آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, امریکہ نے توسکا نامی ایرانی جہاز عملے سمیت پاکستان کے حوالے کر دیا، ترجمان امریکی سینٹ کام

امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹ کام کے ایک ترجمان نے اے بی سی نیوز کو بتایا ہے کہ وہ ایرانی جہاز، جسے امریکی بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کے بعد تحویل میں لیا گیا تھا عملے سمیت پاکستان منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ اسے ایران واپس بھیجا جا سکے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوموار کی صبح سے آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کے لیے ’پراجیکٹ فریڈم‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

خلاصہ

  • ٹرمپ کا آبنائے ہرمز سے جہازوں اور اُن کے عملے کی محفوظ روانگی کے لیے پیر سے'بہترین کوششوں' کے آغاز کا اعلان
  • مذاکرات میں تسلسل کے لیے امریکہ کو اپنے رویے میں تبدیلی لانی ہو گی: پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر
  • سیستان بلوچستان میں پاسدارانِ انقلاب کے قافلے پر حملے میں راسک شہر کے کمانڈر زخمی
  • ٹرمپ کو ناممکن فوجی آپریشن یا خراب معاہدے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا: پاسداران انقلاب
  • 1991 کی خلیجی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ کویت کی ماہانہ تیل برآمدات صفر بیرل رہیں: رپورت
  • جرمنی کا ایران سے آبنائے ہرمز کھولنے اور جوہری پروگرام ترک کرنے کا مطالبہ
  • خطے سے امریکی فوج کا انخلا، ناکہ بندی کا خاتمہ اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی سمیت 14 نکات امریکہ بھجوا دیے ہیں: ایرانی میڈیا

لائیو کوریج

  1. امریکہ نے توسکا نامی ایرانی جہاز عملے سمیت پاکستان کے حوالے کر دیا، ترجمان امریکی سینٹ کام

    امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹ کام کے ایک ترجمان نے اے بی سی نیوز کو بتایا ہے کہ وہ ایرانی جہاز، جسے امریکی بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کے بعد تحویل میں لیا گیا تھا عملے سمیت پاکستان منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ اسے ایران واپس بھیجا جا سکے۔

    سینٹ کام کے ترجمان کیپٹن ٹِم ہاکنز کے مطابق ’آج یعنی سوموار کے روز امریکی افواج نے ’ایم وی توسکا‘ کے 22 عملے کے اراکین کو ایران واپسی کے لیے پاکستان منتقل کرنے کا عمل مکمل کر لیا ہے، جب کہ چھ دیگر مسافروں کو گزشتہ ہفتے ہی منتقل کر دیا گیا تھا۔‘

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ان چھ افراد کی شناخت عملے کے بعض ارکان کے اہلِ خانہ کے طور پر کی گئی ہے۔‘

    کیپٹن ہاکنز کا کہنا تھا کہ ’جہاز توسکا کو اس کی اصل ملکیت رکھنے والی انتظامیہ کے حوالے کرنے کے لیے اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ اس بحری جہاز کو گزشتہ ماہ ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی کوشش کے دوران روکا اور ضبط کیا گیا تھا۔‘

    امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین کے مطابق ’19 اپریل کو امریکی بحری جہازوں کی جانب سے چھ گھنٹے تک دی گئی وارننگز کو نظر انداز کرنے کے بعد ایک امریکی ڈسٹرائر نے کنٹینر شپ کے انجن روم پر فائرنگ کی، بعد ازاں امریکی میرینز نے جہاز پر سوار ہو کر اسے اپنے کنٹرول میں لے لیا۔‘

  2. ایران سے مثبت بات چیت کا عندیہ، ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں پراجیکٹ فریڈم شروع کرنے کا اعلان

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کی صبح سے آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو آزاد کرانے کی کوشش شروع کرنے کے لیے ’پراجیکٹ فریڈم‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ کسی بھی طرح مداخلت کی گئی تو ’بدقسمتی سے‘ اس سے طاقت کے ذریعے نمٹا جائے گا۔

