پاکستان، سعودی عرب اور قطر سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی امید اور لنزے گراہم کی ’سنگین نتائج‘ کی دھمکی

ٹرمپ، لنزے گراہم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنرپبلکن پارٹی کے سینیٹر گراہم کو ٹرمپ کے اہم اتحادیوں میں شمار کیا جاتا ہے
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 9 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جہاں یہ کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تعمیری انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں تو وہیں انھوں نے ’مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک‘ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے والے تاریخی ابراہیمی معاہدوں کا حصہ بن سکتے ہیں۔

ٹروتھ سوشل پر ٹرمپ کا بیان خاصی توجہ کا مرکز رہا جس پر بعد ازاں ایکس پر امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے بھی اس کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے ذریعے تنازع ختم ہونے پر اگر نتیجتاً خطے کے عرب اور مسلم اتحادی ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہو جائیں تو یہ مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے لیے سب سے موثر معاہدہ ہو گا۔

اگرچہ ٹرمپ نے اپنے پیغام میں کسی ملک کا نام نہیں لیا تاہم گراہم نے اس سلسلے میں سعودی عرب، قطر اور پاکستان کا ذکر کیا ہے۔ گراہم نے اپنے پیغام میں خبردار کیا کہ اگر ان ممالک نے ایسا نہ کیا تو ’ہمارے مستقبل کے تعلقات پر اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔‘

اسی تنبیہ کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنا ہوا ہے جہاں پاکستانی، سعودی اور قطری صارفین اس پر ردعمل دے رہے ہیں۔ اکثر لوگوں نے گراہم پر تنقید کی ہے اور یہ سوال اٹھایا ہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے کیسے دباؤ ڈال سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ اتوار کے روز ٹرمپ نے پاکستان، سعودی عرب، ترکی، قطر، مصر، متحدہ عرب امارات اور اردن کے رہنماؤں کے ساتھ فون پر گفتگو کی تھی جس میں پاکستان سے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سعودی عرب سے ولی عہد محمد بن سلمان شریک ہوئے تھے۔

ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت کے حوالے سے اسرائیل کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ ٹرمپ کے بقول معاہدے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے اور اس کا جلد اعلان کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان سمیت مسلم ممالک کے رہنماؤں کی ٹرمپ کے ساتھ کال میں کیا گفتگو ہوئی؟

ٹرمپ کی عرب اور مسلم ممالک کے رہنماؤں سے کیا بات چیت ہوئی، اس کی مکمل تفصیلات تو دستیاب نہیں مگر امریکی صدر کے بقول اس دوران ایران کے ساتھ قیام امن کی مفاہمتی یادداشت سے جڑے تمام پہلوؤں پر بات چیت ہوئی ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز پر بحری آمد و رفت کی بحالی سمیت اس معاہدے میں کئی پہلو شامل ہیں۔

قیام امن کی ’غیر معمولی کوششوں‘ پر پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک پیغام میں ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس ٹیلی فون کال میں ’فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کی نمائندگی کی اور میں تمام عمل کے دوران ان کی انتھک محنت کو سراہتا ہوں۔‘

ایکس پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اس نے ’خطے میں قیام امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے طریقہ کار پر بات کرنے کا ایک مفید موقع فراہم کیا۔‘

پاکستانی وزیراعظم کو امید ہے کہ ’ہم بہت جلد آئندہ مذاکراتی دور کی میزبانی کریں گے۔‘

ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ادھر سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کا کہنا ہے کہ اس کال میں حالیہ پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا گیا، ٹرمپ کی قیادت کو سراہا گیا جبکہ قطر اور پاکستان کی طرف سے ثالثی کی کوششوں کو بھی داد دی گئی۔

نیوز پلیٹ فارم ایگزیوس نے اپنی رپورٹ میں اس کال سے باخبر دو امریکی اہلکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ نے ’کئی عرب اور مسلم ممالک سے کہا کہ اگر ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدہ ہو گیا تو وہ چاہتے ہیں کہ یہ ممالک اسرائیل کے ساتھ امن معاہدوں پر دستخط کریں۔‘

