’ہمسایہ ہماری حفاظت کر رہا ہے‘: فاروق عبداللہ کی تقریر میں پاکستان کی طرف اشارہ اور انڈین جماعتوں کی تنقید

،تصویر کا ذریعہNasir Kachroo/NurPhoto via Getty Images
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کے اپنے خطے سے متعلق ایک بیان پرملک میں ایک سیاسی ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے اور حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ان کے اس بیان کو ’انڈیا مخالف‘ قرار دیا ہے۔
فاروق عبداللہ نے سنیچر کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں نیشنل کانفرنس کے ایک پروگرام کے دوران پاکستان کا نام لیے بغیر کہا کہ ’وہ ہماری حفاظت کر رہے ہیں۔‘
فاروق عبداللہ کے اس بیان پر جہاں بی جے پی نے سخت ردِعمل دیا ہے، وہیں کانگریس کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ فاروق عبداللہ کو ایسا بیان نہیں دینا چاہیے تھا۔
کئی مسلم مذہبی رہنماؤں نے بھی فاروق عبداللہ کے بیان کی مذمت کی ہے۔
فاروق عبداللہ نے کیا کہا تھا؟

،تصویر کا ذریعہANI
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ سنیچر کو بارہمولہ میں ایک پروگرام کے دوران پارٹی کارکنوں سے خطاب کر رہے تھے۔
فاروق عبداللہ نے اپنی تقریر میں آرٹیکل 370 کے تحت انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت کے خاتمے اور حلقہ بندیوں کا ذکر کرتے ہوئے بی جے پی پر مسلمانوں کے ساتھ ’امتیازی سلوک‘ برتنے کا الزام لگایا۔
اُنھوں نے کہا کہ ’آپ دہلی سے کیا توقع کر سکتے ہیں؟ کیا یہ انصاف کریں گے؟ ارے، ان کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ رکھو۔ اگر نہیں رکھو گے تو مٹ جاؤ گے، تمہارا نام و نشان مٹ جائے گا۔ یہ آج خاموش ہیں کیونکہ دنیا میں شور ہے اور ہمارا ہمسایہ ان کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ وہ ہر جگہ جا کر یہ کہتا ہے کہ کشمیر کا فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ وہ ہماری حفاظت کر رہا ہے۔‘
فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ ’ان (بی جے پی حکومت) کے ارادے نیک نہیں ہیں۔ یہ ایک بات کہتے ہیں اور اس کے بالکل برعکس کرتے ہیں۔ اتنی طاقت رکھو کہ سچ کو تھام سکو، سچ کہنا آسان نہیں ہوتا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُنھوں نے اپنی تقریر میں مزید کہا کہ ہر طریقے سے کوشش کی گئی کہ ’جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے مشکلات پیدا کی جائیں۔ یہ اٹھ نہ سکیں، رینگتے رہیں اور ہم ان سے بھیک مانگتے رہیں۔‘
فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ ’جب تک آپ لوگ اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہوں گے، آپ کبھی اپنی عزت حاصل نہیں کر سکیں گے۔ میری یہ بات یاد رکھنا۔‘
فاروق عبداللہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ انھوں نے کبھی نہیں کہا کہ وہ انڈین نہیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ بار بار کہہ چکے ہیں کہ وہ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو اور مولانا آزاد کے انڈیا میں شامل ہوئے تھے۔
ملک میں بی جے پی کے زیرِ حکومت ریاستوں میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہونے کا الزام لگاتے ہوئے انھوں نے کہا ’انھیں کبھی یہ امید نہیں تھی کہ ایسا دور آئے گا، جہاں مسلمانوں اور ہندوؤں کو آپس میں لڑایا جائے گا، صرف اس کرسی کے لیے، انڈیا کا حال خراب کر دیا گیا ہے۔‘
بی جے پی اور کانگریس کا ردِعمل
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں بی جے پی کے ترجمان الطاف ٹھاکر نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے بیان کو ’انڈیا مخالف‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’نیشنل کانفرنس کا رویہ ہی انڈیا مخالف رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا ’یہ ملک کے سامنے ایک کھلی بغاوت ہے۔ ان کا یہ بیان ملک کی وحدت اور سالمیت کے خلاف ہے۔ نیشنل کانفرنس ہمیشہ ملک مخالف رہی ہے۔ فاروق عبداللہ کا جو بیان آیا ہے وہ مکمل طور پر ملک مخالف بیان ہے۔ ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔‘
بی جے پی کے ترجمان آر پی سنگھ نے کہا ’جس پاکستان کی فاروق عبداللہ صاحب تعریف کر رہے ہیں، پاکستان نے کشمیر کے اس حصے کو کیا دیا؟ دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور لوگوں کو پتھراؤ کرنے والا بنا دیا۔‘
انھوں نے کہا کہ مرکز میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد کشمیر قومی دھارے سے جڑا ہے، کشمیر میں سرمایہ کاری آ رہی ہے اور یہاں سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
بی جے پی رہنما رویندر رینا نے کہا ’ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کشمیر اور پاکستان کے حوالے سے جو بات کہی ہے، وہ انتہائی قابلِ مذمت اور غیر ذمہ دارانہ بیان ہے۔ انھوں نے ایک بار پھر غداری کی ہے۔ پاکستان کیسے جموں و کشمیر کے عوام کا خیر خواہ ہو سکتا ہے؟ کبھی نہیں۔‘
کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے رہنماؤں کا بھی بیان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کانگریس کے رہنماؤں نے بھی عبداللہ کے اس بیان پر تنقید کی ہے۔
سہارن پور سے کانگریس کے رکنِ پارلیمان عمران مسعود نے کہا ’پاکستان تو خود اپنی حفاظت نہیں کر سکتا۔ اگر پاکستان اچھا ہوتا تو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کشمیریوں کے ساتھ اچھا سلوک ہوتا۔ پاکستان سے کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ مجھے سمجھ نہیں آیا کہ فاروق عبداللہ نے ایسا بیان کیوں دیا۔ شیخ عبداللہ، فاروق عبداللہ سے لے کر عمر عبداللہ تک، ان کی پالیسی انڈیا کے حق میں رہی ہے۔‘
مسعود نے کہا کہ انھیں نہیں معلوم کہ یہ بیان کس تناظر میں دیا گیا، لیکن اگر ایسا بیان دیا گیا ہے تو وہ اس کی حمایت نہیں کر سکتے۔
کانگریس رہنما ادت راج نے کہا ’آج تک فاروق عبداللہ جی سے کبھی ایسی بات سننے کو نہیں ملی۔ انھوں نے کبھی ایسا بیان نہیں دیا۔ بتائیے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے کشمیری کتنے پریشان ہیں۔ وہ انڈیا کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں۔ اگر وہ پاکستان میں خوشحال ہوتے تو کیا انڈیا کے ساتھ ملنے کے لیے جدوجہد کرتے؟‘
سماجوادی پارٹی کے رکنِ پارلیمان محب اللہ ندوی نے کہا ’کشمیر بھی ہمارا ہے اور کشمیری بھی ہمارے ہیں۔ ہم سماجوادی لوگ سب کو احترام دینے کی بات کرتے ہیں۔ کشمیر میں جو بدامنی رہی ہے، پاکستان کی مداخلت اور اس کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے رہی ہے۔ اس نے کشمیریت کو بھی نقصان پہنچایا، کشمیری مسلمانوں کو بھی نقصان پہنچایا، پنڈتوں اور سکھوں کو بھی نقصان پہنچایا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’معلوم نہیں فاروق عبداللہ صاحب کس وجہ سے ایسا بیان دے رہے ہیں۔‘
خیال رہے کہ پاکستان کی حکومت پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہونے والے مظاہروں کو ’شرپسندی‘ قرار دیتی ہے اور اس نے اس مظاہرے کی قیادت کرنے والی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیموں کی فہرست میں بھی شامل کر رکھا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دوسری جانب پاکستان انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی مداخلت کی تردید کرتا آیا ہے، پاکستان کا یہ موقف رہا ہے کہ کشمیر ایک متنازع خطہ ہے اور اس کا حتمی فیصلہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔
دیوبندی عالمِ دین قاری اسحاق گورا نے کہا ’فاروق عبداللہ کا بیان قابلِ مذمت ہے۔ انھیں انڈیا کے لوگوں سے معافی مانگنی چاہیے۔‘
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ایگزیکٹو رکن مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے کہا ’اس میں کوئی شک نہیں کہ جموں و کشمیر انڈیا کا اٹوٹ انگ ہے اور اس پورے خطے کی سلامتی ہمیشہ ہمارے سکیورٹی فورسز نے یقینی بنائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جموں و کشمیر کی حفاظت کے لیے وہاں فوج، سی آر پی ایف اور جموں و کشمیر پولیس سمیت بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ وہاں سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکاروں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ کوئی دوسرا ملک جموں و کشمیر کی حفاظت کر رہا ہے، بالکل ناقابلِ قبول ہے۔




















