امتیاز علی کی فلم ’میں واپس آؤں گا‘ میں سرگودھا کا ذکر کیوں؟

،تصویر کا ذریعہApplause Entertainment
- مصنف, قیصر اندرابی
- عہدہ, بی بی سی اردو
- مقام, دہلی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
انڈیا کے مشہور ہدایتکار اور فلم ساز امتیاز علی کی نئی فلم ’میں واپس آؤں گا‘ نہ صرف انڈیا بلکہ پاکستان اور دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی خوب پسند کی جا رہی ہے۔ فلم کو اس کی جذباتی کہانی، تقسیمِ ہند کے حساس موضوع اور شاندار اداکاری کی وجہ سے خاصی پذیرائی مل رہی ہے۔
جہاں بالی وڈ کے شائقین طویل عرصے سے امتیاز علی کے کہانی سنانے کے انداز کے قائل رہے ہیں، وہیں اس بار پاکستان میں بھی اس فلم پر آن لائن کافی گفتگو دیکھنے کو مل رہی ہے۔
فلم کے ابتدائی منظر میں ہی نصیرالدین شاہ ہاتھ میں قلم لیے اردو کے چند حروف لکھتے نظر آتے ہیں۔ اسی لمحے سے احساس ہو جاتا ہے کہ کہانی ماضی، یادوں اور ایک ادھوری داستان کے گرد گھومنے والی ہے۔ فلم کا عنوان بھی سنیما ہالز میں اردو رسم الخط میں نظر آتا ہے۔
تقسیمِ ہند کے پس منظر میں بنی اس فلم نے دونوں ملکوں کے ناظرین کو ایک مرتبہ پھر اس تاریخ کی طرف متوجہ کیا ہے جس نے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بدل دی تھیں۔
پاکستان کے فلم ساز عمیر ناصر علی نے تعریف کرتے ہوئے اسے ایک ایسی فلم قرار دیا ہے جو تقسیم کی انسانی قیمت کو نہایت حساس انداز میں پیش کرتی ہے۔
بی بی سی اردو سے گفتگو میں عمیر ناصر علی نے کہا: ’میں امتیاز علی کی فلمیں ہمیشہ سے پسند کرتا رہا ہوں، لیکن مجھے لگتا ہے کہ ’میں واپس آؤں گا‘ ایک فلم ساز کے طور پر ان کی بہترین فلم ہے۔ یہ بہت خوبصورت اور تخلیقی کام ہے۔ یہ ایک سچی فلم ہے جو بہت محبت سے بنائی گئی ہے۔‘
عمیر، جو پاکستانی فلم ’نایاب‘ کے ہدایتکار ہیں، کہتے ہیں کہ فلم کی ایڈیٹنگ خاص طور پر انھیں متاثر کرتی ہے۔
’دو مختلف کہانیوں اور جذبات کو پوری فلم میں ایک ساتھ لے کر چلنا آسان نہیں ہوتا، لیکن جس طرح ایڈیٹر آرتی باجاج نے اسے سنبھالا ہے، وہ واقعی قابلِ تعریف ہے۔ فلم کے جذبات آخر تک برقرار رہتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عمیر نے فلم کے ہر پہلو کو سراہا، لیکن سب سے زیادہ متاثر انھیں نصیرالدین شاہ کی اداکاری نے کیا۔
ان کا کہنا تھا: ’فلم میں ان کا کردار سب سے مشکل ہے، اور جس انداز سے نصیرالدین شاہ نے اسے نبھایا ہے، مجھے نہیں لگتا کہ کوئی دوسرا اداکار اس کردار کے ساتھ اتنا انصاف کر پاتا۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
کہانی کیا ہے؟
’میں واپس آؤں گا‘ آغاز میں ہی دیکھنے والے کو کھینچ لیتی ہے۔ یہ 95 سالہ ایشر سنگھ گریوال کی کہانی ہے، جس کا کردار نصیرالدین شاہ نے ادا کیا ہے۔ وہ فالج کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کی یادداشت دھیرے دھیرے ساتھ چھوڑنے لگتی ہے۔
ان کے پوتے نرویر، جس کا کردار دلجیت دوسانجھ نے ادا کیا ہے، انگلینڈ سے لوٹ کر ان کے پاس آتے ہیں۔ ایشر سنگھ کی بکھرتی یادوں کے درمیان نرویر کو ان کی زندگی کے وہ صفحات ملتے ہیں جو تقسیم سے پہلے کے پنجاب اور پاکستان کے شہر سرگودھا سے جڑے ہوئے ہیں۔
