پریشے عدنان: کالج میں ’ڈان اور باس‘ کہلائے جانے سے نیویارک فیشن ویک تک کا سفر

- مصنف, براق شبیر
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
جب پریشے عدنان نیویارک فیشن ویک میں اپنا کلیکشن ’سیکنڈ سکن‘ پیش کر رہی تھیں تو ان کے ذہن میں صرف کپڑے یا ان کے ڈیزائن نہیں تھے بلکہ پاکستان میں تیار ہونے والا ہاتھ کا کام ’سسٹینیبل‘ یا دیرپا فیشن اور اپنی ایک منفرد شناخت کو دنیا کے سامنے لانا بھی ان کے اس سفر کا حصہ تھا۔
پاکستان کے معروف ڈیزائنر گھرانے میں آنکھ کھولنے والی پریشے عدنان کے مطابق ان کے والدین نے کبھی ان پر ڈیزائنر بننے کے لیے زور نہیں دیا لیکن دنیا کے مختلف ممالک کے سفر اور مختلف شعبوں میں تجربہ حاصل کرنے کے بعد انھوں نے خود فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بچپن کے شوق کو اپنا پیشہ بنائیں گی۔
اپنے والد امیر عدنان کے برانڈ کی چیف ایگزیکٹیو افسر (سی ای او) بننے سے لے کر اپنے فیشن ہاؤس ’ہاؤس آف پریشے‘ کے قیام اور نیویارک فیشن ویک میں کلیکشن پیش کرنے تک، ان کے سفر میں کئی موڑ آئے۔
لیکن اگر ان سے ان کی شخصیت کی سب سے نمایاں علامت پوچھی جائے تو جواب شاید فیشن شو نہیں بلکہ ایک سادہ ’کالا شلوار قمیض‘ ہو گا۔
نیویارک فیشن ویک میں پریشے عدنان کی ’سیکنڈ سکن‘ کلیکشن آٹھ ڈیزائنز پر مشتمل تھی، جس کی بنیاد زیادہ تر پہلے سے استعمال شدہ ملبوسات پر تھی۔
پریشے نے بی بی سی اردو سے گفتگو میں بتایا کہ وہ یہ ڈیزائنز اس لیے نیو یارک لے کر گئیں کیونکہ یہ پاکستان میں ہونے والے کام کی بہترین عکاسی کرتے تھے۔
’ان ملبوسات پر مہینوں کی محنت سے کیا گیا ہاتھ کا کام موجود تھا۔ ان کو دوبارہ بنانے کی تیاری میں مہینے، یا شاید سال، لگ جاتے۔‘
’پاکستانی عوام سسٹینیبل فیشن کے لیے تیار نہیں‘
پریشے نے سنہ 2022 میں پاکستان واپسی کے بعد سسٹینیبل فیشن پر کام شروع کیا اور اس شعبے میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستانی عوام اُس وقت اس سوچ کے لیے تیار نہیں تھے اور شاید آج بھی نہیں ہیں۔‘
پریشے کے مطابق اپنے اس کلیکشن کو نیو یارک فیشن ویک لے جانے کا فیصلہ کرنا ان کے لیے مشکل نہیں تھا۔
’ہم نے بہت عرصے سے تیاری نہیں کی تھی۔ شو سے بمشکل ڈیڑھ مہینہ پہلے ہمیں یہ موقع ملا۔ عام طور پر کسی کلیکشن کو تیار کرنے کے لیے اتنا وقت کافی نہیں ہوتا، لیکن چونکہ ہم ایک کلیکشن پر پہلے ہی کام کر رہے تھے، اس لیے ہم نے صحیح وقت پر ہاں کر دی۔ ہمیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ ہم اسے نیو یارک فیشن ویک لے کر جائیں گے۔‘

