’کوہِ کلنگ‘: ٹرمپ کی نظر ایران کے اس پراسرار پہاڑ پر کیوں ہے؟

یہ سیٹلائٹ تصویر 21 جون 2026 کو کلنگ پہاڑ کی سرنگوں کے ایک داخلی راستے کے قریب گاڑیاں دکھاتی ہے

،تصویر کا ذریعہVantor/Handout via REUTERS

،تصویر کا کیپشن21 جون 2026 کی سیٹلائٹ تصویر جس میں کلنگ پہاڑ کی سرنگوں کے ایک داخلی راستے کے قریب گاڑیاں دکھائی دے رہی ہیں
    • مصنف, رضا ثابتی
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 11 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی حالیہ دھمکیوں میں ایک ایسے مقام کا ذکر کیا ہے جو دیگر جوہری تنصیبات کے مقابلے میں نسبتاً کم معروف ہے: کوہِ کلنگ۔

یہ ایک زیرِ زمین کمپلیکس ہے جو نطنز کی جوہری تنصیبات کے قریب واقع ہے۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ اس مرکز پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ انھوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ ایک ’بڑے حملے‘ کا ہدف بن سکتا ہے۔

امریکی حکام نے وال سٹریٹ جرنل کو بتایا ہے کہ اس کمپلیکس پر حملہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے ممکنہ آپشنز میں شامل ہے۔

تاہم یہ واضح نہیں کہ کسی ممکنہ حملے کی صورت میں اصل ہدف کیا ہو گا۔

ایران کا مؤقف ہے کہ اس کمپلیکس کو نطنز میں واقع جدید سینٹری فیوج اسمبلی مرکز کے متبادل کے طور پر تعمیر کیا گیا، جو 2020 میں ایک مبینہ تخریب کاری کے واقعے میں نقصان کا شکار ہوا تھا۔

تاہم سرنگوں کی غیر معمولی گہرائی، کمپلیکس کے ممکنہ حجم اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے معائنہ کاروں کو رسائی نہ ملنے کے باعث یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں کہ کوہِ کلنگ میں صرف سینٹری فیوج اسمبلی ہی نہیں بلکہ اس سے ہٹ کر دیگر سرگرمیاں بھی انجام دی جا سکتی ہیں۔

دوسری جانب ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کے مستقبل سے متعلق حساس سوال میں بھی اس کمپلیکس کا نام سامنے آیا ہے۔

گذشتہ موسمِ گرما میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے نطنز، فردو اور اصفہان میں حملوں کے بعد سے ایران کے 60 فیصد افزودہ یورینیم کے ذخائر کے مقام اور حالت کے بارے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

مغربی حکام اور تجزیہ کار اس امکان کا جائزہ لیتے رہے ہیں کہ شاید حساس مواد یا بعض آلات حملوں سے پہلے یا بعد میں نئی زیرِ زمین تنصیبات میں منتقل کیے گئے ہوں۔

ان ممکنہ مقامات میں کوہِ کلنگ کا نام بھی لیا جاتا ہے، تاہم اس بات کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں کہ یورینیم یا متعلقہ مواد کو اس مقام پر منتقل کیا گیا ہو۔

ماہرین کے مطابق اس کمپلیکس کی اہمیت اس کے محلِ وقوع، گہرائی، محدود معلومات اور اس ممکنہ صلاحیت کی وجہ سے ہے جو یہ مستقبل میں ایران کے جوہری پروگرام کو فراہم کر سکتا ہے۔

کلنگ پہاڑ کہاں ہے اور اسے کیوں بنایا گیا؟

نطنز تنصیبات کا سیٹلائٹ نقشہ
،تصویر کا کیپشننطنز تنصیبات کا سیٹلائٹ نقشہ جس کی باڑ سفید نقطہ دار لائن سے ظاہر کی گئی ہے
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

کلنگ پہاڑ، یا کلنگ گزلا پہاڑ، صوبہ اصفہان میں نطنز جوہری کمپلیکس سے تقریباً دو کلومیٹر جنوب اور تہران سے 220 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔

کوہ کلنگ، جسے مغربی ذرائع ابلاغ میں پکیکس ماؤنٹین بھی کہا جاتا ہے، تقریباً 1608 میٹر بلند ہے۔

اس نسبتاً نئے زیرِ زمین کمپلیکس کی تعمیر دو جولائی 2020 کو نطنز کے جدید سینٹری فیوج اسمبلی مرکز میں ہونے والے دھماکے کے بعد شروع ہوئی۔

