ایف آئی اے کا اسلام آباد سے ’500 کلوگرام انسانی پلیسینٹا‘ برآمد کرنے کا دعویٰ: حمل کے دوران بننے والے عضو کی قیمت کیا ہے اور یہ کہاں استعمال ہوتا ہے؟

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, اسد صہیب، شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 11 منٹ

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسلام آباد میں ’اپنی نوعیت کی پہلی کارروائی‘ کرتے ہوئے مبینہ طور پر 500 کلوگرام انسانی پلیسینٹا برآمد کیا ہے اور انسانی اعضا کی غیرقانونی فروخت میں ملوث ہونے کے الزام میں تین چینی شہریوں سمیت پانچ افراد کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے انھیں گرفتار کر لیا ہے۔

’پلیسینٹا‘ حمل کے دوران رحمِ مادر میں تشکیل پانے والی عضو ہے اور یہ امبیلکل کارڈ (نال) کے ذریعے جنین (بچے) سے جڑا ہوتا ہے۔ پلیسینٹا بچے کو آکسیجن اور غذائی اجزا فراہم کرتا ہے اور بچے کے خون سے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔

ایف آئی اے کی جانب سے درج ہونے والی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ملزمان مبینہ باہمی ملی بھگت کے ساتھ انسانی پلیسنٹا کو ’بھیڑ کا پلیسنٹا‘ ظاہر کر کے اسے تجارتی مقصد کے لیے بیرون ملک بھیجتے تھے۔

ایف آئی آر کے مطابق برآمد ہونے والے پلیسنٹا کے نمونے مزید کارروائی کے لیے پمز بھجوائے گئے ہیں۔ ایف آئی اے کے مطابق گرفتار پانچوں ملزمان کا جمعہ کے روز ایک مقامی عدالت سے چار روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے جس کے بعد اب ان سے تفتیش جاری ہے۔

ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی (ہوٹا) کی مانیٹرنگ آفیسر حنا کنول نے بی بی سی اُردو کو بتایا پمز نے یہ نمونے اکٹھے کر کے پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی لاہور کو بھجوا دیے ہیں تاہم ابھی تک حتمی رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔

تاہم ایف آئی اے کی جانب سے اس کیس کی تفتیش پر معمور ایک افسر اور ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی کی آفیسر حنا کنول کا دعویٰ ہے کہ برآمد ہونے والا انسانی پلیسینٹا ہی ہے جو ملزمان مبینہ طور پر مختلف ہسپتالوں سے پیسوں کے عوض اکٹھا کرتے تھے۔

ایف آئی اے نے یہ کارروائی ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی (ہوٹا) کے ساتھ مل کر اسلام آباد کے دو سیکٹرز میں کی ہے اور اس کا مقدمہ ’ہوٹا‘ کی ایک عہدیدار کی مدعیت میں تین چینی اور دو پاکستانی شہریوں کے خلاف درج کر لیا گیا ہے۔

جبکہ تین مزید زیرِ حراست افراد (بشمول ایک چینی شہری) کے اس معاملے میں ملوث ہونے یا نہ ہونے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

تفتیش سے منسلک ایف آئی اے کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ’اس سے قبل ایف آئی اے ماضی میں اعضا کی غیرقانونی پیوندکاری کے خلاف متعدد کارروائیاں کرتی رہی ہے، لیکن یہ انسانی پلیسینٹا کی فروخت اور اس میں ایک بین الاقوامی گروہ کے ملوث ہونے کا ملک میں پہلا کیس ہے۔‘

ایف آئی اے کے عہدیدار نے تصدیق کی کہ ان کارروائیوں میں ’500 کلوگرام انسانی پلیسینٹا برآمد کیا گیا ہے۔‘

انسانی پلیسینٹا کیا ہوتا ہے، اس کی مالیت بین الاقوامی مارکیٹ میں کتنی ہے، اور یہ کن مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے؟ اِن سوالات کے جوابات دینے سے قبل یہ جان لیتے ہیں کہ اس مقدے کی ایف آئی آر میں کیا بتایا گیا ہے۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمادر رحم میں پلیسنٹا کی تشکیل حمل ٹھہرنے کے ساتھ ہی شروع ہو جاتی ہے

