’وہ اسی ہوٹل میں رہائش پذیر تھا جہاں تقریب جاری تھی‘: وائٹ ہاؤس عشائیے میں فائرنگ کرنے والے مشتبہ حملہ آور کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

مطالعے کا وقت: 5 منٹ

سنیچر کی شب واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کے صحافیوں کی تنظیم کی جانب سے منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔

فائرنگ کے وقت تقریب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتون اول میلانیا ٹرمپ اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سمیت متعدد امریکی اعلیٰ حکام موجود تھے۔

فائرنگ کے فوراً بعد صدر اور دیگر اعلیٰ شخصیات کی حفاظت پر مامور سیکرٹ سروس نے انھیں وہاں سے بحفاظت نکال لیا۔

واقعے کے بعد وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ حملہ آور کو حراست میں لے لیا گیا ہے جس کی بعد ازاں ایف بی آئی نے بھی تصدیق کی۔

ایک سوال کے جواب میں صدر کا کہنا تھا کہ تقریب سے قبل ان کی ٹیم کو کسی بھی ممکنہ سکیورٹی خطرے کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں تھی۔

مشتبہ شخص کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے ترمپ کا کہنا تھا کہ وہ ’کافی خطرناک‘ دکھائی دیتا تھا۔

صدر کے مطابق مشتبہ شخص نے تقریباً ’پچاس گز کے فاصلے‘ سے دوڑ کر حملہ کرنے کی کوشش کی جس کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے اپنے ہتھیار تان لیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے خیال میں مشتبہ حملہ آور اکیلا تھا۔ ’یہ پاگل لوگ ہیں اور ان سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔‘

مشتبہ حملہ آور کے بارے میں ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟

وائٹ ہاؤس کے پریس بریفنگ روم میں خطاب سے چند لمحے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج ٹروتھ سوشل پر جاری کی جس میں ایک شخص کو ہوٹل کے بال روم کی جانب دوڑتے دیکھا جا سکتا ہے۔

فوٹیج میں یہ شخص فائرنگ کرتا ہوا سکیورٹی میٹل ڈیٹیکٹرز کے قریب سے گزرتا ہے جبکہ سکیورٹی اہلکار اپنے ہتھیار نکالتے نظر آتے ہیں۔

ٹرمپ نے دو تصاویر بھی جاری کیں جن میں ایک نیم برہنہ شخص کو زمین پر ہاتھ پیچھے باندھے ہوئے دکھایا گیا ہے جسے مبینہ حملہ آور قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مشتبہ شخص کی شناخت 31 سالہ کول تھامس ایلن کے طور پر ہوئی ہے جو کیلیفورنیا کے شہر ٹورنز کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔

واشنگٹن ڈی سی کے پولیس چیف جیفری سی کارول نے بتایا ہے کہ وہ اسی ہوٹل میں بطور مہمان رہائش پذیر تھا جہاں یہ تقریب جاری تھی اور تفتیش کے سلسلے میں اس کے کمرے کو سیل کر دیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ کیلیفورنیا میں مشتبہ شخص کے اپارٹمنٹ پر بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے پہنچ چکے ہیں۔

واشنگٹن ڈی سی کی میئر نے بتایا کہ مشتبہ شخص کو قریبی ہسپتال میں علاج فراہم کیا جا رہا ہے اور وہ پولیس حراست میں ہے۔

میٹروپولیٹن پولیس ڈیپارٹمنٹ کے قائم مقام سربراہ جیفری کیرول سے جب مشتبہ شخص کی جانب سے اس حملے کی نیت اور محرک کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ یہ بات ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی کہ مشتبہ شخص نے حملہ کیوں کیا۔

انھوں نے بتایا کہ مشتبہ حملہ آور اس سے قبل میٹروپولیٹن پولیس ڈیپارٹمنٹ کو مطلوب نہیں تھا۔

بی بی سی کے شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق مبینہ حملہ آور نے حکام کو بتایا ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے عہدے داروں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔

دو نامعلوم ذرائع کے حوالے سے سی بی ایس نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ اس واقعے کے دوران کم از کم پانچ سے آٹھ گولیاں چلائی گئیں۔

دوسری جانب جیفری کیرول کے مطابق مشتبہ حملہ آور کے پاس کئی ہتھیار موجود تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ’مبینہ حملہ آور کے پاس ایک شاٹ گن، ایک ہینڈ گن اور متعدد چاقو تھے۔‘

جیف کیرول کے مطابق ملزم گولی لگنے سے محفوظ رہا اور ابتدائی طور پر یہ ایک اکیلا حملہ آور معلوم ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’فی الحال عوام کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ گولیاں چلنے کا مطلب یہ نہیں کہ یہ سکیورٹی کی ناکامی تھی یا سکیورٹی انتظامات مکمل اور مناسب نہیں تھے۔

کیرول کے مطابق وہ چیک پوائنٹ، جہاں مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا اسی مقصد کے لیے موجود تھا اور اس نے اپنا کام درست طریقے سے انجام دیا۔