ایشر سنگھ کی ایک ہی تمنا باقی رہ جاتی ہے: وہ ایک مرتبہ پھر سرگودھا جانا چاہتے ہیں۔ وہی شہر جہاں ان کا بچپن گزرا تھا اور جہاں کچھ یادیں، کچھ وعدے اور شاید ایک محبت ادھوری رہ گئی تھی۔
فلم کی خاص بات یہ ہے کہ امتیاز علی تقسیم کو صرف ایک سیاسی واقعے کے طور پر نہیں دیکھتے، بلکہ وہ اس کے انسانی پہلو کو مرکز میں رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے فلم دیکھنے والے اس تاریخی واقعے کو صرف دیکھتے نہیں بلکہ اس درد کو بھی محسوس کرتے ہیں جو اس نسل نے سہا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
لوگوں کو فلم میں کیا پسند آیا؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
دلی کی 28 سالہ اقرا محسن نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ فلم نے انھیں بہت جذباتی کر دیا۔ ان کا کہنا تھا: ’جو کچھ ماضی میں ہوا، خاص طور پر اپنوں کی جدائی، شاید وہ کبھی نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘
وہ کہتی ہیں: ’مجھے سب سے اچھی بات یہ لگی کہ ماضی میں نفرت کے جو بیج بوئے گئے تھے، وہ آج بھی دونوں طرف کے لوگوں کو مکمل طور پر الگ نہیں کر سکے۔ مذہب اور سرحدیں اپنی جگہ، لیکن جذباتی رشتے اب بھی زندہ ہیں۔‘
30 سالہ سندیپ نے بی بی سی اردو سے کہا: ’میں امتیاز علی کی تمام فلمیں دیکھ چکا ہوں اور میرے لیے 'میں واپس آؤں گا' ان کا اب تک کا سب سے پختہ کام ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’فلم کا آخری منظر مجھے توڑ گیا۔ جب کینو، مالیکا دلفریب سے رخصت کی اجازت مانگتا ہے تو میں اپنے آنسو نہیں روک پایا۔ فلم ختم ہونے کے بعد بھی اس کے جذبات میرے ساتھ رہے۔‘
پاکستان کے علی عثمان قاسمی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’امتیاز علی نے نفرت پر مبنی سنیما کے دور میں ہمت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس فلم کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم تقسیم کے درد کو اپنا نہیں سکتے۔ ہم اسے محسوس کر سکتے ہیں، اس کے ساتھ ہمدردی رکھ سکتے ہیں، لیکن جو لوگ اس درد سے گزرے، ان کا تجربہ ہم کبھی پوری طرح سمجھ نہیں سکتے۔‘

،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images
موسیقی اور ماضی کی یادیں
عمیر ناصر علی کہتے ہیں کہ فلم کی موسیقی اور اس کی تہذیبی فضا بھی حقیقت کے قریب محسوس ہوتی ہے۔
’میں نے اپنے دادا دادی سے سنا تھا کہ اس زمانے میں بھی لوگوں میں مغربی موسیقی اور رقص کا شوق تھا۔ فلم میں اس تہذیب کو بہت فطری انداز میں دکھایا گیا ہے۔‘
عمیر خود بھی چند برسوں سے تقسیم کی یادوں پر مبنی ایک فلم بنا رہے ہیں، جس کا نام گلزار کی مشہور نظم سے متاثر ہو کر ’چھوڑ آئے ہم وہ گلیاں‘ رکھا گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جس طرح امتیاز علی نے ’میں واپس آؤں گا‘ میں ماضی کو آج کے ناظرین اور موجودہ حالات سے جوڑا ہے، وہ اپنی فلم میں بھی کچھ نئے پہلو شامل کرنا چاہیں گے۔
عمیر نے فلم اور اس کی کہانی کو احمد فراز کے اس شعر میں سمیٹا:
سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت
مکیں اُدھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں

























