’مجھے کہا گیا اس کے ساتھ جینا سیکھنا پڑتا ہے‘: ماہواری میں خون کا غیر معمولی اخراج جو ممکنہ طبی عارضے کی علامت ہو سکتا ہے

کیلنڈر اور ماہواری کا خون

،تصویر کا ذریعہPrashanti Aswani

،تصویر کا کیپشنخون کے داغ والی کرسی
    • مصنف, جیکولین روشیلو
    • عہدہ, بی بی سی فیوچر
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 16 منٹ

مشیل السٹن جب 12 یا 13 برس کی عمر کو پہنچیں تو ماہواری کے مشکل ترین دن اکثر سکول کی نرس کے کمرے میں گزرتے تھے۔ انھیں شدید درد کا سامنا رہتا اور خون اتنی زیادہ مقدار میں آتا کہ ماہواری کے لیے استعمال کی جانے والی عام مصنوعات بھی ناکافی ثابت ہوتیں۔

وہ یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’مجھے ہمیشہ یہی بتایا گیا کہ یہ بالکل معمول کی بات ہے۔ لوگ کہتے تھے کہ اس کے ساتھ جینا سیکھنا پڑتا ہے۔‘

طویل عرصے تک انھیں محسوس ہوتا رہا کہ شاید مسئلہ ان ہی میں ہے، کیونکہ وہ اپنی ماہواری کا سامنا اتنی آسانی سے نہیں کر پاتیں جتنا ان کی ہم عمر لڑکیاں کرتی دکھائی دیتی تھیں۔

تاہم چالیس برس کی عمر کے آغاز میں انھیں معلوم ہوا کہ معاملہ کمزوری کا نہیں تھا۔ دراصل وہ ایک ایسے طبی مسئلے کا شکار تھیں جس کے باعث ماہواری کے دوران غیرمعمولی طور پر زیادہ خون آتا تھا۔

جب ماہواری کے دوران خون کا اخراج اس حد تک بڑھ جائے کہ روزمرہ زندگی، تعلیم، ملازمت یا سماجی سرگرمیاں متاثر ہونے لگیں تو معالجین اسے شدید ماہواری خون ریزی قرار دیتے ہیں۔ یہ ایک عام مگر سنجیدہ طبی مسئلہ ہے۔

دنیا بھر میں ہونے والی مختلف تحقیقات کے مطابق تولیدی عمر کی تقریباً 10 سے 30 فیصد خواتین کو مشیل السٹن کی طرح شدید ماہواری کا سامنا ہوتا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ بہت سی خواتین اس بارے میں بات نہیں کرتیں اور اکثر یہ بھی نہیں جانتیں کہ خون کا کتنا اخراج غیرمعمولی تصور کیا جاتا ہے۔

بعض مطالعات تو یہ اشارہ دیتے ہیں کہ یہ مسئلہ تولیدی عمر کی تقریباً نصف خواتین کو کسی نہ کسی حد تک متاثر کر سکتا ہے۔

شدید ماہواری بعض اوقات دیگر طبی مسائل کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔ اگر اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو اس کے نتیجے میں آئرن کی کمی، خون کی کمی (انیمیا)، دائمی تھکن اور زندگی کے معیار میں نمایاں گراوٹ جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس کے باوجود اس موضوع پر سائنسی تحقیق نسبتاً محدود رہی ہے۔ محققین نے حالیہ برسوں میں ہی شدید ماہواری کے جسمانی، ذہنی اور سماجی اثرات کا تفصیلی جائزہ لینا شروع کیا ہے، جبکہ بہتر تشخیص اور مؤثر علاج کی تلاش ابھی بھی جاری ہے۔

اس عدم توجہی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ طبی تحقیق کے ڈیٹا بیس پب میڈ میں گذشتہ دس برس کے دوران ’ماہواری کے خون‘ سے متعلق صرف تقریباً 400 تحقیقی مقالات شائع ہوئے، جبکہ اسی عرصے میں مادۂ منویہ سے متعلق 15 ہزار سے زیادہ تحقیقی مقالے منظرِ عام پر آئے۔

سکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف ایڈنبرا سے وابستہ ماہر امراضِ نسواں ڈاکٹر جیکی میبن، جو ماہواری میں زیادہ خون کے اخراج پر تحقیق کرنے والے پروگرام ’دی مسڈ وائٹل سائن‘ کی ڈائریکٹر بھی ہیں، کہتی ہیں، ’خواتین کئی برسوں، بلکہ شاید کئی دہائیوں سے اس موضوع پر زیادہ سنجیدہ تحقیق کی حق دار تھیں۔ میرے خیال میں اب بالآخر وہ وقت آ گیا ہے۔‘

ان کے مطابق شدید ماہواری کو محض خواتین کی زندگی کا معمول کا حصہ سمجھنے کے بجائے ایک اہم صحت کے مسئلے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے، تاکہ لاکھوں خواتین کو بروقت تشخیص اور بہتر علاج فراہم کیا جا سکے۔

کتنا خون آنا غیرمعمولی سمجھا جاتا ہے؟

محققین کے نزدیک شدید ماہواری یا پیریڈز میں زیادہ خون کا اخراج اس صورت کو کہا جاتا ہے جب ایک ماہواری کے دوران 80 ملی لیٹر سے زیادہ خون ضائع ہو، خون کے لوتھڑے چھوٹے سکے سے بڑے ہوں، یا ماہواری سات دن سے زیادہ جاری رہے۔

لیکن ماہواری کا سامنا کرنے والی خواتین کے لیے خون کی مقدار ناپنے کا کوئی آسان اور معیاری طریقہ موجود نہیں۔ مثال کے طور پر باتھ روم جانے کی تعداد، پیڈ یا ٹیمپون کتنی بار تبدیل کرنا پڑا، یا کتنی بار کپڑوں پر خون لگا، ان چیزوں کو کسی مقررہ پیمانے میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

کچھ ڈاکٹر مریضوں سے خون کی مقدار کا اندازہ لگانے کے لیے ایسے چارٹس استعمال کرواتے ہیں جن میں مختلف مقدار میں خون لگے ہوئے پیڈ اور ٹیمپون کی تصاویر ہوتی ہیں۔ تاہم یہ طریقہ بھی مکمل طور پر درست نہیں کیونکہ تمام ماہواری مصنوعات ایک جیسی نہیں ہوتیں اور ان میں خون جذب کرنے کی صلاحیت بھی مختلف ہو سکتی ہے۔

اسی وجہ سے یہ طے کرنا آسان نہیں کہ ماہواری کے دوران کتنا خون آنا غیرمعمولی ہے۔ اکثر ڈاکٹر اس بات کو دیکھتے ہیں کہ کیا زیادہ خون آنا عورت کی روزمرہ زندگی، کام، تعلیم یا دیگر معمولات کو متاثر کر رہی ہے۔

امریکہ کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان فرانسسکو میں شعبہ امراضِ نسواں، زچگی اور تولیدی علوم کی کلینیکل پروفیسر ایڈوا کرسٹی کہتی ہیں کہ ’بعض اوقات مریضہ کو خود یہ احساس نہیں ہوتا کہ اسے جتنا خون آ رہا ہے وہ معمول کے مطابق نہیں ہے، اور یہ کہ اس مسئلے کا علاج بھی ممکن ہے۔‘

CALENDER AND PERIOUD BLOOD

،تصویر کا ذریعہPrashanti Aswani)

مشیل السٹن کو برسوں تک ایسے واقعات کا سامنا رہا جنھیں وہ اپنی ہی غلطی سمجھتی تھیں۔ اکثر خون اتنی زیادہ مقدار میں آتا کہ بستر کی چادریں اور کپڑے داغ دار ہو جاتے۔ ایک بار تو موبائل فون کی ایک دکان میں رکھی سفید کرسی بھی خون سے آلودہ ہو گئی۔ اس وقت انھیں یہی لگتا تھا کہ شاید وہ ماہواری کو درست طریقے سے سنبھال نہیں پا رہیں اور ممکن ہے انھیں مختلف قسم کی ماہواری مصنوعات استعمال کرنے کی ضرورت ہو۔

