’ممی کو اب کہیں جانا ہے‘: 50 خواتین جنھیں شوہروں اور ساتھیوں نے ’سوئنگنگ‘ کے تحت اجنبیوں کے ساتھ سیکس پر مجبور کیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, کیٹرن نائی، ایڈم ایلی اور دیویا تلوار
- عہدہ, بی بی سی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
انتباہ: اس رپورٹ میں جنسی افعال سے متعلق تفصیلات شامل ہیں۔
پچاس خواتین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کے شریک حیات یا ساتھیوں نے ان پر اجنبیوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا یا انھیں مجبور کیا۔
ان خواتین نے بی بی سی کی اس تحقیق کے بعد رابطہ کیا جس میں ایک خاتون کی کہانی بیان کی گئی تھی جس کا کہنا تھا کہ اس پر 100 سے زیادہ اجنبی افراد کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔
آگے آنے والی بہت سی خواتین کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے اپنی خواہش کے برخلاف ’سوئنگنگ‘ کے ذریعے جنسی تعلقات قائم کیے یا تو اس لیے کہ انھیں انکار کے بعد نتائج کا خوف تھا یا وہ اپنے ساتھیوں کو خوش رکھنا چاہتی تھیں۔
’سوئنگنگ‘ تعلقات کی ایسی شکل ہے جس میں بالغ افراد یا جوڑے باہمی رضامندی کے ساتھ ایک پارٹنر تک محدود رہنے کے بجائے اپنے سیکشوئل تعلقات دیگر افراد تک بڑھاتے ہیں یعنی ساتھی بدلتے ہیں۔
ان خواتین نے گہرے اور دیرپا ذہنی صدمے کا ذکر کیا۔
ایک خاتون نے کہا کہ ’مجھے بہت سی راتیں یاد ہیں جب میرا ساتھی مجھے پوری رات جگا کر مجھ پر چیختا تھا، دھمکیاں دیتا تھا اور مجھے یہ یقین دلانے کی کوشش کرتا تھا کہ میں یہی چاہتی ہوں۔ یہ کبھی بھی میری خواہش نہیں تھی۔‘
ایک اور خاتون نے ہمیں بتایا کہ ’مجھے لگا جیسے مجھے کسی کے حوالے کر دیا گیا ہو۔ مجھے استعمال کیا گیا محسوس ہوا۔ مجھے خود سے گھن آنے لگی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خواتین کے مطابق زیادہ تر ملاقاتوں کا انتظام ’فیب سوئنگرز‘ (FabSwingers) ویب سائٹ کے ذریعے کیا گیا، جس کا دعویٰ ہے کہ برطانیہ میں اس کے ماہانہ فعال اکاؤنٹس کی تعداد پانچ لاکھ سے زیادہ ہے۔
چھ خواتین نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ اس ویب سائٹ کے ذریعے ملنے والے مردوں نے ان کے ساتھ ریپ کی۔
ایک خاتون نے کہا کہ اس کے ساتھی نے ’فیب سوئنگرز‘ کے ذریعے اسے 90 سے زیادہ مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے پر مجبور کیا۔ اس نے بتایا کہ ایک موقع پر اس کے ساتھی نے اس کے ٹخنے پکڑ کر اسے دبا رکھا تھا۔
سولہ خواتین نے کہا کہ ان کی نجی تصاویر ان کی اجازت کے بغیر ویب سائٹ پر اپ لوڈ کی گئیں۔

سوئنگرز
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سوئنگنگ میں عموماً جوڑے ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور اپنے ساتھی تبدیل کرتے ہیں، لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جوڑے کا صرف ایک فرد جنسی تعلقات قائم کرے جبکہ دوسرا اس عمل کو دیکھتا رہے۔
بہت سے لوگ اس میں مکمل رضامندی سے حصہ لیتے ہیں۔
