راولپنڈی میں خاتون کی باتھ روم سے لاش برآمد، شوہر اور ملازم گرفتار: ’جو بھیانک منظر میں نے دیکھا اسے شاید پوری زندگی نہ بھول سکوں‘

Courtesy Sabah Bano Malik

،تصویر کا ذریعہCourtesy Sabah Bano Malik

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 7 منٹ

انتباہ: اس تحریر میں ایسی تفصیلات شامل ہیں جو کچھ قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی کے تھانہ سول لائنز کے علاقے لالکرتی میں ایک 45 سالہ خاتون کے مبینہ قتل کا مقدمہ ان کے شوہر، سسر اور گھریلو ملازم کے خلاف درج کر لیا گیا ہے۔

مقدمہ مقتولہ کے بھائی فہد جاوید ملک کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق مقتولہ حنا جاوید کی لاش 20 اگست کی صبح ان کے گھر کے باتھ روم سے برآمد ہوئی۔ مقتولہ کے دونوں ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے، منھ پر کپڑا تھا جبکہ گلے میں بجلی کی تار بندھی ہوئی تھی جسے شاور کے ساتھ باندھا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق لاش کے منہ سے خون اور جھاگ نکلنے کے آثار بھی پائے گئے۔

پولیس نے مقتولہ کے شوہر اور ملازم کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق مقتولہ کا پوسٹ مارٹم کر لیا گیا ہے اور رپورٹ کا انتظار ہے، جبکہ جائے وقوعہ سے تمام شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں۔

تفتیشی افسر نے بی بی سی نیوز اردو کے شہزاد ملک کو بتایا کہ ’گرفتار ملزمان کو ابھی تک عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔‘ ان کے مطابق معاملے کی تفتیش جاری ہے اور اس کی روشنی میں ملزمان کو عدالت میں پیش کر کے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔

’جو بھیانک منظر میں نے دیکھا اسے شاید پوری زندگی نہ بھول سکوں‘

بی بی سی نیوز اردو کے لیے صحافی محمد زبیر خان سے بات کرتے ہوئے مقتولہ کے بھائی فہد جاوید ملک نے کہا کہ ’جو منظر میں نے دیکھا، اسے شاید پوری زندگی نہ بھول سکوں۔ یہ انتہائی خوفناک تھا۔ ہم شدید صدمے اور ذہنی دباؤ سے گزر رہے ہیں اور سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ سب کیسے ہوا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پولیس اب تک تعاون کر رہی ہے، تاہم وہ چاہتے ہیں کہ معاملے میں مکمل اور شفاف تحقیقات ہوں اور انھیں ایسا انصاف ملے جو عدالتوں سے بھی یقینی بنایا جا سکے۔ ان کے مطابق ’ہمیں انصاف چاہیے تاکہ ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا مل سکے۔‘

مقتولہ حنا جاوید کے بھائی فہد جاوید ملک کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق، حنا جاوید کی شادی نومبر 2025 میں ہوئی تھی۔

فہد جاوید نے بتایا کہ 20 اگست 2026 کو صبح تقریباً 6:05 بجے انھیں اپنے بہنوئی کے گھر سے ایمرجنسی کی اطلاع ملی۔ وہ تقریباً 7:23 پر جائے وقوعہ پر پہنچے تو دیکھا کہ اُن کی بہن کمرے کے باتھ روم میں مردہ حالت میں پڑی تھیں۔

’اُن کے دونوں ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے، منھ پر کپڑا تھا، گلے میں سفید بجلی کی تار بندھی ہوئی تھی جو اوپر شاور کے ساتھ باندھی گئی تھی۔ منھ سے خون اور جھاگ نکل رہا تھی جبکہ فرش پر بھی خون موجود تھا۔‘

ایف آئی آر میں فہد جاوید نے الزام عائد کیا ہے کہ اُن کی بہن کو اُن کے شوہر نے اپنے ملازم اور والد کے ساتھ مل کر انتہائی بے دردی سے قتل کیا ہے اور ’انھیں شبہ ہے کہ مقتولہ کو پہلے زہریلی چیز دی گئی اور پھر اذیت دے کر قتل کیا گیا۔‘

فہد جاوید نے الزام عائد کیا کہ ان کے بہنوئی ’آئے روز مقتولہ کو تشدد کا نشانہ بناتے تھے اور اس سے قبل ملزم کی پہلی اہلیہ نے بھی تشدد کی وجہ سے تنگ آ کر طلاق لے لی تھی۔‘

’حنا والدین کی واحد کفیل، خاندان کو جوڑنے والی، محبت بھری شخصیت تھی‘

@ShahramAzhar

،تصویر کا ذریعہ@ShahramAzhar

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

حنا جاوید کی فرسٹ کزن صباح بانو ملک نے بی بی سی نیوز اردو کی منزہ انوار سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حنا تین بہن بھائیوں میں درمیانی بیٹی تھیں۔ ان کی ایک بڑی بہن اور ایک چھوٹا بھائی تھا۔

صباح کے مطابق حنا بہت گرمجوش شخصیت کی مالک تھیں۔ وہ محبت اور اپنائیت سے بھری ہوئی تھیں۔ وہ ہمیشہ خاندان کے لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھتی تھی۔ خاندان کے بزرگوں سے رابطے میں رہنا، انھیں فون کرنا اور ان کی خیریت معلوم کرنا ان کی عادت تھی۔

انھوں نے بتایا کہ حنا اپنے والدین کی دیکھ بھال کرتی تھیں اور ان کی واحد کفیل تھیں۔ ان کی والدہ کو الزائمر کی بیماری بہت زیادہ بڑھ چکی ہے، جبکہ اس کے والد پارکنسنز کے مریض ہیں۔

صباح کے مطابق حنا ہر روز اپنے والدین سے ملنے جاتی تھیں۔ وہ ان کے روزمرہ معمول کا حصہ تھا۔ ’یہاں تک الزائمر کی بیماری کے اس انتہائی آخری مرحلے میں بھی، ان کی والدہ یہ جان کر خوش ہو جاتی تھیں کہ یہ وہ وقت ہے جب حنا ان سے ملنے آنے والی ہے۔‘

’حنا بہت گرمجوش اور محبت کرنے والی انسان تھی۔ لوگ ان کے ساتھ بہت آسانی سے گھل مل جاتے تھے۔ اس کے چہرے پر کبھی کسی کے لیے ناگواری نظر نہیں آتی تھی، وہ نہ کسی کو برا بھلا کہتی تھیں، نہ طنزیہ باتیں کرتی تھیں۔ وہ بس ایک بہت ہی مہربان، صاف دل اور نفیس انسان تھی۔‘

صباح نے بتایا کہ حنا بہت محنتی بھی تھیں۔ انھوں نے تقریباً 15 سال تک قومی اسمبلی میں کام کیا اور اپنے کام کے لیے بہت سنجیدہ اور پُرعزم تھیں۔

’میرے والد اکثر حنا کی منت کرتے کہ پلیز میرے ساتھ چلا کرو میں تمھیں دفتر ڈراپ کر دیا کروں گا مگر وہ کہتی تھی ’میرا اپنا سٹم ہے‘ پھر وہ خود پیدل نکل جاتی، اپنے کام کرتی اور اپنا سب کچھ خود سنبھالتی تھی۔‘

صباح کے مطابق ان کی کزن کبھی جھجکتی نہیں تھیں۔ کبھی بھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ وہ پراعتماد نہ ہو یا جو چاہتی تھی اسے حاصل کرنے کے لیے آگے نہ بڑھے۔ انھیں بہت زیادہ بولنے یا سب کی توجہ حاصل کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی، پھر بھی ان کی موجودگی سب محسوس کرتے تھے۔