بچپن اور نوجوانی میں انھیں یہی بتایا گیا کہ ماہواری کے شدید درد، تکلیف دہ مروڑ اور خون کے دھبوں سے پیدا ہونے والی شرمندگی خواتین کی زندگی کا معمول کا حصہ ہیں۔

دنیا کے کئی معاشروں میں صورتِ حال اس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے، جہاں ماہواری آج بھی ایک ممنوع یا شرمناک موضوع سمجھی جاتی ہے۔

سری لنکا کی یونیورسٹی آف کولمبو کے ایمیریٹس پروفیسر برائے زچگی و امراضِ نسواں اور ایشین سوسائٹی آف اینڈومیٹریوسس اینڈ ایڈینومایوسس کے سربراہ ہیمنتھا سینانائیکے کہتے ہیں، ’میرے خیال میں دنیا کے ہمارے حصے میں بہت سی خواتین اس مسئلے کے بارے میں شکایت ہی نہیں کرتیں۔ درد اور زیادہ خون بہنے کو معمول سمجھا جاتا ہے اور بدنامی کے خوف سے بہت سے لوگ ڈاکٹر کے پاس بھی نہیں جاتے۔‘

ماہرین کے مطابق امراضِ نسواں کے ماہر ڈاکٹر تو تفصیلی سوالات کے ذریعے شدید ماہواری کی نشاندہی کر لیتے ہیں، لیکن دیگر شعبوں کے معالج بعض اوقات اس کی علامات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

مشیل السٹن کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا۔ انھیں تقریباً تین دہائیوں تک یہ معلوم ہی نہ ہو سکا کہ وہ شدید ماہواری میں زیادہ خون آنے کا شکار ہیں۔ اور وہ ایسی واحد خاتون نہیں ہیں۔

شدید ماہواری صرف ایک علامت نہیں

اگرچہ شدید ماہواری بذاتِ خود ایک سنگین مسئلہ ہے، لیکن اکثر یہ کسی بنیادی طبی عارضے کی علامت بھی ہوتی ہے۔

اس کے پسِ منظر میں متعدد طبی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں رحم کے پولپس، فائبرائڈز، بعض اقسام کے کینسر، خون سے متعلق بیماریاں، بیضہ سازی کے مسائل اور اینڈومیٹریئل عارضے جیسے اینڈومیٹریوسس، شامل ہیں۔

یہ کیفیت ماہواری کے ابتدائی برسوں اور سنِ یاس (مینوپاز) سے قبل کے عرصے میں بھی نسبتاً عام دیکھی جاتی ہے، کیونکہ ان مراحل میں جسم کے ہارمونز نمایاں تبدیلیوں سے گزر رہے ہوتے ہیں۔

اگرچہ ان بنیادی بیماریوں کا علاج اکثر خون کے اخراج کو کم کر سکتا ہے، لیکن سائنس دان ابھی تک پوری طرح یہ نہیں سمجھ پائے کہ بعض عارضے زیادہ خون آنے کا سبب کیوں بنتے ہیں۔

یونیورسٹی آف ایڈنبرا کی ماہر امراضِ نسواں جیکی میبن کہتی ہیں، ’فائبرائڈز پر کافی تحقیق ہوئی ہے، لیکن ہم اب بھی مکمل طور پر نہیں جانتے کہ وہ شدید خون ریزی کا باعث کیوں بنتے ہیں۔‘ فائبرائڈز رحم کے عضلات میں بننے والی غیر سرطانی رسولیاں یا نشوونما ہوتی ہیں، جو لاکھوں خواتین کو متاثر کرتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید ماہواری کے اثرات صرف چند دن کی جسمانی تکلیف تک محدود نہیں رہتے۔

ایمیلی ینگ کے الفاظ میں، ’یہ صرف ایک تکلیف نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو اپنی پوری زندگی اپنے ماہواری کے چکر کے گرد ترتیب دینی پڑتی ہے۔‘