اسلام آباد میں دو مقامات پر چھاپے

اس کیس کی ایف آئی آر کے مطابق ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی (ہوٹا) کو اسلام آباد کے سیکٹر ایف-7 میں انسانی اعضا اور ٹشوز کے کاروبار اور فروخت کی سرگرمیوں کے حوالے سے معلومات موصول ہوئی تھیں، جس پر 24 جون (بدھ) کو علاقے میں موجود ایک نجی رہائش گاہ پر مشترکہ چھاپہ مارا گیا۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق چھاپے کے دوران معلوم ہوا کہ اس گھر کو ’انسانی پلیسینٹا محفوظ کرنے اور اسے پروسیس کرنے کی ایک فیسیلیٹی میں تبدیل کر دیا گیا۔‘

ایف آئی آر کے مطابق اس کارروائی کے دوران مبینہ طور پر اس کاروبار میں ملوث ہونے کے الزام میں تین چینی شہریوں اور دو پاکستانی شہریوں کو حراست میں لیا گیا۔

ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ گرفتار کیے گئے ایک چینی شہری سے پوچھ گچھ کے دوران معلوم ہوا کہ سیکٹر ای 11 میں واقع ایک اور مقام پر بھی یہی کام ہو رہا ہے، جس کے بعد وہاں فوراً کارروائی کی گئی اور وہاں سے ’متعدد کنٹینرز اور ریفریجریٹرز میں بڑی تعداد میں پلیسینٹا برآمد ہوا۔‘

ایف آئی آر کے متن کے مطابق اس گھر سے بھی دو پاکستانی شہریوں کو حراست میں لیا گیا، جن کے اس معاملے میں ملوث ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق ان تمام لوگوں کے علاوہ ایک اور چینی شہری کو بھی حراست میں لیا گیا ہے، جس کے اس معاملے میں کردار کی تفتیش جاری ہے۔

یہ ایف آئی آر انسانی اعضا و ٹشوز ٹرانسپلانٹیشن ایکٹ 2010 کی دفعات 11 اور 12 (انسانی اعضا کا تجارتی مقاصد کے لیے استعمال) سمیت، پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 109 کے تحت درج کی گئی ہے۔ ان دفعات کے تحت جرم ثابت ہونے پر دس سال تک قید کی سزا اور دس لاکھ تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

تفتیش میں کیا سامنے آیا؟

حکام کے مطابق انسانی پلیسنٹا کو سٹور کرنے کے لیے گھر میں خصوصی انتظامات کیے گئے تھے

،تصویر کا ذریعہFIA

،تصویر کا کیپشنحکام کے مطابق انسانی پلیسنٹا کو سٹور کرنے کے لیے گھر میں خصوصی انتظامات کیے گئے تھے
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ایف آئی اے کے مطابق انھوں نے اس معاملے کی تفتیش کے لیے ایک ٹیم تشکیل دے دی ہے۔

تفتیش سے منسلک ایک اہلکار نے بی بی سی کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں بتایا کہ ’ایف آئی اے اس سے قبل غیر قانونی انسانی اعضا کی پیوندکاری کے خلاف متعدد کارروائیاں کر چکی ہے، تاہم یہ پہلا معاملہ ہے جس میں انسانی پلیسنٹا کی بین الاقوامی سطح پر تجارت کرنے والے ایک منظم نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے، اور چھاپے کے دوران 500 کلوگرام سے زائد پلیسنٹا برآمد کیا گیا۔ تحقیقات میں پیش رفت کے ساتھ مزید تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔‘

اس حوالے سے ایف آئی اے کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’ملزمان کے قبضے سے پراسیسنگ کے آلات اور تیار شدہ مال برآمد کر لیا گیا۔‘

دوسری جانب ’ہوٹا‘ کی مانیٹرنگ آفیسر حنا کنول نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ ملزمان مبینہ طور پر اسلام آباد اور راولپنڈی کے ہسپتالوں سے 800 روپے فی پلیسینٹا خریدتے تھے اور جو مبینہ انسانی پلیسنٹا برآمد کیا گیا ہے وہ بیرونِ ملک سمگل کیا جانا تھا۔

حنا کنول کے بقول ایف آئی اے کا دعویٰ ہے کہ برآمد ہونے والے پلیسینٹا کی مالیت کروڑوں روپوں میں ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ملزمان کا پہلے اصرار تھا کہ یہ انسانی نہیں بلکہ بھیڑ کا پلیسینٹا ہے جسے وہ کمرشل بنیادوں پر استعمال کے لیے بیرونِ ملک بھجوانا چاہتے تھے۔ تاہم اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ دورانِ تفتیش ملزمان نے اعتراف کیا کہ یہ انسانی پلیسینٹا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستانی قانون کے مطابق دوران تفتیش اعترافی بیان کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی جب تک کہ عدالت کے سامنے ایسا بیان نہ دے دیا جائے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ اس حوالے سے حتمی رپورٹ کے لیے نمونے لیبارٹری بھیجے گئے ہیں۔