    سوشل میڈیا پوسٹ پر انھوں نے کہا کہ انھیں اس بات کا علم ہے کہ ان کے نمائندے ایران کے ساتھ ’انتہائی مثبت‘ بات چیت کر رہے ہیں، اور یہ مذاکرات سب کے لیے کسی مثبت پیش رفت کا باعث بن سکتے ہیں۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ عمل، جسے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کا نام دیا گیا ہے، پیر کی صبح سے شروع ہوگا۔‘

    امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک نے امریکہ سے درخواست کی ہے کہ وہ اُن کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے بحفاظت نکالنے میں مدد فراہم کرے۔ یہ وہ ممالک ہیں جن کا مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع سے کوئی تعلق نہیں۔

    امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر بتایا کہ ایران، مشرقِ وسطیٰ اور خود امریکہ کے مفاد میں اِن ممالک کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ امریکہ اُن کے جہازوں کو محدود آبی گزرگاہوں سے محفوظ طریقے سے نکالنے میں رہنمائی فراہم کرے گا تاکہ وہ آزادانہ طور پر اپنا کاروبار جاری رکھ سکیں۔

    صدر ٹرمپ کے مطابق انھوں نے اپنے نمائندوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ متعلقہ ممالک کو مطلع کریں کہ امریکہ آبنائے ہرمز سے جہازوں اور اُن کے عملے کی محفوظ روانگی کے لیے ’بہترین کوششیں‘ کرے گا۔

    صدر ٹرمپ کے مطابق متعلقہ ممالک نے بتایا ہے کہ یہ جہاز اُس وقت تک علاقے میں واپس نہیں آئیں گے جب تک اسے جہاز رانی کے لیے محفوظ قرار نہیں دیا جاتا۔

    ایران کے ساتھ ’انتہائی مثبت‘ بات چیت جاری: ٹرمپ

    صدر ٹرمپ کے بیان کے مطابق جہازوں کی یہ نقل و حرکت اُن افراد، کمپنیوں اور ممالک کی مدد کے لیے ہے جنھوں نے ’’بالکل کوئی غلط کام نہیں کیا‘‘ اور جو اس صورتحال میں محض حالات کا شکار ہیں۔ انہوں نے اس اقدام کو امریکہ، مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اور خصوصاً ایران کی جانب سے ایک ’انسانی ہمدردی‘ کا قدم قرار دیا۔

    سوشل میڈیا پر جاری ٹرمپ بیان کے مطابق یہ تمام جہاز اُن خطوں سے تعلق رکھتے ہیں جو اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں جاری صورتحال میں کسی بھی طور ملوث نہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ کئی جہازوں پر خوراک اور دیگر ضروری سامان کی کمی ہے جو بڑے عملے کے لیے صحت مند اور صاف ستھرے ماحول میں جہاز پر قیام کے لیے لازم ہے۔

    صدر ٹرمپ کے مطابق یہ اقدام گزشتہ کئی ماہ کے دوران شدید تنازع میں الجھے فریقوں کی جانب سے خیرسگالی کے اظہار میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

    امریکی صدر نے خبردار کیا کہ اگر کسی بھی طرح اس انسانی ہمدردی کے عمل میں مداخلت کی گئی تو ’بدقسمتی سے‘ اس سے طاقت کے ذریعے نمٹا جائے گا۔

  3. ایران کے قریب کارگو ٹینکر پر چھوٹی کشتیوں کے حملے کی اطلاعات:برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز

    برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے اطلاع دی ہے کہ اتوار کے روز آبنائے ہرمز میں ایک کارگو جہاز پر کئی چھوٹی کشتیوں نے حملہ کیا ہے۔