جب خون کی کمی ایک نئے مسئلے میں بدل جائے

شدید ماہواری کا ایک اہم نتیجہ آئرن کی کمی بھی ہے، جو وقت کے ساتھ ایک الگ طبی مسئلہ بن سکتی ہے۔

آئرن جسم کے لیے ایک لازمی معدنی عنصر ہے، جو خون کے خلیات، مدافعتی نظام، عضلات، جلد، بالوں اور ناخنوں کی صحت برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

جب جسم میں آئرن کی سطح کم ہونے لگتی ہے تو مختلف علامات ظاہر ہو سکتی ہیں، جن میں مسلسل تھکن، دماغی دھندلاہٹ، چکر آنا، سانس پھولنا، جلد پر آسانی سے نیل پڑ جانا اور بالوں کا جھڑنا شامل ہیں۔

اسی لیے شدید ماہواری کے اثرات صرف ماہواری کے دنوں تک محدود نہیں رہتے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ شدید ماہواری کا سامنا کرنے والی 40 فیصد سے زائد خواتین آئرن کی کمی کا بھی شکار ہوتی ہیں۔

مشیل السٹن بھی ان خواتین میں شامل تھیں۔ انھیں ہمیشہ سردی زیادہ محسوس ہوتی تھی اور اکثر برف کے ٹکڑے کھانے کی شدید خواہش ہوتی تھی۔ ماہرین اس کیفیت کو آئرن کی کمی سے جوڑتے ہیں، اگرچہ اس تعلق کی مکمل سائنسی وجہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکی۔

اگر آئرن کی کمی کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ خون کی کمی (انیمیا) میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ اس حالت میں جسم اتنی مقدار میں ہیموگلوبن نہیں بنا پاتا جتنی آکسیجن کو خون کے ذریعے جسم کے مختلف حصوں تک پہنچانے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔

شدید صورتوں میں انیمیا اتنا سنگین ہو سکتا ہے کہ مریض کو خون کی منتقلی (بلڈ ٹرانسفیوژن) کی ضرورت پیش آ جائے۔

یوں ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید ماہواری کو محض خواتین کی زندگی کا ایک معمول یا قابلِ برداشت تکلیف سمجھنا درست نہیں، کیونکہ یہ نہ صرف کسی بنیادی بیماری کی علامت ہو سکتی ہے بلکہ وقت کے ساتھ صحت پر گہرے اور طویل المدتی اثرات بھی مرتب کر سکتی ہے۔

سینانائیکے کے مطابق کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں، جہاں زچگی کے دوران زیادہ خون بہنا اب بھی ماؤں کی اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے، حمل سے پہلے موجود آئرن کی کمی اور انیمیا خطرات کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ ان کے بقول، آئرن کی کمی جسم کی خون کے ضیاع کے بعد صحت یاب ہونے کی صلاحیت کو کمزور کر دیتی ہے، جبکہ یہ جنین کی دماغی نشوونما پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

شدید ماہواری کی زیادہ خون آنے کی قیمت

اگرچہ طبی ماہرین اب شدید ماہواری کی خون ریزی کو ایک اہم صحت کے مسئلے کے طور پر تسلیم کر رہے ہیں، لیکن اس کے ساتھ زندگی گزارنے کے تجربے پر ابھی بھی نسبتاً کم تحقیق ہوئی ہے۔

برطانیہ کی شیفیلڈ ہیلم یونیورسٹی میں نفسیات کی لیکچرر ایمیلی ینگ خود بھی شدید ماہواری کی خون ریزی کا تجربہ کر چکی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ خون کی کمی کے باعث ایک سے زیادہ مرتبہ بے ہوش ہوئیں اور ہمیشہ اضافی کپڑے اپنے ساتھ رکھتی تھیں، کیونکہ ان کی غیر متوقع ماہواریاں کسی بھی وقت شروع ہو سکتی تھیں۔

اس کے باوجود ڈاکٹروں نے برسوں تک انھیں یقین دلاتے رہے کہ بچے کی پیدائش کے بعد ان کی ماہواری معمول پر آ جائے گی۔

