پی ایس ایل فائنل، پشاور زلمی کی حیدرآباد کنگز مین کو پانچ وکٹوں سے شکست: ’کچھ کھلاڑی دل میں بس جاتے ہیں اور بابر ان میں سے ایک ہیں‘

مطالعے کا وقت: 4 منٹ

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے فائنل میں پشاور زلمی نے حیدرآباد کنگز مین کو پانچ وکٹوں سے شکست دے دی ہے اور پی ایس ایل 11 کی فاتح بن گئی ہے۔

پشاور زلمی دوسری بار پی ایس ایل کی فاتح ٹیم بنی ہے۔

پی ایس ایل 11 کے فائنل میں حیدرآباد کنگز مین نے پہلے کھیلتے ہوئے پشاور زلمی کو جیت کے لیے 130 رنز کا ہدف دے دیا تھا جس کو فاتح ٹیم نے 16ویں اوور میں حاصل کر لیا اور اس کی پانچ وکٹیں ابھی باقی تھیں۔

ہدف کے تعاقب میں ابتدا میں پشاور زلمی کو مشکلات کا سامنا رہا ، کپتان بابر اعظم صفر پر آؤٹ ہوئے، حارث نے چھ اور کوشال مینڈس نے نو رنز بنائے۔ بریسویل بھی محض چار رنز بناسکے۔

تاہم پھر کھیل کے دوران پشاور زلمی کے آرون ہارڈی نے 56 رنز جبکہ عبدالصمد نے 48 رنز بنائے۔

اتوار کو لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں پشاور زلمی کے کپتان بابر اعظم نے ٹاس جیت کر کنگزمین کے کپتان مارنس لبوشین کو پہلے بیٹنگ کرنے کی دعوت دی تھی۔

پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے حیدرآباد کی ٹیم کو اپنا پہلا نقصان دوسرے ہی اوور میں اس وقت اُٹھانا پڑا جب نوجوان معاذ صداقت صرف 11 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

اس کے بعد صائم ایوب بیٹنگ کرنے آئے اور اگلے کچھ اوورز تک لگا کہ کنگزمین کسی اچھے ٹوٹل تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں گے، لیکن پانچویں اوور میں کپتان مارنس لبوشین 51 کے مجموعی سکور پر 20 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے اور ان کے بعد کوئی بھی نیا آنے والا بلے باز دیر تک کریز پر ٹک نہیں سکا۔

عثمان خان آٹھ، عرفان خان ایک، گلین میکسویل صفر، کوشل پریرا ایک، حسان خان 12، حنین شاہ نو رنز اور عاکف جاوید پانچ رنز پر آؤٹ ہوئے۔

حیدرآباد کنگزمین کی جانب سے سب سے زیادہ رنز صائم ایوب نے بنائے، وہ 50 گیندوں پر 54 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔

پشاور زلمی کی طرف سے ایرون ہارڈی نے چار، ناہید رانا نے دو اور محمد باسط اور سفیان مقیم نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

پی ایس ایل کی اختتامی تقریب میں وزیر اعظم شہباز شریف ، چیئرمین پی سی بی محسن نقوی اور وفاقی وزرا نے بھی شرکت کی۔

سوشل میڈیا پر ہونے والی گفتگو

سوشل میڈیا پر یوں تو فائنل کے حوالے سے دونوں مد مقابل ٹیموں پر بحث جاری تھی تاہم جوں ہی پشاور زلمی کی جیت کا اعلان ہوا شائقین نے پشاور زلمی کی کارکردگی کو خوب سراہا اور اس دوران بابر اعظم کو مبارکباد دینے کا سلسلہ جاری رہا۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’میرے لیے اصل جیت بابر اعظم کو پھلتے پھولتے اور ان کا عروج دیکھنا ہے۔ کچھ کھلاڑی صرف ایتھلیٹ نہیں ہوتے بلکہ وہ ہمارے ساتھ موجود جذبات کی طرح ہوتے ہیں۔‘

عشرہ راجپوت نامی صارف نے بھی بابر اعظم کو سراہتے ہوئے لکھا کہ ’بابر اعظم صرف ایک پلیئر نہیں بلکہ ایموشن ہے۔ کچھ کھلاڑی دل میں بس جاتے ہیں اور بابر ان میں سے ایک ہیں۔ ‘

حیدرآباد کنگزمین کے بلے بازوں کی کارکردگی پر سوشل میڈیا پر بھی بات چیت کی گئی۔

حمزہ خان نامی صارف نے اس طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’حیدرآباد کنگزمین کے کھلاڑی فائنل میچ کا دباؤ برداشت نہیں کر پا رہے۔‘

ایک اور صارف نے لکھا کہ حیدرآباد کی ٹیم غیرضروری رنز اور رن آؤٹس کی وجہ سے پریشانی کا شکار رہی ہے۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ انھیں اس میچ میں حیدرآباد کنگزمین کی ٹیم پاکستان کی قومی ٹیم کے طرز پر کھیلتی ہوئی نظر آئی ہے۔

جہاں حیدرآباد کنگزمین کے بلے بازوں پر تنقید ہوئی وہاں پشاور زلمی کی فیلڈنگ کی بھی سوشل میڈیا صارفین تعریف کرتے ہوئے نظر آئے۔

ساج صادق نے لکھا کہ پی ایس ایل میں دیگر ٹیموں کے مقابلے میں پشاور زلمی کی فیلڈنگ الگ ہی سطح پر نظر آئی ہے۔