کیا مکہ معاہدہ ترکی کو ’یمن کے دلدل‘ میں پھنسا سکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہMohammed HUWAIS / AFP via Getty Images
حوثیوں کی پیش قدمی اور سعودی عرب پر حملوں کے بعد یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا ’مکہ معاہدے‘ میں شامل ترکی کو ریاض کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا؟
اگرچہ اس معاہدے میں مشترکہ دفاع کی شق موجود ہے، لیکن ترکی کی حکومت کے محتاط ردعمل اور ملک کے ذرائع ابلاغ و تجزیہ کاروں میں پائے جانے والے وسیع شکوک و شبہات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انقرہ فی الحال یمن کی جنگ میں براہِ راست شامل ہونے کا خواہش مند نہیں۔
ترکی کو اس بات کی بھی تشویش ہے کہ وہ اس تنازع میں نہ الجھ جائے جسے بعض حلقے ’یمن کا دلدل‘ قرار دیتے ہیں۔
اگست کے اوائل میں ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ہونے والے معاہدے کے مطابق تینوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ ان میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تاہم ترکی نے اب تک اس تنازع میں براہِ راست مداخلت کی کوئی علامت نہیں دکھائی۔ اس نے صرف 8 ستمبر کو ایک بیان جاری کر کے حوثیوں کی حالیہ کارروائیوں کی مذمت کی تھی۔
ترک ذرائع ابلاغ عام طور پر یہ تاثر دیتے ہیں کہ ’مکہ معاہدے‘ میں مشترکہ دفاع کی شق موجود ہونے کے باوجود ترکی کے حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کے دفاع میں شامل ہونے کا امکان کم ہے۔
ایک ترک تجزیہ کار کے مطابق سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے ممکن ہے اس معاہدے سے ترکی کی وابستگی کو ’آزمانے‘ کی کوشش ہوں، جبکہ ایک دوسرے تجزیہ کار نے خبردار کیا کہ اس تنازع میں انقرہ کی شمولیت ’ایک سٹریٹیجک غلطی‘ ہوگی۔
اپوزیشن کے قریب سمجھے جانے والے ایک ذرائع ابلاغ نے یمن کی جنگ کو ’مکہ اتحاد کی پہلی خونی قیمت‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ترکی ایک بیرونی جنگ میں گھسیٹا جا سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
مجموعی طور پر ترک ذرائع ابلاغ اس بارے میں شکوک رکھتے ہیں کہ حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کے دفاع کے لیے ’مکہ معاہدے‘ کی مشترکہ دفاعی شق واقعی فعال ہو گی یا نہیں۔
حکومت کے قریب سمجھے جانے والے ذرائع ابلاغ نے بھی سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں کی اپنی رپورٹس میں عموماً مشترکہ دفاعی شق یا ترکی کی ممکنہ شمولیت پر زور نہیں دیا۔
حکومت نواز مؤقف رکھنے والے ٹی وی چینل ’آ خبر‘ نے تنازع کے مختلف پہلوؤں، حوثیوں کے حملوں کے اہداف اور ہلاکتوں کی تعداد پر رپورٹنگ کی، لیکن مکہ معاہدے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔
سرکاری نشریاتی ادارے ’ٹی آر ٹی‘ نے بھی اپنی رپورٹس میں حوثیوں کی پیش قدمی کا احاطہ کیا، تاہم مکہ معاہدے کا حوالہ نہیں دیا۔
حکومت کے حامی اور قدامت پسند اخبار ’ینی آکیت‘ نے ’کیا یمن کے حوالے سے مکہ معاہدہ فعال ہوگا؟‘ کے عنوان سے یہ موضوع اٹھایا، لیکن اس کی رپورٹ میں زیادہ توجہ سعودی عرب کے دفاع میں پاکستان کے ممکنہ کردار پر دی گئی اور ترکی کے لیے متوقع نتائج پر بحث نہیں کی گئی۔
