عقل داڑھ کا اصل کام کیا اور اس کے نکلنے سے درد کیوں ہوتا ہے؟

مسوڑھوں کی بیماری، دانتوں کے سڑنے، ڈینٹل پلاک، عقل داڑھ اور پیریوڈونٹائٹس کی السٹریشن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, مریم سلطانہ
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

بچے جب چند ماہ کے ہوتے ہیں تو ان کا پہلا دانت نکلتا ہے اور نو عمری تک پہنچتے پہنچتے ان کے تقریباً تمام پکے دانت نکل آتے ہیں، تاہم منھ کے بالکل پچھلے حصے میں موجود چند داڑھیں سب سے آخر میں نکلتی ہیں۔ عموماً اس وقت جب کوئی شخص بالغ عمر کے قریب پہنچ رہا ہوتا ہے۔

پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش کی مقامی زبان میں ان دانتوں کو ’عقل داڑھ ‘ کہا جاتا ہے، جو اس تصور پر مبنی ہے کہ انسان کی عقل اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت عمر کے ساتھ ترقی کرتی ہے۔ لفظ عقل کا مطلب سوجھ بوجھ یا فہم و فراست ہے۔

اسی وجہ سے انگریزی میں اسے ’وزڈم ٹوتھ‘ کہا جاتا ہے۔ طبی اصطلاح میں اسے ’تھرڈ مولر‘ یا تیسری داڑھ کہا جاتا ہے۔

یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ یہ دانتوں کی قطار میں تیسری داڑھ ہوتی ہے۔

تاہم ہر شخص کی عقل داڑھیں نہیں نکل پاتیں۔ بعض لوگوں میں اگر یہ موجود ہوں بھی تو ان سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا، جبکہ بعض دیگر افراد کے لیے یہ درد اور تکلیف کا باعث بن سکتی ہیں۔

لیکن عقل داڑھیں اتنی دیر سے کیوں نکلتی ہیں؟ دانت نکلتے وقت درد کیوں ہوتا ہے؟ یہ کس عمر تک نکل سکتی ہیں، اور اگر درد ہو تو کیا دانت نکلوانا ہی واحد حل ہے؟

ایک نوجوان درد کے باعث ہاتھ سے اپنا گال دبا رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تاہم ہر شخص کی عقل داڑھیں نہیں نکل پاتیں۔ بعض لوگوں میں اگر یہ موجود ہوں بھی تو ان سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا، جبکہ بعض دیگر افراد کے لیے یہ درد اور تکلیف کا باعث بن سکتی ہیں۔

لیکن عقل داڑھیں اتنی دیر سے کیوں نکلتی ہیں؟ دانت نکلتے وقت درد کیوں ہوتا ہے؟ یہ کس عمر تک نکل سکتی ہیں، اور اگر درد ہو تو کیا دانت نکلوانا ہی واحد حل ہے؟

عقل داڑھ نکلنے کی درست عمر

ایک بالغ انسان کے عموماً 32 دانت ہوتے ہیں۔

ان میں منھ کے اوپری اور نچلے جبڑوں کے دونوں اطراف بالکل آخر میں ہر کونے پر ایک، ایک کر کے مجموعی طور پر چار عقل داڑھیں ہو سکتی ہیں۔ تاہم ہر شخص میں چاروں عقل داڑھیں موجود نہیں ہوتیں۔

کسی کے ایک، دو یا تین دانت ہو سکتے ہیں، جبکہ کسی کے ایک بھی نہیں ہو سکتے۔

امریکہ کی امریکن ڈینٹل ایسوسی ایشن کے مطابق عموماً 17 سے 21 سال کی عمر کے درمیان عقل داڑھ نکلنا شروع ہوتی ہے۔

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کا کہنا ہے کہ یہ دانت عموماً نوعمری کے آخری برسوں سے لے کر 25 سال کی عمر کے درمیان نکلتے ہیں۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایک مخصوص عمر گزر جانے کے بعد عقل داڑھ نہیں نکلے گی۔ بعض افراد میں عقل داڑھ بعد کی عمر میں بھی نکل سکتی ہے۔

ہمارے پاس عقل داڑھ کیوں ہوتی ہے؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اگر عقل داڑھ مسوڑھوں میں درست جگہ پر نکلے تو یہ منھ کے پچھلے حصے کو سہارا دینے اور جبڑے کی ہڈی کو محفوظ رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔

تاہم عمومی طور پر دیکھا جائے تو عقل داڑھ کی درحقیقت زیادہ ضرورت نہیں رہ گئی۔ بلکہ بیشتر طبی ماہرین انھیں ایک غیر فعال باقی ماندہ عضو (ویسٹیجیئل) سمجھتے ہیں۔ یعنی ماضی میں ان کا ایک مخصوص کام تھا، لیکن اب وہ اہمیت باقی نہیں رہی۔

امریکہ کے کلیولینڈ کلینک کے مطابق ہمارے آباؤ اجداد کی ابتدائی خوراک میں بڑی مقدار میں کچے پودے، سخت گریاں اور سخت و ریشے دار گوشت شامل ہوتا تھا۔ ان غذاؤں کو چبا کر ہضم کے قابل بنانے میں عقل داڑھ اہم کردار ادا کرتی تھی۔

آج کے دور میں خوراک تیار کرنے کے جدید طریقوں اور کھانے کے مختلف آلات نے عقل داڑھ کی ضرورت کو بڑی حد تک ختم کر دیا ہے۔ خوراک کی عادات میں اس تبدیلی کے ساتھ مطابقت پیدا کرتے ہوئے ہمارے جسم میں بھی کچھ معمولی ارتقائی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔

مثال کے طور پر ہمارے جبڑے پہلے کے مقابلے میں چھوٹے ہو گئے ہیں۔ اسی وجہ سے بہت سے لوگوں کے منھ میں عقل داڑھ نکلنے کے لیے کافی جگہ موجود نہیں ہوتی۔

عام طور پر انسان کی چار عقل داڑھیں ہوتی ہیں لیکن ضروری نہیں کہ یہ ہمیشہ چاروں نکلیں۔ ہر 10 افراد میں تقریباً آٹھ کے ہاں کم از کم ایک عقل داڑھ نہیں نکلتی۔

تاہم کسی بھی عقل داڑھ کا نہ نکلنا یا چاروں کا نکل آنا، دونوں ہی معمول کی مختلف صورتیں ہیں۔

ایک خاتون اپنی متاثرہ عقل داڑھ کو پکڑے ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

عقل داڑھ نکلنے پر درد کیوں ہوتا ہے؟

اگر عقل داڑھ دیگر دانتوں کی طرح معمول کے مطابق اور مناسب جگہ کے ساتھ نکلے تو عموماً کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔ تاہم اس دانت کے نکلنے کے دوران ہلکی سی تکلیف یا بے آرامی محسوس ہو سکتی ہے۔

عقل داڑھ بنیادی طور پر جگہ کی کمی کی وجہ سے مسائل پیدا کرتی ہے۔

یہ دانت مسوڑھوں کے بالکل آخری حصے میں نکلتا ہے۔ اگر وہاں دانت کے نکلنے کے لیے کافی جگہ نہ ہو تو یہ ساتھ والے دانت کی طرف جھک سکتا ہے یا پھر جزوی یا مکمل طور پر مسوڑھے یا جبڑے کی ہڈی میں پھنسا رہ سکتا ہے۔

ایسے دانت کو ’امپیکٹڈ وزڈم ٹوتھ‘ یا پھنسی ہوئی عقل داڑھ کہا جاتا ہے۔

اگر جزوی طور پر نکلے ہوئے دانت کے اوپر مسوڑھے کا کچھ حصہ باقی رہ جائے تو وہاں خوراک کے ذرات اور بیکٹیریا جمع ہو سکتے ہیں۔ اس سے دانت کے اردگرد موجود مسوڑھے میں سوزش یا انفیکشن ہو سکتا ہے، جسے ’پیریکورونائٹس‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دانت میں کیڑا بھی لگ سکتا ہے۔

جزوی طور پر نکلے ہوئے دانت کے اردگرد صفائی کرنا مشکل ہونے کی وجہ سے بعض صورتوں میں عقل داڑھ کے اطراف سیال جمع ہو کر سسٹ یا ایبسس (پیپ جمع ہونے) کا سبب بن سکتا ہے۔

امریکہ کے طبی و تحقیقی ادارے مایو کلینک کے مطابق امپیکٹڈ دانت ساتھ والے دانتوں کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

اس صورتِ حال میں درد کے علاوہ مسوڑھے سوج سکتے ہیں اور منھ کھولنے یا چبانے میں دشواری ہو سکتی ہے۔ تاہم اگر عقل داڑھ درست طریقے سے نکلے تو یہ خوراک چبانے میں مدد دیتی ہے۔

