لائیو, حوثی فورسز آبنائے باب المندب سے 75 کلومیٹر دور: عینی شاہدین نے بندرگاہی شہر مخا میں کیا دیکھا؟

عینی شاہدین اور عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ یمن کے حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے سٹریٹجک بندرگاہی شہر مخا قبضہ کر لیا ہے۔ آبنائے باب المندب ایک اہم بحری گزرگاہ ہے، جو ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارتی راستے کے جنوبی دروازے کی حیثیت رکھتی ہے۔

خلاصہ

  • عینی شاہدین اور عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ یمن کے حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے سٹریٹجک بندرگاہی شہر مخا پر قبضہ کر لیا ہے
  • ایران نے امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کے تہران پر یمن میں دخل اندازی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حوثی اپنے فیصلے خود لیتے ہیں اور وہ کسی ملک کی پراکسی نہیں ہیں
  • سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے جواب میں کسی فوجی کارروائی کا فی الحال کوئی امکان نہیں: پاکستان
  • ایران نے پیٹرولیم مصنوعات لے جانے والے غیر ملکی جہازوں پر عائد 10 فیصد فریٹ چارج معطل کر دیا
  • یمن کے حوثی جنگجوؤں نے مخا بندرگاہ کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے جبکہ سعودی عرب نے حوثیوں کے اہداف پر حملے کیے ہیں
  • چین میں مال برادر جہاز پر آگ لگنے سے کم از کم 20 افراد ہلاک ہوئے ہیں
  • چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ صدر شی جن پنگ برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے انڈیا جائیں گے

لائیو کوریج

  1. ایرانی وزیر خارجہ کی سعودی ہم منصب سے ٹیلی فون پر گفتگو

    Iran, Saudi

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود (فائل فوٹو)

    ایرانی وزارت خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دونوں نے خطے کی موجودہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

    یہ فون پر بات چیت جمعرات کو یمن میں تنازع کے تناظر میں ہوئی ہے۔

    سعودی عرب خطے میں عرب ممالک کا ایک فوجی اتحاد بنا کر یمنی حکومت کی حمایت میں حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائیاں کر رہا ہے اور ایران پر بارہا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ ملک میں حوثیوں کو ہتھیار اور فوجی مدد فراہم کر رہا ہے، تاہم وہ حوثیوں کی فیصلہ سازی میں کسی مداخلت کی تردید کرتا ہے۔

  2. موخا پر حوثیوں کے قبضے کے بعد ایران کا یمن کی ناکہ بندی ختم کر کے مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایرانی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں یمن کی جنگ کی حالیہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ملک کی فوجی ناکہ بندی ختم کرنے اور سیاسی مذاکرات بحال کرنے پر زور دیا۔

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے (ارنا) کے مطابق بیان میں کہا گیا کہ ایران مسلم دنیا کے مشترکہ مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات پر زور دیتا ہے کہ خطے کو درپیش چیلنجز کا حل فوجی کارروائیوں میں نہیں بلکہ مذاکرات اور سیاسی عمل میں ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ مغربی ایشیا اس وقت ایسے حالات سے گزر رہا ہے جہاں تنازعات اور کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، لہٰذا فریقین کو پرامن حل کی جانب پیش رفت کرنی چاہیے۔

    بیان کے آخر میں ایرانی وزارتِ خارجہ نے متفقہ روڈ میپ کی بنیاد پر فوری طور پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے اور اس پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تہران اس سلسلے میں ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثی فورسز کی جانب سے یمن کے اہم ساحلی علاقوں میں پیش قدمی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے بندرگاہی شہر موخا (مخا) کے اطراف میں پیش رفت کرتے ہوئے سعودی حمایت یافتہ یمنی سرکاری افواج کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔

    گذشتہ روز یعنی جمعرات کو یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے حمایت یافتہ دستے باب المندب کے قریب واقع ایک اور ساحلی مقام، ذباب بندرگاہ، سے بھی پسپا ہو گئے ہیں۔