ایرانی حکام نے نطنز کے واقعے کو ’تخریب کاری‘ قرار دیا تھا، جبکہ مختلف رپورٹس میں اس کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا گیا، اگرچہ اسرائیل نے باضابطہ طور پر اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

چند ماہ بعد ایران کے اُس وقت کے سربراہِ جوہری توانائی ادارہ، علی اکبر صالحی، نے اعلان کیا کہ ایران نطنز کے قریب ایک پہاڑ کے اندر ’زیادہ جدید، بڑا اور جامع‘ متبادل مرکز تعمیر کرے گا۔

یہ منصوبہ پہلی بار 2020 کے موسمِ خزاں میں سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے نمایاں ہوا، جن میں زمین کی تیاری، سڑکوں کی تعمیر اور معاون تنصیبات پر ابتدائی کام دکھائی دیا۔

سنہ 2021 سے کھدائی کا کام تیزی سے آگے بڑھا اور سرنگوں کے دہانے، نیز پہاڑ سے نکالی گئی مٹی اور پتھروں کے ڈھیر، زیادہ واضح ہونے لگے۔ سیٹلائٹ تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ پہاڑ کے مشرقی اور مغربی جانب دو، دو داخلی دہانے موجود ہیں، جبکہ جنوبی حصے میں ایک اضافی راستہ یا داخلی مقام بھی دکھائی دیتا ہے۔

تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا یہ تمام سرنگیں ایک ہی مرکزی حصے سے منسلک ہیں یا الگ الگ حصوں پر مشتمل ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سکیورٹی کے مطابق مشرقی داخلی دہانوں اور پہاڑی خطِ الرأس کے درمیان بلندی کا فرق تقریباً 145 میٹر ہے، جبکہ مغربی دہانوں اور چوٹی کے درمیان یہ فرق تقریباً 100 میٹر بنتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ فرق زیرِ زمین متعدد سطحوں کی موجودگی کا اشارہ ہو سکتا ہے۔ تاہم اندرونی نقشوں یا براہِ راست رسائی کے بغیر سرنگوں اور ہالوں کی حقیقی گہرائی کا تعین ممکن نہیں۔

ادارے کے 2022 کے اندازوں کے مطابق اگر خطِ الرأس کے نیچے صرف ایک مرکزی ہال بھی تعمیر کیا گیا ہو تو اس کا قابلِ استعمال رقبہ پانچ ہزار مربع میٹر سے زیادہ ہو سکتا ہے، جو نطنز کے تباہ شدہ سینٹری فیوج اسمبلی مرکز سے بڑا ہوگا۔

یہ اندازے پہاڑ کی ساخت، سرنگوں کی ممکنہ لمبائی اور کھدائی کے حجم کی بنیاد پر لگائے گئے ہیں، نہ کہ اندرونی حصے کے براہِ راست مشاہدے کی بنیاد پر۔

سنہ 2024 میں مشرقی ڈھلوان پر ایسی سرگرمیاں دیکھی گئیں جنھیں تجزیہ کاروں نے ممکنہ طور پر ہواداری کی نالیوں، بجلی کی ترسیل یا کیبل بچھانے کے نظام سے جوڑا۔

کسی گہری زیرِ زمین صنعتی تنصیب، خصوصاً اگر اس میں سینٹری فیوج نصب ہوں، کو مستحکم بجلی، درجہ حرارت کے مؤثر کنٹرول، مناسب ہواداری اور ہنگامی اخراج کے راستوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

تاہم سطح پر نظر آنے والے ڈھانچوں کے اصل مقصد یا استعمال کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

سنہ 2025 میں کمپلیکس کے حفاظتی انتظامات میں مزید توسیع کی گئی۔

سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے مطابق 12 روزہ جنگ کے بعد جون سے ستمبر 2025 کے دوران تقریباً پورے کمپلیکس کے گرد حفاظتی دیوار تعمیر کی گئی، جبکہ مشرقی، مغربی اور جنوبی داخلی راستوں پر بھی تعمیراتی سرگرمیاں جاری رہیں۔

ادارے نے نتیجہ اخذ کیا کہ جون کے حملوں کے بعد ایران نے اس مقام تک رسائی پر کنٹرول مزید سخت کر دیا۔