رابطہ کرنے والی بعض خواتین نے ’فیب سوئنگرز‘ پر الزام لگایا کہ اس نے بدسلوکی کو ممکن بنایا اور غیر قانونی رویوں کی روک تھام میں ناکام رہا۔
ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ اس کے پاس نگرانی کی پالیسیاں موجود ہیں اور وہ ’بالغ افراد کے درمیان پلیٹ فارم سے باہر ہونے والے نجی رویوں کی ذمہ دار نہیں۔‘
ویب سائٹ کے مطابق ’ہم اس تاثر کو مسترد کرتے ہیں کہ ’فیب سوئنگرز‘ غلط استعمال کے حوالے سے بے پروا ہے۔‘
لیکن خواتین اور لڑکیوں کے تحفظ اور ان کے خلاف تشدد سے متعلق سابق وزیر لیبر رکن پارلیمان جیس فلپس کا کہنا ہے کہ اس ویب سائٹ کو بند کر دینا چاہیے۔
ان کے مطابق سوئنگنگ میں حصہ لینے کے لیے جبر یا دباؤ کو پولیس کو بالغوں کے جنسی استحصال کی ایک شکل کے طور پر تسلیم کرنا چاہیے۔
اُن کے بقول ’اسے سوئنگنگ کہنا رضامندی کا تاثر دیتا ہے اور اس طرح الزام خواتین پر آ جاتا ہے، جو انھیں خاموش کر دیتا ہے۔‘
ماہرین نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ لوگوں کو رضامندی دینے پر آمادہ یا مجبور کیا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق جو ساتھی خواتین کو سوئنگنگ پر مجبور کرتے ہیں، وہ بعد میں اسی سے پیدا ہونے والی شرمندگی کو کنٹرول کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پوڈ کاسٹ سوئنگرز اور بی بی سی کی ایک سابقہ رپورٹ میں رُتھ اوگریڈی کی کہانی بیان کی گئی تھی۔
رُتھ کا کہنا تھا کہ ان کے سابق شوہر ان کے لیے دوسرے مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات کا انتظام کرتے تھے، بعض اوقات ایک ہی دن میں چار افراد تک۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شوہر کو خوش رکھنے کے لیے اس میں شامل ہوتی رہیں۔
ان کے سابق شوہر نے بی بی سی نیوز کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔
رتھ کی کہانی کے جواب میں رابطہ کرنے والی خواتین کے پس منظر اور تعلقات مختلف تھے، لیکن بہت سوں کا کہنا تھا کہ رتھ کی دیانت داری نے انھیں برسوں سے پوشیدہ اپنی بدسلوکی کے بارے میں بات کرنے کا حوصلہ دیا۔
ایک خاتون نے کہا کہ اگر اس نے بی بی سی کی رپورٹ نہ دیکھی ہوتی تو وہ ’شاید آج شام بھی اپنی مرضی کے خلاف جنسی تعلقات قائم کر رہی ہوتی۔ کیونکہ گذشتہ 12 سال سے میری زندگی یہی رہی ہے۔‘
اُنھوں نے کہا اب یہ بدسلوکی ’مزید نہیں‘ ہو گی۔
ڈربی شائر سے تعلق رکھنے والی ایملی نے بتایا کہ حمل کے دوران انھیں ’سوئنگنگ‘ کلب جانے پر مجبور کیا گیا۔
ایملی نے اُمید کی تھی کہ اںھیں ایک بار ہی جانا ہو گا، لیکن ان کے بقول ان کے شوہر مزید چاہتے تھے اور بالآخر وہ ’فیب سوئنگرز‘ میں شامل ہو گئے۔
کئی برسوں تک شامیں ویب سائٹ پر جنسی ملاقاتوں کی تلاش میں گزرتی رہیں۔
ایملی کے مطابق اگر ان کی کم عمر بیٹی شام سات بجے تک نہ سوتی تو ان کے شوہر کمرے میں آ کر انھیں کھینچتے ہوئے کہتے کہ ’ممی کو اب جانا ہے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ ان کی بیٹی رو پڑتی تھی کیونکہ وہ شب بخیر کہنے یا سونے سے پہلے کہانی مکمل کرنے کے لیے تیار نہ ہوتی تھی۔
بعد میں ایملی نے شادی ختم کر دی، لیکن ان کے اندازے کے مطابق ’سوئنگنگ‘ کے دوران ان کے 20 سے 30 مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات رہے۔
اُنھوں نے بتایا کہ اس وقت وہ اسے جنسی بدسلوکی نہیں سمجھتی تھیں کیونکہ اُنھوں نے ’سوئنگنگ‘ آزمانے پر رضا مندی ظاہر کی تھی۔ لیکن اب وہ اسے بدسلوکی سمجھتی ہیں۔

پولیس کے پاس جانے کا خوف
سولہ افراد نے ہمیں بتایا کہ اُنھوں نے یا تو مبینہ بدسلوکی یا ’فیب سوئنگرز‘ پر بغیر رضامندی نجی تصاویر پوسٹ کیے جانے کی شکایت پولیس سے کی تھی۔
تین افراد نے کہا کہ اس کے نتیجے میں سزائیں بھی ہوئیں۔
تاہم 10 افراد نے پولیس کی جانب سے ان کے مقدمات کے ساتھ برتاؤ پر تشویش ظاہر کی۔
ایک خاتون نے بتایا کہ ان کی عمر 21 برس تھی جب ان کے بوائے فرینڈ نے ان کا پروفائل ’فیب سوئنگرز‘ پر بنایا۔
ان کے مطابق پورا پروفائل ان کا بوائے فرینڈ چلاتا تھا اور وہ ان مردوں میں سے بعض کی شناخت تک نہیں جانتیں جن کے ساتھ اُنھوں نے جنسی تعلقات قائم کیے، کیونکہ ان کا بوائے فرینڈ اس بات کو یقینی بناتا تھا کہ وہ انھیں نہ دیکھ سکیں اور نہ ان سے بات کر سکیں۔
وہ پولیس کے پاس گئیں لیکن بعد میں مقدمہ ختم کر دیا گیا۔
ان کے مطابق پولیس نے انھیں بتایا کہ ویڈیوز میں وہ جنسی عمل سے لطف اندوز ہوتی دکھائی دیتی تھیں۔
خاتون کا کہنا تھا کہ انھوں نے افسران کو بتایا کہ اگر وہ کافی حد تک پُرجوش نظر نہ آتیں تو ان کا سابق بوائے فرینڈ غصہ کرتا اور انھیں کسی اور کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے پر مجبور کرتا۔
اُنھوں نے کہا کہ پولیس نے مجھے ایسا محسوس کرایا جیسے میں قابلِ نفرت ہوں۔
انگلینڈ اینڈ ویلز کے لیے گھریلو بدسلوکی کی کمشنر نکول جیکبز کا کہنا ہے کہ پولیس کو جابرانہ کنٹرول اور اس بات کو سمجھنے کے لیے بہتر تربیت درکار ہے کہ جنسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے دباؤ گھریلو بدسلوکی کا حصہ ہو سکتا ہے۔
نیشنل پولیس چیفس کونسل نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کی ترجیح متاثرین کا تحفظ کرنا ہے۔
اس نے متاثرہ افراد سے اپیل کی کہ وہ جبر، بدسلوکی یا کنٹرول کرنے والے رویوں کے بارے میں آگے آئیں تاکہ تحقیقات ہو سکیں اور انھیں خصوصی معاونت فراہم کی جا سکے۔
کونسل نے کہا کہ وہ ’بدسلوکی کو ممکن بنانے میں ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے خطرے‘ سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے، لیکن ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔
’وہ خواتین کی حفاظت کی پروا نہیں کرتے‘
بی بی سی سے رابطہ کرنے والے نو افراد نے کہا کہ اُنھوں نے بدسلوکی کی اطلاعات ’فیب سوئنگرز‘ کو دیں، لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔
شکایت کرنے والوں میں ایک مرد بھی شامل تھا جس نے اپنی خاتون ساتھی کے ساتھ مبینہ جنسی حملے کی شکایت کی تھی۔
آن لائن سیفٹی ایکٹ کے تحت فیب سوئنگرز جیسے پلیٹ فارمز پر لازم ہے کہ وہ غیر قانونی مواد، بشمول رضامندی کے بغیر نجی تصاویر کی شیئرنگ ہٹائیں۔
