’ہم انھیں اکیلا چھوڑ کر نہیں آ سکتے تھے:‘ ’مِنی کے ٹو‘ سر کرنے والے پاکستانی کوہ پیماؤں کی کامیابی جو غم میں بدل گئی

،تصویر کا ذریعہMuhammad Abbas
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
10 جولائی کو صوبہ خیبر پختونخوا کے سیاحتی ضلع سوات کے بلند ترین پہاڑ ’فلک سر‘ کی چوٹی پر پہنچ کر چھ پاکستانی کوہ پیما اپنی کامیابی کا جشن منا رہے تھے۔ لیکن اُنھیں معلوم نہیں تھا کہ کچھ دیر بعد ہی ان کی یہ خوشی غم میں تبدیل ہونے والی ہے۔
پانچ ہزار 918 میٹر بلند اس چوٹی کو کوہ پیما غیر رسمی طور پر ’منی کے ٹو‘ جبکہ مقامی لوگ اسے ’کے ٹو‘ کہتے ہیں۔
ان چھ کوہ پیماؤں میں دو کا تعلق راولپنڈی سے تھا جن میں محمد ہارون اور حارث ظفر شامل تھے، تین کا تعلق سوات سے تھا جن میں محمد رحیم، سید علی شاہ میاں اور عبدالستار شامل تھے۔ ٹیم کے گروپ لیڈر محمد عباس کا تعلق مردان سے تھا۔
اس مہم کے گروپ لیڈر محمد عباس تھے جبکہ تکنیکی معاونت سوات کے علاقے خوازہ خیلہ سے تعلق رکھنے والے سید علی شاہ میاں کر رہے تھے۔
گیارہ جولائی کو واپسی کا سفر شروع ہوا۔ چوٹی کی طرف جاتے ہوئے سب سے آگے سید علی شاہ میاں تھے، لیکن واپسی کے دوران وہ سب سے پیچھے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ اب انھیں راستے میں لگائی گئی رسیاں اتارنی تھیں اور اپنے ساتھیوں کو ایک ایک کر کے محفوظ انداز میں نیچے اترنے میں مدد دینی تھی۔
ٹیم تقریباً پانچ ہزار 600 میٹر کی بلندی پر تھی کہ اچانک ایک آواز گونجی۔ ساتھیوں نے پلٹ کر دیکھا تو سید علی شاہ میاں ان کے سروں کے اوپر سے پھسلتے ہوئے تقریباً 70 سے 80 ڈگری کی ڈھلوان پر نیچے جا رہے تھے۔
چند لمحوں کے لیے سب کچھ جیسے تھم سا گیا۔ ساتھی کوہ پیماؤں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے لیڈر کو اس حالت میں چھوڑ کر واپس نہیں جائیں گے۔ ان کے مطابق وہ آخری لمحے تک وہ سب کچھ کرنے کی کوشش کریں گے جو اپنے ساتھی کی مدد کے لیے ممکن ہو سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہMuhammad Abbas
جب اُمید بنتی اور ٹوٹتی رہی
محمد عباس بتاتے ہیں کہ سید علی شاہ میاں رسی کے ساتھ بندھے اور لٹکے ہوئے تھے۔ حادثے کے بعد سب ساتھی ان کے پاس گئے۔ ان کے مطابق پہلی نظر میں ایسا لگا اور بعد میں ان کا یقین بھی پختہ ہوگیا کہ سید علی شاہ میاں کی کمر میں فریکچر ہو چکا تھا اور وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محمد عباس کہتے ہیں کہ ’سید علی شاہ میاں بہت سخت جان اور بہادر تھے۔ ہم سب ان سے باری باری بات کر رہے تھے۔ کبھی وہ جواب دیتے اور کبھی جواب نہیں دیتے تھے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ جس جگہ سید علی شاہ میاں پھنسے ہوئے تھے، وہاں سے انھیں نیچے اتارنا انتہائی مشکل تھا۔
’ہمیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کس طرح ان کی مدد کریں۔ وہ بار بار کہتے تھے کہ مجھے نیچے لے کر جاؤ۔ ہم انھیں تسلی دیتے تھے کہ ہم آپ کو نیچے لے کر جا رہے ہیں۔‘