    موخا بندرگاہ پر کنٹرول حوثیوں کی اس پوزیشن کو مزید مضبوط کر سکتا ہے جس کے ذریعے وہ تیل اور تجارتی سامان کی نقل و حمل کے ایک اہم بحری راستے پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ یہ بندرگاہ آبنائے باب المندب کے قریب واقع ہے، جو بحیرۂ احمر کو خلیجِ عدن اور بحرِ ہند سے ملانے والی دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔

    ادھر فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے فوجی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے جنوبی حصے میں واقع جزیرۂ زقر پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت راکٹ حملوں اور مسلح جنگجوؤں کو لے جانے والی کشتیوں کے ذریعے کیے گئے زمینی حملے کے بعد ممکن ہوئی۔

  3. حوثی فورسز باب المندب سے صرف 75 کلومیٹر دور: عینی شاہدین نے یمن کے بندرگاہی شہر مخا میں کیا دیکھا؟

    Yeman

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنیمن کے دارالحکومت صنعا میں ایک یمنی بچی خالی جیری کینوں سے بھری وہیل بیرو دھکیلتے ہوئے عطیہ کیے گئے ایک آبی نلکے کی جانب جا رہی ہے تاکہ پینے کا پانی حاصل کر سکے

    عینی شاہدین اور عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ یمن کے حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے سٹریٹجک بندرگاہی شہر مخا پر قبضہ کر لیا ہے۔

    مخا پر قبضے کے بعد ایران کا حمایت یافتہ گروہ آبنائے باب المندب سے صرف 75 کلومیٹر دور رہ گیا ہے۔

    آبنائے باب المندب ایک اہم بحری گزرگاہ ہے، جو ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارتی راستے کے جنوبی دروازے کی حیثیت رکھتی ہے۔

    حوثیوں کا کہنا ہے کہ انہیں بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کوئی خطرہ نہیں سمجھا جانا چاہیے، تاہم انہوں نے سعودی عرب سے وابستہ جہازوں کو نشانہ بنانے کی اپنی دھمکی کا اعادہ کیا ہے۔

    ان کے مطابق سعودی عرب اپنی تیل برآمدات کے لیے بحیرۂ احمر کے راستے پر انحصار کر رہا ہے کیونکہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز مؤثر طور پر بند ہو چکی ہے۔

    حوثیوں، یمنی حکومت اور سعودی عرب کے درمیان تنازع میں شدت آنے سے تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق حوثیوں کی جانب سے ایک ہفتہ قبل جنوب مغربی یمن میں شروع کی گئی کارروائیوں کے بعد سے اب تک سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔

    سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے بھی حکومت نواز فورسز کی حمایت میں مغربی یمن میں حوثیوں کے زیر اثر علاقوں پر فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ حوثیوں نے جنوبی سعودی عرب کے شہروں اور تیل کی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

    یمن کے بندرگاہی شہر مخا کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ بدھ کی شب حکومت نواز افواج کے ساتھ شدید جھڑپوں کے بعد حوثی جنگجو شہر میں داخل ہو گئے، جس کے نتیجے میں متعدد خاندان اپنے گھروں کو چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔

    شہر کے رہائشی ایک شخص نے بی بی سی عربی کے پروگرام مڈل ایسٹ لائف لائن کو بتایا کہ ’شہر پر قبضہ اچانک ہوا، کسی قسم کی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی۔ پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جس کے باعث لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔ صورتحال اتنی خراب تھی کہ زخمی افراد سڑکوں پر پڑے تھے اور ان کی مدد کرنے والا کوئی نہیں تھا۔‘

    ایک اور شخص نے بتایا کہ جمعرات کو حوثی جنگجو مخا شہر کی سڑکوں پر گشت کر رہے تھے، جبکہ سرکاری دفاتر اور دکانیں بند تھیں۔

    انہوں نے مزید کہا: ’اس وقت ہمیں نہیں معلوم کہ انصار اللہ (حوثی) کیا کرے گی۔ ہر شخص اپنی سلامتی کے بارے میں خوفزدہ ہے۔‘

