انڈین فلم ’اڑتا تیر‘ کی پروموشن، عاطف اسلم کے گانے کی گونج اور ’باب آزادی‘: واہگہ اٹاری بارڈر پر کیا ہوا؟

اُڑتا تیر، پاکستان، انڈیا، واہگہ بارڈر
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 4 منٹ

پاکستان اور انڈیا کے درمیان واقع واہگہ اٹاری سرحد پر بالی وڈ فلم اُڑتا تیر کی پروموشن کے دوران ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس کی شاید اس تشہیری مہم کے دوران توقع نہیں کی گئی تھی۔

فلم کے مرکزی اداکار آیوشمان کھرانہ اور سارہ علی خان پاکستانی سرحد پر ’باب آزادی‘ کراسنگ پوائنٹ کے سامنے تقریر کرتے ہیں مگر بیک گراؤنڈ میں گلوکار عاطف اسلم کا گانا ’تاجدار حرم‘ چل رہا ہوتا ہے جو انھوں نے کوک سٹوڈیو کے لیے گایا تھا۔

یاد رہے کہ فلم اڑتا تیر 23 اکتوبر کو ریلیز ہو رہی ہے۔ اس کی کہانی ایک پاکستانی جاسوس کے گرد گھومتی ہے جو ایک مشن کے دوران یادداشت کھو بیٹھتا ہے اور بعد ازاں خود کو انڈین افسر سمجھنے لگتا ہے۔

فلم اپنی کہانی کی وجہ سے پہلے ہی تنازع کا شکار رہی ہے۔ انڈین میڈیا کے مطابق بعض ناقدین نے اسے پاکستان مخالف بیانیے پر مبنی قرار دیا ہے، جبکہ نیپال کے سینسر بورڈ نے بھی اس کی عوامی نمائش کی اجازت نہیں دی ہے۔ نیپالی حکام نے پابندی کی کوئی مخصوص وجہ بیان نہیں کی ہے۔

واہگہ اٹاری بارڈر پر کیا ہوا؟

انڈین ذرائع ابلاغ کے مطابق منگل کے روز انڈین اداکار آیوشمان کھرانہ اور سارا علی خان اپنی نئی فلم اڑتا تیر کی تشہیری مہم کے دوران واہگہ بارڈر گئے تھے۔

اس دوران دونوں نے اپنے فینز اور انڈین سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سے ملاقاتیں کیں اور کچھ گانوں پر پرفارم کیا۔

اس حوالے سے ایک ویڈیو بالی وڈ باؤنڈری نامی انسٹاگرام پیج نے شیئر کی۔ اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک موقع پر آیوشمان اور سارہ تقریر کرتے ہیں اور ان کے پس منظر میں پاکستانی سرحد ’باب آزادی‘ اور پاکستانی پرچم ہے۔ ایک بڑی سکرین پر کوک سٹوڈیو کی ویڈیو بھی چل رہی ہے جس میں گلوکار عاطف اسلم دکھائی دیتے ہیں۔

آیوشمان اپنی گفتگو کے دوران کہتے ہیں ’ہمارے پیارے بھارت باسیوں! آپ سب کو یہاں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔‘ مگر ان کی گفتگو صحیح طرح سنائی نہیں دے رہی کیونکہ لاؤڈ سپیکر پر چلنے والی موسیقی ان کی آواز پر غالب آ جاتی ہے۔

اُڑتا تیر، پاکستان، انڈیا، واہگہ بارڈر

انڈین میڈیا کے مطابق دراصل پس منظر میں پاکستانی سرحد کی جانب سے گلوکار عاطف اسلم کی آواز میں ’تاجدارِ حرم‘ سنائی دیتا ہے۔

مگر آیوشمان اپنی بات جاری رکھتے ہوئے ایک موقع پر کہتے ہیں کہ ’پتا لگتا ہے کہ ہم میں کتنا اتحاد ہے اور یہاں آ کر ہمارا دل بھر آیا ہے۔‘

پھر وہ سارہ علی خان کو کچھ کہنے کی دعوت دیتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں سب کو نمستے کہنا چاہتی ہوں۔‘

سارہ علی خان مزید بات کرنے کی کوشش کرتی ہیں مگر ان کا مائیک اچانک کام کرنا بند کر دیتا ہے۔ آیوشمان انھیں اپنا مائیک دیتے ہیں اور پھر وہ اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’میں آپ کو بہت سارا پیار دینا چاہتی ہوں۔ بس یہی کہنا ہے۔ بھارت ماتا کی جے۔‘

اس کے بعد آیوشمان ایک موقع پر پیچھے پاکستانی سرحد کی طرف دیکھتے ہیں اور سارہ سے مائیک لے کر کہتے ہیں کہ ’میں جب بھی یہاں آتا ہوں تو بہت جذبانی ہو جاتا ہوں۔‘

لیکن ان کی گفتگو کے دوران کوک سٹوڈیو کا گانا تاجدارِ حرم اونچی آواز میں سنائی دیتا ہے۔

’آواز نہیں آ رہی‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

جب بالی وڈ کے فلم ساز کرن جوہر کے پروڈکشن ہاؤس دھرما پروڈکشنز نے اس تشہیری مہم کی ویڈیو شیئر کی تو اس میں وہ لمحات نہیں سنائے گئے جن میں آیوشمان اور سارہ واہگہ بارڈر پر تقریر کرتے ہیں۔

انسٹاگرام پر کمنٹس میں کئی پاکستانی صارفین نے اس پر تبصرہ کیا ہے۔

تہسین شوکت نے لکھا کہ ’دھرما پروڈکشنز کی ویڈیو میں وہ گانا سنائی نہیں دے رہا جو تقریر میں سنائی دے رہا تھا۔‘ وہ طنز کرتے ہیں کہ ’اصل بیک گراؤنڈ ساؤنڈ بہتر تھا۔‘

حورین نے لکھا کہ ’آپ کو ویڈیو پر میوزک لگانا پڑا کیونکہ بیک گراؤنڈ میوزک آپ کے لیے شرمندگی کا باعث بنا تھا۔‘

کئی صارفین یہ مطالبہ کرتے نظر آئے کہ ’ہمیں اصل ورژن چاہیے۔‘

ردا جعفری نے طنز کیا کہ ’آواز نہیں آ رہی۔ اوہ! کوک سٹوڈیو جو چل رہا ہے۔‘

تاہم ایک انڈین صارف نے تبصرہ کیا کہ ’جب آیوشمان اور سارا نے انڈیا کی جانب موجود لوگوں سے خطاب کرنا شروع کیا تو سرحد کے پاکستانی حصے سے کوک سٹوڈیو کی موسیقی بلند آواز میں چلنے لگی، جس کا بظاہر مقصد ان کی تقاریر کی آواز کو دبانا تھا۔ مگر اس کوشش کا الٹا اثر ہوا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’تشہیری مہم میں خلل ڈالنے کے بجائے اس نے اداکاروں کو ایک اور وائرل لمحہ فراہم کر دیا۔ پاکستان نے تشہیری مہم کی آواز دبانے کی کوشش کی لیکن نتیجتاً اسی کی تشہیر مزید بڑھ گئی۔‘