انسانی پلیسینٹا کیا ہوتا ہے؟

پمز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبرآمد ہونے والے پلیسنٹا کے نمونے مزید جانچ کے لیے پمز ہسپتال بھیجے گئے ہیں

امریکہ کے مایو کلینک کے مطابق پلیسینٹا ایک عضو ہے، جو حمل کے دوران رحم مادر میں بنتا ہے، جو ایک نلکی، جسے امبیلکل کارڈ (نال) کہا جاتا ہے، کے ذریعے بچے سے جڑا ہوتا ہے۔

'اسی نال کے ذریعے پلیسینٹا بچے کو آکسیجن اور غذائی اجزا فراہم کرتا ہے اور بچے کے خون سے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔'

مایو کلینک کے مطابق بچے کی قدرتی پیدائش (نارمل ڈیلیوری) کی صورت میں تھوڑی دیر بعد پلیسینیٹا بھی اِسی راستے سے خارج ہو جاتا ہے اور اسے زچگی کا تیسرا مرحلہ کہا جاتا ہے، اور اگر بچے کی پیدائش آپریشن یا سی سیکشن کے ذریعے ہو، تو اس صورت میں ڈاکٹر اسی عمل کے دوران پلیسینٹا کو بھی رحم مادرسے نکال دیتے ہیں۔

گائناکالوجسٹ ڈاکٹر صدف طارق کے مطابق پلیسینٹا جینیاتی طور پر جنین (فیٹس) کی ہی ایک ایکسٹینشن ہوتی ہے۔

’یہ انسانی جسم کا ایک عارضی عضو ہے جو ماں اور جنین کے درمیان رابطے کے لیے قدرتی طور پر ترتیب پاتا ہے اور پیدائش کے وقت اسے ضائع کر دیا جاتا ہے کیونکہ اس کے بعد یہ غیر ضروری ہو جاتا ہے۔‘

جسم سے نکالا جانے والا پلیسنٹا کہاں جاتا ہے؟

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن’قواعد و ضوابط کے تح بچے کی پیدائش کے بعد خارج ہونے والے پلیسنٹا کو 24 گھنٹوں کے اندر تلف کرنا ضروری ہوتا ہے‘

ڈاکٹر صدف طارق کے مطابق ’بچے کی پیدائش کے بعد پلیسینٹا ایک پیتھیلوجیکل ویسٹ (کچرا) بن جاتا ہے اور اس کو پنجاب ہاسپیٹل منیجمنٹ رولز اور نیشنل بائیو سیفٹی فریم ورک کے تحت ڈیل کیا جاتا ہے۔ پلیسینٹا انتہائی متعدی (انفیکشئس) طبی فضلہ ہوتا ہے کیونکہ یہ ماں اور جنین کے درمیان سارے انفیکشنز کا بیریئر (رکارٹ) ہوتا ہے۔ اس لیے اس طبی فضلے کو قواعد و ضوابط کے تحت ہی ٹھکانے لگایا جاتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ آپریشن تھیٹر یا لیبر روم میں بچے کی پیدائش کے فوری بعد پلیسینٹا کو علیحدہ کر کے پیلے رنگ کے بائیو ہیزڈ ویسٹ بیگ میں ڈال دیا جاتا ہے۔

’یہ لیک پروف کنٹینر ہوتا ہے اور اس نوعیت کے فضلے کو محفوظ کرنے کے لیے خصوصی طور پر بنایا گیا ہوتا ہے۔ اس کنٹینر کو دوسرے طبی فضلے کے کنٹینرز سے علیحدہ رکھا جاتا ہے۔ یہ عمل مکمل ہونے کے بعد بیگ کو مضبوطی سے بند کر کے نشان زدہ کیا جاتا ہے کہ اس میں پلیسنیٹا موجود ہے۔‘

’اس کے بعد لیبر روم یا آپریشن تھیٹر سے اسے ہسپتال کے سینٹرل کولنگ سٹوریج روم میں منتقل کیا جاتا ہے اور اس کا مقصد اس کو گلنے سڑنے اور بدبو سے بچانا ہوتا ہے۔‘

انھوں نے وضاحت کی کہ رائج قواعد و ضوابط کے مطابق اس کی بالکل اجازت نہیں کہ پلیسینٹا کو نکالے جانے کے بعد 24 گھنٹے سے زیادہ سٹوریج میں رکھا جائے۔