اسی دوران ایران نے مختلف مراحل میں داخلی راستوں کی مضبوطی میں اضافہ کیا۔

سنہ 2025 کے موسمِ گرما میں مشرقی داخلی راستوں میں سے ایک کے حفاظتی حصے کو مٹی اور پتھروں سے ڈھانپ دیا گیا، جبکہ اپریل 2026 کی سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوا کہ دونوں مشرقی داخلی راستوں پر بھی جزوی طور پر مٹی ڈالی گئی تھی۔

ادارے کے مطابق غالب امکان ہے کہ یہ اقدام گاڑیوں کی آمد و رفت محدود کرنے کے لیے کیا گیا، تاہم داخلی راستوں کو مکمل طور پر بند نہیں کیا گیا۔

9 جولائی 2026 کی سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی داخلی راستے بدستور کھلے تھے اور وہاں رسائی ممکن تھی۔

ادارے کی تازہ ترین تشخیص کے مطابق یہ کمپلیکس ابھی مکمل طور پر فعال دکھائی نہیں دیتا اور اس کی تعمیر اور تکمیلی کام بدستور جاری ہیں۔

کلنگ پہاڑ کے اندر کیا ہو رہا ہے؟

سرکاری سطح پر ایران کا مؤقف وہی ہے جس کا وہ پہلے ہی اعلان کر چکا ہے: جدید سینٹری فیوجز کی تیاری اور اسمبلی۔ منصوبے کے آغاز کا وقت، اس کا محلِ وقوع اور اس وقت کے سربراہِ جوہری توانائی ادارہ علی اکبر صالحی کے بیانات اس مؤقف کی تائید کرتے ہیں۔

اس تناظر میں سینٹری فیوج اسمبلی کی سرگرمیوں کو زمینی تنصیبات سے منتقل کر کے پہاڑ کے اندر گہرائی میں قائم کرنا نطنز میں تخریب کاری اور ممکنہ فضائی حملوں کے خطرات کے مقابلے میں ایک منطقی حفاظتی اقدام دکھائی دیتا ہے۔

تاہم کمپلیکس کے ممکنہ حجم اور ساخت نے ماہرین کو اس کے دیگر ممکنہ استعمالات پر بھی غور کرنے پر مجبور کیا ہے۔

ایک ممکنہ منظرنامہ یہ ہے کہ یہاں جدید سینٹری فیوجز پر مشتمل ایک محدود افزودگی یونٹ قائم کیا جائے۔

نئی نسل کے سینٹری فیوجز زیادہ علیحدگی (سیپریشن) کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس کے باعث ان کی نسبتاً کم تعداد بھی محدود جگہ میں زیادہ افزودہ یورینیم کی قابلِ ذکر مقدار تیار کر سکتی ہے۔

انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سکیورٹی کے مطابق پہاڑ کے اندر تخمینہ شدہ دستیاب جگہ ایسے یونٹ کے قیام کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔ تاہم اب تک ایسی کوئی مصدقہ شہادت سامنے نہیں آئی جس سے یہ ثابت ہو کہ وہاں سینٹری فیوج آبشاریں نصب کی جا چکی ہیں۔

کلنگ پہاڑ کی سرنگوں کے داخلی راستوں کا سیٹلائٹ منظر، جو نطنز جوہری کمپلیکس سے تین کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر ہیں
،تصویر کا کیپشنکلنگ پہاڑ کی سرنگوں کے داخلی راستوں کا سیٹلائٹ منظر، جو نطنز جوہری کمپلیکس سے تین کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر ہیں

ایک اور منظرنامہ سینٹری فیوج پرزوں، حساس آلات یا ایندھن کے چکر سے متعلق مواد کے ذخیرے کا ہے۔ ایک گہرا کمپلیکس نایاب پرزوں، مکمل شدہ سینٹری فیوجز یا پیمائشی آلات کو حملوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔

ادارے نے یہاں تک امکان ظاہر کیا ہے کہ جگہ کے کچھ حصے کو یورینیم دھات سے متعلق سرگرمیوں کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جو جوہری ہتھیار کے اجزا کی تیاری کے عمل میں اہم مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔

تاہم یہ تجزیہ مقام کی فنی صلاحیت سے متعلق ہے، اور وہاں ایسی سرگرمیوں کے انجام پانے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔

ماہرین کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر میں ری ایکٹر کی تعمیر سے وابستہ سطحی علامات، جیسے کولنگ ٹاور، استعمال شدہ ایندھن کے تالاب یا بڑے آبی ترسیلی نظام، دکھائی نہیں دیتے۔

اسی لیے قیاس آرائیاں زیادہ تر سینٹری فیوجز، افزودگی، آلات کے ذخیرے اور ایندھن سے متعلق سرگرمیوں پر مرکوز ہیں، نہ کہ کسی ری ایکٹر کی تعمیر پر۔