محمد عباس کے مطابق جس رسی کے ساتھ سید علی شاہ میاں بندھے ہوئے تھے وہ تقریباً 100 میٹر لمبی تھی اور گرنے کے دوران انھیں انتہائی زوردار جھٹکا لگا ہو گا۔
’ہم ان کے ساتھ بات چیت کرتے رہے، انھیں حوصلہ دیتے رہے، لیکن بظاہر لگ رہا تھا کہ انھیں کچھ یاد نہیں رہا کہ وہ کہاں ہیں اور ان کے ساتھ کیا ہوا ہے۔‘
اس دوران اندھیرا پھیل رہا تھا۔ ٹیم نے فیصلہ کیا کہ وہ بھی رات وہیں گزاریں گے کیونکہ وہ اپنے ساتھی کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہMuhammad Abbas
درجہ حرارت مسلسل گر رہا تھا
یہ ایک گلیشیئر کا علاقہ تھا اور درجہ حرارت مسلسل گر رہا تھا۔ ٹیم کے ارکان نے اپنی جیکٹس اتار کر سید علی شاہ میاں کو پہنائیں جبکہ خود شدید سردی میں بغیر جیکٹس کے رات گزارنے پر مجبور ہوئے۔
محمد عباس کے مطابق ’رات کا اندھیرا تھا، چاروں طرف صرف چمکتی ہوئی سفید برف نظر آ رہی تھی۔ ہمارا وہاں کوئی باضابطہ کیمپ بھی نہیں تھا۔ موبائل فون کی بیٹریاں بھی ختم ہو چکی تھیں، جبکہ ہمارا ایڈوانس کیمپ اس مقام سے کچھ نیچے تھا۔‘
ان کے مطابق اس کشمکش میں رات گزر گئی۔ صبح کی روشنی نمودار ہوئی تو ٹیم نے اندازہ لگایا کہ رات کا زیادہ تر وقت سید علی شاہ میاں نے نیم بے ہوشی کی حالت میں گزارا ہو گا۔
محمد عباس کہتے ہیں کہ صبح تقریباً چھ بجے وہ اس مشکل اور تکلیف کو برداشت نہ کر سکے اور دم توڑ گئے۔
زخمی اور بیمار ساتھیوں کے ساتھ واپسی کا سفر
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
محمد عباس کہتے ہیں کہ سید علی شاہ میاں کو حادثے کے بعد اس مقام سے نیچے لانا ممکن نہیں تھا۔
’یہ پہاڑ مکمل طور پر کے ٹو کی طرح ہے جس میں مسلسل ڈھلوان ہے۔ یہاں قدم قدم پر خطرات ہیں۔ اس مہم میں ہمارے گائیڈ، رہبر اور تکنیکی مدد فراہم کرنے والے سب کچھ سید علی شاہ میاں ہی تھے۔‘
ان کے مطابق ’فلک سر‘ پر چڑھائی کے دوران رسیاں بھی سید علی شاہ میاں نے ہی لگائی تھیں۔ ٹیم نے وہیں ان کی نماز جنازہ ادا کی اور پھر ان کی ڈیڈ باڈی کو آئس سکرو کی مدد سے اس طرح محفوظ کیا تاکہ آنے والے دنوں میں ریسکیو آپریشن کے ذریعے اسے نیچے لایا جا سکے۔
محمد عباس کا کہنا ہے کہ جس مقام پر سید علی شاہ میاں کی ڈیڈ باڈی موجود ہے وہاں ہیلی کاپٹر کی مدد سے ریسکیو آپریشن کیا جا سکتا ہے۔
’اس مقام کا جی پی ایس ہمارے پاس موجود ہے۔ اگر ریسکیو مدد شروع ہوتی ہے تو ہم اس میں تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اب ٹیم نے واپسی کا سفر شروع کیا، لیکن یہ سفر بھی آسان نہیں تھا۔ ایک ساتھی شدید بیمار ہو گیا تھا جبکہ دو دیگر زخمی تھے۔
محمد عباس کہتے ہیں کہ سید علی شاہ میاں کی غیر موجودگی میں مشکلات مزید بڑھ گئی تھیں کیونکہ وہی ساتھیوں کو رسیوں کی مدد سے نیچے اتارنے اور راستہ محفوظ بنانے میں مرکزی کردار ادا کر رہے تھے۔
’ہمیں بیمار اور زخمی ساتھیوں کو بھی سہارا دینا تھا۔ کبھی ایک ساتھی سب سے آخر میں اترتا اور کبھی دوسرا تاکہ سب محفوظ رہیں۔‘
