آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیا شام کے تجویز کردہ ’فور سیز اور فور پلس ون‘ منصوبے آبنائے ہرمز کے متبادل ہو سکتے ہیں؟
- مصنف, بی بی سی مانیٹرنگ
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
مشرقِ وسطیٰ میں جہاں ایران جنگ کے اثرات اور آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے عالمی تجارت خدشات سے دوچار ہے وہیں اس دوران شام نے ایک تجویز پیش کی ہے۔
شام کا کہنا ہے کہ وہ عالمی توانائی اور تجارتی نقل و حمل کے لیے ایک مرکزی راہداری کے طور پر کام کر سکتا ہے۔
گذشہ مہینے ترکی اور قبرص میں یورپی یونین کے رہنماؤں کی ایک نشست میں شام کے صدر احمد الشرع نے تجویز پیش کی کہ شام اپنے جغرافیائی محل وقوع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے توانائی اور مال برداری کے لیے ایک متبادل روٹ بنانا چاہتا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہ روٹ خلیجی ممالک کو ترکی سے جوڑے گا اور بحیرۂ روم تک محفوظ رسائی فراہم کرے گا۔
شام کے اس منصوبے کو اس نوعیت کے دیگر منصوبوں سے مقابلے کا سامنا ہو سکتا ہے، جن میں انڈیا کا انڈیا-مشرق وسطی-یورپ اقتصادی راہداری منصوبہ (آئی ایم ای سی) شامل ہے۔
اس تجویز کو آگے بڑھانے کے لیے شام ’فور سیز‘ منصوبے اور ’فور پلس ون‘ پلان کو فروغ دے رہا ہے۔
ان دونوں منصوبوں کے حوالے سے امید بھی ہے لیکن ان کے سامنے بڑے چیلنجز بھی موجود ہیں۔
’فور سیز منصوبہ‘ کیا ہے؟
’فور سیز‘ منصوبہ جسے ’نائن کوریڈور انیشی ایٹو‘ بھی کہا جاتا ہے، ایک ایسے مربوط نقل و حمل اور توانائی کے نیٹ ورک کا تصور پیش کرتا ہے جو خلیج، بحیرۂ روم، بحیرۂ کیسپیئن اور بحیرۂ اسود کو آپس میں جوڑتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کا وسیع تر مقصد شام اور ترکی کو علاقائی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے کلیدی مراکز کے طور پر قائم کرنا ہے۔
احمد الشرع نے 24 اپریل کو قبرص میں ہونے والی نشست میں اس منصوبے کی وکالت کی، جبکہ شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے ترکی کے دورے کے دوران اسے دوطرفہ سٹریٹجک تعاون کے ایک نئے مرحلے کا آغاز قرار دیا۔
پورے عرب خطے میں رسائی رکھنے والے سعودی خبر رساں ادارے ’المجلة‘ کی حاصل کردہ ایک دستاویز میں شام کو عالمی توانائی کی ترسیل کا بڑا ٹرانزٹ مرکز بنانے کے امریکی منصوبے کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ اس خاکے کا سہرا شام میں امریکی ایلچی ٹام بارک کے سر باندھا گیا ہے۔
’المجلة‘ کے مطابق یہ منصوبہ خلیج اور عراق کے تیل کے میدانوں کو بحیرۂ روم کی بندرگاہوں اور آگے یورپ سے جوڑنے کے لیے موجودہ اور مجوزہ پائپ لائنز کے وسیع نیٹ ورک کی بحالی اور توسیع پر مرکوز ہے۔
’المجلة‘ کا کہنا ہے کہ کرکوک-بانیاس تیل پائپ لائن کی بحالی پر 36 مہینوں میں تقریباً 4.5 ارب ڈالر لاگت آئے گی اور اس سے شام کو ٹرانزٹ فیس کی مد میں سالانہ تقریباً 20 کروڑ ڈالر آمدن کی توقع ہے۔
’المجلة‘ کے مطابق عرب گیس پائپ لائن کو مصر کے ذریعے شام سے ہوتے ہوئے ترکی تک بڑھانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ مجوزہ قطر-ترکی گیس روٹ بھی زیر غور ہے، جس کے تحت قطر کی گیس اردن اور شام کے راستے ترکی اور پھر یورپ بھیجی جائے گی۔
فور پلس ون انیشی ایٹو کیا ہے؟
علاقائی توانائی ٹرانزٹ مرکز کے طور پر خود کو دوبارہ قائم کرنے کی کوششوں کے تحت، شامی حکومت نے مارچ 2026 میں فور پلس ون انیشی ایٹو کی تجویز پیش کی۔ اس منصوبے کا مقصد ایسے مربوط اور محفوظ زمینی توانائی راہداریوں کی تشکیل ہے جو روایتی بحری راستوں پر انحصار کم کریں۔
شام کی وزارتِ معاشی اُمور کے مشیر اسامہ القادی نے پورے عرب خطے میں مقبول ویب سائٹ ’العربی الجدید‘ کو بتایا کہ جہاں ’فور سیز منصوبہ‘ علاقائی آبی گزرگاہوں کو جوڑے گا، وہیں فور پلس ون انیشی ایٹو علاقائی معیشتوں کو آپس میں مربوط کرے گی۔
اُنھوں نے دونوں منصوبوں کو ایک دوسرے سے منسلک قرار دیا، جو علاقائی استحکام اور ترقی کے مشترکہ اہداف کو مضبوط بناتے ہیں۔
