آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیا پاکستانی ڈراموں کی غیر ضروری طوالت انھیں نیٹ فلکس اور دیگر او ٹی ٹی پلیٹ فارمز سے دور رکھے ہوئے ہے؟
- مصنف, عمیر علوی
- عہدہ, صحافی
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
پاکستانی ڈرامے طویل عرصے سے جنوبی ایشیا کی ثقافتی شناخت کا ایک اہم حصہ رہے ہیں۔ ان کی کہانیاں، مکالمے اور کردار نہ صرف پاکستان بلکہ انڈیا، مشرق وسطیٰ، برطانیہ اور دیگر ممالک میں اردو سمجھنے والے ناظرین کے درمیان مقبول ہیں۔
یوٹیوب اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے اس رسائی کو مزید وسعت دی ہے، مگر اس کے باوجود ایک بنیادی سوال اپنی جگہ قائم ہے اور وہ یہ کہ پاکستانی ڈرامے عالمی او ٹی ٹی پلیٹ فارمز، خصوصاً نیٹ فلکس اور ایمازون پرائم، پر نمایاں کیوں نہیں؟
یہ سوال اس وقت اور بھی اہم ہو جاتا ہے جب مقامی سطح پر ’شرپسند‘، ’ایک اور پاکیزہ‘ اور ’معمہ‘ جیسے ڈرامے نہ صرف ریٹنگز بلکہ ناظرین کی توجہ بھی حاصل کر رہے ہوں۔ کیا وجہ ہے کہ یہی مواد عالمی معیار پر جگہ نہیں بنا پا رہا؟
ٹیلنٹ کی کمی نہیں، مسئلہ کہاں ہے؟
پاکستانی انڈسٹری میں ٹیلنٹ کی کمی کا دعویٰ کرنا مشکل ہے۔ گذشتہ ایک سال کے دوران ہانیہ عامر، فاران طاہر اور ساجد حسن جیسے اداکار بین الاقوامی پراجیکٹس میں کام کر چکے ہیں۔
ہانیہ عامر نہ صرف دلجیت دوسانجھ کی پنجابی فلم ’سردار جی تھری‘ کی مرکزی ہیروئن تھیں، بلکہ اس فلم نے انڈیا میں ریلیز نہ ہونے کے باوجود ریکارڈ بزنس کیا۔
ہالی وڈ میں آئرن مین، سٹار ٹریک اور سکیپ پلین جیسی فلموں کے ذریعے اپنا لوہا منوانے کے بعد فاران طاہر اب ہم ٹی وی کے ڈرامے لیڈر کے ساتھ پاکستانی ٹی وی پر کم بیک کررہے ہیں، جبکہ گذشتہ ماہ ساجد حسن ایمازون پرائم کی سیریز بیٹ میں اکیڈمی ایوارڈ ونر رز احمد کے والد کے کردار میں نظر آئے۔
اس کے علاوہ گذشتہ سال ریلیز ہونے والی ہالی وڈ فلم دی وندو میں فیصل قریشی اور سمیع خان جب کہ دی مارشل آرٹسٹ کے ذریعے شاز خان اور صنم سعید نے عالمی سطح پر ڈیبیو کیا۔
اگر ٹیلنٹ موجود ہے تو پھر رکاوٹ کہاں ہے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کچھ ماہرین اس کا ذمہ دار صنعت کے ڈھانچے، پروڈکشن کے معیار اور سب سے بڑھ کر ڈراموں کی طوالت کو قرار دیتے ہیں۔
طوالت: مقبولیت یا مجبوری؟
پاکستانی ڈراموں میں جہاں کئی خصوصیات ہیں وہیں ماہرین کی نظر میں ایک خرابی بھی ہے، ان کی غیرضروری طوالت۔ جہاں ایک طرف ماضی میں پی ٹی وی کے دور میں 13 اقساط پر مشتمل ڈرامے عام تھے، وہیں آج کل 30 سے 50 اقساط تک کے ڈرامے معمول بن چکے ہیں۔
حال ہی میں نشر ہونے والا شرپسند اس کی ایک مثال ہے، جو 50 سے زائد اقساط پر مشتمل تھا۔ اگرچہ نعمان اعجاز کی عمدہ اداکاری کی وجہ سے اس ڈرامے نے ریٹنگز حاصل کیں، مگر سوشل میڈیا پر اس کی طوالت کو شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
اس کے برعکس ایک اور پاکیزہ نسبتاً کم اقساط میں مکمل ہوا اور اسے اس کی کہانی اور پروڈکشن کے لیے سراہا گیا۔
یہ فرق محض ناظرین کے ذوق کا نہیں بلکہ ایک بڑے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے، خاص طور ایک ایسے دور میں جہاں کم سے کم اقساط کی او ٹی ٹی سیریز کو دیکھنے والے زیادہ پسند کرتے ہیں۔
او ٹی ٹی فارمیٹ: مختصر مگر مؤثر
او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر مواد کا فارمیٹ روایتی ٹی وی سے مختلف ہوتا ہے۔ یہاں سیریز عموماً 6 سے 10 اقساط پر مشتمل ہوتی ہیں اور ہر قسط کا دورانیہ بھی محدود ہوتا ہے۔ اس فارمیٹ میں کہانی کو غیر ضروری طوالت کے بغیر پیش کرنا ضروری ہوتا ہے۔
اداکار و ہدایتکار ساجد حسن گزشتہ چالیس سال سے شوبز سے وابستہ ہیں، نہ صرف وہ انڈین ٹی وی اور فلموں میں کام کرچکے ہیں بلکہ حال ہی میں ایمازون پرائم کی سیریز بیٹ میں بھی ایک اہم کردار میں نظر آئے، بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے پاکستان اور انٹرنیشنل لیول کے فرق کو واضح کیا۔
’باہر ہر چیز پلاننگ کے ساتھ ہوتی ہے، ریہرسل، سکرپٹ ریڈنگ اور شوٹنگ کا مکمل شیڈول۔ یہی چیز ہمارے ہاں کم نظر آتی ہے۔‘
ان کے مطابق مختصر فارمیٹ نہ صرف کہانی کو مؤثر بناتا ہے بلکہ پروڈکشن کے معیار کو بھی بہتر بناتا ہے۔
کمرشل دباؤ اور اقساط کا پھیلاؤ
ڈرامہ نگار صائمہ اکرم چوہدری کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں، گذشتہ دس سالوں کے دوران وہ سنو چندا، عشق جلیبی اور چپکے چپکے سمیت کئی ایسے رمضان ڈرامے لکھ چکی ہیں، جن کا دورانیہ بھی کم ہوتا ہے اور جن کی اقساط کا تعین بھی پہلے سے ہوتا ہے۔
بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ڈراموں کی طوالت کی سب سے بڑی وجہ کمرشل ازم ہے۔
’جب ایک ڈرامہ مقبول ہو جاتا ہے تو اسے طول دینا ایک کاروباری فیصلہ بن جاتا ہے۔ اضافی اقساط کا فائدہ صرف پروڈیوسر کو ہوتا ہے۔‘
وہ وضاحت کرتی ہیں کہ اکثر ڈرامے ایک مخصوص تعداد کی اقساط کے لیے لکھے جاتے ہیں، مگر بعد میں انہیں فلیش بیکس، سست رفتار مناظر اور غیر ضروری ٹریکس کے ذریعے بڑھا دیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق یہ رجحان نہ صرف کہانی کو متاثر کرتا ہے بلکہ ناظرین کی دلچسپی بھی کم کر دیتا ہے۔
تخلیقی نقصان تخلیق کاروں کی نظر میں
رائٹر اور ڈائریکٹر محسن علی نے گذشتہ چند سالوں میں منی سیریز فارمیٹ پر کام کرنے کی کوشش کی، ان کا لکھا ڈرامہ گناہ جس میں صبا قمر، سرمد کھوسٹ اور رابعہ بٹ مرکزی کردار ادا کررہی تھیں، اس قدر مقبول ہوا تھا کہ ہدایتکار عدنان سرور کو اس کا پریکویل انسپکٹر صبیحہ بنانا پڑا تھا۔
محسن علی ڈراموں کو غیر ضروری طور پر طول دینے کو تخلیقی نقصان قرار دیتے ہیں۔
’جب آپ ایک مکمل کہانی کو کھینچتے ہیں تو آپ اس کی تاثیر کھو دیتے ہیں۔‘
ان کے مطابق مسئلہ صرف پروڈیوسرز کا نہیں بلکہ پورے سسٹم کا ہے، جہاں ادائیگی کا نظام فی قسط کے حساب سے ہوتا ہے، جس سے اقساط بڑھانے کا رجحان پیدا ہوتا ہے۔
تکنیکی معیار اور تربیت کی کمی
حال ہی میں ٹی وی ڈراموں سے رائلٹی اور کری ایٹیو فریڈم کی وجہ سے کنارہ کشی اختیار کرنے والے ہدایتکار کاشف نثار کے مطابق پاکستانی انڈسٹری کو صرف کہانی نہیں بلکہ تکنیکی مہارتوں میں بھی بہتری کی ضرورت ہے۔
