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ چڑیوں کو بچانے کے لیے صاف پانی اور مناسب خوراک انتہائی ضروری ہے۔

’میں ہر دو سے تین گھنٹے بعد چڑیوں کا پانی تبدیل کرتی ہوں۔ گرمی میں اگر پانی گرم ہو جائے تو ٹھنڈا پانی رکھ دیتی ہوں تاکہ انھیں راحت مل سکے۔‘

کھانے کے لیے وہ باجرہ، باسمتی چاول، کنگنی اور دیگر اناج صاف کر کے چڑیوں کو دیتی ہیں۔

ان کے مطابق چڑیوں کے بچوں کی ابتدائی خوراک زیادہ تر کیڑے مکوڑے ہوتے ہیں، لیکن زرعی ادویات کے استعمال سے یہ کیڑے تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اب کھیتوں میں وہ سبز سنڈیاں اور کیڑے نہیں رہے جو چڑیوں کے بچوں کی خوراک تھے۔ یہاں تک کہ کئی جگہوں پر پانی بھی آلودہ ہو چکا ہے۔‘

ہرپریت کا کہنا ہے کہ وہ گھریلو چڑیوں کو بچانے کے لیے اپنے طور پر ایک چھوٹی سی کوشش کر رہی ہیں۔

’اگر دوسری خواتین بھی اپنے گھروں میں چڑیوں کے لیے رہنے، کھانے اور پانی کا انتظام کریں تو یقیناً گھریلو چڑیا کو معدوم ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔‘