عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے فیصلے پر ’من و عن عمل‘ سے ’قانونی سُقم‘ اور ’سازش‘ تک: سپریم کورٹ کا فیصلہ حکومت کے لیے کنفیوژن کا باعث کیوں بنا؟

Imran Khan, Shifa Hospital

،تصویر کا ذریعہEPA

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

سپریم کورٹ کی جانب سے سابق وزیر اعظم عمران حان کو علاج کی غرض سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد جہاں پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے اِس کا خیرمقدم کیا ہے، وہیں وفاقی حکومت کی جانب سے عدالت عظمیٰ میں اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کی گئی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سپریم کورٹ کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد وفاقی وزرا کی جانب سے دیے گئے بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ شاید حکومت اس نوعیت کے فیصلے کی توقع نہیں کر رہی تھی۔

یاد رہے کہ فیصلہ سامنے آنے کے فوری بعد دیے گئے ردعمل میں چند وفاقی وزرا نے کہا تھا کہ عدالتی فیصلے پر ’من و عن‘ عمل کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر پارلیمانی اُمور طارق فضل چوہدری نے منگل کی دوپہر سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس فیصلے پر من و عن عمل‘ کیا جائے گا۔ انھوں نے پی ٹی آئی کے سینیٹرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ عدالتیں ہی وہ واحد ذریعہ ہیں جن سے ان کی جماعت کے لیے 'کوئی راستہ بن سکتا ہے۔'

اُسی روز وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بی بی سی کے نامہ نگار روحان احمد کو بتایا تھا کہ حکومت کو عدالتی فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں اور ’عدالت کو ایسا حکم جاری کرنے کا اختیار حاصل ہے۔‘

انھوں نے پی ٹی آئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ سڑکیں بند کرنے اور پُرتشدد احتجاجی مظاہروں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا اور کوئی بھی راستہ اداروں سے ہی نکلے گا۔‘

تاہم وفاقی وزرا کے اس نوعیت کے ابتدائی بیانات کے بعد گذشتہ رات وفاقی وزیر قانون نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں اس فیصلے میں موجود مبینہ سقم کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا کہ فیصلے میں موجود ’ابہام‘ کو دور کرنے اور مناسب ترامیم کے لیے نظر ثانی درخواست دائر کی جائے گی۔

Supreme Court

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بدھ کی دوپہر کو جمع کروائی گئی نظر ثانی درخواست میں وفاقی حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ عدالت نے فیصلہ کرتے ہوئے ملک میں قیدیوں کی ہسپتال منتقلی سے متعلق جیل قوانین میں درج طریقۂ کار کو مد نظر نہیں رکھا، جس کے باعث منصفانہ ٹرائل اور مقررہ قانونی طریقۂ کار کے تقاضے پورے نہیں ہوئے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے عبوری مرحلے پر اور درخواست گزار کو سُنے بغیر (عمران خان کو) ایسا حتمی نوعیت کا ریلیف دیا ہے، جس کے باعث مساوی سلوک کے آئینی اصول متاثر ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن کی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے بدھ کو پی ٹی آئی کے رہنماؤں سے ملاقات کی ہے اور عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے فیصلے کو ’خوش آئند‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ ایک جمہوری روایت ہے۔‘

اس معاملے پر قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک طے شدہ اصول ہے کہ نظرثانی کی درخواست سماعت کے لیے مقرر ہونے پر سپریم کورٹ فریقین کو نوٹس جاری کرے گی، لیکن جب تک سپریم کورٹ اپنے اس فیصلے کو واپس لینے یا اسے معطل کرنے کے بارے میں کوئی حکم صادر نہیں کرتی تو اُس وقت تک عمران خان کو نجی ہسپتال میں منتقل کرنے کا حکم برقرار رہے گا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ اِس فیصلے کے بعد حکمراں جماعت کے وزرا کی جانب سے جس طرح کے بیانات آئے وہ ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت اس فیصلے سے خوش نہیں ہے۔

حکومتی ردِعمل: فیصلے پر ’من و عن‘ عمل سے ’قانونی سُقم‘ اور ’سازش‘ تک

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اگرچہ ابتدائی طور پر داخلہ امور کے وزیر مملکت طلال چوہدری نے عدالت عظمی کے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا تاہم بعدازاں انھوں نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ’مٹھائی کھانے میں جلد بازی‘ کا مظاہرہ کیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ اس عدالتی فیصلے کا جب بغور جائزہ لیا گیا تو اس میں قانونی سقم پائے گئے۔ انھوں نے کہا کہ متعلقہ عدالت نطرثانی کی اس درخواست پر جو بھی فیصلہ کرے گی، حکومت اس کو تسلیم کرے گی۔

پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے سینیٹر ناصر محمود بٹ، جو کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں، نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس عدالتی فیصلے کو پاکستان مسلم لیگ کی حکومت اور بلخصوص میاں نواز شریف کے خلاف ایک ’سازش‘ قرار دیا ہے۔

حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ حکومت سابق وزیر اعظم کو ہسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے آرڈر سے بالکل گھبراہٹ کا شکار نہیں ہے اور حکومت قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی تمام اقدامات کرے گی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ عمران خان سمیت کسی بھی قیدی کی صحت کا خیال رکھنا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے۔

انھوں نے کہا کہ عمران خان کو جب آنکھ کا مسئلہ ہوا تو حکومت نے اُن کے علاج کے لیے انھیں ہسپتال منتقل کیا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی صحت سے متعلق اُن کے ذاتی معالجین میں شامل ڈاکٹروں کی رائے بھی طلب کی گئی تھی۔

