’پوسٹ پارٹم سائیکوسس‘: اپنے بچوں کے ساتھ ہنستی کھیلتی ماں نے اگلے ہی لمحے اُن کی جان لے لی

United States

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنلنڈسے کلینسی کہتی ہیں کہ اُنھیں نہیں معلوم کہ اُنھوں نے ایسا کیوں کیا
    • مصنف, انا فاگوئے
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

انتباہ: اس خبر میں پریشان کن تفصیلات شامل ہیں اور خودکشی کی کوشش کا ذکر ہے۔

اپنے تین بچوں کو قتل کرنے سے ایک ماہ قبل لنڈسے کلینسی نے اپنی والدہ اور اُس وقت کے اپنے شوہر کو بتایا تھا کہ انھیں ’بچوں کو نقصان پہنچانے کے خیالات‘ آ رہے ہیں۔

کلینسی کی والدہ پاؤلا مسگروو نے اس ہفتے گواہی دی کہ اس دوران لنڈسے کہا کرتی تھیں کہ ’یہ میں نہیں ہوں، میں پہلے کبھی ایسی نہیں تھی اور میں اس سے متفق تھی، کیونکہ وہ واقعی ایسی نہیں تھی۔‘

کلینسی قتل کرنے سے انکار نہیں کرتیں، لیکن انھوں نے قتل کے الزامات میں خود کو بے قصور قرار دیا ہے۔

ان کے وکلا کا مؤقف ہے کہ جب انھوں نے اپنے بچوں کی جان لینے کی کوشش کی تو وہ بعد از زچگی نفسیاتی عارضے ’پوسٹ پارٹم سائیکوسس‘ کا شکار تھیں۔

اس کی علامات میں فریبِ نظر اور وہم شامل تھے جو ان کے تیسرے بچے کی پیدائش کے بعد شروع ہوئے۔

بدھ کے روز کلینیکل اور فارنزک ماہرِ نفسیات پال زائزل نے کہا: ’وہ اپنے رویے کو قانونی ضابطوں کے مطابق ڈھالنے سے قاصر تھیں اور اپنے عمل کی غیر قانونی حیثیت کو نہیں سمجھتی تھیں۔‘

دوسری جانب استغاثہ کا مؤقف ہے کہ اُنھوں نے جان بوجھ کر اپنے بچوں کو قتل کرنے کا سوچا سمجھا فیصلہ کیا تھا جن میں پانچ سالہ کورا، تین سالہ ڈاسن اور آٹھ ماہ کے کالن شامل تھے۔

’پوسٹ پارٹم سائیکوسس‘ ایک نایاب کیفیت ہے اور طبی ہنگامی حالت سمجھی جاتی ہے جس میں مریضہ کوافسردگی یا دونوں کا امتزاج ہو سکتا ہے۔

عموماً خواتین کے لیے حمل اور زچگی خوشی کی بات ہوتی ہے لیکن کچھ مائیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو بچے کی پیدائش کے بعد پریشانی، مایوسی، غصہ، خوف یہاں تک کہ جرم کے احساس کا شکار ہو جاتی ہیں۔

انھیں نفسیاتی علامات بھی لاحق ہو سکتی ہیں، جیسے ایسی آوازیں سننا جو حقیقت میں موجود نہ ہوں۔

شدید اور غیر معمولی صورتوں میں وہ خود کو یا دوسروں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، یا حتیٰ کہ قتل بھی کر سکتی ہیں۔

ماہرین نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ زچگی کے بعد خواتین کو لاحق ہونے والی انتہائی سنگین بیماریوں میں سے ایک ہے۔

کلینسی کے مقدمے کو ایک ماہ مکمل ہونے کے ساتھ اس بیماری پر توجہ بڑھ رہی ہے اور اس نے اس بحث کو بھی جنم دیا ہے کہ خواتین زچگی کے بعد کن ذہنی صحت کی پیچیدگیوں کا سامنا کر سکتی ہیں۔

Picture

،تصویر کا ذریعہJonathan Wiggs/The Boston Globe via Getty Images

،تصویر کا کیپشنلنڈسے کلینسی 18 اگست کو مقدمے کی کارروائی کے دوران پلائماؤتھ سپیریئر کورٹ میں گواہیاں سنتے ہوئے۔

’پوسٹ پارٹم سائیکوسس‘ کیا ہے؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

کیس ویسٹرن ریزرو یونیورسٹی کی فارنزک نفسیات کی پروفیسر سوسن ہیٹرز فریڈمین نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پوسٹ پارٹم سائیکوسس‘ اکثر مزاج سے متعلق علامات کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے جن میں چڑچڑا پن، مزاج میں اتار چڑھاؤ، بے خوابی اور ایسی کیفیت شامل ہے جسے طبی ماہرین ہذیانی حالت سے مشابہ قرار دیتے ہیں۔

ہیٹرز فریڈمین نے کہا: ’نفسیاتی عارضے کی اصطلاح عموماً اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انسان حقیقت سے رابطہ کھو بیٹھتا ہے۔ اس میں اکثر فریبِ نظر شامل ہوتے ہیں، یعنی ایسی چیزیں سننا یا دیکھنا جو موجود نہ ہوں، اور وہم شامل ہوتے ہیں، جو گہرے اور غلط عقائد ہوتے ہیں جو فرد کی ثقافت سے مطابقت نہیں رکھتے۔‘

