ریستوران سے 80 ہزار ڈالر کے ’میک اینڈ چیز‘ کا فراڈ کرنے والا شخص، جسے ایک ماہ پہلے نوکری سے نکالا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہGrapevine Police Department/ Facebook
- مصنف, ہیری سیکولچ
- مطالعے کا وقت: 3 منٹ
امریکہ میں پولیس نے ایک شخص کو ایک ریستوران کے ساتھ فراڈ کے الزام میں گرفتار کر کے اس پر فردِ جرم عائد کر دی ہے۔
ریاست ٹیکساس کے شہر گریپ وائن کی پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص مشہور فاسٹ فوڈ چین ’چِک اے فلے‘ کا سابقہ ملازم ہے جسے ایک ماہ قبل ملازمت سے نکال دیا گیا تھا۔
پولیس کا الزام ہے کہ مذکورہ شخص فاسٹ فوڈ چین کی ایک برانچ میں واپس آیا اور کاؤنٹر کے پیچھے وہاں چلا گیا، جہاں سے کھانوں کے آرڈر لیے جاتے ہیں۔
پولیس کے مطابق مذکورہ شخص نے میک اینڈ چیز کے 800 آرڈر ریستوران کے آن لائن سسٹم میں درج کیے اور بعد ازاں اس آرڈر کے پیسے اپنے کریڈٹ کارڈز پر ری فنڈ کر دیے۔ اس آرڈر کی کل لاگت تقریباً 80 ہزار ڈالر (پاکستانی کرنسی میں دو کروڑ 23 لاکھ روپے سے زائد) بنتی ہے۔
چِک اے فلے کے مینیو کے مطابق میک اینڈ چیز کی ایک بڑی ٹرے کی قیمت تقریباً 100 ڈالر ہے۔ اس میکرونی ڈش میں تین مختلف طرح کی پنیر استعمال کی جاتی ہے اور اس میں تقریباً 10 ہزار کیلوریز ہوتی ہیں۔
پولیس کے مطابق متعدد بار مذکورہ ملزم کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تاہم وہ پر بار بچ نکلتا۔ بالآخر 17 اپریل کو پولیس اسے حراست میں لینے میں کامیاب رہی۔ اس پر چوری، منی لانڈرنگ اور گرفتاری سے بچنے کی کوشش کا الزام ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی ذرائع ابلاغ نے ملزم کی شناخت 23 سالہ کیشن جونز کے نام سے کی ہے۔ پولیس ریکارڈز کے مطابق وہ اس وقت ٹیکساس کے شہر فورٹ ورتھ کی گرین بے جیل میں زیرِ حراست ہے۔
دی نیویارک ٹائمز کے مطابق جونز کے وکیل نے اس معاملے پر تبصرے کرنے سے انکار کر دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ریستوران نے اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کی ہے جس میں ملزم کو ریستوران میں داخل ہوتے اور سروس کاؤنٹر کے پیچھے جاتے دیکھا جا سکتا ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والے شخص نے ریستوران کی وردی نہیں پہنی ہوئی بلکہ وہ براؤن جیکٹ اور نیلے رنگ کی جینز میں ملبوس ہے اور اس نے سفید رنگ کی ٹوپی بھی پہن رکھی ہے۔
ٹیکساس کے اٹارنی جنرل کی ٹاسک فورس اور فورٹ ورتھ کی پولیس نے مشترکہ آپریشن کرتے ہوئے ملزم کو ڈھونڈ کر گرفتار کیا تھا۔
بی بی سی نے ریستوران کا موقف جاننے کے لیے ان سے رابطہ کیا ہے۔


