اسامہ القادی کے مطابق فور پلس ون منصوبوں کی مجموعی لاگت 50 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
اہم چیلنجز کیا ہیں؟
ان منصوبوں کی کشش اور ان سے جڑی امیدوں کے باوجود ان کے سامنے پیچیدہ چیلنجز موجود ہیں۔ ان کی عملی حیثیت اس بات پر منحصر ہے کہ آیا شام اپنی سیاسی اور ادارہ جاتی کمزوریوں پر قابو پا سکتا ہے، برسوں کے تنازع سے تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کر سکتا ہے، اور بڑے مالی، سکیورٹی اور جیو پولیٹیکل دباؤ کے درمیان راستہ نکال سکتا ہے یا نہیں۔
ترکی اور مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر صحافی سرکیس کاسارجيان نے ’یورونیوز‘ کو بتایا کہ ایسی تجاویز نئی نہیں ہیں۔
اُن کے بقول سعودی عرب، اسرائیل اور ترکی جیسے ممالک کے پاس جو بنیادی ڈھانچہ، استحکام اور جغرافیائی فوائد ہیں، وہ شام کے پاس نہیں۔
ان کے مطابق سکیورٹی اور طرزِ حکمرانی سے متعلق خامیاں اب بھی بڑی رکاوٹ ہیں اور شام کی سیاسی و ادارہ جاتی کمزوریاں تعمیر نو اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
شام کے پیٹرولیم انجینئر غسان الرائی نے بھی ’یورو نیوز‘ کو بتایا کہ 2011 میں خانہ جنگی شروع ہونے سے پہلے جو پائپ لائن نیٹ ورک جزوی طور پر فعال تھے، ان کی مرمت یا توسیع ممکن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی قسم کی تعمیر نو مالی انتظامات اور سکیورٹی صورتحال پر منحصر ہوگی۔ اُنھوں نے یہ بھی بتایا کہ برسوں کے تنازع کے باعث ہنر مند افرادی قوت کی کمی ہو چکی ہے۔
شام کی قومی حدود سے باہر، بڑے پیمانے پر سرحد پار ریلوے، سڑک اور پائپ لائن نیٹ ورک کی تعمیر کو مالی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے، جنھیں بدلتے علاقائی حالات مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔
شام کے معاشی امور کے ماہر سلمان الحکیم نے لبنانی اخبار ’النہار‘ کو بتایا کہ سب سے بڑا چیلنج فنڈنگ کا ہے، کیونکہ کوئی ایک ملک اکیلا اس لاگت کو برداشت نہیں کر سکتا۔ اندازہ ہے کہ راستوں کی تعمیر اور اپ گریڈیشن پر 10 سے 15 ارب ڈالر سے زائد لاگت آئے گی۔
شام میں ماہرِ معاشیات زیاد عرباش نے بھی اندازہ لگایا کہ راستوں کی تعمیر اور بہتری کی لاگت 10 سے 15 ارب ڈالر سے زیادہ ہوگی۔ اس کے لیے اعلیٰ سطح کے علاقائی تعاون اور پوری راہداری میں سکیورٹی کی ضرورت ہوگی، خاص طور پر شام کے تنازع سے متاثرہ علاقوں میں۔
گیس پائپ لائن کی تجویز پر بات کرتے ہوئے، عرباش نے اس کی بھاری لاگت، راستے کی طوالت اور عرب-ترک تعاون کی ضرورت کا ذکر کیا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسے روس، آذربائیجان اور الجزائر کی گیس سے سخت مقابلے کا سامنا ہو گا، جو پہلے ہی یورپ کو فراہم کی جا رہی ہے۔
انڈیا کے منصوبے سے مقابلہ
انڈیا-مشرقِ وسطیٰ-یورپ اقتصادی راہداری کا منصوبہ ستمبر 2023 میں انڈیا میں منعقدہ جی20 سربراہ اجلاس کے دوران پیش کیا گیا تھا۔
شام کی اس تجویز کو ان منصوبوں سے بھی سخت مقابلہ درپیش ہے، جو متبادل اقتصادی راہداریوں کی تشکیل کی بات کرتے ہیں اور جن میں شام کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ ان میں سب سے اہم مجوزہ انڈیا-مشرقِ وسطیٰ-یورپ اقتصادی راہداری (IMEC) ہے۔
اس پر بحث کا آغاز ستمبر 2023 میں جی20 سربراہ اجلاس کے دوران ہوا تھا۔ اس میں جدید نقل و حمل، ڈیجیٹل اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے ذریعے انڈیا، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کو جوڑنے کی تجویز دی گئی ہے۔
انڈیا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، امریکہ اور بڑے یورپی شراکت داروں کی حمایت کے ساتھ، اسے چین کے ’بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو‘ کے متبادل کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
مجوزہ راہداری انڈیا سے امارات تک ایک بحری راستے کو سعودی عرب اور اردن سے ہوتی ہوئی اسرائیل کی حیفہ بندرگاہ تک جانے والی ریلوے لائن سے جوڑتی ہے، جہاں سے سامان آگے یورپ بھیجا جائے گا۔