’او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے لیے کام کرنا ایک الگ ہنر ہے۔ ہمیں ساؤنڈ، ایڈیٹنگ اور کلر گریڈنگ جیسے شعبوں میں بھی عالمی معیار تک پہنچنا ہوگا۔‘
وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پاکستان اس میدان میں کئی سال پیچھے ہے اور اس خلا کو پُر کرنے کے لیے تربیت اور سرمایہ کاری ضروری ہے۔
نیٹ فلکس کا معیار، ایک سخت امتحان
انڈین صحافی اور نیٹ فلکس پر موجود سپورٹس ڈاکیومینٹری دی گریٹسٹ رائیولری، پاکستان ورسز انڈیا کے پروڈیوسر ر چندریش نارائنن نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ او ٹی ٹی پلیٹ فارم کے لیے مواد تیار کرنے کا مطلب ہے ان کی مرضی کے مطابق کام کرنا، جو ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہے۔
نیٹ فلکس کے ساتھ اپنا تجربہ شئیر کرتے ہوئے انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’یہ وہ عمل ہے جس کی وجہ سے نیٹ فلکس دوسرے پلیٹ فارمز سے آگے ہے۔‘
’فلم ہو، ٹی وی شو ہو یا پھر ڈاکیومینٹری، اپنے ہر پراجیکٹ میں نیٹ فلکس ہر مرحلے میں شامل ہوتا ہے اور متعدد بار تبدیلیاں تجویز کرتا ہے، یہ ایک مسلسل ارتقائی عمل ہے جس سے ہم بھی گزرے اور سب کو گزرنا پڑتاہے۔‘
چندریش نارائنن پاکستانی ڈراموں پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں اور انہوں نے شر پسند کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ ڈرامہ نیٹ فلکس پر ہوتا تو فراست علی خان کے کردار کے انجام میں 52 اقساط نہیں لگتیں۔
ان کے خیال میں پاکستان کی پہلی نیٹ فلکس سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ بھی اسی لیے تاخیر کا شکار ہے کیوں کہ اس میں او ٹی ٹی پلیٹ فارم کا عمل دخل زیادہ ہے، لیکن وہ پرامید ہیں کہ جب بھی یہ سیریز آئے گی، نیٹ فلکس کے شایان شان ہوگی۔
سیاسی اور علاقائی عوامل
شوبز صحافی اور انڈین فلمسازوں کے ساتھ متحدہ عرب امارات کی پہلی پروڈکشن یاراوے کی شریک مصنفہ مہوش اعجاز سمجھتی ہیں کہ نیٹ فلکس یا ایمازون پرائم پر پاکستانی مواد کا نہ ہونا ایک سازش ہے، جس میں سیاسی عوامل کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
’او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر علاقائی اثر و رسوخ بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، جس کا اثر پاکستانی مواد کی رسائی پر پڑتا ہے۔‘
تاہم وہ اس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ معیار اور پیشکش میں بہتری لانا ناگزیر ہے۔
’ڈرامہ لمبا ہو یا کم دورانیے کا، ڈرامہ اچھا ہونا چاہیے۔ ہالی ووڈ میں گریز اناٹمی دہائیوں سے اوپر جا چکا ہے مگر لوگ اب بھی اسے پسند کرتے ہیں۔ اگر مان بھی لیا جائے کہ کم دورانیےکا ڈرامہ پیسہ نہیں کماتا تو پھر لکھاریوں اور کانٹینٹ والوں کو ٹرین کیا جائے کہ ڈرامہ اگر 32 اقساط کا ہے تو اسے 32 سمجھ کر لکھا جائے نہ کہ 16 سوچا جائے اور 17ویں قسط کے بعد اسکو لئیی کی طرح کھینچ کھینچ کر کچرا کر دیا جائے۔‘
وسائل، بجٹ اور ’جگاڑ‘ کلچر