شکوک و شبہات اور خدشات
اگرچہ حکومت کے قریب سمجھے جانے والے ذرائع ابلاغ نے مکہ معاہدے کی مشترکہ دفاعی شق کی اہمیت کو کم کرکے پیش کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن بعض دیگر حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ انقرہ غیر ارادی طور پر حوثیوں کے مقابل آ سکتا ہے۔
حکومت مخالف بائیں بازو کی ویب سائٹ ’سول خبر‘ نے لکھا کہ یمن کی جنگ ’مکہ اتحاد کی پہلی خونی قیمت‘ ثابت ہو سکتی ہے اور اس نے ترک حکومت پر الزام لگایا کہ وہ ممکنہ طور پر ترکی کو ایسے تنازع میں شامل کر سکتی ہے جس کا اس کے قومی مفادات سے زیادہ تعلق نہیں۔
آزاد ویب سائٹ ’ٹی24‘ کے کالم نگار بارچن ینانچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’کیا حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کو نشانہ بنانا اس اصول کے تحت ترکی کی وابستگی کو آزمانے کی کوشش نہیں ہے کہ ایک رکن پر حملہ تمام اراکین پر حملہ تصور کیا جائے گا؟‘
’یمن کے جال میں نہ پھنسیں‘
قوم پرستانہ رجحانات رکھنے والے معروف تجزیہ کار اور ریٹائرڈ بحری افسر جم گوردنیز نے ایک امریکی سینیٹر کی جانب سے حوثیوں کے خلاف مکہ معاہدے کو استعمال کرنے کے مطالبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ترکی کو ’اس جال میں نہیں پھنسنا چاہیے‘ اور نہ ہی ’یمن کے دلدل‘ میں کھنچنا چاہیے۔
انھوں نے لکھا کہ ’ترکی کا حوثیوں کے ساتھ دشمنی میں الجھنا، چہ جائیکہ ان کے ساتھ مسلح تصادم میں داخل ہونا، ایک سٹریٹیجک غلطی ہوگی۔ انقرہ کو سفارت کاری اور سمندری تجارت کے تحفظ کی حمایت کرنی چاہیے، نہ کہ حوثیوں کے ساتھ محاذ آرائی میں شامل ہونا چاہیے۔‘
اسلامی رجحان رکھنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم سے وابستہ نمایاں شخصیت بکیر صدیقی شاہین نے بھی خبردار کیا کہ مکہ معاہدے کی مشترکہ دفاعی شق ترکی کو اس تنازع میں کھینچنے کا خطرہ رکھتی ہے۔
انھوں نے استدلال کیا کہ اگر مستقبل میں سعودی عرب ’ابراہیمی معاہدوں‘ میں شامل ہو جاتا ہے تو ترکی غیر ارادی طور پر ایک ایسے ’علاقائی بلاک‘ کا حصہ بن سکتا ہے، جو اسرائیل کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔
ترکی کے ممکنہ فوجی کردار کے بارے میں قیاس آرائیاں
ان شکوک و شبہات کے باوجود، ایکس پر فوجی امور سے متعلق ایک مقبول اکاؤنٹ نے یہ قیاس آرائی کی کہ ترکی کے جنگی ڈرونز اور دیگر فوجی سازوسامان ’جلد‘ یمن میں نظر آ سکتے ہیں۔
ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے مکہ معاہدے پر دستخط کے بعد کہا تھا کہ اس معاہدے کی مشترکہ دفاعی شق تکنیکی طور پر نیٹو معاہدے کے آرٹیکل 5 سے مشابہت رکھتی ہے، تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ شق خودکار طور پر نافذ ہو جائے گی۔
انھوں نے کہا کہ ’معاہدے کے متن کو دیکھیں تو اس میں عمومی نوعیت کے وعدے موجود ہیں۔ یہ عمومی وعدے کس طرح اور کس شکل میں نافذ کیے جائیں گے، اس کا انحصار متعلقہ اداروں کی مشاورت اور فیصلہ سازی پر ہوگا۔‘



















