آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’کوئی بندوق بردار شخص اتنا قریب کیسے پہنچ گیا‘: وائٹ ہاؤس عشائیے میں فائرنگ کے دوران بی بی سی نمائندے نے کیا محسوس کیا؟
- مصنف, گیری او ڈونوہے
- عہدہ, نمائندہ خصوصی برائے شمالی امریکہ
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
میں نے اپنی چھری اور کانٹا میز پر رکھا اور واشنگٹن ہلٹن کے بال روم کے دروازے کی سمت سے آنے والی گونج دار آواز سننے سے تقریباً قاصر ہی رہا تھا۔
میں ایک لمحے کے لیے چونک گیا اور مجھے یوں لگا جیسے میں نے اس آواز کو دوبارہ سُنا ہو۔
چند ہی لمحوں میں، میں نے سوچا کہ یہ وہی دھیمی مگر بھاری آواز ہے جو نیم خودکار ہتھیاروں سے آتی ہے۔
چونکہ میں نابینا ہوں اس لیے میں آوازوں پر توجہ دیتا ہوں اور میں نے شیشہ ٹوٹنے کی آواز سنی۔
پھر میں نے محسوس کیا کہ میرے ساتھی ڈینیئل، جن سے میں ابھی بات کر رہا تھا، کا سر میرے پاس سے تیزی سے گزرا اور تب مجھے اندازہ ہوا کہ وہ فرش پر لیٹ رہے تھے۔
میں نے بھی ان کی پیروی کی۔
میں گھٹنوں کے بل میز کے نیچے بیٹھا تھا اور مجھے تقریباً پورا یقین ہو چلا تھا کہ یہ ایک اور ہفتے کی رات، ایک اور صدارتی تقریب ہے اور میں ایک بار پھر فائرنگ کے بیچ میں ہوں۔
میں جولائی 2024 میں پینسلوینیا کے شہر بٹلر میں موجود تھا، جب صدر ٹرمپ چند انچ کے فاصلے سے اپنی جان گنوانے سے بال بال بچے تھے۔ اس کے بعد کے لمحات چیخ و پکار اور بھگدڑ سے بھرپور تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس بار معاملہ مختلف تھا اور ہم چند ہی سیکنڈز میں میز کے نیچے بیٹھے تھے۔
ایک اور ساتھی نے مجھے بتایا کہ جب فائرنگ کی آوازیں آئیں تو اس نے دیکھا کہ باہر راہداری سے درجنوں لوگ بھاگتے ہوئے بال روم میں داخل ہو رہے تھے۔
جو پانچ یا دس منٹ ہم نے میز کے نیچے گزارے، اس دوران ہم سب اس انتظار میں تھے کہ کہیں کوئی مسلح شخص بھی بھاگتا ہوا کمرے میں داخل نہ ہو گیا ہو اور کہیں اس عشائیے میں موجود ڈھائی ہزار افراد پر فائرنگ شروع کرنے والا نہ ہو۔
ایک ساتھی نے مجھے بتایا کہ اس نے ہمارے پیچھے سٹیج پر سیکرٹ سروس کے اہلکاروں کو دیکھا، جو صدر ٹرمپ، خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کو تیزی سے وہاں سے نکال کر لے جا رہے تھے۔
دیگر اہلکار اپنے ہیلمٹ اور بلٹ پروف جیکٹیں پہنے کھڑے تھے، ان کی بندوقیں مجمعے کی طرف تنی ہوئی تھیں اور وہ یہ دیکھ رہے تھے کہ کہیں وہاں کوئی اور خطرہ تو موجود نہیں۔
عشائیے کی ابتدا سے سے ذرا پہلے میں نے بال روم کے ساتھ ایک چھوٹے سے کمرے میں سیکریٹری صحت آر ایف کے جونیئر سے پوچھا کہ کیا وہ اس تقریب کے شروع ہونے کے منتظر ہیں، تو انھوں نے مجھے بتایا کہ انھیں بھوک لگی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ تقریب شروع ہو جائے۔ وہ مجھ سے کچھ ہی فاصلے پر پیچھے کی جانب ایک میز پر بیٹھے ہوئے تھے۔
ہم سے کوئی 30 میٹر پیچھے مرکزی دروازوں کی سمت ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل بھی سب کی طرح فرش پر بیٹھے ہوئے تھے اور اپنی گرل فرینڈ کے لیے ایک ڈھال بنے ہوئے تھے۔ اسی دوران ایک سیکریٹ سروس اہلکار ان کی مدد کے لیے بال روم کے پار دوڑتا ہوا آیا۔
فوراً ہی میرے ذہن میں یہ سوالات آئے کہ یہاں کیا، کیوں اور کیسے ہوا؟ ایک بار پھر کوئی بندوق بردار شخص صدر کے اتنا قریب کیسے پہنچ گیا؟
ہلٹن کے اردگرد تمام سڑکیں کئی گھنٹوں سے بند تھیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انھیں گھیر رکھا تھا لیکن تقریب کے مقام پر حفاظتی انتظامات خاص طور پر سخت نہیں تھے۔
باہر دروازے پر کھڑے شخص نے محض سرسری طور پر کوئی چھ فٹ کے فاصلے سے میرے ٹکٹ پر نظر ڈالی تھی۔
ہم ایک لفٹ کے ذریعے نیچے بال روم میں گئے اور ایک اہلکار نے میرے جسم پر سکیورٹی سکینر پھیرا مگر میری جیکٹ کی اندرونی جیب میں موجود سامان کی وجہ سے آنے والی بیپ کی آوازوں میں اسے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ انھوں نے مجھ سے یہ بھی نہیں کہا کہ میں اپنا سامان نکال کر دکھاؤں۔
مختصراً سکیورٹی کا انتظام بالکل ایک عام وائٹ ہاؤس کوریسپانڈنٹس ڈنر جیسا محسوس ہو رہا تھا، ایسا ڈنر جس میں موجودہ صدر شریک نہ ہو۔
فائرنگ کے بعد جب ہمیں بال روم میں روک کر رکھا گیا تو ہم بے چینی سے فون سگنل حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے تاکہ کچھ کام کر سکیں اور مزید معلومات حاصل ہو سکیں۔
میں نے کوشش کی کہ ابھی جو کچھ ہوا تھا، اس کے پیمانے اور سنگینی کے بارے میں زیادہ نہ سوچوں۔
تاہم اس کے باوجود بھی اس بارے میں سوچ کر کہ یہاں کیا ہو سکتا تھا مجھے اپنی آنکھوں میں چبھن محسوس ہو رہی تھی اور یہ کہ اس ملک میں آپ کو کتنے ایسے واقعات سے گزرنا پڑتا ہے اور اگر کبھی قسمت ساتھ چھوڑ جائے تو کیا ہو گا۔