انسان کے ہر جبڑے میں عموماً تین داڑھیں یا پچھلے چبانے والے دانت ہوتے ہیں۔

سامنے سے پیچھے کی جانب یہ پہلا مولر، پھر دوسرا مولر اور اس کے بعد تیسرا مولر ہوتا ہے۔ سب سے آخر میں موجود تیسرا مولر ہی وزڈم ٹیتھ یا عقل داڑھ کہلاتا ہے۔

کئی بار دانت باہر سے نظر نہ آنے کے باوجود ایکس رے کے ذریعے اس کی پوزیشن کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔

ڈھاکہ کے دندان ساز ڈاکٹر اے کے ایم حسان الزمان کے مطابق اگر دانت کی پوزیشن درست ہو اور اس کے نکلنے کے لیے کافی جگہ موجود ہو تو عقل داڑھ ایک سے دو سال کے اندر معمول کے مطابق نکل سکتی ہے۔ اس عرصے کے دوران ہر چند ماہ بعد درد ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق عقل داڑھ نکلنے کے دوران مریضوں کی بڑی شکایات درد اور سوجن ہوتی ہیں، جبکہ بہت سے لوگوں کو منھ مکمل طور پر کھولنے میں بھی مشکل پیش آتی ہے۔

اگر مسوڑھوں کے انفیکشن کا طویل عرصے تک علاج نہ کیا جائے تو شاذ و نادر صورتوں میں یہ منھ اور گلے کے مختلف حصوں تک پھیل کر سنگین انفیکشن کا باعث بن سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اس وقت سانس لینے یا کھانا کھانے میں مشکل پیش آتی ہے اور اگر حالت سنگین ہو جائے تو مریض کو ہسپتال میں داخل کرنا پڑتا ہے۔ بہت سے معاملات میں آخرکار نوبت سرجری تک پہنچ جاتی ہے۔‘

مسوڑھوں اور دانتوں کی بیماریوں کی تھری ڈی رینڈرنگ۔ تصویر میں عقل داڑھ، مسوڑھے، خون اور جنجیوائٹس یعنی مسوڑھوں کی سوزش کو دکھایا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

درد ہونے پر کیا کرنا چاہیے اور کیا عقل داڑھ نکلوانا ضروری ہے؟

ڈاکٹرز کے مطابق عقل داڑھ میں درد ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ اسے لازماً نکلوانا پڑے گا۔

این ایچ ایس کے مطابق اگر عقل داڑھ کوئی مسئلہ پیدا نہ کر رہی ہو تو عموماً اسے نہیں نکالا جاتا۔ اس کے بجائے دانتوں کے باقاعدہ معائنے کے ذریعے اس کی حالت پر نظر رکھی جاتی ہے۔

تاہم اگر بار بار مسوڑھوں میں انفیکشن ہو، شدید درد ہو، دانت خراب ہو جائے، ساتھ والے دانت کو نقصان پہنچنے لگے یا سسٹ یا پھوڑے جیسی پیچیدگیاں پیدا ہوں تو ڈاکٹر اسے نکلوانے کا مشورہ دے سکتے ہیں۔

عموماً دانت نکالنے سے پہلے مسوڑھے میں لوکل اینستھیٹک کا انجیکشن لگایا جاتا ہے، جس سے متعلقہ حصہ سن ہو جاتا ہے تاکہ دانت نکالتے وقت درد محسوس نہ ہو۔

مریض کو آرام دہ حالت میں رکھنے کے لیے سیڈیشن بھی دی جا سکتی ہے۔ اگر دانت نکالنا پیچیدہ ہو یا مریض بہت زیادہ گھبراہٹ کا شکار ہو تو جنرل اینستھیزیا دیا جاتا ہے، جس کے بعد مریض سویا رہتا ہے۔

عقل داڑھ نکالنے کے بنیادی مراحل یہ ہیں،

  • اگر دانت مسوڑھے کے نیچے چھپا ہوا ہو تو ڈاکٹر پہلے مسوڑھے میں ایک چھوٹا سا کٹ لگاتے ہیں۔
  • اس کے بعد ضرورت کے مطابق دانت کے اردگرد موجود جگہ کو کشادہ کیا جاتا ہے۔
  • پھر دانت کو ایک ہی ٹکڑے میں نکالا جاتا ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر اسے دو یا تین حصوں میں بھی نکالا جا سکتا ہے۔
  • آخر میں مسوڑھے پر ایسے ٹانکے لگائے جاتے ہیں جو بعد میں خود بخود تحلیل ہو جاتے ہیں۔

عام طور پر یہ پورا عمل چند منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے اور این ایچ ایس کے مطابق عقل داڑھ نکالنے میں 40 منٹ سے زیادہ وقت نہیں لگتا۔

زیادہ تر مریض اسی روز گھر جا سکتے ہیں، تاہم اگر جنرل اینستھیزیا دیا گیا ہو تو مریض کی حالت دیکھتے ہوئے بعض اوقات ایک رات ہسپتال میں قیام کرنا پڑ سکتا ہے۔

دانت نکالنے کے عمل کی علامتی تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دانت نکلوانے کے بعد صحت یاب ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے؟

عقل داڑھ نکلوانے کے بعد عموماً اگلے ہی دن معمول کی روزمرہ سرگرمیوں میں واپس آیا جا سکتا ہے۔

تاہم اگر دانت نکالنے کا عمل پیچیدہ ہو یا جنرل اینستھیزیا دیا گیا ہو تو ایک سے تین دن تک آرام کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

عام طور پر دانت نکلوانے کے بعد دو ہفتوں تک کچھ مسائل برقرار رہ سکتے ہیں، مثلاً معمولی درد اور سوجن، جو ایک یا دو دن بعد کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اسی طرح گال پر نیل یا سیاہ نشان پڑ سکتے ہیں، جبڑے میں درد اور اکڑاؤ محسوس ہو سکتا ہے۔ کھانا چبانے اور نگلنے میں بے آرامی ہو سکتی ہے۔

اگر دانت نکالنے کے بعد ٹانکے لگائے گئے ہوں تو عموماً وہ خود ہی تحلیل ہو جاتے ہیں۔ دانت نکلوانے کے بعد زخم کی جگہ پر خون کا لوتھڑا (بلڈ کلاٹ) بنتا ہے، جو زخم بھرنے میں مدد دیتا ہے۔

دانت نکلوانے کے بعد ابتدائی چند دنوں میں جلد اور بہتر صحت یابی کے لیے ڈاکٹرز درج ذیل احتیاطیں تجویز کرتے ہیں۔

  • درد کم کرنے کے لیے ڈاکٹر کے مشورے سے پیراسیٹامول یا آئبوپروفین استعمال کی جا سکتی ہے۔
  • جب تک معمول کے مطابق چبانا آسان نہ ہو جائے، نرم یا مائع غذا کھانا بہتر ہے۔
  • ماؤتھ واش یا نیم گرم نمک والے پانی سے نرمی کے ساتھ کلی کر کے زخم کو صاف رکھنا چاہیے۔

ڈاکٹرز کے مطابق دیگر دانتوں کی احتیاط سے صفائی کریں، لیکن زخم والی جگہ سے گریز کریں تاکہ ٹانکے یا بننے والا بلڈ کلاٹ متاثر نہ ہو۔

خون بہنے کی صورت میں صاف کپڑے یا روئی سے کم از کم 10 منٹ تک اس جگہ کو دبا کر رکھیں۔

دوسری جانب ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ جنرل اینستھیزیا کے بعد 48 گھنٹے تک اور سکون آور انجیکشن (سیڈیٹو انجیکشن) کے بعد 24 گھنٹے تک گاڑی نہ چلائیں۔

سخت، کرکری یا ایسے کھانوں سے پرہیز کریں جن کے ذرات زخم میں پھنس سکتے ہوں، جیسے میوہ جات یا بیج۔ ڈاکٹرز تمباکو نوشی نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ اس سے ان کے مطابق انفیکشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

اگرچہ عقل داڑھ نکلوانا ایک نسبتاً آسان عمل ہے، لیکن بعض پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، مثلاً

ڈرائی ساکٹ: دانت نکلنے کے بعد بننے والے خالی حصے میں عام طور پر خون کا لوتھڑا بنتا ہے۔ اگر یہ صحیح طور پر نہ بنے یا زخم بھرنے سے پہلے اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو شدید درد ہو سکتا ہے، جسے ڈرائی ساکٹ کہا جاتا ہے۔

انفیکشن: زخم کی جگہ پر انفیکشن ہو سکتا ہے، جس کے علاج کے لیے اینٹی بائیوٹکس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

اعصابی نقصان: اگر دانت کے قریب موجود اعصاب متاثر ہوں تو زبان، ہونٹ یا ٹھوڑی میں سن ہونے یا جھنجھناہٹ کا احساس ہو سکتا ہے۔ عموماً یہ کیفیت وقت کے ساتھ بہتر ہو جاتی ہے، لیکن بعض اوقات کئی ہفتوں یا مہینوں تک برقرار رہ سکتی ہے۔