’شادی کے بعد گھر والے پوچھتے، آپ خوش ہیں؟ وہ سوال کا جواب دینے کے بجائے بات بدل دیتی تھی‘

Courtesy Sabah Bano Malik

،تصویر کا ذریعہCourtesy Sabah Bano Malik

اس سوال کے جواب میں کہ شادی کے بعد انھوں نے حنا کی زندگی میں کیا تبدیلی نوٹ کی یا کیا کبھی حنا نے کسی مشکل کا ذکر کیا؟

بی بی سی نیوز اردو کی منزہ انوار سے بات کرتے ہوئے صباح بانو ملک نے بتایا حنا پہلے ہی ایک نسبتاً خاموش اور نجی زندگی پسند کرنے والی انسان تھی، لیکن شادی کے بعد وہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ خاموش اور اپنے اندر سمٹ گئی تھی۔ وہ پہلے کی طرح اپنے بارے میں یا اپنی زندگی کے بارے میں زیادہ باتیں نہیں کرتی تھی۔ اور اس کی شخصیت کی وہ پہلے جیسی رونق بھی کچھ کم ہو گئی تھی۔

صباح کے مطابق حنا کام کے معاملے میں ہمیشہ بہت محنتی اور پُرعزم رہی تھی، اس لیے جب گھر والوں نے محسوس کیا کہ کسی بھی کام کے لیے اس کی پہلے جیسی دلچسپی یا لگن نہیں رہی تو انھیں تشویش ہوئی۔ کوئی بھی اسے دیکھ کر پوچھتا، ’کیا تم ٹھیک ہو؟ سب خیریت ہے؟‘

وہ بتاتی ہیں کہ حنا کی شادی کو اس وقت ابھی 10 ماہ بھی نہیں ہوئے، تقریباً ساڑھے نو ماہ ہوئے ہیں۔ گھر والے اس سے پوچھتے، ’آپ خوش ہیں؟ آپ خوش ہیں؟‘ لیکن وہ اس سوال کا سیدھا جواب دینے کے بجائے کسی نہ کسی طرح بات بدل دیتی تھی۔

’حنا، ایک نوجوان خاتون جن کے خواب اور مستقبل ان سے چھین لیا گیا‘

حنا جاوید کے اہلِ خانہ کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’دو روز قبل مقتولہ حنا جاوید اپنے ہی گھر میں قتل کر دی گئیں۔ مقدمہ اُن کے بھائی فہد جاوید ملک کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، جس میں حنا کے شوہر کو نامزد کیا گیا ہے۔‘

خاندان نے پاکستان کے عدالتی اور قانونی نظام پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’انصاف ضرور ملے گا، تاہم آنے والے دن نہایت اہم ہیں کیونکہ تفتیش کی شفافیت ہی انصاف کی ضمانت ہو گی۔‘

خاندان کا کہنا ہے کہ ’حنا ایک بیٹی، بہن اور دوست تھیں، ایک نوجوان خاتون جن کے خواب اور مستقبل ان سے چھین لیا گیا۔‘

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اہلِ خانہ نے عوام اور سول سوسائٹی کی جانب سے اظہارِ ہمدردی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہ چاہتے ہیں حنا کو اُن کی شخصیت اور زندگی کے حوالے سے یاد رکھا جائے، نہ کہ صرف اُن کے قتل کے ذریعے۔‘

خاندان کا کہنا ہے کہ جزوی احتساب دراصل کوئی احتساب نہیں ہوتا۔ اہلِ خانہ نے پنجاب پولیس اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ’کسی دباؤ یا تاخیر کے بغیر تفتیش مکمل شفافیت کے ساتھ کی جائے۔‘

خاندان نے کہا ہے کہ ’گھریلو تشدد اور خواتین کے خلاف تشدد کوئی ذاتی معاملہ نہیں بلکہ سنگین جرم ہے اور اسے اسی طرح لیا جانا چاہیے۔‘