اردن کا آٹھ میزائلوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اردن کے میڈیا نے 31 اگست کو ملک کی مسلح افواج کے ترجمان کے ایک بیان کو نمایاں طور پر شائع کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ فضائی دفاعی نظام نے علی الصبح مملکت کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ’آٹھ میزائلوں کو تباہ کر دیا۔‘
ماضی میں منظر عام پر آنے والے بیانات کے برعکس اس بیان میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ یہ میزائل فائر کس نے کیے اور نہ ہی یہ بتایا کیا کہ ان کا ہدف کونسے علاقے تھے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے 30 اگست کی رات آبنائے ہرمز میں واقع ایران کے جزیرۂ لارک پر امریکی حملوں کے جواب میں اردن کے کنگ حسین اور الازرق فضائی اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے مشترکہ حملے کرنے کا اعلان کیا تھا۔
پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ اس حملے میں لڑاکا طیاروں کے ہینگرز تباہ کر دیے گئے اور خبردار کیا گیا کہ ’ہر حملے کا جواب اس سے بھی زیادہ تباہ کن کارروائی سے دیا جائے گا۔‘
ایرانی میڈیا، جن میں سرکاری ریڈیو چینل بھی شامل ہے، نے جنوبی علاقوں میں، بشمول عقبہ کے قریب اور امریکی افواج کی میزبانی کرنے والے اڈوں کے اطراف، دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی اطلاعات دی تھیں۔
اردن کی مسلح افواج کے ترجمان نے تصدیق کی کہ تمام میزائلوں کو ’کامیابی کے ساتھ تباہ کر دیا گیا‘ تھا۔






























