انڈیا میں اسلام کو ’برتر مذہب‘ کہنے والے وزیر تنقید کی زد میں: ’زندگی میں ایک بار حج پر جانا چاہتا ہوں‘

،تصویر کا ذریعہANI
- مصنف, مرزا اے بی بیگ
- عہدہ, بی بی سی، نئی دہلی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
انڈیا کی وسطی ریاست کرناٹک میں اعلی تعلیم کے وزیر بسواراج رائے ریڈی نے اتوار کے روز ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مذہب اسلام کی تعریف کی اور اسے ایک ’برتر مذہب‘ قرار دیا جس کے بعد ان کے بیان پر سیاسی تنازع کھڑا ہو گيا ہے۔
ریاست میں حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر کو برطرف کیا جائے یا پھر وہ ہندو برادری سے معافی مانگیں۔
اس کے بعد اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے ریڈی نے کہا: ’اس میں غلط کیا ہے؟ میں نے صرف یہ کہا تھا کہ اسلامی مذہب میں کچھ اعلیٰ اور عمدہ خیالات موجود ہیں۔ میں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ دوسرے مذاہب کمتر ہیں۔‘
تاہم بی جے پی کے رہنما آر اشوک نے رائے ریڈی سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنا بیان واپس لیں اور ہندوؤں سے غیر مشروط معافی مانگیں کیونکہ اس سے ان کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔
بسواراج رائے ریڈی کا بیان اور وضاحت
رائے ریڈی نے کوپل ضلعے کے کوکنور شہر میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تمام مذاہب میں اسلام ایک برتر مذہب ہے۔ اس کی بنیاد انسانیت پر ہے۔‘
ان کی تقریر کے بعض حصے پیر کو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئے۔ پیر کے روز اس بیان پر تنازع کھڑا ہوگیا جب بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں نے ان کے استعفے یا بیان واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
کنڑ زبان میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ ’اسلام پوری دنیا میں سب سے زیادہ انسان دوست اور برتر مذہب ہے۔ معاشرے میں اسلام کے بارے میں غلط تصورات اور بدگمانیاں پھیلائی جا رہی ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’قرآن صرف مسلمانوں کے لیے نازل نہیں ہوا ہے۔ حضرت محمد نے قرآن کا پیغام پوری انسانیت تک پہنچایا۔ قرآن کوئی بھی شخص پڑھ سکتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے اپنے بارے میں کہا کہ ’میں مَٹھوں اور مندروں میں نہیں جاتا لیکن میری خواہش ہے کہ زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ حج کی سعادت حاصل کروں۔‘
سیاسی تنازعے کے بعد بھی وہ اپنے موقف پر قائم نظر آئے۔
انھوں نے وضاحتی بیان میں کہا کہ ’اگر میں نے اسلام کو ایک برتر مذہب کہا ہے تو اس میں غلط کیا ہے؟‘

،تصویر کا ذریعہANI
بی جے پی کو اس بیان پر اعتراض کیوں؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پیر کے روز بی جے پی کے رہنما آر اشوک نے رائے ریڈی سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنا بیان واپس لیں اور ہندوؤں سے غیر مشروط معافی مانگیں کیونکہ اس سے ان کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔
روزنامہ ’دی ڈکن کرانیکل‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق اشوک نے کہا کہ اگر رائے ریڈی معافی مانگنے سے انکار کرتے ہیں تو ریاست کے وزیرِ اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کو چاہیے کہ انھیں کابینہ سے برطرف کر دیں۔
اشوک نے کہا کہ ملک کانگریس پارٹی کے ’سرو دھرم سمبھاؤ‘ (تمام مذاہب کے احترام) اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کی ’محبت کی دکان‘ کی سیاست کا حقیقی چہرہ دیکھ رہا ہے۔
انھوں نے یقین دلایا کہ بی جے پی ’ووٹ بینک کی سیاست کی خاطر ہندوؤں کے وقار اور احترام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونے دے گی۔‘
اس بیان پر اعتراض کرتے ہوئے بی جے پی کے ریاستی صدر اور رکنِ اسمبلی بی وائی وجیندر نے کہا کہ ’یہ بیان مستقبل میں خود رائے ریڈی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔‘
وجیندر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر رائے ریڈی کی خواہش یہی ہے تو وہ ’اسلام قبول کر کے مکہ میں جا کر آباد ہو جائیں۔‘
بی جے پی کے رہنما مہیش تنجنکائی نے اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہندو مذہب کے دائرے میں رہتے ہوئے ایسی باتیں کرنا واقعی شرمناک ہے۔
’انھوں نے جو کچھ کہا، وہ مکمل طور پر غلط تھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اس بیان کی مذمت کرتی ہے اور رائے ریڈی کو اپنے مؤقف پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’مذہب اسلام اگر آپ کو اتنا ہی پیارا ہے تو آپ نکل جائیے، آپ کے جانے سے ہندو مذہب کو نقصان نہیں ہونے والا ہے۔‘
بسواراج رائے ریڈی کون ہیں؟
کرناٹک میں ریاستی وزیر رائے ریڈی کوپل ضلعے کے یلبرگا انتخابی حلقے سے کانگریس کے نمائندے ہیں۔ وہ چھ بار ایم ایل اے کے انتخاب میں کامیاب ہو چکے ہیں۔
انھوں نے سیاسی جماعت جنتا دل سے اپنے سیاسی کریئر کا آغاز کیا تھا۔ گذشتہ حکومت میں بھی وہ اعلی تعلیم کے وزیر تھے۔ وہ اس سے قبل 1994-96 کے دوران دیو گوڑا حکومت میں ہاؤسنگ کے وزیر تھے۔
وہ لنگایت برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک زمانے سے حکومت سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ لنگایت کو ہندو مذہب کی ایک ذات کے بجائے ایک علیحدہ مذہب تصور کیا جائے۔
کرناٹک کے چھ کروڑ لوگوں میں لنگایتوں کی آبادی 17 فیصد ہے۔ جبکہ مہاراشٹرا، تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے بعض علاقوں میں بھی کچھ لنگایت آباد ہیں۔
لنگایت برادری کے مذہبی رہنما اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ لنگایت ازم ایک علیحدہ مذہب ہے اور یہ کبھی بھی ہندو مذہب کی ایک ذات یا ذیلی ذات نہیں تھی۔
ان کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ لنگایت مسلک کو آئین میں ایک علیحدہ مذہب کے طور پر تسلیم کیا جائے کیونکہ وہ ایک علیحدہ مذہب کے طور پر تسلیم کیے جانے کے لیے درکار تمام شرائط پوری کرتا ہے۔



