پریشے نے انٹرویو کے دوران مزید بتایا کہ جو پہلا جوڑا انھوں نے وہاں پیش کیا، اس کا نام ’مائی فادرز ٹائی‘ تھا اور یہ ان کے دل کے بہت قریب ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جو لوگ امیر عدنان کے برانڈ کی تاریخ سے واقف ہیں، وہ جانتے ہیں کہ انھوں نے اس کام کا آغاز ٹائی بنانے سے کیا تھا۔‘
تاہم پریشے کے برانڈ کا بنیادی مقصد دیرپا فیشن کو فروغ دینا ہے۔ ان کے مطابق سسٹینیبلٹی کے مختلف لوگوں کے نزدیک مختلف معنی ہوتے ہیں۔
’میں اپ سائیکلنگ کرتی ہوں اور اس کے کئی طریقے ہیں۔ بہت سے لوگوں کو لگتا ہے کہ اس کا مطلب کسی پرانے کپڑے سے پیچز نکال کر نئے کپڑے میں لگا دینا ہے، لیکن ایسا کرنے سے نئی چیز پھر بھی بن رہی ہوتی ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ اپ سائیکلنگ کا اصل مقصد کسی پرانے لباس کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانا ہے تاکہ اس کی زندگی 200 فیصد تک بڑھ جائے۔
’مثال کے طور پر ایک 70 سال پرانا لہنگا یا ساڑھی، جو اب استعمال میں نہیں، اسے ایک نئے جوڑے کی شکل دے کر دوبارہ پہنا جا سکتا ہے۔‘
پریشے کے مطابق ان کے پاس ایسے بہت سے گاہک آتے ہیں، جو اپنے پرانے ملبوسات لا کر انھیں ٹھیک کرواتے ہیں۔
’کالا شلوار قمیض سوشل میڈیا کے لیے نہیں تھا‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پریشے کے لباس کی بات کی جائے تو وہ اکثر کالے رنگ کے شلوار قمیض میں نظر آتی ہیں۔ آخر اس رنگ اور لباس سے ان کی وابستگی کی وجہ کیا ہے؟
ان کے مطابق اس کے پیچھے ایک دلچسپ کہانی ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’کالج کے دنوں میں، میں ایک بینک میں انٹرنشپ کے لیے پینٹ شرٹ اور کوٹ پہن کر گئی۔ وہاں مجھے محسوس ہوا کہ میں باقی لڑکیوں سے بالکل مختلف دکھائی دے رہی ہوں کیونکہ انھوں نے لان کے جوڑے پہن رکھے تھے، بڑے بڑے پھولوں والے پرنٹس، دوپٹہ، ہاتھ میں بیگ اور مناسب جوتے۔‘
’مجھے یہ بات پریشان کرتی تھی کہ مالکان اور اعلیٰ عہدوں پر بیٹھنے والے لوگ کبھی پھول پتیوں کو سامنے کیوں نہیں لاتے۔ گفتگو ہمیشہ سوٹ، ٹائی اور کالے رنگ کے درمیان ہی کیوں رہتی ہے؟‘
پریشے کے مطابق اسی وقت انھوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ یونیورسٹی میں بغیر دوپٹے کے کالا شلوار قمیض پہن کر جائیں گی۔
’اس میں بڑا کالر ہوتا تھا اور شلوار میں جیبیں۔ وہ مردوں کا شلوار قمیض نہیں تھا بلکہ خواتین کے لیے ڈیزائن کیا گیا لباس تھا۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’لوگ مجھے ’غنڈا‘، ’ڈان‘ اور ’باس‘ جیسے ناموں سے پکارنے لگے۔ میں نے کالا شلوار قمیض اتنا پہنا کہ سب نے اسے میرا یونیفارم سمجھ لیا۔‘
پریشے کے مطابق ’وہ سوشل میڈیا کے لیے نہیں تھا۔‘
جب انھوں نے پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا تو کالا شلوار قمیض بھی ان کے ساتھ ہی آیا۔
’میں جو پوسٹ کرتی ہوں وہ 13 سال کی پریشے کے لیے ہے‘
پریشے گذشتہ کچھ عرصے سے سوشل میڈیا پر خاصی متحرک ہیں۔ وہ نہ صرف اپنے کام بلکہ اپنے ورزش کے معمولات سے متعلق بھی باقاعدگی سے مواد شیئر کرتی رہتی ہیں۔
انھوں نے اپنے بچپن کی تصاویر بھی پوسٹ کیں، خصوصاً اُس وقت کی جب وہ 13 برس کی تھیں اور اپنی فٹنس کے اہداف پر کام کرنا چاہتی تھیں۔

پریشے بتاتی ہیں کہ نیو یارک میں ایک دوست سے ملاقات کے دوران اس نے ان سے کہا کہ وہ بار بار وہی تصویر شیئر نہ کیا کریں کیونکہ لوگ اسے دیکھ دیکھ کر تھک گئے ہیں۔
لیکن پریشے کے مطابق وہ یہ سب دوسروں کے لیے نہیں کر رہیں۔
’میں یہ 13 سال کی پریشے کے لیے کر رہی ہوں۔ آج میں نے اپنی فٹنس کے حوالے سے جو کچھ بھی کیا ہے، وہ اسی کے لیے ہے۔ شاید آج میں وہ نہیں ہوں، لیکن کوئی اور ہو جو اسے دیکھ کر کہے کہ اگر یہ کر سکتی ہے تو میں بھی کر سکتی ہوں۔‘
سوشل میڈیا پر اپنے ورک آؤٹ اور جم آؤٹ فٹس کی ویڈیوز شیئر کرنے پر انھیں تنقید کا سامنا بھی رہا ہے۔
حال ہی میں ایک لائیو انٹرویو کے دوران ان سے پوچھا گیا کہ انھوں نے اپنے والد کو یہ لباس پہننے کے لیے کیسے منایا، جس پر پریشے نے پروگرام کے دوران خاموشی اختیار کر لی۔
سوشل میڈیا پر آنے والے تبصروں کے بارے میں بات کرتے ہوئے پریشے نے کہا کہ انھیں اپنے ہی لوگوں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
’لوگوں نے مجھ سے کہا کہ میں کیا کر رہی ہوں، لیکن بہت سارے اجنبی لوگوں سے مجھے بے حد محبت بھی ملی۔‘
’انھوں نے مجھ سے کہا کہ جو میں کر رہی ہوں، وہ بھی ایسا کرنا چاہتے ہیں۔ بہت سے لوگوں نے مجھے روک کر یہ بھی بتایا کہ انھوں نے میری وجہ سے سٹرینتھ ٹریننگ شروع کی۔‘




