کلنگ پہاڑ کی تنصیبات کے حقیقی استعمال کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں بنیادی رکاوٹ یہ ہے کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کو ابھی تک اس کمپلیکس تک رسائی نہیں ملی اور ایران نے اس کے ڈیزائن کی معلومات فراہم نہیں کیں۔

ایجنسی کے سربراہ رافائل گروسی نے مارچ میں کہا تھا کہ چونکہ ایران نے اس کمپلیکس کے ممکنہ جوہری استعمال کا ذکر کیا ہے، اس لیے ایجنسی کے معائنہ کاروں کو وہاں رسائی ملنی چاہیے۔

تاہم ایران کا کہنا ہے کہ جب تک کسی مرکز میں جوہری مواد داخل نہ ہو جائے، اسے لازماً حفاظتی نگرانی کے تحت جوہری تنصیب شمار نہیں کیا جا سکتا۔

ایجنسی اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتی اور کہتی ہے کہ ’ترمیم شدہ کوڈ 3.1‘ کے مطابق تعمیر کا فیصلہ ہوتے ہی ڈیزائن کی معلومات فراہم کی جانی چاہئیں۔

کیا ایران کا 60 فیصد افزودہ یورینیم کلنگ پہاڑ میں موجود ہے؟

ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کا چارٹ
،تصویر کا کیپشنایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کا چارٹ

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے تازہ ترین تخمینے کے مطابق 13 جون 2025 تک، یعنی اس روز جب اسرائیل نے 12 روزہ جنگ کے دوران اپنے حملوں کا آغاز کیا، ایران کے پاس 60 فیصد تک افزودہ 440.9 کلوگرام یورینیم موجود تھا۔

افزودگی کی یہ سطح ہتھیار سازی کے لیے درکار 90 فیصد درجے سے کم ہے، تاہم تکنیکی اعتبار سے اسے جوہری ہتھیاروں کے معیار تک پہنچانے کے لیے نسبتاً محدود اضافی افزودگی درکار ہوتی ہے۔ البتہ جوہری ہتھیار کی تیاری صرف افزودہ یورینیم پر منحصر نہیں ہوتی اور اس کے لیے اضافی تکنیکی، صنعتی اور انجینیئرنگ مراحل بھی درکار ہوتے ہیں۔

سنہ 2025 کے حملوں سے قبل ایجنسی جانتی تھی کہ ایران کا زیادہ تر 60 فیصد افزودہ یورینیم فردو اور نطنز کی تنصیبات میں تیار کیا جاتا تھا، تاہم ضروری نہیں تھا کہ یہ تمام مواد انہی مقامات پر ذخیرہ بھی کیا جاتا ہو۔

12 روزہ جنگ سے پہلے ایجنسی اصفہان کی جوہری تنصیبات کو جوہری مواد کے اہم ذخیرہ مراکز میں شمار کرتی تھی اور ان کی خصوصی نگرانی کی جاتی تھی۔ تاہم حملوں اور معائنہ کاروں کی رسائی منقطع ہونے کے بعد ان ذخائر کے ایک حصے کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی۔

ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی نے رواں سال کہا تھا کہ ادارے کا اندازہ ہے کہ ایران کے 60 فیصد افزودہ یورینیم میں سے 200 کلوگرام سے زیادہ ممکنہ طور پر اب بھی اصفہان کے زیرِ زمین کمپلیکس میں موجود ہے، اگرچہ رسائی نہ ہونے کے باعث اس تخمینے کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں رہی۔

اسی دوران اپنی غیر معمولی گہرائی، مضبوط حفاظتی انتظامات، فضائی حملوں کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ مزاحمت اور بین الاقوامی معائنہ کاروں کی عدم رسائی کے سبب کلنگ پہاڑ بھی ان مقامات میں شامل ہو گیا جن کے بارے میں ایران کے جوہری مواد اور حساس آلات کے ممکنہ مقام سے متعلق قیاس آرائیاں سامنے آئیں۔

تاہم نہ تو ایجنسی کی کسی سرکاری رپورٹ، نہ کسی شائع شدہ انٹیلی جنس دستاویز اور نہ ہی کسی قابلِ تصدیق تصویر سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ایران نے اپنا 60 فیصد افزودہ یورینیم کلنگ پہاڑ منتقل کیا ہے۔

سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے مطابق مستقبل میں اس کمپلیکس کو حساس جوہری مواد یا اہم آلات کی محفوظ ذخیرہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے فی الحال کوئی عوامی ثبوت موجود نہیں۔

کیا امریکہ اسے تباہ کر سکتا ہے؟

امریکی فضائیہ کا بی-2 بمبار طیارہ

،تصویر کا ذریعہU.S. Air Force/Staff Sgt. Joshua Hastings/Handout via REUTERS

،تصویر کا کیپشنامریکی فضائیہ کا بی-ٹو بمبار طیارہ۔ جون 2025 میں ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کی کارروائی میں اس طیارے کو استعمال کیا گیا تھا

کلنگ پہاڑ کی گہرائی اسے زمینی عمارتوں یا نسبتاً کم گہرائی میں قائم زیرِ زمین تنصیبات کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہدف بناتی ہے۔

امریکہ ماضی میں جی بی یو-57 بنکر شکن بم استعمال کر چکا ہے۔ یہ تقریباً 13.6 ٹن وزنی ہتھیار ہے، جسے دھماکے سے قبل مٹی، چٹان اور مضبوط کنکریٹ کی متعدد تہوں میں نفوذ کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

تاہم کسی ایسے حملے کی کامیابی متعدد عوامل پر منحصر ہوتی ہے، جن میں چٹان کی ساخت، ہدف کی حقیقی گہرائی، بم کے ضربی زاویے اور زیرِ زمین تنصیب کی اندرونی ترتیب کے بارے میں دستیاب معلومات شامل ہیں۔

مثال کے طور پر فردو تنصیب کے بارے میں امریکہ اور اسرائیل نے برسوں کے دوران سرنگوں، داخلی راستوں، ہواداری کے نظام اور زیرِ زمین ہالوں سے متعلق تفصیلی معلومات جمع کی تھیں۔ اس کے برعکس کلنگ پہاڑ کے اندرونی ڈھانچے کے بارے میں عوامی سطح پر بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔

میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے وابستہ جوہری امور کے محقق اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی میں امریکہ کے سابق سفارت کار میتھیو بن نے وال سٹریٹ جرنل کو بتایا کہ امریکہ کلنگ پہاڑ پر حملے سے وہی نتائج حاصل ہونے کی توقع نہیں کر سکتا جو فردو کے معاملے میں ممکن سمجھے جاتے تھے، کیونکہ یہ کمپلیکس زیادہ گہرا ہے اور اس کے اندرونی نقشے کے بارے میں معلومات محدود ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گہری زیرِ زمین تنصیبات میں سرنگوں کے دہانے، رسائی کے راستے، بجلی کی فراہمی اور ہواداری کے نظام عموماً مرکزی زیرِ زمین حصوں کے مقابلے میں زیادہ کمزور ثابت ہوتے ہیں۔

اسی لیے کسی حملے کا مقصد ضروری نہیں کہ زیرِ زمین ہالوں کو براہِ راست تباہ کرنا ہو۔ ایسی کارروائی داخلی راستوں اور معاون انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا کر تنصیب کی سرگرمیوں میں خلل بھی ڈال سکتی ہے، خواہ زیادہ گہرے حصے محفوظ رہ جائیں۔

اگر کلنگ پہاڑ کے گہرے حصوں میں جوہری مواد یا حساس آلات محفوظ ہوں تو فی الحال یہ واضح نہیں کہ فضائی حملہ انھیں مکمل طور پر تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔

مزید برآں، سیٹلائٹ تصاویر اب بھی اس کمپلیکس کو زیرِ تعمیر ظاہر کرتی ہیں۔ اس وجہ سے بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک ممکنہ حملے کا ہدف اس کی موجودہ صلاحیت کے بجائے وہ ممکنہ کردار ہو سکتا ہے جو یہ مستقبل میں ایران کے جوہری پروگرام میں ادا کر سکتا ہے۔

ممکنہ طور پر یہی وجہ ہے کہ امریکی بیانات میں کلنگ پہاڑ کا نام نمایاں طور پر سامنے آیا ہے۔

اگرچہ اس بات کے شواہد موجود نہیں کہ یہ کمپلیکس اس وقت مکمل طور پر فعال افزودگی مرکز کے طور پر کام کر رہا ہے، لیکن اس کی غیر معمولی گہرائی، نسبتاً مضبوط حفاظتی انتظامات اور ایران کے جوہری پروگرام کی مستقبل میں معاونت کی ممکنہ صلاحیت نے اسے امریکی اور مغربی حکام کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