یاد رہے کہ بدھ کے روز سابق وزیر اعظم کی ہسپتال منتقلی کیس میں، عمران خان کی بہن عظمیٰ خان نے چند اضافی دستاویزات بھی سپریم کورٹ میں جمع کروا دی ہیں جن میں سابق وزیر اعظم اور سربراہ پاکستان مسلم لیگ ن نوازشریف کی علاج کی غرض سے بیرون ملک روانگی کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔

جبکہ ایک سوال یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ اگر نواز شریف علاج کی غرض سے بیرون ملک جا سکتے ہیں تو عمران خان کو ملک کے اندر ہی ایک نجی ہسپتال کیوں نہیں بھیجا جا سکتا۔ یاد رہے کہ حکومت نے اپنی نظر ثانی درخواست میں بھی جیل قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی قیدی کا علاج سرکاری ہسپتال میں ہی کیا جانا لازم ہے، یا یہ کہ میڈیکل بورڈ قرار دے کہ مطلوبہ طبی سہولت سرکاری ہسپتال میں دستیاب نہیں ہے۔

اسی متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ن لیگ کے رہنما خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور عمران خان کی بیماری میں بہت زیادہ فرق ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب لاہور ہائیکورٹ نے میاں نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی، تو اُس وقت عمران خان وزیر اعظم تھے اور اُن کے رفقا اور ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنا چاہیے کیونکہ اُن کی حالت تشویشناک ہے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رُکن قومی اسمبلی علی محمد خان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے آرڈر کو ختم یا واپس کرنے کا اختیار صرف سپریم کورٹ کے پاس ہی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پارلیمانی امور کی وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اُن کی جماعت کی قیادت سے ملاقات کی تھی اور یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ حکومت سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد کرے گی۔

انھوں نے عدالتی فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ عمران خان کی میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پر کیا گیا جو اڈیالہ جیل کے حکام کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی تھی۔

انھوں نے کہا کہ جب سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف قید میں تھے تو انھیں علاج معالجے کے لیے شریف میڈیکل سٹی لے جایا جاتا تھا، جو کہ شریف فیملی کا ذاتی ہسپتال تھا اور اس وقت کی حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف نے اس پر کبھی کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔

’ڈیل یا سازش کا تصور درست نہیں‘

وفاقی وزار کے بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے صحافی و تجزیہ کار حامد میر کا کہنا ہے کہ عمران حان کو ہسپتال منتقل کرنے کے فیصلے کے بعد حکومت میں شامل کچھ افراد میں بظاہر یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ جس نوعیت کا ریلیف عمران خان کو دیا گیا ہے وہ کسی مبینہ ڈیل کا نتیجہ ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا ن لیگ کے چند رہنماؤں کو شاید یہ خدشہ لاحق ہوا ہے کہ پی ٹی آئی کی اسٹیبلشمنٹ سے اُسی طرح کی ڈیل ہوئی ہے جس طرح نواز شریف کی صحت اور اُن کی بیرون ملک منتقلی کے حوالے سے تحریک انصاف کے دور حکومت میں ہوا تھا۔

انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سامنے آنے والے وفاقی وزرا کے بیانات بھی آپس میں نہیں ملتے۔

حامد میر کے مطابق جو وفاقی وزرا وزیر اعظم شہباز شریف کے ہم خیال ہیں، بظاہر انھیں اس عدالتی حکمنامے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ تاہم جو وفاقی وزرا اور رہنما سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ہم خیال ہیں بظاہر وہ اس عدالتی فیصلے پر اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے تھے۔

حامد میر کا کہنا تھا کہ نواز شریف، جو کہ نیب کے ایک مقدمے میں سزا یافتہ مجرم تھے، کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی تھی اور وہ لندن کے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں زیر علاج رہے تھے، مگر اب وزیر قانون اور حکومت کا یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ قانون کے مطابق کسی بھی سزا یافتہ قیدی کا علاج ملک میں موجود سرکاری ہسپتال میں ہی کروایا جائے۔

Adiala Jail

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دوسری جانب تجزیہ نگار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ انھیں نہیں لگتا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کے فیصلے کے نتیجے میں حکومت پر کوئی دباؤ ہو گا۔ تاہم اُن کا کہنا تھا کہ بظاہر یہ فیصلہ سامنے آنے کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن بحثیت سیاسی جماعت کنفیوژن کا شکار ضرور ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس معاملے میں انٹرنیشل دباؤ کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ہے کیونکہ عمران خان ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں اور عالمی رہنما پاکستانی قیادت سے ملاقاتوں کے دوران یہ نقطہ ضرور اٹھاتے ہوں گے کہ عمران خان کو تین سال سے جیل میں رکھا گیا ہے کہ اُن سے متعلق ان کے اہلخانہ اور پارٹی رہنماؤں کے خدشات بھی ہیں۔

مظہر عباس کا کہنا ہے کہ روایتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر ہونے والی چہ میگوئیوں کے برعکس، انھیں نہیں لگتا کہ پی ٹی آئی کی اس ضمن میں اسٹیبلشمنٹ سے کوئی ڈیل ہوئی ہے اور نہ ہی حکومت کے خلاف کوئی سازش تیار ہو رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ بظاہر یہ ایک عارضی اور وقتی ریلیف ہے، اور پاکستان جیسے ملک میں اگر کسی بھی اہم شخصیت کو اس نوعیت کا ریلیف ملتا ہے تو اس کو لے کر مختلف آرا قائم کر لی جاتی ہیں۔