’اس کے بعد تمام پیتھالوجیکل ویسٹ جیسا کہ پلیسینٹا کو معیاری طبی طریقۂ کار 'انسینریشن' (جلانا یا نذر آتش کرنا) کے عمل کے ذریعے تلف کر دیا جاتا ہے۔ چاہے سرکاری ہسپتال ہو یا پرائیوٹ اسی طریقہ کار سے اسے تلف کیا جاتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے منظور شدہ ویسٹ منیجمنٹ کمپنیاں یہ کام کرتی ہیں اور جب کوئی بھی ہسپتال انھیں یہ مواد دیتا ہے تو اس کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جاتا ہے اور یہ ریکارڈ حکام باقاعدگی سے چیک کرتے ہیں۔

کھانے کے علاوہ پلیسنٹا کِن مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے؟

ڈاکٹر صدف طارق کے مطابق کیونکہ پلیسینٹا ماں کے جسم کا حصہ ہوتا ہے اس لیے اس میں فیمیل ہارمونز کثیر مقدار میں ہوتے ہیں جیسا کہ ایسٹروجن اور پروجیسٹرون۔

انھوں نے کہا کہ عالمی سطح پر اگر طبی مقاصد کے لیے اس کے استعمال پر بات کی جائے تو پلیسینٹا کو بہت ساری ادویات کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے، خاص طور پر بچے کی پیدائش کے بعد ماں کو ہونے والے ڈیپریشن (پوسٹ پارٹم ڈیپریشن) کے علاج کی ادویات میں اسے استعمال کیا جاتا ہے۔

’تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ یہ آئرن لیول کو بڑھانے اور پوسٹ پارٹم اینیمیا کے علاج کے لیے بننے والی ادویات میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’خاص طور پر پلیسینٹا کی اندرونی تہہ گروتھ (بڑھوتری) فیکٹر کی خصوصیات کے لیے جانی جاتی ہے۔ یہ سرجیکل پروسیجرز جیسا کہ گہرے زخم، جلنے کے نتیجے میں پہنچے والے سنگین زخم، السر اور آئی انجریز (آنکھوں کے زخم) کے علاج میں بھی استعمال ہوتا ہے۔‘

ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی (ہوٹا) کی مانیٹرنگ آفیسر حنا کنول نے بی بی سی کو بتایا کہ پلیسینٹا فارما سوٹیکل انڈسٹری میں استعمال ہوتا ہے جبکہ چین میں لوگ اسے کھانے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ کاسمیٹک سرجری میں بھی اس کی بہت طلب ہے لیکن پاکستان میں اس کی خریدو فروخت غیر قانونی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ہسپتال انتظامیہ کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں کہ یہ وہاں سے اس طرح نجی رہائش گاہوں تک پہنچ سکے۔

یاد رہے کہ چین میں حکومت کے زیر اثر چلنے والے اخبار ’گلوبل ٹائمز‘ کی سنہ 2021 کی ایک رپورٹ کے مطابق اگرچہ چین میں انسانی پلیسنٹا کی تجارتی فروخت پر پابندی عائد کی جا چکی ہے مگر اس کے باوجود خفیہ مارکیٹس میں تازہ انسانی پلیسنٹا کی فروخت جاری ہے اور کئی آن لائن پلیٹ فارم بھی اس کی مختلف ناموں سے فروخت کر رہے ہیں۔

گلوبل ٹائمز کے مطابق آن لائن ویب سائٹ پر اسے فروخت کرنے والے ایک شخص نے اخبار کو بتایا کہ ایک پلیسنٹا کی قیمت 360 یوآن (چینی کرنسی) ہے اور یہ کہ وہ یہ انسانی پلیسنٹا دو ہزار یوآن فی کلوگرام کے حساب سے خود خریدتا ہے۔

اس رپورٹ میں شنگھائی پیپلز ہسپتال کے ماہر امراضِ نسواں ڈاکٹر ہوانگ چینگ شینگ کے حوالے سے لکھا گیا کہ چین میں عموماً ماؤں سے پوچھا جاتا ہے کہ اُن کا پلیسنٹا وہ خود رکھنا چاہتی ہیں کہ اسے تلف کر دیا جائے۔

ڈاکٹر شینگ نے گلوبل ٹائمز کو بتایا کہ ’بہت سی نئی مائیں اپنے پلیسنٹا کو گھر لے جانے اور اسے کھانے کا انتخاب کرتی ہیں۔‘