سویڈن میں بیوی کو 120 مردوں کے ساتھ سیکس کے لیے مجبور کرنے والے شخص کو چار سال قید کی سزا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, الیکس فلپس
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
انتباہ: اس خبر میں ایسی تفصیلات شامل ہیں جو بعض قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں
سویڈن کے ایک61 سالہ شہری کو اپنی اہلیہ کو 120 سے زیادہ مردوں کو جنسی خدمات فراہم کرنے پر مجبور کرنے کے جرم میں چار سال اور پانچ ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
عدالت کو معلوم ہوا ہے کہ اس شخص نے تشدد کی دھمکیوں اور گھر میں نصب کیمروں کے ذریعے خاتون کو قابو میں رکھا۔
سویڈن کے مشرقی ساحل پر واقع علاقے ہیرنوسانڈ میں اس مقدمے کی سماعت کے بعد اس شخص کو ریپ کی کوشش، جنسی خدمات فراہم کرنے پر مجبور کرنے، تشدد، غیر قانونی طور پر دباؤ میں رکھنے اور دھمکیوں سمیت مختلف جرائم میں مجرم قرار دیا گیا۔
عدالت نے 28 دیگر مردوں کو بھی جنسی خدمات حاصل کرنے کے جرم میں مجرم قرار دیا۔
یہ کیس عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا اور بعض حلقوں کی جانب سے اس کا موازنہ فرانس کے ڈومینیک پیلیکوٹ کے کیس سے کیا گیا، جنھوں نے اپنی اہلیہ کو نشہ آور ادویات دے کر بے ہوش کیا اور نو سال کے دوران متعدد مردوں کو ان کا ریپ کرنے کی اجازت دی۔
سویڈن کے صوبے آنجر مین لینڈ سے تعلق رکھنے والے اس شخص نے مسلسل کسی بھی غلط اقدام سے انکار کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ انھوں نے صرف رضامندی سے ہونے والی ملاقاتوں میں مدد کی تھی۔
لیکن عدالت نے استغاثہ کے مؤقف کو تسلیم کرتے ہوئے قرار دیا کہ ملزم نے خاتون کا ’بے رحمی سے استحصال‘ کیا تاہم دونوں فریقوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ ملزم نے سنہ 2022 سے اپنی اہلیہ کو پیسوں کے عوض مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے پر مجبور کرنا شروع کر دیا تھا۔
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اس مقصد کے لیے ملک بھر سے افراد کرام فورس میں واقع ان کے الگ تھلگ فارم ہاؤس آتے تھے اور خاتون کی جانب سے اکتوبر سنہ 2025 میں پولیس کو شکایت درج کرانے تک یہ سلسلہ جاری رہا۔
پراسیکیوٹرز کے مطابق اس شخص نے خاتون کو منشیات کا عادی بنا رکھا تھا اور مشرقی سویڈن میں واقع ان کے ویران اور دور دراز گھر اور اس میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے ان پر مسلسل اور مستقل کنٹرول قائم رکھا ہوا تھا۔
استغاثہ کے مطابق ملزم اپنی اہلیہ کو جان سے مارنے، ان پر پیٹرول چھڑک کر زندہ جلانے اور ان کی انگلیاں کاٹ دینے کی دھمکیاں دیتا رہا۔
سرکاری نشریاتی ادارے ’ایس وی ٹی‘ کے مطابق خاتون کو گھر میں نصب کیمروں کے مقامات کا علم تھا اور وہ ایک ایسے حصے سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئیں جہاں کیمرے موجود نہیں تھے، جس کے بعد انھوں نے پولیس کو اطلاع دی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ملزم نے اپنی اہلیہ کو مختلف طریقوں سے ڈرایا دھمکایا اور اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ خود کو ایسے انداز میں آن لائن پیش کریں کہ جنسی خدمات حاصل کرنے والے افراد اُن کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے پر راغب ہو سکیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عدالت کے مطابق متعدد مواقع پر یہ سب کچھ ’مسلسل دباؤ، اصرار اور توہین آمیز زبان‘ کے ذریعے کرایا گیا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ملزم نے ہی خاتون کو یہ سب کرنے پر آمادہ کیا اور پھر جب یہ کاروبار کی شکل اختیار کر گیا تو وہ خود اس کی نگرانی بھی کرتا رہا۔
عدالت نے ریپ کے آٹھ الزامات مسترد کر دیے کیونکہ خاتون یہ ثابت نہیں کر سکیں کہ اس میں ان کی رضامندی شامل نہیں تھی جبکہ ایک معاملے میں یہ بھی واضح نہ ہو سکا کہ درحقیقت کون سے جنسی افعال انجام دیے گئے تھے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق سویڈن کے قانون کے تحت ایسے جنسی حملوں پر بھی ریپ کے الزامات عائد کیے جا سکتے ہیں جن کی سنگینی جنسی تعلق یا ریپ کے برابر سمجھی جائے۔
عدالت نے مذکورہ شخص کو ریپ کی کوشش کے ایک الزام میں بھی قصوروار قرار دیا تاہم ان کے خلاف عائد دیگر تین الزامات کو مسترد کر دیا گیا۔
عدالت نے قید کی سزا کے علاوہ ملزم کو متاثرہ خاتون کو ہرجانے کی مد میں 200,000 کرونا ( 15,900 برطانوی پاؤنڈ) ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔
اگرچہ حکام نے 120 ایسے مردوں کی نشاندہی کی تھی جنھوں نے ملزم کی جانب سے فراہم کی جانے والی جنسی خدمات حاصل کی تھیں تاہم اس مقدمے میں صرف 29 افراد پر ہی فردِ جرم عائد کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق بیشتر ملزمان نے اپنے خلاف الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انھوں نے خاتون کے ساتھ سیکس نہیں کیا یا پھر اس کے عوض کوئی رقم ادا نہیں کی۔
تاہم عدالت نے ان میں سے 28 افراد کو مجموعی طور پر 56 مرتبہ جنسی خدمات خریدنے کے جرم میں قصوروار قرار دیا۔


