ڈرامہ نگار صائمہ اکرم چوہدری اس بحث میں ایک اور اہم پہلو کی نشاندہی کرتی ہیں اور وہ ہے ’وسائل کی کمی۔‘
’او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے لیے جس معیار کا مواد درکار ہوتا ہے، اس کے لیے بڑا بجٹ، جدید تکنیک اور تربیت یافتہ ٹیم چاہیے۔ ہمارے ہاں اکثر پروڈیوسرز جلدی میں اور کم وسائل کے ساتھ کام مکمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے معیار متاثر ہوتا ہے۔‘
ان کے خیال میں جب تک معیار پر سمجھوتہ جاری رہے گا، عالمی پلیٹ فارمز تک رسائی مشکل رہے گی۔
’یوٹیوب کی کمائی نے تبدیلی روک دی ہے‘
رائٹر اور ہدایتکار محسن علی کے مطابق مسئلہ صرف تخلیقی نہیں بلکہ معاشی ڈھانچے سے بھی جڑا ہوا ہے۔
’جب تک چینلز کو یوٹیوب سے آمدن ہو رہی ہے، وہ او ٹی ٹی کی طرف جانے میں دلچسپی نہیں لیں گے۔ اس وقت سب سے زیادہ فائدہ چینلز کو ہو رہا ہے، پروڈیوسرز کو نہیں۔‘
وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ اگر واقعی او ٹی ٹی پلیٹ فارمز تک جانا ہے تو سب سے پہلے رائٹرز اور ہدایتکاروں کو اس فارمیٹ کے مطابق تربیت دینا ہوگی۔
’او ٹی ٹی ایک الگ دنیا ہے،یہ صرف پروڈیوسر یا مارکیٹر کے بس کی بات نہیں، اس کے لیے تخلیقی اور تکنیکی تیاری ضروری ہے۔‘
’فیصلہ کر لیں تو اقساط نہیں بڑھتیں‘
انڈین او ٹی ٹی پلیٹ فارم زی فائیو کے لیے متعدد پراجیکٹس بنانے والے ہدایتکار کاشف نثار اس بحث کو ایک مختلف زاویے سے دیکھتے ہیں۔
’اگر ہدایتکار یہ طے کر لے کہ ڈرامہ نہیں کھینچنا تو وہ نہیں کھنچے گا۔ مسئلہ نیت اور نظام دونوں کا ہے۔‘
وہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان او ٹی ٹی کے میدان میں کافی دیر سے داخل ہوا۔
’جب دنیا او ٹی ٹی کے لیے تیاری کر رہی تھی، ہم اس طرف توجہ ہی نہیں دے رہے تھے۔ اب ہم کم از کم 15 سے 20 سال پیچھے ہیں۔‘
ان کے مطابق صرف کہانی کافی نہیں بلکہ مکمل پروڈکشن ویلیو ساؤنڈ، ایڈیٹنگ اور پریزنٹیشن بھی عالمی معیار کی ہونی چاہیے۔
حکومتی کردار اور مقامی او ٹی ٹی پلیٹ فارم
اداکار ساجد حسن کے مطابق پاکستان میں او ٹی ٹی پلیٹ فارم کے قیام میں حکومت کا کردار اہم ہو سکتا ہے۔
’یہ ایک بڑا کام ہے جس کے لیے ریاستی سطح کی سپورٹ درکار ہوتی ہے۔ اگر پاکستان کا اپنا مضبوط او ٹی ٹی پلیٹ فارم ہو تو مقامی مواد کو عالمی سطح پر پیش کیا جا سکتا ہے۔‘
وہ انڈیا کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہاں او ٹی ٹی پلیٹ فارمز نے ملک کے مثبت امیج کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کیا ہم تیار ہیں؟
ان تمام آراء کو سامنے رکھا جائے تو ایک بات واضح ہوتی ہے کہ مسئلہ صرف ڈراموں کی طوالت نہیں بلکہ ایک بڑے نظامی خلا کا حصہ ہے—جس میں کمرشل دباؤ، تکنیکی کمی، تربیت کا فقدان اور پالیسی کی عدم موجودگی شامل ہیں۔
ڈراموں کی غیر ضروری طوالت یقیناً ایک بڑی رکاوٹ ہے—مگر یہ دراصل ایک بڑے مسئلے کی علامت ہے۔
جب تک ٹی وی انڈسٹری اپنے ڈھانچے، معیار اور سوچ میں تبدیلی نہیں لاتی، تب تک پاکستانی ڈرامہ عالمی سکرین پر وہ مقام حاصل نہیں کر سکے گا جس کا وہ حقدار ہے، اور او ٹی ٹی پلیٹ فارمز تک اس کی رسائی ممکن نہیں ہوگی۔