میگھن کلیفل اپنی دوسری بیٹی کی پیدائش کے آٹھ ماہ بعد تھیں جب انھیں فریبِ نظر آنے لگے۔

یہ 2015 کا ایک جمعہ تھا اور وہ نیویارک میں اپنی ملازمت کا دن مکمل کر چکی تھیں۔

انھیں یقین ہو گیا کہ کوئی ان کا تعاقب کر رہا ہے، انھیں لگا کہ لوگ انھیں کسی فرقے میں شامل کرنا چاہتے ہیں اور اُنھوں نے سوچا کہ پوری دنیا، بشمول ان کے شوہر، ان کے اور ان کی دو بیٹیوں کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔

تقریباً 24 گھنٹے بعد انھیں ایک ذہنی امراض کے ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں انھیں سٹریچر سے ہتھکڑیاں لگا کر لے جایا گیا۔

وہاں اُنھوں نے ’پوسٹ پارٹم سائیکوسس‘ کے علاج کے لیے اگلے 12 دن گزارے۔

ہیٹرز فریڈمین کے مطابق کلیفل کی طرح کی نفسیاتی علامات بہت تیزی سے نمودار ہو سکتی ہیں۔

اسی لیے ماہرین اسے طبی ہنگامی حالت قرار دیتے ہیں: ایک شخص بالکل معمول پر ہو سکتا ہے اور اچانک حقیقت سے رابطہ کھو سکتا ہے۔

کلینسی کے سابق شوہر کے مطابق اُنھوں نے اُس وقت اپنے بچوں کا قتل کیا جب وہ ان کے ساتھ باہر کھیل رہی تھیں اور برف کا آدمی بنا رہی تھیں۔

اُنھوں نے عدالت میں گواہی دیتے ہوئے کہا کہ ’وہ اپنے بہترین دنوں میں سے ایک گزار رہی تھیں۔‘

پیٹرک کلینسی نے گواہی دی کہ لنڈسے اس سے پہلے انھیں اپنی خودکشی کے خیالات یا بچوں کو نقصان پہنچانے کے خیالات بتا چکی تھی، لیکن اس دن سب کچھ بہتر محسوس ہو رہا تھا۔

جنوری 2023 کی اسی شام وہ خاندان کے لیے رات کا کھانا لینے گھر سے نکلے۔

واپس آنے پر اُنھوں نے اپنے بچوں کو مردہ پایا جبکہ کلینسی خودکشی کی کوشش کے بعد زخمی حالت میں تھیں۔

ماہرین کے مطابق یہ تضاد اس ’سوئچ‘ یا شدید اتار چڑھاؤ کی مثال ہے جو ’پوسٹ پارٹم سائیکوسس‘ کی خصوصیت ہو سکتی ہے۔

یونیورسٹی آف ورجینیا کی تولیدی نفسیات کی ماہر جینیفر پین نے کہا: ’ایک عورت ایک لمحے میں بالکل ٹھیک دکھائی دے سکتی ہے اور تھوڑی دیر بعد شدید بیمار ہو سکتی ہے۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مکمل طور پر واضح نہیں کہ ’پوسٹ پارٹم سائیکوسس‘ کی وجہ کیا بنتی ہے۔

اس کا تعلق زچگی کے بعد ہونے والی ہارمونل تبدیلیوں اور ذہنی دباؤ سے ہو سکتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پہلے سے موجود ذہنی صحت کے مسائل اور زچگی کے بعد اس بیماری کی نشوونما کے درمیان تعلق موجود ہے۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن لنڈسے اور پیٹرک کلینسی

ایک ایسی بیماری جسے باقاعدہ شناخت حاصل نہیں

ماہرین اور کلیفل اس بات پر متفق تھے کہ بعد از زچگی نفسیاتی عارضے کے بارے میں آگاہی اور بہتر علاج کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ اسے تفسیاتی بیماریوں کی ’تشخیصی اور شماریاتی دستور برائے ذہنی امراض‘ (DSM-5) کی درجہ بندی میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔

یہ ذہنی صحت سے متعلق وہ رہنما کتاب ہے جو امریکن سائیکائٹرک ایسوسی ایشن شائع کرتی ہے۔

ماؤنٹ سائنائی ویمنز مینٹل ہیلتھ سینٹر کی ڈائریکٹر اور نفسیات کی پروفیسر ویرلے برگنک ان افراد میں شامل ہیں جو بعد از زچگی نفسیاتی عارضے کو DSM-5 میں شامل کرانے کے لیے بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق چونکہ یہ بیماری اس میں شامل نہیں، اس لیے طبی تعلیمی کتابوں میں اس پر بحث نہیں ہوتی، طلبہ اس کے بارے میں نہیں سیکھتے اور اس پر بہت کم گفتگو ہوتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اس کی شمولیت نہایت اہم ہے۔