ان کے مطابق مسلسل احتیاط کے باعث واپسی میں وقت لگا اور ٹیم 17 جولائی کو بیس کیمپ پہنچی جس کے بعد انتظامیہ کو واقعے سے آگاہ کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہMuhammad Abbas
ڈیڈ باڈی لانے کے لیے ہیلی کاپٹر کی ضرورت
محمد عباس کا کہنا ہے کہ سید علی شاہ میاں کی ڈیڈ باڈی جس مقام پر موجود ہے وہاں سے اسے نیچے لانا عام طریقے سے ممکن نہیں۔
’جس مقام پر ڈیڈ باڈی موجود ہے وہاں ہیلی کاپٹر کی مدد کے بغیر ریسکیو کرنا بہت مشکل ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کے تمام ساتھی اس وقت سوات میں سید علی شاہ میاں کے گاؤں میں موجود ہیں اور اگر ہیلی کاپٹر آپریشن شروع ہوتا ہے تو وہ مدد کے لیے تیار ہیں۔
’ہم سب چاہتے ہیں کہ سید علی شاہ میاں کی ڈیڈ باڈی نیچے لائی جائے تاکہ ان کا خاندان اپنے ہاتھوں سے ان کی آخری رسومات ادا کر سکے۔‘
ڈپٹی کمشنر اپر سوات سہیل احمد خان کے مطابق یہ چھ کوہ پیماؤں کا ایک گروپ تھا، جنھوں نے اپنا ایڈونچر کلب محکمہ سیاحت کے ساتھ رجسٹر کروایا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ کوہ پیماؤں کو اس علاقے میں کوہ پیمائی اور دیگر سرگرمیوں کی اجازت حاصل تھی۔ انھوں نے پانچ جولائی کو اپنا سفر شروع کیا تھا اور 11 جولائی کو یہ حادثہ پیش آیا۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق انتظامیہ کو اس حادثے کی اطلاع 17 جولائی کو دی گئی جس کے بعد مقامی انتظامیہ نے کارروائی شروع کی۔
ان کا کہنا تھا کہ زخمی اور بیمار کوہ پیماؤں کو طبی امداد فراہم کی گئی جبکہ باقی افراد کا بھی طبی معائنہ کیا گیا، جس میں ان کی حالت تسلی بخش قرار دی گئی ہے۔
سہیل احمد خان کے مطابق ’فلک سر‘ ایک دشوار گزار پہاڑ ہے اور ابتدائی معلومات کے مطابق حادثے کی وجہ پھسلن اور رسی کا چھوٹنا ہو سکتی ہے۔
’وہاں سے ڈیڈ باڈی کو ریسکیو کرنا آسان نہیں، اس کے لیے خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اسی سلسلے میں متعلقہ اداروں سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہMuhammad Abbas
فلک سر مہم: خواب، تیاری اور وسائل کی جدوجہد
محمد عباس کہتے ہیں کہ ٹیم میں شامل تمام افراد کوہ پیمائی کا شوق رکھتے ہیں۔ ان کی دوستی بھی سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کی مہمات دیکھنے کے بعد ہوئی۔
ان کے مطابق محدود وسائل کی وجہ سے آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کو سر کرنا ان کے لیے ممکن نہیں تھا، لیکن وہ چار، پانچ اور چھ ہزار میٹر بلند چوٹیوں کی مہمات کرتے رہے۔
’ہم سب کی دوستی کی اصل وجہ فلک سر سر کرنے کی خواہش تھی۔ اس میں اہم کردار سید علی شاہ میاں کا تھا۔‘
محمد عباس کے مطابق تقریباً دو سال پہلے اُنھوں نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ فلک سر سر کریں گے جس کے بعد ان کا منصوبہ تھا کہ مستقبل میں چھ ہزار، سات ہزار اور آٹھ ہزار میٹر بلند چوٹیوں کی جانب جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ فلک سر کو منتخب کرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ کوہ پیماؤں میں اسے غیر رسمی طور پر ’منی کے ٹو‘ کہا جاتا ہے۔
