سکول ٹیچر کی حاضر دماغی کی بدولت سیلاب آنے سے چند منٹ قبل 900 بچوں کی جانیں بچا لی گئیں

- مصنف, اشوک دہال ، کمال پریار
- عہدہ, بی بی سی ، نیپال
- مقام, Nuwakot district
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
نیپال میں ایک ہیڈ ٹیچر نے سیلابی ریلا آنے سے صرف 10 منٹ پہلے 900 طلبہ کو محفوظ مقام پر منتقل کر کے ان کی جانیں بچائیں۔
نیپال کے نوواکوٹ کے تری بھوون تریشولی سیکنڈری سکول کے پرنسپل راجیندر داؤدی نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں مقامی وقت کے مطابق صبح نو بج کر 10 منٹ پر چار فون کالز موصول ہوئیں جن میں اس قدرتی آفت سے خبردار کیا گیا تھا۔
یہ جانتے ہی انھوں نے فوراً سکول خالی کرانے کا فیصلہ کیا اور بچوں سے کہا کہ وہ اونچی جگہ کی طرف بھاگ جائیں۔ جبکہ طلبہ سے بھری بسوں کو بھی واپس مڑ کر علاقے سے نکل جانے کا حکم دیا۔
راجیندر داؤدی نے کہا کہ ’اگر ہم نے فوری فیصلہ نہ کیا ہوتا اور 10 منٹ کی بھی تاخیر ہو جاتی تو آج نہ طلبہ اور نہ ہی میں آپ سے بات کرنے کے قابل ہوتے۔‘
یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے نیپال میں اس اچانک آنے والے سیلاب میں اب تک کم از کم 919 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

چند منٹ کے دوران چار مختلف افراد کی جانب سے ملنے والی وارننگز سے سکول کے پرنسپل راجیندر کو اندازہ ہو گیا کہ خطرہ بہت قریب ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ’ایک سٹوڈنٹ کے والد میرے پاس آئے اور کہا کہ بڑا سیلاب آنے والا ہے، میں اپنی بیٹی کو لینے آیا ہوں اور اسے ساتھ لے جاؤں گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’والدین کسی بڑی وجہ کے بغیر اس طرح عجلت میں نہیں آتے اس لیے مجھے یقین ہو گیا کہ بچوں کو نکالنے میں ایک لمحے کی بھی دیر نہیں کرنی چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’میں نے فیصلہ کیا کہ اب مزید انتظار نہیں کیا جا سکتا۔ اگر سیلاب نہ بھی آتا تو زیادہ سے زیادہ ایک دن کی پڑھائی متاثر ہوتی۔ مجھے فخر ہے کہ ہم اتنی جانیں بچانے میں کامیاب رہے۔‘
بدھ کو اس سیلاب نے نیپال کے بعض علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ اس آفت کے نتیجے میں کم از کم 2,426 افراد لاپتہ ہیں جبکہ سکول کی عمارت مٹی اور ملبے تلے دب گئی۔
راجیندر داؤدی نے بتایا کہ پانی کا ریلہ اتنی تیزی سے آیا کہ دریا سے تقریباً 100 میٹر (328 فٹ) دور واقع ہاسٹل کی عمارت بھی دیکھتے ہی دیکھتے اس کی لپیٹ میں آ گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ابتدا میں بہت سے طلبہ کو اندازہ نہیں ہوا کہ صورتحال کتنی سنگین ہے۔
16 سالہ طالبہ یونیشا اماتیا نے کہا کہ وہ اور ان کی دوستیں سیلاب آنے سے چند لمحے پہلے ہی محفوظ مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہوئیں۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں اور میری دوستیں صرف 10 سیکنڈ کے فرق سے بچ گئیں۔‘
’سیلاب آنے سے ذرا پہلے ہم کلاس میں پڑھ رہے تھے۔ اساتذہ ایک جگہ جمع تھے اور ابتدا میں انھیں بھی معلوم نہیں تھا کہ کیا ہوا ہے۔ پانچ منٹ بعد اساتذہ آئے، انھوں نے ہمیں سیلاب کے بارے میں بتایا اور فوراً گھر جانے کو کہا۔‘
انھوں نے کہا کہ آفت کے بارے میں سن کر ایک طالب علم بے ہوش ہو گیا تھا، لیکن ابتدا میں بہت سے لوگوں نے خطرے کی شدت کو کم سمجھا اور ان ہم جماعتوں کا انتظار کرتے رہے جو ریاضی کی کلاس میں تھے۔
یونیشا اور ان کی دوستیں سکول کے پیچھے موجود ایک باہر نکلنے کے راستے سے پہاڑی کی جانب چڑھ گئیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میں تیزی سے چل نہیں سکتی تھی اور میری دوستوں نے پہاڑی پر چڑھنے میں میری مدد کی۔ ہم نے اس وقت محفوظ علاقوں تک پہنچنے کی پوری کوشش کی۔ ہم سکول کے پچھلے حصے سے ایک تنگ سیڑھی کے ذریعے نکلے۔ پلک جھپکتے ہی میری آنکھوں کے سامنے پورا بازار بہہ گیا۔‘
’اگر میرے جوتوں کی گرفت اچھی نہ ہوتی تو میں گر جاتی اور طلبہ اور دوسرے لوگ محفوظ مقام تک پہنچنے کے لیے ایک دوسرے کو دھکے دیتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ جن لوگوں نے بظاہر دوسرے راستے سے نکلنے کا انتخاب کیا، وہ سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔‘

’میں اپنی بیٹی کے بغیر واپس جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا‘
پہلے پہل طلبہ اور اساتذہ چند سو میٹر اوپر ایک محفوظ مقام پر منتقل ہوئے جس کے بعد وہ ایک پڑوس میں واقع گاؤں کی جانب روانہ ہوئے۔
سڑکیں منقطع ہونے اور آمد و رفت متاثر ہونے کے باعث ان میں سے بہت سے افراد دو راتوں تک پھنسے رہے یہاں تک کہ امدادی کارروائیاں ان تک پہنچ سکیں۔
پرنسپل اور یونیشا، جو دونوں سکول سے دریا کے اُس پار رہتے ہیں، بالآخر ہیلی کاپٹر کے ذریعے اپنے آبائی گاؤں واپس پہنچائے گئے۔
دوسری جانب والدین اپنے بچوں اور رشتہ داروں سے رابطہ کرنے کی بے تاب کوششیں کر رہے تھے۔
یونیشا کی والدہ سبینا کماری شریستھا کا کہنا ہے کہ انھوں نے بار بار اپنی بیٹی اور شوہر دونوں کو فون کرنے کی کوشش کی لیکن کسی سے بھی رابطہ نہ ہو سکا۔
ان کے شوہر یووراج اماتیا فوری طور پر سکول کی جانب روانہ ہو گئے۔
انھوں نے کہا کہ ’سیلاب کی خبر پھیلنے کے فوراً بعد میں نے اپنی بیٹی کے نمبر پر فون کرنے کی کوشش کی لیکن اس سے رابطہ نہیں ہو سکا، پھر میں خوفزدہ ہو گیا۔‘
’چند ہی منٹوں میں میں اپنی بیٹی کے سکول کی طرف دوڑ پڑا اور تریشولی بازار مکمل طور پر سیلابی ریلے کی زد میں آ چکا تھا تب مجھے لگا کہ میری بیٹی اب زندہ نہیں رہی۔ میں بہت زیادہ خوفزدہ ہو گیا، میں نے اپنا سکوٹر روک دیا، ہر طرف سیلاب تھا لیکن میں اپنی بیٹی کے بغیر واپس جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔‘
’اگر فوری سکول بند نہ کرتا تو شاید کچھ بھی باقی نہ بچتا‘
تقریباً ایک گھنٹے تک انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ آیا ان کی بیٹی زندہ ہے یا نہیں اور وہ مسلسل اسے فون کرتے رہے لیکن رابطہ نہ ہو سکا۔ پھر آخرکار فون ملا اور یونیشا نے کال وصول کر لی۔
انھوں نے کہا کہ ’آخرکار میری بیٹی نے میری کال اٹھائی اور میں خود پر قابو نہ رکھ سکا، پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ میرے ساتھ موجود دو رشتہ دار بھی رو پڑے اور انھوں نے مجھے گلے لگا لیا۔‘
یونیشا اُس لمحے کو یاد کرتے ہوئے آبدیدہ نظر آئیں۔
انھوں نے کہا کہ ’پہاڑی کی چوٹی پر پہنچنے کے بعد مجھے اپنے والد کی کال موصول ہوئی۔ وہ رو رہے تھے اور اُس وقت میں ایک لفظ بھی نہ بول سکی۔‘
گھر پر ان کے اہلِ خانہ ان کی واپسی کا بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔
ان کی والدہ نے کہا کہ ’میری چھوٹی بیٹی بھی سو نہیں سکی۔ لیکن تین دن بعد (جمعے کو) اسے دیکھ کر مجھے بہت اچھا محسوس ہوا، میں بہت خوش اور مطمئن ہوں۔‘
یونیشا کا کہنا ہے کہ اب وہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ رہی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’اب مجھے اپنی مزید تعلیم کی فکر لاحق ہے۔‘
’اگر مجھے اپنا سکول تبدیل کرنا پڑا تو مجھے اپنے پرانے دوستوں سے بچھڑنا پڑے گا اور نئے دوست بنانے میں مشکلات کا سامنا ہوگا۔ میں اپنی مزید تعلیم کے بارے میں افسردہ ہوں۔‘
دوسری جانب سکول پرنسپل کا کہنا ہے کہ سائرن اور انخلا کے انتباہات پر مشتمل بہتر انتباہی نظام مقامی لوگوں کو جلد ردِعمل دینے میں مدد دے سکتے تھے۔
تاہم ان کا ماننا ہے کہ فوری عمل کرنے کے فیصلے نے ایک بڑے سانحے کو روک دیا۔
’اگر میں نے پیریڈ ختم ہونے کے بعد سکول بند کرنے کا فیصلہ کیا ہوتا تو شاید کچھ بھی باقی نہ بچتا، صرف صبح 9:30 بجے سکول کی گھنٹی بج رہی ہوتی۔‘



