اس رپورٹ میں ایک امریکی اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ ’سعودی عرب، قطر اور پاکستان کے رہنما جن کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں، وہ ٹرمپ کی درخواست پر حیران ہوئے۔ لائن پر خاموشی ہوئی، اور ٹرمپ نے مذاق میں کہا کیا وہ وہاں (اس کال پر) موجود ہیں یا نہیں۔‘

اب تک ان ممالک کی جانب سے باقاعدہ طور پر کال کی تمام تفصیلات شیئر نہیں کی گئی ہیں اور نہ ہی ٹرمپ کی طرف سے ایسی کسی درخواست کی تصدیق ہو سکی ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ نومبر کے دوران بھی ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران انھیں اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

لنزے گراہم کی تنبیہ پر مسلم ممالک میں اظہار برہمی

لنزے گراہم کا پیغام خاص طور پر سعودی عرب، پاکستان اور قطر میں توجہ حاصل کر رہا ہے۔ رپبلکن پارٹی کے سینیٹر گراہم کو ٹرمپ کے اہم اتحادیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

اپنے پیغام میں وہ کہتے ہیں کہ ’اگر واقعی ان مذاکرات کے نتیجے میں ایران کے تنازع کے خاتمے کے ساتھ خطے میں ہمارے عرب اور مسلم اتحادی ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہونے پر متفق ہو جاتے ہیں تو یہ مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے سب سے اہم معاہدوں میں سے ایک بن جائے گا۔‘

انھوں نے سعودی عرب، قطر اور پاکستان کا نام لے کر کہا کہ ان کا ’ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہونا خطے اور دنیا کے لیے بڑی تبدیلی ثابت ہو گا۔ یہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک غیر معمولی قدم ہے۔‘

’سعودی عرب اور دیگر ممالک کے لیے اب وقت ہے کہ نئے مشرق وسطیٰ کے مستقبل کے لیے جرات مندانہ قدم اٹھائیں۔ جیسا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے۔‘

گراہم کو توقع ہے کہ یہ ممالک ’ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہوں گے جس سے عرب اسرائیل تنازع ختم ہو جائے گا۔‘

انھوں نے خبردار بھی کیا کہ اگر یہ ممالک ٹرمپ کی تجویز سے انکار کرتے ہیں تو ’اس کے ہمارے مستقبل کے تعلقات پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے اور امن کا حصول ناقابل قبول ہو گا۔ تاریخ اسے مِس کیلکولیشن یعنی (غلطی) کے طور پر یاد رکھے گی۔‘

اگرچہ سعودی عرب یا پاکستان کی طرف سے اب تک باقاعدہ طور پر گراہم کے پیغام پر ردعمل نہیں کیا گیا تاہم اس پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ دونوں ملک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے اور متحدہ عرب امارات کے برعکس ان کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔

پاکستان، سعودی عرب

،تصویر کا ذریعہPakistan PMO

،تصویر کا کیپشنپاکستان اور سعودی عرب دونوں ہی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے اور حالیہ عرصے کے دوران انھوں نے دفاعی معاہدے پر بھی دستخط کیے ہیں

ایکس پر پاکستانی صحافی حامد میر نے کہا کہ کچھ دن قبل گراہم پاکستان کے خلاف ’زہر اُگل رہے تھے۔ اچانک وہ پاکستان کی تعریف کر رہے ہیں۔ وہ ایک کھیل کھیل رہے ہیں۔‘ ادھر صحافی عاصمہ شیرازی نے کہا کہ گراہم ’دن میں خواب دیکھ رہے ہیں۔‘

سعودی صارف عبدالاسلام صالح نے لکھا کہ سعودی عرب نے 22 مئی 2026 کو دو ریاستی حل کے لیے بین الاقوامی اتحاد قائم کیا ہے۔ انھوں نے گراہم سے پوچھا کہ ’آپ کو یہ مشورہ دینے کی ترغیب کس نے دی کہ ہم ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہوں؟ آپ ہم پر کوئی احسان کر رہے ہیں یا ہمارے فیصلوں کا تعین کر رہے ہیں؟‘