’ہم سب کی خواہش تھی کہ ہم کے ٹو سر کریں۔ فلک سر کے ٹو جتنی بلند تو نہیں، لیکن ہماری نظر میں یہ کے ٹو کی طرح ایک مشکل پہاڑ ہے۔ ہم نے سوچا کہ اگر ہم منی کے ٹو سر کر لیتے ہیں تو مستقبل میں بڑی چوٹیوں کے لیے تیار ہو جائیں گے۔‘
محمد عباس کہتے ہیں کہ جب انھوں نے منصوبہ بنایا تو انھیں اندازہ نہیں تھا کہ تیاری اتنا وقت لے گی۔
’فلک سر کے لیے ضروری سامان، جوتے، کپڑے اور دیگر چیزیں ہمیں خود خریدنی تھیں۔ اس تیاری میں ہمیں دو سال لگ گئے۔ ہر مہم جو نے تقریباً چار سے پانچ لاکھ روپے جمع کیے اور اپنے لیے ضروری سامان حاصل کیا۔‘

،تصویر کا ذریعہMuhammad Abbas
سید علی شاہ میاں: پہاڑوں سے محبت کرنے والا کوہ پیما
سید علی شاہ میاں ان مقامی کوہ پیماؤں میں شمار ہوتے تھے جنھوں نے گذشتہ چند برسوں میں سوات کے بلند پہاڑوں اور گلیشیئرز میں مسلسل مہمات کے ذریعے اپنی شناخت بنائی۔
ان کے قریبی عزیز گوہر یوسف کے مطابق سید علی شاہ میاں کے لیے پہاڑ صرف شوق نہیں بلکہ زندگی کا حصہ تھے۔ وہ اکثر کہتے تھے کہ ’میری زندگی پہاڑ اور یہ خوبصورت وادیاں ہیں۔‘
گوہر یوسف کے مطابق سید علی شاہ میاں مقامی زمیندار تھے جبکہ اس کے ساتھ وہ ریفریجریٹر اور فریج کی مرمت کا کام بھی کرتے تھے، لیکن ان کا اصل شوق کوہ پیمائی اور مہم جوئی تھا۔ سید علی شاہ میاں کی بیوہ اور تین بچے ہیں۔
گوہر یوسف کہتے ہیں کہ ’فلک سر ان کے لیے صرف ایک چوٹی نہیں بلکہ ایک خواب تھا۔ دو سال پہلے منکیال سر کی کامیاب سمٹ کے بعد اُنھوں نے جس چوٹی کو اپنا اگلا ہدف قرار دیا تھا، آخرکار اسے سر بھی کر لیا، مگر چوٹی سے واپسی کا سفر ان کی زندگی کا آخری سفر ثابت ہوا۔‘
فلک سر: سوات کی بلند ترین چوٹی، حسن بھی اور خطرہ بھی
سوات کی سرسبز اوشو وادی کے اختتام پر، برف اور گلیشیئرز کے درمیان فلک سر سوات کی بلند ترین چوٹی ہے۔ اس کی بلندی 5,918 میٹر (19,416 فٹ) ہے اور یہ سال کے بیشتر حصے میں برف سے ڈھکی رہتی ہے۔
فلک سر تک پہنچنا محض ایک ٹریکنگ مہم نہیں بلکہ ایک مکمل تکنیکی کوہ پیمائی مہم ہے۔ چوٹی تک جانے والے راستے میں وسیع گلیشیئر، گہری برفانی دراڑیں، برف سے ڈھکی ڈھلوانیں اور ایسا موسم ملتا ہے جو چند منٹوں میں صاف آسمان کو برفانی طوفان میں بدل سکتا ہے۔
فلک سر کی پہلی کامیاب سمٹ 1957 میں نیوزی لینڈ کے کوہ پیماؤں ڈبلیو کے اے بیری اور سی ایچ ٹنڈیل بسکو نے کی تھی۔ بعد کے برسوں میں مختلف غیر ملکی مہمات یہاں پہنچیں، تاہم پاکستانی کوہ پیماؤں کی کامیاب مہمات بہت محدود رہی ہیں۔
2020 میں احمد مجتبیٰ، حمزہ انیس اور عدنان سلیم پر مشتمل پاکستانی ٹیم نے فلک سر کی کامیاب سمٹ کی، جسے پاکستانی کوہ پیمائی کی ایک اہم کامیابی قرار دیا گیا۔ اس مہم سے پہلے 2014 اور 2019 کی ان کی کوششیں خراب موسم اور دشوار راستوں کی وجہ سے مکمل نہیں ہو سکی تھیں۔



