    بے گھر ہونے والے بہت سے خاندان مشرق کی جانب شہر عدن کا رخ کر رہے ہیں، جہاں یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ صدارتی کونسل اور حکومت قائم ہیں۔

    ایک خاتون نے بی بی سی عربی کو بتایا ’ہم اپنے بچوں کے ساتھ بھاگ نکلے اور مسلسل دوڑتے رہے۔ ہمارے پاس نہ بستر ہے، نہ گھر اور نہ ہی کوئی سامان۔ ایک گھنٹے کے اندر سب کچھ تباہ ہو گیا۔ انہوں نے ہمیں نہ کوئی موقع دیا اور نہ ہی پہلے سے خبردار کیا تھا۔‘

    ’ہم ایسی خواتین ہیں جن کے پاس اپنا دفاع کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں اور ہمارے ساتھ معصوم بچے بھی ہیں۔‘

    تاہم حوثیوں کی جانب سے مخا پر قبضے کی باضابطہ تصدیق فوری طور پر سامنے نہیں آئی ہے۔

    حوثیوں سے منسلک المسیرہ ٹی وی کے مطابق انصار اللہ کی سپریم پولیٹیکل کونسل نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ ’سعودی دشمن کے حمایت یافتہ دستوں کو باہر نکالنے کے بعد مغربی ساحلی اضلاع میں جھڑپیں ختم ہو گئی ہیں۔‘

    یمنی حکومت کی حامی نیشنل رنزسٹنس فورسز کے سربراہ طارق صالح نے بھی کہا کہ انہوں نے مغربی ساحل پر واقع اپنا کمانڈ سینٹر ایک ’محفوظ مقام‘ پر منتقل کر دیا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ان کی فورسز نے ’حالیہ دنوں میں ایران کی منصوبہ بندی اور حمایت سے ہونے والی حوثیوں کی پیش قدمی کا سامنا کرتے ہوئے بھاری قیمت چکائی ہے۔‘

    Yeman

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    دوسری جانب ایک یمنی فوجی ذریعے نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حوثی جنگجوؤں نے بحیرۂ احمر میں واقع جزیرہ زقر پر بھی قبضہ کر لیا ہے، جو مخا سے تقریباً 80 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔ ان کے مطابق حوثیوں نے راکٹ فائر کیے اور کشتیوں کے ذریعے زمینی حملے کے بعد جزیرے کا کنٹرول حاصل کیا۔

    اس دوران یمنی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد علیمی نے عرب ممالک اور دیگر ریاستوں پر زور دیا کہ وہ یمن کے ساحلی علاقوں کے تحفظ اور ملک پر ریاستی کنٹرول کی بحالی میں مدد فراہم کریں۔

    حوثیوں کی سپریم پولیٹیکل کونسل نے ’(یمن کی) خودمختاری اور علاقائی پانیوں کے دفاع کے اپنے حق‘ پر زور دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری کو یقین دہانی کروائی کہ بحیرۂ احمر میں جہاز رانی بدستور محفوظ ہے۔

    تاہم اس نے یہ بھی واضح کیا کہ سعودی بحری جہازوں پر عائد پابندی بدستور برقرار ہے۔

    حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی جنگی طیاروں نے مغربی صوبوں تعز، الحدیدہ، مأرب اور الجوف میں 64 فضائی حملے کیے۔

    سعودی فوج کی جانب سے فوری طور پر اس دعوے پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

    تاہم یمن میں حوثیوں کے خلاف برسرِ پیکار سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان نے بدھ کی شام کو کہا تھا کہ وہ جنوب مغربی سعودی شہروں خمیس مشیط، ابہا اور جازان پر حوثیوں کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کے ایک سلسلے کا جواب دیں گے۔

    سعودی حکام کے مطابق منگل کو حوثیوں نے جنوبی سعودی عرب پر درجنوں ڈرونز اور میزائل داغے، جس کے نتیجے میں 73 شہری زخمی ہوئے اور کئی تیل تنصیبات میں آگ لگ گئی، جس سے ان کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل ہو گئیں۔