’مسئلہ فلسطین کے حوالے سے ہمارا مؤقف کسی سودے بازی کا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی دھمکیاں یا ترغیبات اسے متاثر کر سکتی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو گا، اس کے بغیر امن ممکن نہیں ہو گا۔ یہ وہ موقف ہے جس کا ہم دنیا کے سامنے اعلان کر چکے ہیں اور یہی ہماری اس پیش رفت کا بنیادی اصول ہے جس کی حمایت 165 ممالک کر چکے ہیں۔‘

ایک سعودی صارف نے لکھا کہ سعودی عرب اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرے گا، نہ کہ ’لنزے گراہم کی نئے مشرق وسطیٰ کے بارے میں تصورات کی بنیاد پر۔‘

کیا یہ تجویز قبل عمل ہو گی؟

ان کا کہنا تھا کہ اس تناظر میں یہ ممکن نہیں کہ ’مسئلہ فلسطین کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا جائے۔۔۔ اس توقع کو بار بار دہرانے سے مشرق وسطیٰ کی تزویراتی حقیقت تبدیل نہیں ہوتی۔‘

ان کا خیال ہے کہ ’کسی نہ کسی مرحلے پر اسرائیلی پالیسی سازوں اور عوام دونوں کو ایک بنیادی حقیقت کا سامنا کرنا ہو گا: عرب دنیا کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا، خاص طور پر سعودی عرب کے ساتھ، غالباً فلسطینی معاملے پر بامعنی پیش رفت کا تقاضا کرے گا۔ محض علامتی اقدامات نہیں بلکہ ٹھوس سیاسی پیش رفت۔‘

تھنک ٹینک کارنیگی انڈوومنٹ سے منسلک ارون ڈیوڈ مِلر کی رائے میں ’بہت کم کوئی دلیل اتنی کمزور معلوم ہوتی ہے۔ خلیجی ممالک کی توجہ سلامتی اور استحکام پر مرکوز ہو گی۔‘

’امارات نے تنہا یہ قدم اٹھایا ہے اور چند ہی ممالک اس کی پیروی کریں گے۔ موجودہ اسرائیلی حکومت کو دیکھتے ہوئے یہ باور کرنا کہ اب تعلقات کو معمول پر لانا ممکن ہے، ناقابلِ یقین معلوم ہوتا ہے۔‘

دریں اثنا پاکستانی صحافی ظفر نقوی چاہتے ہیں کہ اس پر پاکستان سرکاری طور پر جواب دے کیونکہ ’یہ تو بہت خطرناک اشارے ہیں۔‘

یاد رہے کہ پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپریل میں اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’کینسر زدہ‘ قرار دیا تھا اور الزام عائد کیا تھا کہ ’معصوم شہری اسرائیلی کارروائیوں میں مارے جا رہے ہیں، پہلے غزہ، پھر ایران اور اب لبنان میں خونریزی کا نہ رُکنے والا سلسلہ جاری ہے۔‘

اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر نے اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاکستان کے وزیرِ دفاع کی جانب سے اسرائیل کی تباہی کی اپیل نہایت اشتعال انگیز ہے۔ یہ ایسا بیان ہے جسے کسی بھی حکومت کی جانب سے قابلِ برداشت نہیں سمجھا جا سکتا، خاص طور پر ایسی حکومت کی طرف سے جو خود کو امن کے لیے غیر جانب دار ثالث قرار دیتی ہو۔‘

پاکستان اور سعودی عرب کی طرح قطر بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔ یاد رہے کہ ستمبر 2025 کے دوران اسرائیل نے قطر میں حماس کے خلاف ڈرون حملہ کیا تھا۔

2020 میں ایک انٹرویو کے دوران قطری وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کے لیے ضروری ہو گا کہ پہلے ایسی فلسطینی ریاست قائم کی جائے تو فلسطینیوں کے لیے قابل قبول ہو۔