    یو کے ایم ٹی اور کے مطابق ایرانی بندرگاہ سرک کے مغرب میں تقریباً 11 ناٹیکل میل کے فاصلے پر شمال کی طرف سفر کرتے ہوئے اس کارگو پر حملے کی خبر موصول ہوئی ہے۔

    ایجنسی کے مطابق عملے کے تمام ارکان محفوظ ہیں اور ماحولیاتی اثرات کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

  4. نئے مجوزہ قانون کے تحت امریکی اور اسرائیلی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی: ایرانی نائب سپیکر

    ایران کی پارلیمنٹ کے نائب سپیکر علی نیکزاد کا کہنا ہے کہ پارلیمان سے ایک ایسا قانون منظور کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کے تحت امریکی اور اسرائیلی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    علی نیکزاد نے آبنائے ہرمز کا دورہ بھی کیا تھا۔ ان کے مطابق اس مجوزہ قانون کے مطابق دیگر ممالک کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ہوگی، تاہم انھیں ’سروس، حفاظت، ماحولیاتی تحفظ اور جہازوں کی رہنمائی‘ کے لیے فیس ادا کرنا ہوگی۔

    نیکزاد کے مطابق دنیا بھر میں اس فیس کی ادائیگی عام سی بات ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے والی صورتحال میں اب واپس نہیں آئے گی۔

  5. جرمنی کا ایران سے آبنائے ہرمز کھولنے اور جوہری پروگرام ترک کرنے کا مطالبہ

    جرمن وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایران سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جوہری پروگرام ترک کا مطالبہ کیا ہے۔

    یہ بات جرمن وزیرِ خارجہ یوہانس واڈے فُل نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کہی۔

    واڈے فُل کا کہنا ہے کہ انھوں نے اتوار کو ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے اور اپنے جوہری پروگرام کو ترک کرے۔

    جرمن وزیرِ خارجہ کا اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک پیغام میں کہنا ہے کہ بات چیت کے دوران میں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جرمنی مذاکرات کے ذریعے تنازع کے حل کی حمایت کرتا ہے۔

    بیان میں ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کا قریبی اتحادی کے ناطے ہمارے مقاصد مشترکہ ہیں: ایران کو اپنے جوہری ہتھیاروں کے منصوبے کو مکمل اور قابلِ تصدیق انداز میں ترک کرنا ہو گا اور فوری طور پر آبنائے ہرمز کو کھولنا ہو گا۔

  6. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    آئیے آج کے دن میں آگے بڑھنے سے قبل گذشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

    • دنیا میں سمندر کے ذریعے تیل کی ترسیل پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ’ٹینکر ٹریکرز‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ اپریل کے مہینے میں کویت کی خام تیل کی برآمدات صفر رہیں۔ ٹینکر ٹریکرز کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 1991 کی خلیجی جنگ کے خاتمے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کویت نے پورے مہینے خام تیل برآمد نہیں کیا۔
    • پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کے تسلسل لیے امریکہ کو اپنے رویے میں تبدیلی لانی ہو گی۔ اتوار کو اسلام آباد میں ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں امیری مقدم کا کہنا تھا کہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے ایک جامع منصوبہ اور اپنا موقف واضح انداز میں پیش کیا ہے۔
    • ایران کے صوبے سیستان بلوچستان کی صورتِ حال پر نظر رکھنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ضلع راسک میں مسلح افراد کی جانب سے فوجی گاڑیوں کے ایک قافلے پر حملے کے نتیجے میں پاسدارانِ انقلاب کے کئی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ایرانی عدلیہ کے خبر رساں ادارے میزان کے مطابق 2022 میں ایران میں مظاہروں کے دوران ایک سکیورٹی اہلکار کے قتل میں ملوث مجرم کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔ اتوار کے روز میزان کی جانب سے شائع رپورٹ میں کہا گیا ایران کی سپریم کورٹ نے 2025 کے اواخر میں مجرم کی سزائے موت کو برقرار رکھا تھا جس کے بعد اسے پھانسی دے دی گئی۔
  7. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