    حوثیوں کا کہنا تھا کہ یہ حملے حالیہ دنوں میں ہونے والی درجنوں سعودی فضائی کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے۔

    ان کارروائیوں میں پیر کے روز صوبہ الجوف کے شہر الحزم میں واقع ایک جیل پر حملہ بھی شامل تھا، جس کے بارے میں حوثیوں کا دعویٰ ہے کہ اس میں کم از کم 23 شہری ہلاک ہوئے۔

    سعودی قیادت میں قائم اتحاد ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے یمن کی تباہ کن خانہ جنگی میں حوثیوں کے خلاف یمنی حکومت کی حمایت کرتا آ رہا ہے۔

    چار سال سے جاری غیر رسمی جنگ بندی جولائی میں کمزور پڑنا شروع ہوئی، جب حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف ’بحری پابندی‘ کا اعلان کیا اور سعودی ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور بحیرۂ احمر میں موجود آئل ٹینکروں پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کر دیے۔

    حوثیوں کا کہنا تھا کہ وہ اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں کی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر سعودی پابندیوں کے ساتھ ساتھ صنعا ہوائی اڈے پر ہونے والے ایک فضائی حملے کا جواب دے رہے ہیں، جس کا الزام انہوں نے سعودی عرب پر عائد کیا۔

  4. یمن میں ’کھلی جنگ‘: علیحدگی پسند تنظیم کا حوثیوں کا مقابلہ کرنے اور آبنائے باب المندب کا تحفظ کرنے کا اعلان

    Yeman

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یمن میں علیحدگی پسند مسلح تنظیم ساؤدرن ٹرانزشنل کونسل (ایس ٹی سی) کا کہنا ہے کہ وہ سعودی عرب کی حمایت یافتہ سرکاری فورسز اور حوثیوں کے درمیان لڑائی کا حصہ نہیں بنیں گے۔

    ایس ٹی سی سے منسلک فورسز پہلے ہی الضالع اور لحج صوبوں کے جنوبی محاذ پر حوثیوں کے خلاف لڑ رہی ہیں۔

    تاہم ایس ٹی سی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ حوثیوں کا مقابلہ کرنے، آبنائے باب المندب اور بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے راستوں کے تحفظ کے لیے بدستور پُرعزم ہے۔

    یمن میں تین ستمبر کے بعد سے شدید ترین لڑائی اس وقت دیکھنے میں آئی جب حوثیوں نے بندرگاہی شہر مخاکی جانب زمینی کارروائی شروع کی۔

    اس حملے کے نتیجے میں متعدد محاذوں پر جنگ چھڑ گئی اور حکومتی افواج نے ملک بھر میں نئے محاذ کھول دیے۔

    باغیوں نے 10 ستمبر کو مخا پر قبضہ کر لیا اور آبنائے باب المندب کے مزید قریب پہنچ گئے۔ ایران جنگ کے دوران سعودی تیل کی ترسیل کے لیے یہ ایک اہم بحری راستہ بن گیا ہے۔

    حکومت نے اس نئی لڑائی کو ’کھلی جنگ‘ قرار دیا ہے، جس کا مقصد چار سالہ غیر رسمی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد پورے ملک پر ریاستی کنٹرول بحال کرنا ہے۔

  5. آبنائے باب المندب کو لاحق خطرہ براہ راست عالمی تجارت کو متاثر کرے گا: یمنی صدارتی کونسل

    Yeman

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یمنی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد محمد علیمی نے کہا ہے کہ ایران حوثیوں کو آبنائے باب المندب اور بحیرۂ احمر میں اثر و رسوخ قائم کرنے کی صلاحیت فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق علیمی کا کہنا تھا کہ ’باب المندب کے گرد و نواح میں عسکری صورتحال کو تبدیل کرنے کی کوشش کو یمن کا محض داخلی معاملہ نہیں سمجھا جا سکتا۔‘

    ’باب المندب کو لاحق کوئی بھی خطرہ براہِ راست بحیرۂ احمر، نہرِ سویز اور عالمی تجارت کو متاثر کرے گا۔‘