برگنک نے کہا: ’آپ کسی بیماری پر تحقیق اور گفتگو اسی وقت کر سکتے ہیں جب اسے نام دیا جائے اور اس کی شناخت کے لیے معیارات مقرر ہوں۔‘

’بصورت دیگر تحقیق کے لیے فنڈنگ نہیں ملتی، وسائل فراہم نہیں ہوتے، نگہداشت کا نظام قائم نہیں ہوتا اور نہ ہی طبی بیمہ کا کوئی کوڈ موجود ہوتا ہے۔‘

کلیفل جیسی خواتین، جنھوں نے یہ بیماری خود جھیلی، اس بات کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دیتی ہیں کہ یہ DSM-5 میں شامل نہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہمیں مٹا دیا گیا ہو۔‘

’میں جانتی ہوں کہ جب کوئی آخرکار آپ کی بیماری کو نام دیتا ہے تو یہ کتنی شفا بخش بات ہوتی ہے۔‘

اُنھوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ رسمی درجہ بندی نہ ہونے کے اثرات طبی ماہرین کی تربیت، خاندانوں کی آگاہی اور بیمہ کی کوریج تک پھیلتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اسی لیے میں کلینسی کے کیس کو ایک موقع سمجھتی ہوں کہ صرف سانحات پر حیران ہونے کے بجائے ہم ماؤں اور ان کے خاندانوں کی نگہداشت کے لیے پیشگی اقدامات کریں۔

United States

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنلنڈسے کلینسی کے مقدمے نے امریکہ میں وسیع میڈیا توجہ حاصل کی ہے۔

علاج کس طرح کیا جاتا ہے؟

ماہرین نے زور دیا کہ بعد از زچگی نفسیاتی عارضہ قابلِ علاج ہے۔

لیتھیم، جو مزاج کو متوازن رکھنے والی دوا ہے، اس بیماری کے عام علاج میں شامل ہے۔

اکثر مریضوں کو دوبارہ بیماری کے خطرے کو کم کرنے کے لیے یہ دوا دی جاتی ہے۔

تاہم مریضہ اور اس کی علامات کے مطابق دیگر علاج بھی استعمال کیے جاتے ہیں، جن میں الیکٹرو کنولسیو تھراپی (ECT) اور اینٹی سائیکوٹک ادویات شامل ہیں۔

ہیٹرز فریڈمین کے مطابق بہت سی خواتین کو نفسیاتی ہسپتال میں داخل ہونا پڑ سکتا ہے، لیکن درست علاج سے صحت یابی ممکن ہے۔

ماہرین کے مطابق لنڈسے کلینسی کے کیس کا انجام انتہائی غیر معمولی ہے۔

تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعد از زچگی نفسیاتی عارضے میں مبتلا صرف ایک سے چار فیصد خواتین اپنے بچوں کو نقصان پہنچاتی ہیں یا انھیں قتل کرتی ہیں۔

میگھن کلیفل کے معاملے میں علاج کا منصوبہ کئی طریقوں پر مشتمل تھا۔

اُنھوں نے روایتی تھراپی حاصل کی، آئی موومنٹ ڈیسینسِٹائزیشن اینڈ ری پروسیسنگ (EMDR) تھراپی کروائی اور پورے ایک سال تک لیتھیم استعمال کی۔

میگھن کلیفل کو فائدہ پہنچانے والے علاج کا بڑا حصہ اتفاقاً ان تک پہنچا۔

اُنھوں نے کہا کہ ’کوئی ایسا واضح نگہداشتی راستہ موجود نہیں تھا جو بتاتا کہ اس تجربے سے صحت یاب ہونے کا طریقہ کیا ہے۔‘

اُنھوں نے یاد کیا کہ بریسٹ کینسر سے بچ جانے والی خواتین سے بات کی تھی جنھوں نے بتایا کہ تشخیص کے بعد آگے بڑھنے کے واضح مراحل موجود تھے۔

کلیفل نے کہا: ’بعد از زچگی نفسیاتی عارضے میں ایسا نہیں ہوتا، یہ گویا اندھیرے میں راستہ تلاش کرنے جیسا تھا۔‘

تاہم طبی ماہرین نے انھیں وہ اوزار اور علاج فراہم کیے جن کی بدولت وہ زندگی میں آگے بڑھ سکیں اور تیسرے بچے کو جنم دے سکیں۔

دوبارہ بعد از زچگی نفسیاتی عارضے سے بچنے کے لیے اُنھوں نے اپنے بیٹے کی پیدائش کے فوراً بعد لیتھیم لینا شروع کر دیا اور زچگی کے بعد پورا سال اسے جاری رکھا۔

اُنھوں نے کہا: ’ہمارے پاس ایسا نظام ہونا چاہیے جو واقعی ماؤں کی ذہنی صحت کو سمجھے، تمام والدین کو پیشگی مدد فراہم کرے اور انھیں ان ممکنہ مسائل سے آگاہ کرے جن کا سامنا ہو سکتا ہے۔‘

’آخرکار، ماؤں کی ذہنی صحت سے متعلق مسائل زچگی کی سب سے عام پیچیدگی ہیں۔‘