طبی ماہرین کی جانب سے تقریباً دو دہائیوں تک نظرانداز کیے جانے کے اس تجربے نے انھیں اس موضوع پر تحقیق کرنے کی طرف راغب کیا۔ آج وہ شدید ماہواری میں زیادہ خون آنے کا سامنا کرنے والی خواتین کے تجربات کا مطالعہ کرتی ہیں۔ ان کے بقول، ’یہ صرف ایک تکلیف نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ کو اپنی پوری زندگی اپنے ماہواری کے چکر کے مطابق ترتیب دینی پڑتی ہے۔‘

برطانیہ میں شدید ماہواری میں زیادہ خون آنے کا شکار نوعمر لڑکیاں اوسطاً سالانہ نو دن تک سکول سے غیر حاضر رہتی ہیں۔

سنہ 2025 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے لیے ینگ نے آن لائن فورمز پر موجود ان افراد کی پوسٹس کا جائزہ لیا جو شدید ماہواری زیادہ خون آنے کا سامنا کر رہے تھے۔ ان کے مطابق ان پوسٹس میں مایوسی، بے بسی، مزاح اور غصے کے ملے جلے جذبات نمایاں تھے۔

کئی خواتین نے لکھا کہ ان کے مسئلے کو اس وقت تک سنجیدگی سے نہیں لیا گیا جب تک انھیں بار بار خون نہ لگوانا پڑا۔ بعض افراد نے سیاہ مزاح کے انداز میں اپنی روزمرہ مشکلات بیان کیں، جبکہ بعض پوسٹس میں سکول یا ملازمت چھوڑنے، تعلقات متاثر ہونے اور معمول کی زندگی برقرار نہ رکھ پانے کا ذکر تھا۔

سب سے تشویش ناک بات یہ تھی کہ کچھ افراد نے ذہنی صحت کے سنگین مسائل اور یہاں تک کہ خودکشی کے خیالات کا بھی ذکر کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شدید ماہواری کے اثرات صرف جسمانی نہیں بلکہ نفسیاتی اور سماجی بھی ہوتے ہیں۔

ٹرانس جینڈر مردوں اور نان بائنری افراد کے لیے یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان ڈیاگو ریڈی چلڈرنز ہاسپٹل کی ماہرِ امراضِ خون جولی جیفرے کہتی ہیں، ’ہم ایسے بہت سے ٹرانس جینڈر مریضوں کو دیکھتے ہیں جو خود کو مرد کے طور پر شناخت کرتے ہیں لیکن انھیں شدید ماہواریاں آتی ہیں، اور یہ ان کے لیے نہایت تکلیف دہ تجربہ ہوتا ہے۔‘

ماہرین کے مطابق شدید ماہواری کی خون ریزی کے اثرات فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ تعلیم، ملازمت اور مجموعی معاشی پیداوار کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

میشل السٹن کو یاد ہے کہ جب بھی ان کی ماہواری شروع ہوتی تو وہ عملاً سکول کی تعلیم سے محروم ہو جاتیں اور اکثر نرس کے کمرے میں جا کر لیٹ جاتی تھیں، حالانکہ ان کی والدہ اس بات پر زور دیتی تھیں کہ وہ روز سکول جائیں۔

سری لنکا جیسے کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں صورتحال مزید مشکل ہو سکتی ہے۔ سینانائیکے کے مطابق کم وسائل والے علاقوں میں بہت سی لڑکیاں ایسے سکولوں میں جاتی ہیں جہاں ماہواری کی مصنوعات تبدیل کرنے یا انھیں تلف کرنے کی مناسب سہولتیں موجود نہیں ہوتیں۔

بالغ زندگی میں یہی مسئلہ ضائع ہونے والے کام کے دنوں، محدود پیشہ ورانہ مواقع اور مالی نقصانات کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

نیویارک میں ٹیلی ہیلتھ تھراپسٹ کے طور پر کام کرنے والی میشل السٹن بتاتی ہیں کہ اپنی آخری شدید ماہواری کے دوران انھیں ایک کلائنٹ کے ساتھ سیشن ادھورا چھوڑنا پڑا۔