    یمنی صدارتی کونسل کے سربراہ کے مطابق یمن کے ساحلی علاقوں کا تحفظ اور ملک کی سرزمین اور آبی گزرگاہوں پر حکومت کی خودمختاری کی بحالی ’ایک مشترکہ بین الاقوامی مفاد‘ ہے۔

  6. بلوچستان حکومت نے ’غیر حاضری‘ پر 25 خواتین ڈاکٹروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا

    ْبلوچستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بلوچستان حکومت نے ’غیر حاضری‘ پر 25 خواتین ڈاکٹروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔

    محکمہ صحت کی جانب سے جاری ہونے والے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق ان تمام خواتین میڈیکل آفیسرز کو جان بوجھ کر ملازمت سے غیر حاضری کی بنیاد پر ملازمت سے ہٹا دیا گیا۔

    ان ڈاکٹروں میں سے 17 کی ملازمت کوئٹہ میں تھی جبکہ باقی خواتین ڈاکٹروں کی تعیناتی دیگر علاقوں میں تھی۔

    محکمہ صحت کے ایک اور نوٹیفیکیشن کے مطابق محکمہ صحت کے پانچ ملازمین کو دہری ملازمت کی بنیاد پر ملازمت سے برطرف کردیا گیا ہے۔

    دہری ملازمت کی بنیاد پر برطرف کیئے جانے والوں میں ایک خاتون سمیت چار میڈیکل آفیسرز شامل ہیں۔

    دوسری جانب ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان نے محکمہ صحت کی جانب سے 25 خواتین میڈیکل آفیسرز کو ’نامکمل اور متضاد انتظامی ریکارڈ‘ کی بنیاد پر ملازمت سے برطرف کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ’یہ امر انتہائی افسوسناک اور محکمہ صحت کی انتظامی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ محکمہ اپنے ہی ڈاکٹرز کی پوسٹنگ، تعیناتی اور حاضری سے متعلق بنیادی ریکارڈ درست رکھنے میں ناکام رہا ہے، لیکن اپنی اس نااہلی اور ناقص نظام کا ملبہ ان ڈاکٹرز پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘

  7. پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ

    پاکستان کی حکومت نے ایک بار پھر پیٹرول اور ڈیزی کی فی لیٹر قیمت میں اضافہ کر دیا ہے۔

    پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کر دہ نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں پانچ روپے 37 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی فی لیٹر قیمت 398 روپے چار پیسے ہو گئی ہے۔

    اس کے علاوہ پیٹرول کی قیمت میں تین روپے پانچ پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 370 روپے 80 پیسے پر پہنچ گئی ہے۔

  8. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • عینی شاہدین اور عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ یمن کے حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے سٹریٹجک بندرگاہی شہر مخا پر قبضہ کر لیا ہے۔ مخا پر قبضے کے بعد ایران کا حمایت یافتہ گروہ آبنائے باب المندب سے صرف 75 کلومیٹر دور رہ گیا ہے۔
    • عینی شاہدین اور عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ یمن کے حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے سٹریٹجک بندرگاہی شہر مخا پر قبضہ کر لیا ہے۔
    • مخا پر قبضے کے بعد ایران کا حمایت یافتہ گروہ آبنائے باب المندب سے صرف 75 کلومیٹر دور رہ گیا ہے۔
    • پاکستان کی حکومت نے ایک بار پھر پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں اضافہ کر دیا ہے۔
    • بلوچستان حکومت نے ’غیر حاضری‘ پر 25 خواتین ڈاکٹروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔
    • آبنائے باب المندب کو لاحق خطرہ براہ راست عالمی تجارت کو متاثر کرے گا: یمنی صدارتی کونسل
    • یمن میں ’کھلی جنگ‘: علیحدگی پسند تنظیم کا حوثیوں کا مقابلہ کرنے اور آبنائے باب المندب کا تحفظ کرنے کا اعلان
    • یمن میں ’کھلی جنگ‘: علیحدگی پسند تنظیم کا حوثیوں کا مقابلہ کرنے اور آبنائے باب المندب کا تحفظ کرنے کا اعلان
  9. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