انھیں نقصان کے خطرات، بشمول جابرانہ اور کنٹرول کرنے والے رویوں کو بھی کم کرنا ہوتا ہے۔
تین خواتین نے بتایا کہ ’فیب سوئنگرز‘ نے پولیس تحقیقات میں تعاون نہیں کیا جبکہ متعدد صارفین کا کہنا تھا کہ غلط کاموں کی نشاندہی کرنے پر انھیں خود نقصان اٹھانا پڑا، جن میں چیٹ فورمز سے پابندی بھی شامل تھی۔
ایک خاتون نے کہا کہ ویب سائٹ کو خواتین کی حفاظت کی ’بالکل پروا نہیں‘ بلکہ وہ ’مسلسل خطرناک مردوں کا تحفظ کرتی ہے۔‘
فیب سوئنگرز نے ہمیں بتایا کہ جبر، جنسی حملے اور رضامندی کے بغیر نجی تصاویر شیئر کیے جانے کی شکایات کو ترجیح دی جاتی ہے۔
اس کا کہنا تھا کہ وہ پولیس کے ساتھ تعاون کرتا ہے اور شکایات درج کرانے والوں کو سزا نہیں دیتا۔
تاہم تین سابق نگرانوں نے ہمیں بتایا کہ انھیں کوئی تربیت فراہم نہیں کی گئی تھی۔
دو کا کہنا تھا کہ وہ مفت رکنیت کے بدلے کام کرتے تھے جبکہ تیسرے نے کہا کہ وہ رضاکارانہ طور پر کام کرتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کچھ دیگر سوئنگنگ ویب سائٹس کے برعکس فیب سوئنگرز شناخت کی تصدیق لازم قرار نہیں دیتا جس سے الزامات کی صورت میں پولیس کے لیے مشتبہ افراد کی شناخت مشکل ہو سکتی ہے۔
اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ پابندی کا شکار صارف نیا اکاؤنٹ بنا سکتا ہے، اگرچہ فیب سوئنگرز کا کہنا ہے کہ وہ اس کا سراغ لگا لیتا ہے، تاہم اس نے طریقہ کار کی وضاحت نہیں کی۔
فیب سوئنگرز نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کی نگرانی کے عمل میں پانچ تک سائٹ ایڈمنسٹریٹر شامل ہوتے ہیں جنھیں نگران رپورٹ کرتے ہیں اور ساتھ ہی مصنوعی ذہانت اور ’خودکار کنٹرولز‘ بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔
بی بی سی کی جانب سے معلومات کے حصول کی درخواستوں کے مطابق 2023 سے اب تک برطانیہ بھر میں کم از کم 329 پولیس رپورٹس میں اس ویب سائٹ کا ذکر آیا ہے، جن میں زیادتی، جنسی جرائم، جابرانہ کنٹرول، ہراسانی، بلیک میلنگ، تعاقب، حملہ اور انتہائی فحش مواد رکھنے جیسے الزامات شامل تھے۔
تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان رپورٹس میں کیے گئے الزامات کی ذمہ دار’فیب سوئنگرز‘ تھی۔
جیس فلپس کے مطابق ان کے خیال میں یہ ویب سائٹ آن لائن سیفٹی ایکٹ کی خلاف ورزی کرتی ہے، لہذا ریگولیٹر کو چاہیے کہ اس کا جائزہ لے کر اسے بند کر دے۔
ریگولیٹر آف کام کا کہنا ہے کہ وہ بی بی سی کی تحقیقات کے نتائج پر ’شدید تشویش‘ رکھتا ہے اور ویب سائٹ فراہم کنندہ سے بات کر رہا ہے، تاہم اس نے ابھی تک باضابطہ تحقیقات شروع نہیں کیں۔
بی بی سی سے رابطہ کرنے والوں کی اکثریت ایسی خواتین پر مشتمل تھیں جو سوئنگرز پوڈکاسٹ کی مرکزی شخصیت رتھ کا شکریہ ادا کرنا چاہتی تھیں۔
ایک خاتون نے ہمیں بتایا کہ ’میں اب بھی اس مقام پر نہیں ہوں کہ جن لوگوں سے میں محبت کرتی ہوں وہ میرے ماضی کی ان باتوں کے بارے میں جان سکیں۔‘
’لیکن اب میں خود کو کچھ کم تنہا محسوس کرتی ہوں۔‘



