وہ کہتی ہیں، ’میں ان کی بات سن ہی نہیں پا رہی تھی۔ درد اتنا شدید تھا کہ میں نے انھیں صاف کہہ دیا، ’میں یہ سیشن مکمل نہیں کر سکتی۔‘

کال ختم ہونے کے بعد جب وہ اپنی کرسی سے اٹھیں تو انھوں نے دیکھا کہ ان کے نیچے خون جمع ہو چکا تھا۔

یونیورسٹی آف ایڈنبرا کی ماہرِ امراضِ نسواں جیکی میبن کہتی ہیں،’شدید ماہواری میں زیادہ خون آنے کا شکار خواتین اوسطاً سال میں 3.6 ہفتے کام کرنے سے محروم رہتی ہیں۔ اس کی وجہ سے معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔ اگر ہم خواتین کے لیے یہ مسئلہ حل کر لیں تو درحقیقت پورے معاشرے کے لیے بہتری پیدا کر سکتے ہیں۔‘

ماہرین شدید ماہواری کی تعریف کے لیے جن معیاروں کا استعمال کرتے ہیں، ان میں ایک معیار ماہواری کے دوران 80 ملی لیٹر سے زیادہ خون کا ضیاع بھی ہے

،تصویر کا ذریعہPrashanti Aswani

،تصویر کا کیپشنماہرین شدید ماہواری کی تعریف کے لیے جن معیاروں کا استعمال کرتے ہیں، ان میں ایک معیار ماہواری کے دوران 80 ملی لیٹر سے زیادہ خون کا ضیاع بھی ہے

علاج اور باقی رہ جانے والے سوالات

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ علاج موجود ہیں، مگر ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

یونیورسٹی آف مشی گن میڈیکل سکول میں زچگی و امراضِ نسواں کی پروفیسر ایریکا مارش کہتی ہیں، ’شدید ماہواری میں زیادہ خون آنے کے علاج ضرور موجود ہیں، لیکن وہ کافی نہیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس مداخلت کے مؤثر طریقوں کی تعداد اب بھی بہت محدود ہے۔‘

اس مسئلے کا علاج بنیادی وجہ پر منحصر ہوتا ہے۔ نسبتاً ہلکی شدت کے کیسز میں آئبوپروفین جیسی غیر سٹیرائیڈل سوزش کش ادویات خون کے بہاؤ کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔

ہارمونل علاج بھی دستیاب ہیں، جن میں مانع حمل گولیاں اور ہارمون خارج کرنے والے رحم کے اندر نصب کیے جانے والے آلات شامل ہیں۔ یہ طریقے ماہواری کے دوران خون کے ضیاع کو کم کرنے کے مؤثر ترین علاجوں میں شمار ہوتے ہیں۔ لیکن مؤثر ہونے کے باوجود ان کے استعمال میں بعض رکاوٹیں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر رحم کے اندر آلہ نصب کرنے کے عمل میں ہونے والا درد بعض خواتین کے لیے بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔

میشل السٹن کے لیے مانع حمل گولیاں مؤثر ثابت ہوئیں، مگر انھیں یہ علاج حاصل کرنے کے لیے بھی انتظار کرنا پڑا۔ ان کے گھر میں مانع حمل ادویات کے بارے میں موجود منفی سماجی تصورات کی وجہ سے انھیں کالج جانے تک یہ نسخہ نہیں مل سکا۔ اس وقت جا کر انھیں پہلی بار ایسا علاج میسر آیا جس نے ان کی زندگی پر پڑنے والے اس دیرینہ مسئلے کے اثرات کو کم کرنا شروع کیا۔

جیکی میبن کے مطابق ہارمونل علاج ہر فرد پر مؤثر ثابت نہیں ہوتے، اور بہت سے لوگ چھاتی میں درد اور مزاج میں تبدیلی جیسے مضر اثرات کے باعث ان کا استعمال چھوڑ دیتے ہیں۔

