روس ’مکہ معاہدے‘ میں ایران کی شمولیت کا خواہش مند کیوں ہے؟

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
- مصنف, عمیر محمود
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
روسی وزیر خارجہ سرگئی لیوروف کے اس بیان نے کہ مستقبل میں ایران بھی مکہ دفاعی معاہدے کا حصہ بن سکتا ہے، اس نئے علاقائی دفاعی انتظام کے دائرۂ کار اور مستقبل کے بارے میں نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔
پیر (سات ستمبر) کو ماسکو سٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز میں طلبہ اور اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ نے کہا: ’اب وقت آ گیا ہے کہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کی مدد سے ممالک کے درمیان تعاون کو منظم کیا جائے۔‘
مکہ معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس پر دستخط کرنے والے تینوں ممالک کے پاس ’اجتماعی سلامتی اور دفاعی اتحاد کا ایک تصور موجود ہے۔‘
واضح رہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے سات اگست 2026 کو ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جسے ’مکہ دفاعی اتحاد‘ کا نام دیا گیا۔ معاہدے میں طے کیا گیا تھا کہ ’تینوں ریاستوں میں سے کسی ایک کے خلاف ہونے والا کوئی بھی مسلح حملہ سب کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔‘
تاہم پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور ترکی کے صدر رجب طیب اروغان یہ وضاحت بھی کر چکے ہیں کہ یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے اور خطے کے دیگر ممالک بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔
اسی بات کا حوالہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لیوروف نے بھی دیا۔ انھوں نے کہا: ’اور وہ (پاکستان، سعودی عرب، ترکی) کہتے ہیں کہ اس میں شرکت کے دروازے دوسرے ممالک کے لیے بھی کھلے ہیں، اور صرف خلیجی ممالک کے لیے نہیں بلکہ مصر کے لیے بھی۔‘
اس موقع پر انھوں نے کہا: ’کسی مرحلے پر ایسی شرائط پر بھی اتفاق کیا جا سکتا ہے کہ ایران بھی اس عمل کا حصہ بن جائے۔‘
روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر ایسا ہو جاتا ہے، یعنی اگر ایران بھی مکہ دفاعی اتحاد کا حصہ بن جاتا ہے تو ’یہ اُس تصور کی جانب ایک بہت اچھا عملی قدم ہو گا جو روس پہلے ہی پیش کر چکا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق اسی گفتگو میں سرگئی لیوروف نے ذکر کیا تھا کہ روس نے 20 برس سے بھی زیادہ عرصہ قبل تجویز پیش کی تھی کہ خلیجی ممالک، جن میں ’عرب بادشاہتیں‘ اور ایران بھی شامل ہوں، خطے کی مشترکہ سکیورٹی کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے پر غور کریں۔
جس دن روسی وزیر خارجہ نے یہ گفتگو کی، اس سے اگلے ہی روز سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ماسکو میں ان سے ملاقات کی۔

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اس ملاقات میں ’علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر سامنے آنے والی تازہ ترین پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا، اس کے علاوہ کشیدگی کم کرنے اور تناؤ میں کمی لانے کی کوششوں پر بھی گفتگو کی گئی۔‘
ملاقات کے بعد جاری ہونے والی خبر میں اس بات کا ذکر نہیں کہ آیا روسی وزیر خارجہ نے اپنے سعودی ہم منصب کے ساتھ مکہ دفاعی اتحاد میں ایران کی شمولیت پر بات کی یا نہیں۔
سعودی وزیر خارجہ کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب یمن کے حوثیوں نے ڈرونز اور میزائلوں سے سعودی عرب میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق حوثیوں نے ’شہری اور اقتصادی‘ تنصیبات پر حملے کیے جن کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 73 شہری زخمی ہوئے۔
یمن کے حوثیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھیں ایران کی حمایت حاصل ہے۔ جہاں ایک جانب ایرانی حمایت یافتہ حوثی سعودی عرب میں حملے کر رہے ہیں، وہیں روسی وزیر خارجہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے دفاعی اتحاد میں ایران کی ممکنہ شمولیت کی بات کر رہے ہیں۔
تو بی بی سی اردو نے اس سوال کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے میں ایران کی شمولیت کتنی قابل عمل ہے، اس معاہدے کو روس کس نظر سے دیکھ رہا ہے اور علاقائی دفاعی تعاون کے اس تمام عمل میں ماسکو کے مفادات کیا ہو سکتے ہیں۔
ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کا حصہ بننا، کتنا قابلِ عمل ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بین الاقوامی امور کے ماہرین اور سابق سفارت کار اس بارے میں مختلف آرا رکھتے ہیں۔ بعض کے نزدیک موجودہ علاقائی حالات میں ایران کا اس اتحاد کا حصہ بننا مشکل دکھائی دیتا ہے، جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ طویل مدت میں معاہدے کی افادیت ہی ایران کی شمولیت سے مشروط ہو سکتی ہے۔
سابق سفارت کار عبدالباسط کے مطابق اس وقت مکہ معاہدے میں ایران کی شمولیت کا امکان محدود دکھائی دیتا ہے کیونکہ دفاعی اتحاد کے بنیادی تقاضوں میں عسکری تعاون، انٹیلی جنس شیئرنگ اور باہمی اعتماد شامل ہوتے ہیں۔
بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان اعتماد کی وہ سطح ابھی موجود نہیں جو ایسے سکیورٹی انتظام کے لیے درکار ہوتی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ جب تک ’ایران کی پراکسیز موجود ہیں (یعنی یمن، لبنان اور عراق میں ایران کے حمایت یافتہ غیر ریاستی مسلح گروہ) اس وقت تک سعودی عرب بھی نہیں چاہے گا کہ ایران اس اتحاد میں شامل ہو۔‘
عبدالباسط کے مطابق اگرچہ تہران نے مکہ معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے، تاہم ایران کے اندر بھی طاقت کے مختلف مراکز موجود ہیں اور ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ ایران اس فریم ورک میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔
قائد اعظم یونیورسٹی میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انٹیلی جنس اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر خرم اقبال بھی سمجھتے ہیں کہ ایران کی شمولیت فوری طور پر ممکن دکھائی نہیں دیتی، تاہم ان کی دلیل قدرے مختلف ہے۔
ان کے مطابق ایران، پاکستان، ترکی اور سعودی عرب اسرائیل کے بڑھتے ہوئے علاقائی کردار کے بارے میں بعض مشترک خدشات رکھتے ہیں، لیکن اس چیلنج سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر ان کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔
بی بی سی اردو سے گفتگو میں ڈاکٹر خرم کا کہنا تھا کہ ایران کے اندر موجود بعض سخت گیر حلقے مکہ معاہدے کو ایک خصوصی سُنی بلاک کے طور پر بھی دیکھتے ہیں، جس کے باعث فوری طور پر ایران کی شمولیت مشکل نظر آتی ہے۔
تاہم، سابق سیکریٹری خارجہ شمشاد احمد اس سے اتفاق نہیں کرتے۔
ان کے مطابق مکہ معاہدے کی طویل المدت کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا یہ اپنے دائرے کو وسیع کرتے ہوئے ایران سمیت دیگر علاقائی ممالک کو شامل کر پاتا ہے یا نہیں۔
بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی مذہبی اتحاد نہیں بلکہ ایک علاقائی سلامتی کا تصور ہے، جس میں مستقبل میں مصر، اردن، عراق، خلیجی ریاستوں اور دیگر ممالک کی شمولیت بھی ممکن ہو سکتی ہے۔
ان کے بقول: ’مکہ معاہدہ کاغذ کا ایک ٹکڑا رہے گا جب تک ایران اس میں شامل نہیں ہوتا۔‘
خیال رہے کہ ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے 22 اگست کو سرکاری خبر رساں ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران مکہ معاہدے کا حصہ صرف اُسی صورت میں بن سکتا ہے اگر اُسے اس معاہدے کا ’شریک بانی‘ (کو فاؤنڈر) تسلیم کیا جائے اور اسے اس معاہدے کی بنیادی دستاویزات کی تیاری میں کردار دیا جائے۔
انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’ایران اور مصر ایسے معاہدوں سے غائب نہیں ہو سکتے، البتہ اُن کی شمولیت بانی ممالک (کو فاؤنڈرز) کے طور پر ہونی چاہیے، یعنی ان فریقوں کے طور پر جن کے تصورات اور خیالات دستخط شدہ دستاویزات کی تشکیل میں شامل ہوں۔‘
مکہ دفاعی اتحاد میں روس کا کیا مفاد ہے؟

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ڈاکٹر خرم اقبال کے مطابق روس اور چین، دونوں ممالک کو ہی مکہ دفاعی اتحاد سے فائدہ ہو گا۔
بی بی سی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ روس کا بنیادی مفاد مشرق وسطیٰ میں ایسے علاقائی سکیورٹی انتظامات کا فروغ ہے جن کا امریکہ پر انحصار کم ہو۔
ان کے مطابق ماسکو طویل عرصے سے اس مؤقف کا حامی رہا ہے کہ علاقائی سلامتی کے مسائل کا حل خطے کے ممالک خود تلاش کریں۔
’جتنا امریکہ کا کردار ایک واحد سکیورٹی فراہم کنندہ کے طور پر کمزور ہو گا، اتنا ہی روس اور چین کے لیے اپنے سیاسی اور سفارتی اثر و رسوخ کو بڑھانے کے مواقع پیدا ہوں گے۔‘
جبکہ شمشاد احمد سمجھتے ہیں کہ روس اور چین تو مکہ دفاعی معاہدے کے تحت طے پانے والے انتظام کو مثبت انداز میں دیکھیں گے ہی، یورپی ممالک بھی اس کی حمایت کر سکتے ہیں۔
ان کے بقول روس، چین اور یورپ سب کے اس خطے میں مفادات موجود ہیں، اس لیے خطے میں ایک مستحکم سلامتی ڈھانچہ ان کے مفاد میں ہو سکتا ہے۔
شمشاد احمد کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس فریم ورک کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے اور بعض حالات میں انڈیا بھی اس میں دلچسپی لے سکتا ہے۔ بی بی سی اردو سے گفتگو میں انھوں نے کہا: ’نریندر مودی وزارت عظمیٰ کے منصب سے ہٹتے ہیں تو انڈیا بھی مکہ معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے۔‘
عبدالباسط کے مطابق سرگئی لیوروف کا بیان خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ روس کو مکہ معاہدے پر بنیادی طور پر کوئی اعتراض نہیں۔ ان کے مطابق روس اس اتحاد کو خطے کے ایک نئے سکیورٹی انتظام کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
ماہرین سمجھتے ہیں کہ اگرچہ مکہ دفاعی اتحاد روس کے نزدیک علاقائی سلامتی کا ایک لائحہ عمل ہے اور اس کے مفاد ہیں ہے، تاہم اس میں ایران کی شمولیت تا حال غیر یقینی ہے۔



