کچھ غیر ہارمونل ادویات بھی موجود ہیں، مثلاً ٹرینیکسامک ایسڈ، جو خون کے بہاؤ کو کم کر سکتی ہیں۔

جولی جیفرے کہتی ہیں، ’مسئلہ یہ ہے کہ یہ کسی پٹی کی طرح ہیں‘، اور یہ بنیادی وجہ کا علاج نہیں کرتیں۔

ادویات ہمیشہ مسئلہ حل نہیں کرتیں۔

اپنی تیسویں دہائی کے وسط میں مشیل السٹن نے کچھ عرصے کے لیے مانع حمل ادویات چھوڑ دیں، اور ان کی شدید ماہواریاں پوری شدت کے ساتھ واپس آ گئیں، ساتھ ہی مزاج میں شدید تبدیلیاں بھی۔

آخرکار انھوں نے ایک ماہرِ امراضِ نسواں سے رجوع کیا، جنھوں نے الٹراساؤنڈ کیا اور کچھ ممکنہ اسباب دریافت کیے۔

مشیل السٹن یاد کرتی ہیں، انھوں نے کہا کہ ’مانع حمل ادویات کو بھول جائیں۔ آپ کے رحم میں سات یا آٹھ بڑے فائبرائڈز ہیں، اور ممکن ہے آپ کو اینڈومیٹریوسِس بھی ہو۔‘

اینڈومیٹریوسِس ایک دردناک بیماری ہے جس میں رحم کی اندرونی تہہ جیسا بافتہ رحم کے باہر بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔

نتیجتاً انھوں نے ہسٹریکٹومی کروانے اور اپنا رحم مکمل طور پر نکلوانے کا فیصلہ کیا۔

حقیقت یہ ہے کہ شدید ماہواری میں زیادہ خون آنے ان عام ترین وجوہات میں سے ایک ہے جن کے باعث لوگ ہسٹریکٹومی کرواتے ہیں۔

وہ اپنے فیصلے سے مطمئن ہیں، اور ان کی شدید ماہواری میں زیادہ خون آنے کی کہانی ایک حل پر ختم ہوئی۔ لیکن ظاہر ہے کہ ہسٹریکٹومی ایک بڑی جراحی ہے، یہ مستقل ہے، اور اس کے بعد حمل ممکن نہیں رہتا۔

یہ مسئلہ خاص طور پر اس وقت زیادہ سنگین ہو جاتا ہے جب صحت فراہم کرنے والے مریض کی صحت کے مقابلے میں زرخیزی کو زیادہ اہمیت دیتے دکھائی دیں۔

ایمیلی ینگ کے تحقیقی شرکا میں شامل ایک خاتون کے تین بچے تھے اور ان کے شوہر نس بندی کروا چکے تھے۔

اس کے باوجود، ینگ کے مطابق، ان کے معالج نے شدید ماہواری کی خون ریزی کے علاج کے لیے ہسٹریکٹومی سے انکار کر دیا، صرف اس امکان کے پیشِ نظر کہ شاید وہ خاتون طلاق لے کر ایسے شخص سے شادی کر لیں جو بچے چاہتا ہو۔

جیکی میبن کے لیے اپنے مریضوں کے علاج کے محدود امکانات پر مایوسی اور شرمندگی ہی وہ محرک تھی جس نے انھیں ’دی مسڈ وائٹل سائن‘ نامی عالمی تحقیقی پروگرام کی قیادت پر آمادہ کیا، جسے صحت کے شعبے کی فلاحی تنظیم ویلکم لیپ فنڈ فراہم کرتی ہے۔

اس پروگرام کا نام اس تصور کی عکاسی کرتا ہے کہ ماہواری میں تبدیلیاں دیگر صحت کے مسائل کی پہلی علامت ہو سکتی ہیں، اس لیے یہ بھی بلڈ پریشر، جسمانی درجہ حرارت یا دل کی دھڑکن کی طرح ایک اہم حیاتیاتی علامت ہے۔

اگلے تین برسوں میں 13 محققین کی ایک ٹیم دنیا بھر میں شدید ماہواری کی خون ریزی کی تشخیص اور علاج میں اوسطاً پانچ سال کی تاخیر کو کم کر کے پانچ ماہ تک لانے پر کام کرے گی۔

اس مقصد کی جانب ایک قدم کے طور پر، جیکی میبن شدید ماہواری میں زیادہ خون آنے اور اس کے اسباب کے حیاتیاتی طریقۂ کار کو بہتر طور پر سمجھنا چاہتی ہیں۔

ایک اور توجہ اس بیماری کی تشخیص کو بہتر بنانا ہے۔

کچھ منصوبے ماہواری کے سیال میں حیاتی کیمیائی اشاریوں کی تلاش کریں گے، کچھ ماہواری کی مصنوعات کے ذریعے خون آنے کی نگرانی کے لیے ذہین سینسر تیار کریں گے، جبکہ بعض ایسے آلات بنائیں گے جو سمارٹ فون اور پہننے والے آلات کے ڈیٹا سے آئرن کی کمی کے خطرے کا اندازہ لگا سکیں۔

جیکی میبن کے خیال میں نئی اور ابھرتی ہوئی تحقیقی ٹیکنالوجی، مثلاً جینومز کے تیز تجزیے، کی وجہ سے اس منصوبے کے لیے وقت موزوں ہے۔

جیکی میبن کہتی ہیں، ’ماضی میں ان ٹیکنالوجیوں کو خواتین کی صحت بہتر بنانے کے لیے استعمال نہیں کیا گیا، اور میرا خیال ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایسا کیا جائے۔‘

اسی طرح جولی جیفرے نے ماہرینِ امراضِ خون کو ماہواری میں زیادہ خون آنے کے شعبے سے جوڑنے پر کام کیا ہے، اور اس بات پر زور دیا ہے کہ اس مرض سے نمٹنے کے لیے خون کے ماہرین اور ماہرینِ امراضِ نسواں کو مل کر کام کرنا چاہیے۔

مثال کے طور پر ’فاؤنڈیشن فار ویمن اینڈ گرلز ود بلڈ ڈس آرڈرز‘ پہلے ہی امریکہ میں ہیموفیلیا مراکز کی مدد کر رہی ہے تاکہ وہ خواتین اور لڑکیوں کو بہتر اور وسیع تر نگہداشت فراہم کر سکیں۔

لیکن اس پیش رفت کا ایک اہم حصہ یہ یقینی بنانا ہے کہ ماہواری میں زیادہ خون آنے والے افراد واقعی نئی تشخیصی اور علاجی سہولیات سے فائدہ اٹھا سکیں۔

اسی لیے مارش اپنی مقامی کمیونٹیز میں سیاہ فام اور ہسپانوی خواتین کے ساتھ مل کر مداخلتی طریقے تیار کر رہی ہیں، کیونکہ امریکہ میں ان میں سفید فام خواتین کی نسبت انیمیا کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

وہ امید کرتی ہیں کہ قابلِ اعتماد کمیونٹی افراد کے ساتھ کام کرنے سے ان کی نئی تحقیق یہ واضح کرے گی کہ لوگوں کو ضروری طبی نگہداشت سے کیسے جوڑا جا سکتا ہے اور ان بیماریوں کے بارے میں عمومی آگاہی کیسے بڑھائی جا سکتی ہے۔

محققین اب زیادہ سے زیادہ اس بات کو تسلیم کر رہے ہیں کہ تحقیق اور طب میں شدید ماہواری کی خون ریزی کو ترجیح دینا نہایت ضروری ہے تاکہ خواتین اور تمام ماہواری رکھنے والے افراد اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ زندگی گزار سکیں، آئرن کی کمی سے ہونے والی دماغی دھندلاہٹ کے بغیر، اور سکول یا کام سے محروم ہوئے بغیر۔

مشیل السٹن کہتی ہیں کہ ’ضرورت اس بات کی ہے کہ خواتین کی بات کو زیادہ سنجیدگی سے سنا جائے‘۔ ’انھیں مناسب علاج اور طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ بھی دوسروں کی طرح اپنے مساوی حقوق کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔‘